جمعرات، 30 اپریل، 2015

عشق کا قاف قسط نمبر9

0 comments


بیگم صاحبہ ڈاکٹر ہاشمی اور اعجاز کو طاہر، صفیہ، وسیلہ خاتون، نزدیکی رشتے دار اور طاہر کے آفس کے لوگ چھوٹے موٹے جلوس کی شکل میں کوٹھی لے کر آئی۔
یہاں طاہر نے نیاز کا اہتمام کر رکھا تھا جس کا انتظام پروفیسر قمر اور امبر کے سپرد تھا۔ عشا کے قریب فراغت ہوئی۔  رشتے داروں کے بعد ڈاکٹر ہاشمی اور وسیلہ خاتون رخصت ہو گئے تو پروفیسر قمر اور امبر نے بھی اجازت لی۔  رات کے آٹھ بجے تھے جب صفیہ اور طاہر بیگم صاحبہ کے کمرے میں ان کے دائیں بائیں بستر پر آ بیٹھی۔  بڑے سے ایرانی کمبل میں تینوں کا چھوٹاسا خاندان سما گیا۔ پھر مکہ اور مدینہ، حرم اور حرم والی۔  گنبدِ خضریٰ اور آقائے رحمت کی باتیں شروع ہوئیں تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ بیگم صاحبہ کا سارا طمطراق، سادگی اور عاجزی میں بدل چکا تھا۔ شہرِ نبی کی بات پر وہ بار بار  پُر نم ہو جاتیں۔ ان کی باتوں سے لگتا تھا کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ واپس ہی نہ آتیں۔  وہیں مر مٹ جاتیں۔
دیوار گیر کلاک نے رات کے گیارہ بجنے کا اعلان کیا تو بیگم صاحبہ نے انہیں جا کر سونے کو کہا۔ "بس بیٹی۔  اب تم لوگ بھی جا کر سو جاؤ۔  رات آدھی ہونے کو ہے۔  اور صبح اٹھ کر نماز بھی پڑھا کرو۔ "
"جی امی۔ " صفیہ نے شرارت سے طاہر کی جانب دیکھا۔ "میں تو پڑھتی ہوں۔  انہیں کہئے۔ "
"طاہر۔ " بیگم صاحبہ نے تسبیح تکئے تلے رکھتے ہوئے کہا۔  "نماز پڑھا کرو بیٹے۔  اب تم بچے نہیں رہے۔ "
"جی امی۔ " اس نے چوری چوری صفیہ پر آنکھیں نکالیں۔
پھر دونوں انہیں سلام کر کے اپنے کمرے میں آ گئے۔  کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی طاہر نے اسے چھاپ لیا۔
"نماز نہیں پڑھتا میں۔  ہے ناں۔ "
"ہاں تو اور کیا۔ " وہ اس کی باہوں میں مچلی۔  "روز کہتی ہوں آپ سے۔  آپ سنتے ہی نہیں۔ "
"وجہ کا تو پتہ ہے ناں تمہیں۔  کیوں نہیں پڑھتا میں ؟" طاہر نے اس کے رخسار پر چٹکی لی۔
"کوئی وجہ نہیں۔  صرف آپ کی سستی ہے۔ " وہ گال پر ہاتھ رکھ کر بولی۔
"وجہ ہے صفو جان۔  " طاہر نے اسے سینے پر ڈال لیا۔  " نہ تم ساری رات جگاؤ نہ میری نماز رہ جایا کرے۔ "
"کیا۔  کیا۔  " صفیہ نے پُر زور احتجاج کیا۔  "میں جگاتی ہوں یا آپ نہیں سونے دیتے؟"
"ایک ہی بات ہے۔ " وہ لاپروائی سے بولا۔
"بہر حال آج سے کوئی وجہ قابل قبول نہیں ہو گی۔  صبح آپ وقت پر اٹھیں گے اور نماز پڑھیں گے۔ " وہ مچل کر اس کی گرفت سے نکل گئی۔
"جیسے حکم سرکار کا۔  " طاہر نے ہار مان لی۔ " اب سونے کی اجازت ہے یا نہیں ؟"
"بالکل ہے۔  سو جائیے چُپ چاپ۔ "اس نے کمبل کھول کر طاہر پر پھیلایا۔ طاہر نے اسے شریر نظروں سے گھور کر دیکھا۔ صفیہ نے شرما کر رخ پھیر لیا۔
"اب آ جاؤ۔  ورنہ میں جاگتا رہوں گا۔  پھر صبح وقت پر نہیں اٹھوں گا اور نماز رہ جائے گی۔ " بڑی معصومیت سے اس نے کہا تو صفیہ کی ہنسی نکل گئی۔  آہستہ سے وہ کمبل میں در آئی۔
"مطلب کے پورے پکے ہیں آپ۔ "
"شش۔ " طاہر نے اس کے لبوں پر مہر محبت ثبت کر دی۔  "بات کرنے کا نہیں۔  سونے کا ہے بابا۔ " اور ہاتھ بڑھا کر بیڈ سوئچ آف کر دیا۔
٭

مسجدِ نبوی کے صحن میں بیٹھ کر گنبدِ خضریٰ کو تکتے رہناسرمد کا سب سے پسندیدہ عمل تھا۔  وہ جب سے اپنے آقا کے شہر میں آیا تھا اس نے نماز اور درود کے علاوہ اور کسی شے کی طرف دھیان ہی نہ دیا تھا۔  ہوٹل میں کپڑے بدلنے یا غسل کے لئے جاتا ورنہ اس کا سارا وقت وہیں گزرتا۔
