کلام اعلی حضرت ؒ


اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی ؒ کے منتخب اور دل آفروز کلاموں کا مختصر مجموعہ
موٗلف مدثرحسین
******
اویس رضاقادری کے نام


*********

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
سب سے بالاو والا ہمارا نبی
بجھ گیئں جس کے آگے سبھی مشعلیں
شمع وہ لے کہ آیا ہمارا نبی
خلق سے اولیا اولیاسے رسل
اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی
جیسےسب کا خدا ایک ہےایسے ہی
ان کا ان کا تمہارا ہمارا نبی
کون دیتاہے دینے کو منہ چاہیئے
دینے والا ہے سچا ہمارا نبی
جنکے تلووں کا دھوون ہے آب حیات
ہے وہ جان مسیحا ہمارا نبی
قرنوں بدلی رسولوں کی ہوتی رہی
چاندبدلی کا نکلا ہمارا نبی
غمزدوں کو رضا  مژدہ  دیجے کہ ہے
بیکسوں کا سہارا ہمارا نبی
*********

سرور کہوں کہ مالک و مولی کہوں تجھے
سرور کہوں کہ مالک و مولی کہوں  تجھے
باع خلیل کا گل زیبا کہوں تجھے
اللہ رے تیرے جسم منور کی تابشیں
اے جان جاں میں جان تجلی کہوں تجھے
تیرے تو وصف عیب تناہی سے ہیں بری
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے
گلزار قدس کا گل رنگیں ادا کہوں
درمان درد بلبل شیدا کہوں تجھے
لیکن رضا نے ختم سخن اس پہ کر دیا
خالق کا بندہ خلق کا اآقا کہوں تجھے

*********

وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں
وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص  جہاں نہیں
یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں
میں نثار تیرے کلام پر ملی یوں تو کس کو زباں نہیں
وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو وہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں
تیرے آگےیوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑےبڑے
کوئ جانے منہ میں زباں نہیں نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
بخدا خدا کا یہی ہے در نہیں اور کوئ مفر مقر
جو وہاں سے ہویہیں آ کے ہوجو یہاں نہیں تو وہاں نہیں
وہی نور حق وہی ظل رب ہے انہی کا ہے سب ہے انہی سے سب
نہیں ان کی ملک میں آسماں کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں
وہی لا مکاں کے مکیں ہوئےسر عرش تخت نشیں ہوئے
وہ نبی ہیں جن کے ہیں یہ مکاں وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں
کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرادین پارہ ناں نہیں
***********

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے
اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری  حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہےکہ مہر کب سے نقاب میں ہے
انہیں کی بو مایہ سمن ہے انہیں ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
انہیں سے گلشن مہک رہےہیں انہیں کی رنگت گلاب میں ہے
کھڑے ہیں منکر نکیرسرپر نہ کوئ حامی نہ کوئ یاور
بتادو آکر میرےپیمبر کہ مشکل جواب میں ہے
خدائےقہار ہے غضب پر کھلے ہیں بدکاریوں کہ دفتر
بچا لو آکر شفیع محشر تمہارا بندہ عذاب میں ہے
کریم ایسا ملا کہ جس کہ کھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے
بتاو اے مفلسو کہ پھر کیوں تمہارا دل اضطراب میں ہے
کریم اپنے کرم کا صدقہ لعیم بے کس کو نہ شرما
تو اور رضا سے حساب لینا رضابھی کوئ حساب میں ہے
**********

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
جو تیرے در سے یار  پھرتے ہیں
در بدر  یوں ہی خوار پھرتے ہیں
ہر چراغ مزار پر قدسی
کیسے پروانہ وار پھرتے ہیں
اس گلی کا گدا ہوں میں جس میں
مانگتے تاجدار پھرتے ہیں
لاکھوں قدسی ہیں کا م خدمت پر
لاکھوں پروانہ وار پھرتے ہیں
ہائے غافل وہ کیا جگہ ہے یہاں
پانچ جاتے ہیں چار پھرتے ہیں
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے کتنے ہزار پھرتے ہیں
******

ہے کلام الہیٰ میں شمس و الضحیٰ تیرے چہرہ نور فضا کی قسم
ہے کلام الہیٰ میں شمس و الضحیٰ تیرے چہرہ  نور فضا کی قسم
قسم شب تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زلف دو تا کی قسم
تیرے خلق کو حق نے عظیم کہا تیری خلق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا تیرےخالق حسن ادا کی قسم
ہے خدا نے وہ مرتبہ تجھ کو دیا نہ کسی کو ملے نہ کسی کو ملا
کہ کلام مجید نے کھائی شہا تیرے شہروکلام و بقا کی قسم
تیرا مسند  ناز ہے عرش بریں تیر ا محرم راز ہے روح امیں
تو ہی سرور ہر دو جہاں ہے شہا تیری مشل نہیں خدا کی قسم
یہی عرض ہے خالق ارض وسما وہ رسول تیرےمیں بندہ تیرا
مجھے ان کے جوار میں دے وہ جگہ کہ ہے خلد کو جسکی صفا کی قسم
یہی کہتی ہے بلبل باغ جناں کہ رضا کی طرح کوئی سحر بیاں
نہیں ہند میں واصف شاہ ہدا مجھے شوخی ء طبع رضا کی قسم
*********