اللہ کے حبیب کے حضور حاضر ہو کر اس نے جو کیف پایا تھا، اس کا اظہار لفظوں میں ممکن ہی نہ تھا۔  دل کی دھڑکنیں زبان کے ساتھ صدا دیتی ہوئی، د رود شریف کے ورد میں شامل رہتیں۔  ایک مہک تھی جو اسے ہر طرف رقصاں محسوس ہوتی۔  ایک نور تھا جو ہر شے پر محیط نظر آتا۔  ایک سکون تھا جو اسے ہواؤں میں تیرتا ملتا۔  آنکھیں بند کرتا تو اجالے بکھر جاتی۔  پلکیں وَا کرتا تو قوس قزح کے رنگ چھلک پڑتی۔  آقا کا خیال آتا تو نظر اشکوں سے وضو کرنے لگتی۔  واپس جانے کا خیال آتا تو جگر میں ایک ٹیس سی آنکھ کھول لیتی۔  مگر ، ہر ایک کیفیت میں مزا تھا۔  ایک لذت تھی۔  درد بھی اٹھتا تو سرور آمیز لگتا۔
 آخری دن تھا جب وہ دربارِ نبوی میں ہدیہ درود و سلام پیش کرنے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے کھڑا تھا۔  زبان گنگ تھی۔  لب کانپ رہے تھے اور دعا کے الفاظ کہیں گم ہو چکے تھے۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔  اس کے آنسو تھم ہی نہ رہے تھے۔  ہچکی بندھ گئی تو وہ کھڑا نہ رہ سکا۔  آہستہ سے وہ اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور سسکنے لگا۔
"میرے آقا۔  میرے مولا۔ میں کیا مانگوں ؟ کوئی طلب ہی نہیں رہی۔  آپ کے در پر آ گیا۔  اب اور کیا چاہوں ؟ کس کے لئے چاہوں ؟"
اور "کس کے لئے " کے الفاظ پر ایک دم اس کے تصور میں ایک چہرہ ابھرا۔
"ہاں۔  اس کے لئے سُکھ عطا کیجئے۔  " دل سے ایک بار پھر مہک نکلی۔
"اپنے لئے بھی تو کچھ مانگ پگلے۔ " ایک سرگوشی نے اسے چونکا دیا۔  اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ جس کی صدا تھی، وہ کہیں نظر نہ آیا۔ لوگ اس سے دور دور تھی۔
"اس در پر آ کر کچھ نہ مانگنا بد نصیبی ہے۔  کچھ مانگ لے۔  کچھ مانگ لے۔ " کوئی اسے اکسا رہا تھا۔  اسے سمجھا رہا تھا۔  مگر کون؟ اس نے بار بار تلاش کیا۔  کوئی دکھائی نہ دیا۔ تھک کر اس نے سر جھکا لیا اور آنکھیں موند لیں۔
"کیا مانگوں ؟" اب وہ خود سے سوال کر رہا تھا۔ "کیا مانگوں ؟ کیا مانگوں ؟" اس کا رواں رواں پکار رہا تھا۔ پھر جیسے یہ سوال جواب میں بدل گیا۔ اسے اپنی زبان پر اختیار نہ رہا۔  اپنی طلب پر اختیار نہ رہا۔  اپنے آپ پر اختیار نہ رہا۔
"میرے آقا۔  میں خام ہوں۔  ناکام ہوں۔  مجھے وہ دیجئے۔  وہ عطا کیجئے جو مجھے کامیاب کر دے۔ "
ان الفاظ کے ادا ہوتے ہی جیسے اس کی زبان پر تالا لگ گیا۔  اس کا سارا جسم ہلکا ہو گیا۔  ہوا سے بھی ہلکا۔  وہ بے وزن ہو گیا۔  اس نے بات ان کی مرضی پہ چھوڑ دی تھی جنہیں اللہ نے اپنا حبیب بنایا اور لوح و قلم پر تصرف عطا کر دیا۔ مانگے سے لوگ من کی مرادیں پاتے ہیں۔  بِن مانگے، اپنی مرضی سے وہ کیا عطا کر دیں ، کون جان سکتا ہے ؟سرمد نے نفع کا سودا کر لیا تھا۔  ایسے نفع کا سودا، جس کے لئے اس کے پلے صرف اور صرف عشق کا زر تھا۔  عشق۔۔۔  جس سے اس کا ازلی و ابدی تعلق ظاہر ہو چکا تھا۔  عشق۔۔۔  جس نے اسے ہجر و فراق کی بھٹی میں تپا کر کندن بنانے کی ٹھان لی تھی۔
اپنے آقا و مولا کے در کے بوسے لیتا ہوا وہ مسجدِ نبوی سے رخصت ہوا۔  چوکھٹ کو چوم کر دل کو تسلی دی۔  حدودِ مدینہ سے نکلنے سے پہلے خاکِ مدینہ پر سجدہ کیا۔  اسے ہونٹوں اور ماتھے سے لگایا۔  پھر مٹھی بھر یہ پاکیزہ مٹی ایک رومال میں باندھ کر اپنی اوپر کی جیب میں رکھ لی۔  اس کے لئے یہ کائنات کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔