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں
جس راہ چل دیےہیں کوچے بسا دیئے ہیں
جب آگئی ہیں جوش رحمت پہ ان کی آنکھیں
جلتے بجھا دئے ہیں روتے ہنسا دیئے ہیں
ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو
جب یاد آ گئے ہیں سب غم بھلا دیئے ہیں
میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا
دریا بہا دیے ہیں دربے بہا دیئے ہیں
اسر ا میں گذرے جس دم بیڑے میں قدسیوں کے
ہونے لگی سلامی پرچم جھکا دیئے ہیں
ملک سخن کی شاہی تجھ کو رضا مسلم
جس سمت آ گئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں

************

کس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
کس کے جلوہ کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے
ہر طرف دیدہٴ رحمت زدہ تکتا کیا ہے
مانگ من مانتی منہ مانگی مرادیں لے گا
نہ یہاں نہ ہے نہ منگتا سے یہ کہنا کیا ہے
پند کڑوی لگے ناصح سے نہ ترش ہو اے نفس
زہر عصیاں میں ستم گر تجھے میٹھا کیا ہے
ہم ہیں ان کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے
اس سے بڑھ کر تیری سمت اور وسیلہ کیا ہے
ان کی امت میں بنایا انہیں رحمت بھیجا
یوں نہ فرما کہ ترا رحم میں دعویٰ کیا ہے
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب
بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے
زاہد ان کا میں گناہ گار وہ میرے شافع
اتنی نسبت مجھے کیا کم ہے تو سمجھا کیا ہے
بے بسی ہو جو مجھے پرسش اعمال کے وقت
دوستو کیا کہوں اس وقت تمنا کیا ہے
کاش فریاد مری سن کے یہ فرمائیں حضور
ہاں کوئی دیکھو یہ کیا شور ہے غوغا کیا ہے
کون آفت زدہ ہے کس پہ بلا ٹوٹی ہے
کس مصیبت میں گرفتار ہے صدمہ کیا ہے
کس سے کہتا ہے کہ للہ خبر لیجئے مری
کیوں ہے بے بیتاب یہ بے چینی کا رونا کیا ہے
اس کی بے چینی سے ہے خاطر اقدس پہ ملال
بے کسی کیسی ہے پوچھو کوئی گزرا کیا ہے
یوں ملائک کریں معروض کہ اک مجرم ہے
اس سے پرسش ہے بتا تو نے کیا کیا کیاہے
سامنا قہر کا ہے دفتر اعمال ہے پیش
ڈر رہا ہے کہ خدا حکم سناتا کیا ہے
آپ سے کرتا ہے فریاد کہ یا شاہ رسل
بندہ بے کس ہے شہا رحم میں وقفہ کیا ہے
اب کوئی دم میں گرفتار بلا ہوتا ہوں
آپ آجائیں تو کیا خوف ہے کھٹکا کیا ہے
سن کے یہ عرض مری بحر کرم جوش میں آئے
یوں ملائک کو ہو ارشاد ٹھہرنا کیا ہے
کس کو تم مورد آفات کیا چاہتے ہو
ہم بھی تو آکے ذرا دیکھیں تماشا کیا ہے
ان کی آواز پہ کر اٹھوں میں بے ساختہ شور
اور تڑب کر یہ کہوں اب مجھے پروا کیا ہے
لو وہ آیا میرا حامی میرا غم خوار امم
آگئی جاں تن بے جاں میں یہ آنا کیا ہے
پھر مجھے دامن اقدس میں چھپالیں سرور
اور فرمائیں ہٹو اس پہ تقاضا کیا ہے
بندہ آزار شدہ ہے یہ ہمارے در کا
کیسا لیتے ہو حساب اس پہ تمہارا کیا ہے
چھوڑ کر مجھ کو فرشتے کہیں محکوم ہیں ہم
حکم والا کی نہ تعمیل ہو زہرہ کیا ہے
یہ سماں دیکھ کے محشر میں اٹھے شور کہ واہ
چشم بد دور ہو کیا شان رتبہ کیا ہے
صدقہ اس رحم کے اس سایہ ٴ دامن پہ نثار
اپنے بندے کو مصیبت سے بچایا کیا ہے
اےرضاجان عنا دل ترے نغموں کے نثار
بلبل باغِ مدینہ ترا کہنا کیا ہے
**********

واہ کیا جودو کرم ہے شہہ بطہا تیرا
واہ کیا جودو کرم ہے شہہ بطہا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانے
خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا
آسماں خوان زمیں خوان زمانہ مہمان
صاحب خانہ لقب کس کا تیرا تیرا
میں تو مالک ہی کہوں گا کہ مالک کہ حبیب
یعنی محبوب محب میں نہیں میرا تیرا
تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھایئں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا
تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں
کون نظروں پہ چڑے دیکھ کہ تلوہ تیرا
چور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یا اس کے خلاف
تیرے دامن میں چھپے چور انوکھا تیرا
تیری سرکار میں لاتا ہے رضا اس کو شفیع
جو میرا غوث ہے اور لاڈلہ بیٹا تیرا

********

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے
برستا نہیں دیکھ کر ابر رحمت
بدوں پہ بھی برسا دے برسانے والے
مدینے کے خطے خدا تجھ کو رکھے
غریبوں فقیروں کے ٹھہرانے والے
تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
میرے چشم عالم سے چھب جانے والے
حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا
ارےسر کا سودا ہے او جانے والے
رہیگا یونہی ان کا چرچا رہیگا
پڑے خاک ہوجائیں جل جانے والے
رضا نفس دشمن ہے دم میں نہ آنا
کہاں تم نے دیکھے ہیں چندرانے والے
*********

حاجیو آو شہنشاہ کا روضہ دیکھو
حاجیو آو شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو
رکن شامی سے مٹی وحشت شام غربت
اب مدینہ کو چلو صبح دل آرا دیکھو
آب زمزم تو پیا خوب بجھائی پیاسیں
آو جود شہ کوثر کا بھی دریا دیکھو
زہر میزاب ملے خوب کرم کے چھینٹے
ابر رحمت کا یہاں زور سے برسنا دیکھو
خوب آنکھوں سے لگایا ہے غلاف کعبہ
قصرمحبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو
دھو چکا ظلمت دل بوسہء سنگ اسود
خاک بوسی  مدینے کا بھی رتبہ دیکھو
اولیں خانہ حق کی بھی ضیائیں دیکھیں
آخریں بیت نبی کا بھی تجلا دیکھو
غور سے سن تو رضا کعبہ سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے میرے پیارے کو روضہ دیکھو
*********

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والوں جاگتے رہیو چوروں سے رکھوالی ہے
آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے
یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مت کیسی متوالی ہے
سونا پاس ہے سونا بن ہے سونا زہر ہے اُٹھ پیارے
تو کہتا ہے میٹھی نیند ہے تیری مت ہی نرالی ہے
آنکھیں ملنا جھنجلا پڑنا لاکھوں جمائی انگڑائی
نام پر اُٹھنے کے لڑتا ہے اٹھنا بھی کوئی گالی ہے
جگنو چمکے پتا کھڑکے مجھ تنہا کا دل دھڑکے
ڈر سمجھائے کوئی پون ہے یا اگیابیتالی ہے
بادل گرجے بجلی چمکے دھک سے کلیجہ ہو جائے
بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے
پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منہ
مینہ نے پھسلن کردی ہے اور دھڑ تک کھائی نالی ہے
ساتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے
پھر جھنجلا کر سردے پٹکوں چل رے مولی والی ہے
پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں
ہاں اک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے
تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو
دیکھو مجھ بیکس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے
دنیا کو تو کیا جانےیہ بس کی گانٹھ ہے حرافہ
صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے
شہد دکھائے زہر پلائے قاتل ڈائن شوہر کش
اس مردار پہ کیا للچانا دنیا دیکھی بھالی ہے
وہ تو نہائت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا
ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے
مولی تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضا سے چور پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے
*******

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماویٰ ہے ہمارا
خاکی تو وہ آدم جد اعلیٰ ہے ہمارا
اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں
یہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا
جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سید عالم
اس خاک پہ قرباں دل شیدا ہے ہمارا
خم ہو گئی پشت فلک اس طعن زمیں سے
سن! ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا
اس نے لقب خاک شہنشاہ سے پایا
جو حیدر کرار کہ مولے ہے ہمارا
اے مدعیو! خاک تو تم خاک نہ سمجھے
اس خاک میں مدفوں شہ بطحا ہے ہمارا
ہے خاک سے تعمیر مزار شہ کونین
معمور اسی خاک سے قبلہ ہے ہمارا
ہم خاک اُڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی
آباد رضا جس پہ مدینہ ہے ہمارا
*********

ﮔﺰﺭﮮ ﺟﺲ ﺭﺍﻩ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺳﯿﺪ ﻭﺍﻻ ﮨﻮ ﮐﺮ
ﺭﻩ ﮔﺌﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻣﯿﮟ ﻋﻨﺒﺮ ﺳﺎﺭﺍ ﮨﻮﮐﺮ
ﺭﺥ ﺍﻧﻮﺭ ﮐﯽ ﺗﺠﻠﯽ ﺟﻮ ﻗﻤﺮ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﻬﯽ
ﺭﻩ ﮔﯿﺎ ﺑﻮﺳﮧ ﺩﻩ ﻧﻘﺶ ﮐﻒ ﭘﺎ ﮨﻮ ﮐﺮ
ﭼﻤﻦ ﻃﯿﺒﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﻩ ﺑﺎﻍ ﮐﮧ ﻣﺮﻍ ﺳﺪﺭﻩ
ﺑﺮﺳﻮﮞ ﭼﮩﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﻠﺒﻞ ﺷﯿﺪﺍ ﮨﻮﮐﺮ
ﻭﺍﺋﮯ ﻣﺤﺮﻭﻣﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﮧ ﭘﻬﺮ ﺍﺏ ﮐﯽ ﺑﺮﺱ
ﺭﻩ ﮔﯿﺎ ﮨﻤﺮﻩ ﺯﻭﺍﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮨﻮ ﮐﺮ
ﺻﺮ ﺻﺮ ﺩﺷﺖِ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﮕﺮ ﺁﯾﺎ ﺧﯿﺎﻝ
ﺭﺷﮏ ﮔﻠﺸﻦ ﺟﻮ ﺑﻨﺎ ﻏﻨﭽﮧ ﺩﻝ ﻭﺍ ﮨﻮ ﮐﺮ
ﮔﻮﺵ ﺷﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﮨﻢ ﮨﯿﮟ
ﻭﻋﺪﮦ ﭼﺸﻢ ﺳﮯ ﺑﺨﺸﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﮨﻮ ﮐﺮ
ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﻣﯿﺪ ﺭﺿﺎ ﮐﻮ ﺗﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﺳﮯ ﺷﮩﺎ
ﻧﮧ ﮨﻮ ﺯﻧﺪﺍﻧﯽ ﺩﻭﺯﺥ ﺗﺮﺍ ﺑﻨﺪﻩ ﮨﻮ ﮐﺮ
******