ہوٹل کے کمرے سے اپنا مختصر سامان سمیٹ کر اس نے سفری بیگ میں ڈالا اور چیک آؤٹ کے لئے کاونٹر پر چلا آیا۔
ٹیکسی نے اسے جدہ ایر پورٹ کے باہر اتارا تو دن کے گیارہ بج رہے تھے۔  اچانک وہ ایر پورٹ کی عمارت میں داخل ہوتے ہوتے رک گیا۔
"کہاں جا رہا تھا وہ؟" اس نے خود سے سوال کیا۔
اس کی لندن واپسی کی ٹکٹ کنفرم تھی مگر اس نے باپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عمرے کے بعد لندن نہیں جائے گا، پاکستان آئے گا۔ سوچوں نے اس پر یلغار کر دی۔  اس کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ کیا کرے؟ پاکستان جانا تو اس کے لئے ممکن ہی نہیں تھا اور لندن جانے کا راستہ اس نے ڈاکٹر ہاشمی سے وعدے کی صورت میں بند کر لیا تھا۔  وہ خیالوں میں ڈوبا ہوا ایر پورٹ میں داخل ہوا اور پتھر کے ایک بنچ پر بیٹھ کر آنکھیں موند لیں۔
اس کی پشت پر دوسری جانب اسی بنچ پر دو نوجوان بیٹھے سرگوشیاں کر رہے تھے۔  انہوں نے سرمد کو بیٹھتے دیکھا تو خاموش ہو گئے۔  چند لمحے سر جھکائے رہے۔  پھر انہوں نے آہستہ سے گردن گھما کر سرمد کی طرف دیکھا جو دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے ہی خیالوں میں گم تھا۔  چند لمحے اس کا جائزہ لیتے رہنے کے بعداس نوجوان نے، جس کی عمر بائیس تئیس سال سے زیادہ نہ تھی، اپنے پچیس چھبیس سالہ ساتھی کی طرف دیکھا جو اس عرصے میں وہاں موجود باقی تمام نشستوں کا جائزہ لے چکا تھا۔  کوئی بھی جگہ خالی نہ پا کر اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔  پہلے نوجوان نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں سرمد کی طرف سے اطمینان دلایا۔  چند لمحوں کے بعد وہ پھر سرگوشیاں کرنے لگے۔
" آج آخری دن ہے حسین۔  اگر آج بھی طلال نہ پہنچا تو ہم دونوں کو روانہ ہو جانا پڑے گا۔ مزید وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔ "
"تم ٹھیک کہہ رہے ہو حمزہ بھائی مگر طلال اکیلا کیسے کمانڈر تک پہنچ پائے گا۔ " چھوٹی عمر کے نوجوان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
"وہ بعد میں دیکھیں گی۔ کل کے بعد ہمیں کمانڈر تک لے جانے والا شخص پھر ایک ماہ بعد مل پائے گا۔  اور یہ سارا عرصہ ہم سوائے دعائیں مانگنے کے اور کیسے گزاریں گے۔ " حمزہ کی سرگوشی تیز ہو گئی۔
"ہوں۔ " حسین نے کنکھیوں سے ادھر ادھر دیکھا۔  "تو پھر پروگرام کیا رہا؟"
"ابھی عراق سے آنے والی فلائٹ چیک کریں گے۔  اگر طلال آ گیا تو ٹھیک۔  ورنہ آج رات نو بجے صبح کی فلائٹ کے لئے ٹکٹیں کنفرم کرا لیں گے۔ "
"سیدھا دہلی اور وہاں سے سرینگر۔۔۔ "
"شش۔۔۔۔ " حمزہ نے حسین کا ہاتھ دبا دیا۔  "نام مت لو کسی جگہ کا۔ " اس کے لہجے میں سختی تھی۔
"سوری بھائی۔  " حسین نے معذرت خواہانہ آواز میں کہا۔
"تمہاری یہ سوری کسی دن ایسا کام دکھائے گی کہ۔۔۔ " حمزہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سر جھٹکا اور دوسری طرف دیکھنے لگا۔
اسی وقت عراق کے شہر نجف سے آنے والی فلائٹ کی اناؤنسمنٹ ہونے لگی۔  حمزہ اور حسین ایک ساتھ اٹھے اور داخلی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔  وہ بڑے اطمینان اور سکون سے قدم اٹھا رہے تھے۔  ان کی چال میں کسی قسم کا اضطراب نہ تھا۔  اضطراب تو وہ بُت بنے بیٹھے سرمد کی جھولی میں ڈال گئے تھے جو کہنیاں گھٹنوں پر رکھی، ہاتھوں پر چہرہ ٹکائے ان دونوں کو دزدیدہ نگاہوں سے جاتا دیکھ رہا تھا۔