ایمان ہے قال مصطفائی ﷺ
قرآن ہے حال مصطفائیﷺ
اللہ کی سلطنت کا دولہا
نقش تمثال مصطفائیﷺ
کل سے بالا رسل سے اعلی
اجلال و جلال مصطفائیﷺ
ادبار سے تو مجھے بچا لے
پیارے اقبال مصطفائیﷺ
مرسل مشتاق حق ہیں اور حق
مشتاق وصال مصطفائیﷺ
خواہان وصال کبریا ہے
جویان جمال مصطفائیﷺ
محبوب و محب کی ملک ہے اک
کونین ہیں مال مصطفائیﷺ
اللہ نہ چھوٹے دست دل سے
دامان خیال مصطفائیﷺ
ہیں تیرے سپرد سب امیدیں
اے جودو نوال مصطفائیﷺ
روشن کر قبر بیکسوں کی
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
اندھیر ہے بے تیرے میرا گھر
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
مجھ کو شب غم ڈرا رہی ہے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
آنکھوں میں چمک کے دل میں آجا
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
مری شب تار دن بنا دے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
چمکا دے نصیب بد نصیباں
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
قزاق ہیں سر پہ راہ گم ہے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
چھایا آنکھوں تلے اندھیرا
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
دل سرد ہے اپنی لو لگا دے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
گھنگور گھٹائیں غم کی چھائیں
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
بھٹکا ہوں تو راستہ بتا جا
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
فریاد دباتی ہے سیاہی
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
میرے دل مردہ کو جلا دے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
آنکھیں تیری راہ تک رہی ہیں
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
دکھ میں ہیں اندھیری رات والے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
تاریک ہے رات غمزدوں کی
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
تاریکی گور سے بچانا مجھ کو
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
پُر نور ہے تجھ سے بزم عالم
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
ہم تیرہ دلوں پہ بھی کرم کر
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
للہ ادھر بھی کوئی پھیرا
اے شمع جمال مصطفائیﷺ
تقدیر چمک اُٹھے رضا کی
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

*******

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے
کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے
ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
سونپا خدا کو یہ  عظمت کس سفر کی ہے
مجرم بلائے آئے ہیں جاوءک ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے
پہلے ہو ان کی یاد کہ پائے جلا نماز
یہ کہتی ہے اذان جو پچھلے پہر کی ہے
سرکار ہم گنواروں میں طرز ادب کہاں
ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے
اپنا شرف دعا سے باقی رہا قبول
یہ جانیں ان کے ہاتھ میں کنجی عصر کی ہے
کعبہ ہے بے شک انجمن آرا دلہن مگر
ساری بہار دلہنوں میں دولہا کے گھر کی ہے
وہ خلد جس میں اترے گی ابرار کی بارات
ادنیٰ نچھاور اس مرے دولہا کے سر کی ہے
ہاں ہاں رہ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ
او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے
ستر ہزار صبح ہیں ستر ہزار شام
یوں بندگی ٴ زلف و رخ آٹھوں پہر کی ہے
محبوب رب عرش ہے اس سبز قبہ میں
پہلو میں جلوہ گاہ عتیق و عمر کی ہے
لب واہیں آنکھیں بند ہیں پھیلی ہیں جھولیاں
کتنے مزے کی بھیک ترے پاک در کی ہے
قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بل ہزار کج
یہ ساری گتھی اک تیری سیدھی نظر کی ہے
مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لا نہر کی ہے
مولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلی خطر کی ہے
صدیق بلکہ غار میں جاں اس پر دے چکے
اور حفظِ جاں تو جان فروضِ غرر کی ہے
ہا ں تو نے ان کو جان انھیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کر چکے جو کر نی بشر کی ہے
ثابت ہوا جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
آ کچھ سنا دے عشق کے بولوں میں اے رضا
مشتاق طبع لذّتِ سوزِ جگر کی ہے
*******