ان کی گفتگو نے سرمد کے قلب و ذہن میں جوار بھاٹا پیدا کر دیا تھا۔  اسے فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنا تھا۔  خشک ہوتے حلق کو اس نے تھوک نگل کر تر کیا اور جب نجف سے آنے والی فلائٹ کے پہلے مسافر نے کلیرنس کے بعد لاؤنج میں قدم رکھا تو اس نے اپنی نشست چھوڑ دی۔ اس کا رخ باہر کی جانب تھا۔
اسے کہاں جانا تھا، فیصلہ ہو چکا تھا۔  راستہ دکھایا جا چکا تھا۔  اب تو اسے صرف قدم بڑھانا تھا اور منزل تک پہنچنا تھا۔
٭
 آدھ گھنٹے بعد وہ جدہ کے ہوٹل الخامص کے دوسرے فلور پر کمرہ نمبر تین سو تیرہ کے باہر کھڑا تھا۔  سفری بیگ اس نے خوب سنبھال کر کندھے پر درست کیا۔  ادھر ادھر دیکھا۔  کاریڈور بالکل خالی تھا۔  اس کا ہاتھ دستک کے لئے اٹھا۔
"کون؟" اندر سے حمزہ کی آواز ابھری۔
جواب میں اس نے پھر ہولے سے دستک دی۔  فوراً ہی کسی کے دروازے کی طرف چل پڑنے کی آہٹ سنائی دی۔  پھر ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا۔
"تم؟" سامنے کھڑے حمزہ کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔
"کون ہے حمزہ بھائی؟" حسین نے پوچھا۔  پھر وہ بھی اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔  سرمد کو دیکھ کر اس کا حال بھی حمزہ سے مختلف نہ رہا۔
"کیا آپ مجھے اندر آنے کے لئے نہ کہیں گے؟" سرمد مسکرایا۔
"یہ تو وہی ہے جو۔۔۔ " حسین نے کہنا چاہا۔
"جی ہاں۔  میں ایر پورٹ پر موجود تھا۔ " سرمد نے اخلاق سے کہا۔
"اندر آ جاؤ۔ " اچانک حمزہ نے کہا اور ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیا۔  پھر جب تک سرمد سمجھ پاتا، دروازہ بند ہو گیا اور ایک سیاہ ریوالور کی نال اس کی پیشانی پر آ ٹکی۔ حسین نے دروازہ اندر سے لاک کر دیا۔
"کون ہو تم؟" حمزہ کا لہجہ بیحد سرد تھا۔
"اس کے بغیر بھی پوچھیں گے تو میں سچ سچ بتا دوں گا۔ " سرمد نے اچھل کر حلق میں آ جانے والے دل کی دھڑکن پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے ریوالور کی طرف اشارہ کیا۔
"بکواس نہیں۔ " حمزہ نے اسی لہجے میں کہا۔ " تم یہاں تک پہنچے کیسے؟"
"ٹیکسی میں آپ کا پیچھا کرتے ہوئے۔ " سرمد نے بیگ کندھے سے فرش پر گرا دیا۔  اسی وقت حسین نے پیچھے سے آ کر اس کی گردن میں بازو ڈال کر گرفت میں لے لیا۔  دوسرے ہاتھ سے اس نے سرمد کا دایاں ہاتھ مروڑ کر کمر سے لگا دیا۔
"میرا پہلا سوال ابھی جواب طلب ہے۔  کون ہو تم؟" حمزہ نے اسے مشکوک نظروں سے گھورتے ہوئے پھر پوچھا۔
"ایک پاکستانی۔ " سرمد نے مختصراً کہا۔
"فرشتے نہیں ہوتے پاکستانی۔ " حمزہ نے تلخی سے کہا۔  " تم ہمارا پیچھا کیوں کر رہے تھے؟"
"یہ ذرا تفصیل طلب بات ہے اور اس حالت میں تو میں وضاحت نہ کر سکوں گا۔ " سرمد نے آنکھ کے اشارے سے حسین کی جانب اشارہ کیا۔
"ہوں۔ " حمزہ بڑی سرد نظروں سے چند لمحے اسے گھورتا رہا۔  پھر اس نے ریوالور اس کی پیشانی سے ہٹا لیا۔ "چھوڑ دو اسے۔ "
حسین نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ دیا اور سرمد اس کے دھکے سے بستر پر جا گرا۔  حمزہ کرسی گھما کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور ریوالور اس پر تان لیا۔  اس کا انداز بتاتا تھا کہ وہ ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں اسے نشانہ بنا سکتا ہے۔
"حسین۔ باہر کا جائزہ لو۔  یہ اکیلا ہے یا۔۔۔ "