حرز جاں ذکر شفاعت کیجیے
نار سے بچنے کی صورت کیجیے
اُن کے نقش پا پہ غیرت کیجیے
آنکھ سے چھپ کر زیارت کیجیے
اُن کے حسن ملاحت پر نثار
شیرہ جاں کی حلاوت کیجیے
اُن کے در پر جیسے ہو مٹ جایئے
ناتوانو ! کچھ تو ہمت کیجیے
پھیر دیجیے پنجہ دیو لعیں
مصطفے کے بل پہ طاقت کیجیے
ڈوب کر یادِ لبِ شاداب میں
آب کوثر کی سباحت کیجیے
یاد قامت کرتے اٹھیے قبر سے
جانِ محشر پر قیامت کیجیے
اُن کے در پر بیٹھے بن کر فقیر
بے نواؤ فکر ثروت کیجیے
جس کا حسن اللہ کو بھی بھا گیا
ایسے پیارے سے محبت کیجیے
حی باقی جس کی کرتا ہے ثنا
مرتے دم تک اس کی مدحت کیجیے
عرش پر جس کی کمانیں چڑھ گیئں
صدقے اس بازو پہ قوت کیجیے
نیم وا طیبہ کے پھولوں پر ہو آنکھ
بلبلو ! پاس نزاکت کیجیے
سر سے گرتا ہے ابھی بار گناہ
خم ذرا فرق ارادت کیجیے
آنکھ تو اُٹھتی نہیں کیا دیں جواب
ہم پہ بے پرسش ہی رحمت کیجیے
عذر بد تر از گنہ کا ذکر کیا
بے سبب ہم پر عنائت کیجیے
نعرہ کیجیے یا رسول اللہ کا
مفلسو ! سامان دولت کیجیے
ہم تمھارے ہو کے کس کے پاس جائیں
صدقہ شہزادوں کا رحمت کیجیے
مَن رَانِی قَد رَای الحق جو کہے
کیا بیاں اس کی حقیقت کیجیے
عالم علم دو عالم ہیں حضور
آپ سے کیا عرض حاجت کیجیے
آپ سلطان جہاں ہم بے نوا
یاد ہم کو وقت نعمت کیجیے
تجھ سے کیا کیا اے مرے طیبہ کے چاند
ظلمت گم کی شکائت کیجیے
در بدر کب تک پھریں خستہ خراب
طیبہ میں مدفن عنائت کیجیے
ہر برس وہ قافلوں کی دھوم دھام
آہ سینے اور غفلت کیجیے
پھر پلٹ کر منہ نہ اُس جانب کیا
سچ ہے اور دعوائے الفت کیجیے
اقرب حب وطن بے ہمتی
آہ کس کس کی شکائت کیجیے
اب تو آقا منہ دکھانے کا نہیں
کس طرح رفع ندامت کیجیے
اپنے ہاتھوں خود لٹا بیٹھے ہیں گھر
کس پہ دعوائے بضاعت کیجئے
کس سے کہیے کیا کیا کیا ہو گیا
خود ہی اپنے پَر ملامت کیجیے
عرض کا بھی اب تو منہ پڑتا نہیں
کیا علاج درد فرقت کیجئے
اپنی اک میٹھی نظر کے شہد سے
چارہ زہر مصیبت کیجئے
دے خدا ہمت کہ یہ جان حزیں
آپ پر واریں وہ صورت کیجئے
آپ ہم سے بڑھ کے ہم پر مہرباں
ہم کریں جرم آپ رحمت کیجئے
جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا
یاد اس کی اپنی عادت کیجئے
*******

غم ہو گئے بے شمار آقا
بندہ تیرے نثار آقا
بگڑا جاتا ہے کھیل میرا
آقا آقا سنوار آقا
منجدھار پہ آکے ناؤ ٹوٹی
دے ہاتھ کہ ہوں میں پار آقا
ہلکا ہے اگر ہمارا پلہ
بھاری ہے ترِا وقار آقا
مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے
تم کو تو ہے اختیار آقا
میں دور ہوں تم تو ہو میرے پاس
سن لو میری پکار آقا
مجھ سا کوئی غم زدہ نہ ہوگا
تم سا نہیں غم گسار آقا
گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی
ڈوبا ، ڈوبا ،اتار آقا
تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے
میں وہ کہ بدی کو عار آقا
پھر منہ نہ پڑے کبھی خزاں کا
دے دے ایسی بہار آقا
جس کی مرضی خدا نہ ٹالے
میرا ہے وہ نامدار آقا
ہے ملک خدا پہ جس کا قبضہ
میرا ہے وہ کامگار آقا
سویا کئے نابکار بندے
رویا کئے زار زار آقا
کیا بھول ہے کہ انکے ہوتے کہلائیں
دنیا کہ یہ تاجدار آقا
اُن کے ادنی گدا پہ مٹ جایئں
ایسے ایسے ہزار آقا
بے ابر کرم کے میرے دھبے
لاَ تَغسِلھَا البحَار آقا
آپ کے کرم کی بارش کے بغیر میرے گناہوں
کے داغ سمندروں کے پانی سے نہیں دھل سکتے
اتنی رحمت رضا پہ کر لو
لا یقروبہ البوار آقا
اتنی رحمت رضا پہ کر دیں کہ
بربادی و ہلاکت رضا کے قریب نہ آئے
******

پل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
جبریل پر بچھایئں تو پر کو خبر نہ ہو
کانٹا مرے جگر سے غم روزگار کا
یوں کھینچ لیجیے کہ جگر کو خبر نہ ہو
فریاد امتی جو کرے حال زار میں
ممکن نہیں کہ خیر بشر کو خبر نہ ہو
کہتی تھی یہ براق سے اس کی سبک روی
یوں جائیے کہ گرد سفر کو خبر نہ ہو
فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردار دو جہاں
اے مرتضٰی عتیق و عمر کو خبر نہ ہو
گما دے ان کی ولا میں خدا ہمیں
ڈھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
آدل حرم سے روکنے والوں سے چھپ کے آج
یوں اٹھ چلیں کہ پہلو و بر کو خبر نہ ہو
طیر حرم ہیں یہ کہیں رشتے بپا نہ ہوں
یوں دیکھیے کہ تار نظر کو خبر نہ ہو
اے خار طیبہ دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جائے
یوں دل میں آ کہ دیدہ تر کو خبر نہ ہو
اے شوق دل یہ سجدہ گر ان کو روا نہیں
اچھا وہ سجدہ کیجیے کہ سر کو خبر نہ ہو
ان کے سوا رضا کو ئی حامی نہیں جہاں
گزرا کرے پسر پہ پدر کو خبر نہ ہو
*****

رُخ دن ہے یا مہر سما ء یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زلف یا مشک ختا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاں
حیراں ہوں یہ بھی خطا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
حق یہ کہ ہیں عبد الہ اور عالم امکاں کے شاہ
برزخ ہیں وہ سر خدایہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
بلبل نے گل ان کو کہاقمری نے سروجان فزا
حیرت نے جھنجھلا کر کہا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
بے پردہ جب وہ رح ہوا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہو گی یا روز جزا
دی ان کی رحمت نے صدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
کوئی ہے نازاں زہد پر یا حسن توبہ ہے سپر
یاں ہے فقط تیری عطا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرم نبی خوف خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
رزق خدا کھایا کیا فرمان حق ٹالا کیا
شکر کرم ترس سزا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
ہے بلبل رنگیں رضا یا طوطی نغمہ سرا
حق یہ کہ واصف ہے تیرایہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
*******

یا الہٰی  ہر   جگہ تیری عطا کا ساتھ  ہو
جب پڑے مشکل شہ مشکل کشا کا ساتھ ہو
یا الہٰی بھول جاؤں نزع کی تکلیف کو
شادی دیدار حسن مصطفی کا ساتھ ہو
یا الہیٰ گور تیرہ کی آئے جب سخت رات
ان کے پیارے منہ کی صبح جانفزا کا ساتھ ہو
یا الہٰی جب پڑے محشر میں شور داروگیر
امن دینے والےپیارے پیشوا کا ساتھ ہو
یا الہیٰ جب زبانیں باہر آیئں پیاس سے
صاحب کوثر شہ جودو عطا کا ساتھ ہو
یا الہٰی سرد مہری پر ہو جب خورشید حشر
سید بے سایہ کے ظل لوا کا ساتھ ہو
یا الہٰی گرمی محشر سے جب بھڑکیں بدن
دامن محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو
یا الہٰی نامہ اعمال جب کھلنے لگیں
عیب پوش خلق ستار کا ساتھ ہو
یا الہٰی  جب بہیں آنکھیں حساب جرم میں
ان تبسم ریز ہونٹوں کی دعا کا ساتھ ہو
یا الہٰی  جب حساب خندہ بیجا رلائے
چشم گریان مرتجے کا ساتھ ہو
یا الہٰی رنگ لائیں جب مری بے باکیاں
ان کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو
یا الہٰی جب چلوں تاریک راہ پل صراط
آفتاب ہاشمی نورالہدیٰ کا ساتھ ہو
یا الہٰی جب سر شمشیر پر چلنا پڑے
رب سلم کہنے والے غمزدا کا ساتھ ہو
یا الہٰی جو دعائے نیک میں تجھ سے کروں
قدسیوں کے لب سے اٰمین ربنا کا ساتھ ہو
یا الہٰی جب رضا خواب گراں سے سر اُٹھائے
دولت بیدار عشق مصطفےٰ کا ساتھ ہو
*****

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
گر اُن کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
مچلا ہے کہ رحمت نے امید بندھائی ہے
کیا بات تری مجرم کیا بات بنائی ہے
سب نے صف محشر میں للکار دیا ہم کو
اے بے کسوں کے آقا اب تیری دہائی ہے
یوں تو سب انھیں کا ہے پر دل کی اگر پوچھو
یہ ٹوٹے ہوئے دل ہی خاص اُن کی کمائی ہے
زائر گئے بھی کب کے دِن ڈھلنے پہ ہے پیارے
اٹھ میرے اکیلے چل کیا دیر لگائی ہے
بازار عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا
سرکار کرم تجھ میں عیبی کی سمائی ہے
گرتے ہووں کو مژدہ سجدے میں گرے مولیٰ
رو رو کے شفاعت کی تمہید اُٹھائی ہے
اے دل یہ سلگنا کیا جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ
دَم گھٹنے لگا ظالم کیا دھونی رَمائی ہے
مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈھک دو
منھ دیکھ کے کیا ہو گا پردے میں بھلائی ہے
اب آپ ہی سنبھالیں تو کام اپنے سنبھل جائیں
ہم نے تو کمائی سب کھیلوں میں گنوائی ہے
اے عشق تِرے صدقے جلنے سے چھٹے سستے
جو آگ بجھا دے گی وہ آگ لگائی ہے
حرص و ہوس ِ بد سےدل تو ، بھی ستم کر لے
تو ہیں نہیں بے گانہ دنیا ہی پرائی ہے
ہم دل جلے ہیں کس کے ہٹ فتنوں کے پرکالے
کیوں پھونک دوں اک اُف سے کیا آگ لگائی ہے
طیبہ نہ سہی افضل مکّہ ہی بڑا زاہد
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے
مطلع میں یہ شک کیا تھا واللہ رضا واللہ
صرف اُن کی رسائی ہے صرف اُن کی رسائی ہے
*****