جواب میں حسین نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ریوالور پر ہاتھ جماتے ہوئے بڑی احتیاط سے دروازہ کھولا۔  دائیں بائیں گردن گھما کر دیکھا۔  پھر باہر نکل گیا۔  تقریباً دو منٹ بعد لوٹا تو اس کے چہرے کی وحشت غائب ہو چکی تھی۔
"لگتا ہے یہ اکیلا ہی ہے حمزہ بھائی۔ " وہ دروازہ لاک کر کے دوسری کرسی پر آ بیٹھا۔
"ہوں۔ " حمزہ نے سرمد کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا۔  "اب کھل جاؤ بچے۔  کون ہو اور کیوں آئے ہو؟ اور بولنے سے پہلے یہ سمجھ لو کہ ہمارے پاس تمہارے سچ جھوٹ کو جانچنے کے لئے وقت ہے نہ کوئی جواز۔  اس سے کم وقت میں ہم تمہاری لاش کو باتھ روم میں بند کر کے نکل جائیں گے۔  اس لئے جلدی، کم اور سچ بولو۔ "
"میرا نام سرمد ہاشمی ہے۔  پاکستانی ہوں۔  یہاں عمرہ کرنے آیا تو زندگی کا کوئی مقصد نہ تھا۔  واپس جا رہا تھا تو آپ دونوں کی باتیں کان پڑیں۔  لگا، جیسے راستہ مل گیا ہے۔  اب بے مقصد جینے سے جان چھوٹ جائے گی۔ "
"کیا مطلب؟" حمزہ نے حیرت سے پوچھا۔  "ہماری باتوں سے کیا جان لیا تم نے؟"
"یہ کہ آپ کسی بڑے مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں۔  مجھے بھی اس میں شامل کر لیجئے۔ " سرمد نے تمہیدیں باندھنے سے گریز کیا۔
"او بھائی۔  کیا سمجھ رہے ہو تم؟" حمزہ ہنسا۔ " ہم کسی خاص مقصد کے لئے کوئی بڑا کام نہیں کر رہے۔ ہم تو سیدھے سادے اردنی ہیں۔ "
"اردنی؟" اب سرمد کے حیران ہونے کی باری تھی۔ "مگر آپ تو بڑی روانی سے اردو بول رہے ہیں۔ "
"تو اس میں کیا ہے۔  کیا تم لوگ ہماری طرح عربی نہیں بول لیتے؟" حمزہ نے لاپرواہی سے کہا۔ "بہر حال۔  تم نے جو سمجھا غلط سمجھا اور یہاں آ کر اس سے بھی بڑی غلطی کی۔  اب جب تک ہم جدہ سے نکل نہیں جاتے، تم یہاں قید رہو گے۔ "
"بالکل نہیں۔  میں چاہوں گا کہ آپ طلال کی جگہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔ "
"طلال؟" حمزہ کے ساتھ حسین بھی اچھل پڑا۔ " اس کے بارے میں تم کیسے اور کیا جانتے ہو؟"
"صرف یہ کہ آپ دونوں اس کے نجف سے آنے کے منتظر تھی۔  اور آج بھی اس کے نہ آنے پر اب آپ اکیلے ہی انڈیا کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ "
بھک سے جیسے حمزہ کے دماغ کا فیوز اڑ گیا۔ اس نے ایسی نظروں سے حسین کی طرف دیکھا جن سے بے اعتباری مترشح تھی۔
"یہ تو ہماری ساری باتیں سن چکا ہے حمزہ بھائی۔  اب اس کا زندہ رہنا ٹھیک نہیں۔ " اس نے جیب سے ریوالور نکال لیا۔
"رکو۔ " حمزہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے کسی بھی اقدام سے منع کر دیا۔ پھر اس نے سرمد کی جانب دیکھا۔  "تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم لوگ کون ہیں اور کس کام میں لگے ہیں ؟"
"میرا اندازہ ہے۔ " سرمد بازو سہلاتا ہوا بولا۔  " آپ لوگ انڈیا میں کسی ایسی تحریک سے وابستہ ہیں جو حربی کارروائیوں میں مصروف ہے۔  آپ کے پاس یہ اسلحہ اور آپ کی گفتگو میں کمانڈر اور سرینگر کا لفظ یہی بتاتا ہے اور۔۔۔ "
"اور۔۔۔ " حمزہ کا سانس رکنے لگا۔
"اور یہ کہ۔۔۔ " سرمد نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں دال دیں۔  " انڈیا میں صرف ایک ہی حربی تحریک چل رہی ہے۔  کشمیر کی۔۔۔ "
"تمہارا کیا خیال ہے اس تحریک کے درست اور نادرست ہونے کے بارے میں ؟"
"میں اسے جہادی تحریک سمجھتا ہوں۔ " سرمد نے بڑے اعتماد سے کہا۔
"حمزہ بھائی۔  اس کی باتوں میں نہ آئیے۔  یہ کوئی بڑی گیم کھیل رہا ہے۔ "حسین نے بیتابی سے بات میں دخل دیا۔
"ہوں۔ " حمزہ نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس کی تیز اور اندر تک چھید کرتی نگاہوں نے سرمد کا سر سے پاؤں تک ایک بار بھرپور جائزہ لیا۔  پھر اس کے چہرے پر رک گئیں۔
"تو تم ہمارے ساتھ اس لئے شامل ہونا چاہتے ہو کہ تم کسی مقصد کے لئے جینا چاہتے ہو؟" اب حمزہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
" مرنا بھی اسی مقصد کے لئے چاہتا ہوں۔ " سرمد کے لہجے سے عجیب سا عزم جھلک رہا تھا۔
"اور تمہارا خیال ہے کہ ہمیں تمہاری بات پر یقین آ جائے گا؟" تمسخر سے حمزہ نے پوچھا۔
" آ تو جانا چاہئے۔ " سرمد نے گھبرائے بغیر جواب دیا۔
"وہ کیوں ؟" حمزہ نے اسی لہجے میں پوچھا۔
"اس لئے کہ میں جس جگہ اپنی بے مقصد زندگی سے نجات کی دعا کر کے آ رہا ہوں ، وہاں جھوٹ کو اجازت ہی نہیں کہ پر مار سکے۔ "
"کہاں سے آ رہے ہو تم؟" حمزہ ایک دم حیران ہوا۔
"اپنے آقا و مولا کے درِ اقدس سے۔ "
اور حمزہ کا ہاتھ بے جان ہو کر نیچے ہو گیا۔  ریوالور چھوٹ کر فرش پر جا پڑا۔ ایسا لگا، کسی انجانی طاقت نے ایک جھٹکے سے اسے کرسی سے کھڑا کر دیا ہو۔  حسین کا ریوالور والا ہاتھ بھی جھک گیا۔ بالکل ساکت کھڑا حمزہ چند لمحے اسے خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا۔  پھر اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
"میں قربان جاؤں اس نام پر۔ " اس کی آواز لرز رہی تھی۔  "مجھے اب تک گناہ گار کیوں کر رہے تھے تم سرمد ہاشمی؟ ارے۔  تم آتے ہی بتا دیتے کہ تمہیں میرے آقا نے بھیجا ہے۔  آ جاؤ۔  سینے سے لگو۔  ٹھنڈی ڈالو۔  میرے آقا کے بھیجے ہوئے۔  میری پلکوں پر تشریف رکھو۔  میرے دل میں قیام کرو۔  میرے سینے پر اترو مرشد۔ "
حمزہ نے بازو پسار دئیے۔  سرمد آہستہ سے اٹھا۔  پھر لپک کر اس کے سینے سے جا لگا۔  حسین ان دونوں سے آ کر لپٹ گیا۔
وہ تینوں سسکیاں بھر رہے تھے۔  انہیں اپنی منزل پر اپنے آقا کی رحمت، رضا اور خوشنودی کا سایہ چھاؤں کرتا دکھائی دے گیا تھا۔
*  *  *



"ہم دونوں کشمیری ہیں سرمد۔ " حمزہ بتا رہا تھا۔  "وہاں اس وقت جتنی بھی جماعتیں جہاد کے نام پر سرگرم عمل ہیں ، ہم ان میں سے کسی ایک سے بھی تعلق نہیں رکھتے۔  اس لئے کہ کہیں نہ کہیں ان کے سیاسی مفادات اصل مقصد سے ٹکراتے ہیں۔  کمانڈر کے نام سے ہم جسے پکارتے ہیں ، ایک اللہ کا بندہ ہے جس کے دل میں اپنے غلام وطن کا دردٹیس بن کر دھڑکتا ہے۔ اس کا کسی جہادی جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔  وہ گوریلا کارروائیوں سے جس طرح کا نقصان پہنچا رہا ہے، وہ دن بدن بھارتی فوجوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔  ہم نہیں جانتے کہ اس مجاہد کا تعلق کس کس علاقے اور کس کس فرد سے ہے لیکن یہ جانتے ہیں کہ اس کے گروپ میں شامل ہونے والے لا وارث مرتے ہیں نہ ان کی لاشوں کے سودے کئے جاتے ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد ان کی میتیں ان کے اپنے علاقوں میں پہنچائی جاتی ہیں۔  کیسے؟ یہ ہم نہیں جانتے۔  کمانڈر کے گروپ کا نام "عشاق" ہے۔ وہ اللہ کے عاشق ہیں۔  رسول اللہ کے عاشق ہیں اور بس۔  ان کا ایک ہی نعرہ ہے " عزت کی آزاد زندگی یا شہادت۔ " گروپ میں ہر شامل ہونے والے کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ عمرہ کرے۔  اللہ کے گھر میں حاضری دینے کے بعد اپنے آقا کے در پر پہنچے۔  اپنے تن من کو قبولیت کا غسل دے۔ اس کے بعد گروپ میں شمولیت کے لئے کمانڈر کے خاص آدمی سے رابطہ کرے۔ ایک ماہ کی گوریلا ٹریننگ کے بعد معرکوں میں شمولیت کے لئے ڈیوٹی لگ جاتی ہے۔  پھر یہ اپنا اپنا نصیب ہے کہ شہادت ملتی ہے یا مجاہدانہ حیات۔ "