لطف اُن کا عام ہو ہی جائے گا
شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا
جان دیدو  وعدۂ دیدار پر
نقد اپنا دام ہو ہی جائے گا
شاد ہے فردوس یعنی ایک دن
قسمت خدام ہو ہی جائے گا
یاد رہ جائیں گی یہ بے باکیاں
نفس تو تو رام ہو ہی جائے گا
بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
یاد گیسو ذکر حق ہے آہ کر
دل میں پیدا لام ہو ہی جائے گا
ایک دن آواز بدلیں گے یہ ساز
چہچہا کہرام ہو ہی جائے گا
سائلو! دامن سخی کا تھا م لو
کچھ نہ کچھ انعام ہو ہی جائے گا
یاد ابرو کر کے تڑپو بلبلو
ٹکڑے ٹکڑے دام ہو ہی جائے گا
مفلسو ان کی گلی میں جا پڑو
باغ خلد اکرام ہو ہی جائے گا
گر یونہی رحمت کی تاویلیں رہیں
مدح ہر الزام ہو ہی جائے گا
بادہ خواری کا سماں بندھنے تو دو
شیخ درد آشام ہو ہی جائے گا
غم تو ان کو بھول کر لپٹا ہے یوں
جیسے اپنا کام ہو ہی جائے گا
مٹ کہ گر  یوں ہی رہا قرض حیات
جان کا نیلام ہو ہی جائے گا
عاقلو ان کی نظر سیدھی رہے
بوروں کا بھی کام ہو ہی جائے گا
اب تو لائی ہے شفاعت عفو پر
بڑھتے بڑھتے عام ہو ہی جائے گا
اے رضا ہر کام کا اک وقت ہے
دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا
*****

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ زیشان گیا
ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلمندان گیا
لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دھیان گیا
میرے مولیٰ میرے آقا تیرے قربان گیا
آہ وہ آنکھ کہ ناکام تمنّا ہی رہی
ہائے وہ دل جو ترے در سے پر ارمان گیا
دل ہے وہ دل جو تری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا
انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا
اور تم پرمرے آقا کی عنایت نہ سہی
نجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
اُف رے منکر یہ بڑھا جوشِ تعصّب آخر
بھیڑ میں ہاتھ سے کم بخت کے ایمان گیا
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا
*****

سر تا بقدم ہے تنِ سلطان زمن پھول
لب پھول دہن پھول زقن پھول بدن پھول
صدقے میں ترے باغ تو کیا لائے ہیں بن پھول
اِس غنچہ دل کو بھی تو ایما ہو کہ بن پھول
تنکا بھی تو ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا
تم جو چاہو تو ہو جائے ابھی کوہ محن پھول
واللہ جو مل جائے مرے گل کا پسینہ
مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہے دلہن پھول
دلِ بستہ وخوں گشتہ، نہ خوشبو  نہ لطافت
کیوں غنچہ کہوں ہے مِرے آقا کا دہن پھول
شب یاد تھی کن دانوں کی شبنم کہ دَم صبح
شو خان بہاری کے جڑاؤ ہیں کرن پھول
دندان و لب و زلف و رُخ شاہ کے فدائی
ہیں در عدن لعلِ یمن مشک ختن پھول
بو ہو کے نہاں سو گئے تابِ رُخ شہ میں
لو بن گئے ہیں اب تو حسینوں کا دہن پھول
ہوں بار گنہ سے نہ خجل دوشِ عزیزاں
للہ مری نعش کر اے جان چمن پھول
دل اپنا بھی شیدائی ہے اُس ناخنِ پا کا
اتنا بھی مہ نو پہ نہ اے چرخ کہن پھول
دل کھول کے خوں رو لے غم عارض شہ میں
نکلے تو کہیں حسرت خوں نا بہ شدن پھول
کیا غازہ مل گرد مدینہ کا جو ہے آج
نکھرے ہوئے جوبن میں  قیامت کی پھبن پھول
گرمی یہ قیامت ہے کہ کانٹے ہیں زباں پر
بلبل کو بھی اے ساقی صہبا و لبن پھول
ہے کون کہ گریہ کرے یا فاتحہ کو آئے
بیکس کے اٹھائے تِری رحمت کے بھرن پھول
دل غم تجھے گھیرے ہیں خدا تجھ کو وہ چمکائے
سورج ترے خرمن کو بنے تیری کرن پھول
کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
*****

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
جانِ مراد اب کدھر ہائے ترا مکان ہے
بزم ثنائے زلف میں میری عروسِ فکر کو
ساری بہارِ ہشت خلد چھوٹا سا عِطر دان ہے
عرش پہ جاکے مرغ عقل تھک کے گرا غش آگیا
اور ابھی منزلوں پرے پہلا ہی آستان ہے
عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دَھام
کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے
اک ترے رخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی
اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
گود میں عالم شباب حال شباب کچھ نہ پوچھ
گلبنِ باغ نور کی اور ہی کچھ اٹھان ہے
تجھ سا سیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں
پھر وہ تچھی کو بھول جایئں دل یہ تیرا گمان ہے
پیش نطر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بے قرار
روکیے سر کو روکیے ہاں یہی امتحان ہے
شان خدا نہ ساتھ دے اُن کے خرام کا وہ باز
سدرہ سے تازمیں جسے نرم سی اِک اُران ہے
بار جلال اُٹھا لیا گر چہ کلیجا شق ہوا
یوں تو یہ ماہِ سبزہ رنگ نظروں میں دھان پان ہے
خوف نہ رکھ رضا ذراتو ،تو ہے عبد مصطفےٰ
تیرے لئے امان ہے،تیرے لئے امان ہے
******