"تو آپ دونوں بھی یہاں۔۔۔ "
"ہاں۔ " حمزہ نے سرمد کی بات اچک لی۔  "ہم پہلے کشمیری مجاہدین کی ایک جماعت کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں۔  ٹریننگ کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔  ہم عمرہ کی شرط پوری کرنے کے لئے یہاں آئے تھے۔ "
"اور طلال کون ہے؟"
"یہ ہمارا عراقی ساتھی ہے۔  عشاق میں دنیا بھر سے جذبہ شہادت سے سرشارلوگ جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔ ہمیں کل تک بہر صورت سرینگر پہنچنا ہے۔ طلال نہ آیا تو ہم دونوں اس کے بغیر رخصت ہو جائیں گے۔ "
"لیکن اب مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے۔ " سرمد نے جلدی سے کہا۔
"تم عمرہ کر چکے ہو۔  اور نجانے کیوں مجھے تمہاری باتوں میں سچائی نظر آتی ہے۔  کیوں حسین۔ "حمزہ نے گردن گھمائی۔  " کیا خیال ہے؟"
"میں آپ سے متفق ہوں بھائی۔ " حسین نے ان دونوں کی جانب دیکھا۔  "سرمد ہمارے آقا کے در پر حاضری دے کر آ رہا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس کی نیت پر شک کرنا چاہئے۔ "
"لیکن سرمد۔  " حمزہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔  " تمہارے گھر والے۔۔۔ "
"ان کے علم میں نہیں ہے کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔  میں چاہتا بھی نہیں کہ ان سے بحث و تمحیص کے بعد اس راہ پر قدم رکھوں جو مجھے میرے آقا کے در سے تفویض ہوئی ہے۔ "
"شادی ہو چکی ہے تمہاری؟" حمزہ نے پوچھا۔
"عاشقوں کی شادیاں ان کے مقصد سے ہو چکی ہوتی ہیں حمزہ بھائی۔ " سرمد نے گول مول جوا ب دیا۔ ایک پل کے لئے ایک معصوم سا چہرہ اس کے تصور میں ابھرا، جسے اس نے فوراً ہی تیز ہوتی دھڑکن کے پردے میں چھپا لیا۔
"یہ تو تم نے سچ کہا۔ " حمزہ اس سے متاثر ہو چکا تھا۔ " پھر بھی عشاق کے منشور میں ہے کہ ساری معلومات سچی اور صاف صاف بہم پہنچائی جائیں۔ "
"اس کے لئے میں تیار ہوں۔  میرا دنیا میں سوائے اپنے والد کے اور کوئی نہیں ہے۔  انہیں معاشی طور پر میری مدد کی ضرورت بھی نہیں۔  وہ بڑے نامور ڈاکٹر ہیں۔  میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ انہیں میرے اس اقدام کے بارے میں تب پتہ چلے جب میں کچھ کر کے دکھاؤں تاکہ وہ مجھ پر فخر کر سکیں۔  "
"ہوں۔  " حمزہ نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا۔  "اپنا پاسپورٹ دو۔  "
سرمد نے قالین پر پڑا بیگ کھولا۔  پاسپورٹ نکال کر حمزہ کے حوالے کیا، جسے وہ کھول کر دیکھنے لگا۔
"سرمد۔  آخری بار سوچ لو۔  اس کے بعد تمہیں یہ موقع نہیں ملے گا کہ تم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکو۔ "
"سوچ لیا حمزہ بھائی۔ " ایک عزم سے سرمد نے کہا۔  " فیصلہ تو میرے آقا نے فرما دیا۔  مجھے تو اس پر صرف عمل کرنا ہے۔ "
"تو ٹھیک ہے۔ " حمزہ اٹھ گیا۔  "تم حسین کے ساتھ چلے جاؤ۔  اپنی تمام چیزیں جن سے تمہاری شناخت ہو سکے، یا تو ضائع کر دو، یا اپنے گھر پاکستان کوریئر کر دو۔  صرف یہ پاسپورٹ اور آئیڈنٹی کارڈ ہے جو تمہاری پہچان رہے گا، وہ بھی سرینگر تک۔  اس کے بعد یہ بھی تمہارے لئے بیکار ہو جائے گا۔ "
"میرے پاس ویزا کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کے علاوہ سعودی کرنسی بھی ہے حمزہ بھائی۔  اس کا کیا کروں ؟" سرمد نے بیگ سے چیزیں نکالتے ہوئے پوچھا۔