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے سَاماں عرب کے مہماں کے لئے تھے
وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں
اُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفخات اُٹھ رہے تھے
اُتار کے اُن کے رخ کا صدقہ یہ نور کا بٹ رہاتھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے
وہی تو اب تک چھلک رہا ہے وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے
نہانے میں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لئے تھے
بچا جو تلو وں کا ان کے دھوون بنا وہ جنت کا رنگ و روغن
جنھوں نے دولھا کی پائی اُترن وہ پھول گلزارِ نور کے تھے
اُٹھے جو قصرِ دنیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جا ہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے ارے تھے
محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوط واصل
کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چَکر میں دائرے تھے
حجاب اُٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ دصل و فرقت جنم کہ بچھڑے گلے ملے تھے
وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اُسی کے جلوے اُسی سے ملنے اُسی سے اس کی طرف گئے تھے
کمان امکاں کے جھوٹے نقطوں تم اّول آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے
نبیِ رحمت شفیعِ اُمت رضؔا پہ للہ ہو عنائت
اُسے بھی ان خلعتوں سے حصّہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے
ثنائے سرکار ہے وظیفہ قبول سَرکار ہے تمنا
نہ شاعری کی ہوس نہ پروا ردی تھی کیا کیسے قافیے تھے

**********

زمین و زماں تمہارے لئے مکین و مکاں تمہارے لئے
چنین و چناں تمہارے لئے بنے دو جہاں تمہارے لئے

دہن میں زباں تمہارے لئے بدن میں ہے جاں تمہارے لئے
ہم آئے یہاں تمہارے لئےاٹھیں گے وہاں تمہارے لئے

فرشتے خدم رسول حشم تمام امم غلام کرم
وجود و عدم حدوث و قدم جہاں میں عیاں تمہارے لئے

کلیم و نجی مسیح و صفی خلیل و رضی رسول نبی
عتیق و وصی غنی و علی ثنا کی زباں تمہارے لئے

اصالت کل امامت کل سیادت کل امارت کل
حکومت کل ولائت کل خدا کے یہاں تمہارے لئے

تمہاری چمک تمہاری دمک تمہاری جھلک تمہاری مہک
زمین و فلک سماک و سمک میں سکہ نشاں تمہارے لئے

وہ کنز نہاں یہ نور فشاں وہ کُن سے عیاں یہ بزم فکاں
یہ ہر تن و جاں یہ باغ جناں یہ سارا سماں تمہارے لئے

ظہور نہاں قیام جہاں رکوع مہاں سجود شہاں
نیازیں یہاں نمازیں وہاں یہ کس کے لئے ہاں تمہارے لئے

یہ شمس و قمر یہ شام و سحر یہ برگ و شجر یہ باغ و ثمر
یہ تیغ و سپر یہ تاج و کمر یہ حکم رواں تمہارے لئے

یہ فیض دیئے وہ جود کئے کہ نام لئے زمانہ جئے
جہاں نے لئے تمہارے دیئے یہ امیاں تمہارے لئے

سحاب کرم روا نہ کئے کہ آب نعم زمانہ پئے
جو رکھتے تھے ہم وہ چاک سئے یہ ستر بداں تمہارے لئے

ثنا کا نشاں وہ نور فشاں کہ مہرو شاں بآں ہمہ شاں
بسا یہ کشاں مواکب شاں یہ نام و نشاں تمہارے لئے

عطائے ارب جلائے کرب فیوض عجب بغیر طلب
یہ رحمت رب ہے کس کے سبب برب جہاں تمہارے لئے

ذنوب فنا عیوب ہبا قلوب صفا خطوب روا
یہ خوب عطا کروب زوا پئے دل و جاں تمہارے لئے

نہ جن و بشر کہ آٹھ پہر ملائکہ در پہ بستہ کمر
نہ جبین و سر کہ قلب و جگر ہیں سجدہ کناں تمہارے لئے

نہ روح الامیں نہ عرش بریں نہ لوح مبیں کوئ بھی کہیں
خبر ہی نہیں جو رمزکھلیں ازل کی نہاں تمہارے لئے

جناں میں چمن چمن میں سمن سمن میں پھبن پھبن میں دلہن
سزائے محن پہ ایسے منن یہ امن و اماں تمہارے لئے

کمال مہاں جلال شہاں جمال حساں میں تم ہو عیاں
کہ سارے جہاں بروز فکاں ظل آیئنہ ساں تمہارے لئے

یہ طور کجا سپہر تو کیا کہ عرش علا بھی دور رہا
جہت سے ورا وصال ملا یہ رفعت شاں تمہارے لئے

خلیل و نجی مسیح و صفی سبھی سے کہی کہیں بھی بنی
یہ بے خبری کہ خلق پھری کہاں سے کہاں تمہارے لئے

بفور صدا سماں یہ بندھا یہ سدررہ اٹھا وہ عرش جھکا
صفوف سما نے سجدہ کیا ہوئی جو اذاں تمہارے لئے

یہ مرحمتیں کہ چکی متیں نچھوڑیں لتیں نہ اپنی گتیں
قصور کریں اور ان سے بھریں قصور جناں تمہارے لئے

فنا بدرت بقا بپرت ز ہر دو جہت بگرد سرت
ہے مرکزیت تمہاری صفت کہ دونوں کماں تمہارے لئے

اشارے سے چاند چیر دیا چھپے ہوئےخور کو پھیر دیا
گئےہوئےدن کو عصر کیا یہ تاب و تواں تمہارے لئے

صبا وہ چلے کہ باغ پھلے وہ پھول کھلے کہ دن ہوں بھلے
لوا کہ تلےثنا میں کھلے رضا کی زباں تمہارے لئے

اعلی حضرت امام احمد رضا خان
*************

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