"اگر تم چاہو تو عشاق کو عطیہ کر سکتے ہو لیکن یہ تمہاری خوشی پر منحصر ہے۔  اس کے لئے کمانڈر کی طرف سے کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے۔ "
"تو یہ لیجئے۔  یہ میری طرف سے عشاق کو عطیہ کر دیجئے۔ " سرمد نے اپنا کریڈٹ کارڈ، ڈاکٹر ہاشمی کا دیا ہوا ویزا کارڈ اور سعودی کرنسی حمزہ کے حوالے کر دی۔  بیگ سے اس نے تمام کاغذات نکال لئے۔  ان کا ایک پیکٹ بنایا۔  اس پر گھر کا پتہ لکھا اور حسین کے حوالے کر دیا۔
"حسین بھائی۔  یہ کوریئر کرا دینا۔  میرا جانا ضروری تو نہیں ہے اس کے لئے۔ "
"ٹھیک ہے۔  " حمزہ نے حسین کو اشارہ کیا۔  اس نے پیکٹ لے لیا۔  " تم یہیں رکو۔  حسین کچھ دیر میں لوٹ آئے گا۔  مجھے واپسی میں تین چار گھنٹے لگیں گے۔  "
"ٹھیک ہے حمزہ بھائی۔ " سرمد ان کے ساتھ دروازے تک آیا۔
"کسی بھی انجان شخص کے لئے دروازہ کھولنے کی ضرورت ہے نہ کسی سے بات کرنے کی۔  میں تمہارے لئے کافی اور کچھ کھانے کو بھجوا تا ہوں۔ "
جواب میں سرمد نے محض سر ہلا دیا۔  وہ دونوں کمرے سے نکلے تو اس نے دروازہ اندر سے لاک کر لیا۔
اچانک اسے کچھ خیال آیا۔  کچھ دیر وہ سوچ میں ڈوبا رہا پھر موبائل جیب سے نکال کر ایک نمبر ملایا۔
"ہیلو۔  ریحا از ہیئر۔ " دوسری جانب سے وہ بیتابی سے چہکی۔  "اچھے تو ہو سرمد؟ "
"ہاں ہاں۔  " وہ ہولے سے مسکرایا۔  "میں بالکل ٹھیک ہوں۔  تم سناؤ۔ "
"میں بھی ٹھیک ہوں۔  سنو سرمد۔  کیا تم یقین کرو گے آج صبح سے میں چاہ رہی تھی کہ تم مجھے فون کرو۔  اور دیکھو، تم نے فون کر دیا۔  " وہ ہنسے جا رہی تھی۔  کھلی جا رہی تھی۔
"دل کو دل سے راہ ہوتی ہے ریحا۔ " وہ بے اختیار کہہ گیا۔
"اچھا۔ " حیرت سے اس نے کہا۔  "تمہارے دل کو بھی میرے دل سے راہ ہو گئی سرمد۔ "
"میں تو محاورتاً کہہ رہا تھا پگلی۔ " سرمد کو اپنے الفاظ کی نزاکت کا احساس ہوا۔
"چلو۔  ہم محاورے ہی میں سہی، تمہارے دل کے قریب تو آئے۔  اچھا یہ کہو۔  خیریت سے فون کیا ؟" اس نے خود ہی بات بدل دی۔  شاید اس ڈر سے کہ سرمد کا اگلا فقرہ، حقیقت کا آئینہ دکھا کر اس سے یہ چھوٹی سی خوشی بھی چھین نہ لے۔
"ہاں۔ " سرمد نے جھجک کر کہا۔  "ایک چھوٹا سا کام تھا ریحا۔ "
"تو کہو ناں۔  جھجک کیوں رہے ہو؟ سرمد۔  یقین کرو اگر مجھے زندگی میں تم سے کوئی کام پڑا ناں۔  تومیں تمہیں حکم دوں گی۔  درخواست نہیں کروں گی۔  ارے ہمارا ایک دوسرے پر جو حق ہے اسے کھل کر استعمال کرو یار۔  نفع نقصان، لینا دینا، تعلق کو ناپ تول کر کیش کرنا، یہ تو ہم ہندو ساہوکاروں کی بدنامیاں ہیں۔  تم مسلمان ہو کر اس چکر میں کیسے پڑ گئے؟" وہ اس کے لتے لے رہی تھی۔
"نہیں۔  ایسی بات نہیں ریحا۔ " وہ جھینپ گیا۔
"تو پھر جلدی سے کہہ ڈالو۔  کیا کام ہے؟"
"ریحا۔ " اس نے سارے تکلفات بالائے طاق رکھنے کی ہمت کر ڈالی۔  "تمہیں ایک بار لندن جانا پڑے گا۔ "
"تم آ رہے ہو وہاں تو میں ہزار بار لندن جانے کو تیار ہوں سرمد۔ " ریحا ایک دم بے چین ہو گئی۔
"نہیں۔  میں نہیں آ رہا لندن۔ "
"تو پھر۔ " وہ حیران ہوئی۔
"تم وہاں میرے فلیٹ پر چلی جانا۔  دروازے کے سامنے اوپر جاتی سیڑھیاں ہیں۔  ساتویں زینے کے کارپٹ کے نیچے فلیٹ کی چابی ہے۔  اندر میری رائٹنگ ٹیبل کے نچلے دراز میں میرے تمام ڈاکومنٹس، رزلٹ کارڈ اور ڈگری ایک لفافے میں بند پڑے ہیں۔  وہ میرے گھر کے پتے پر میرے پاپا کے نام کوریئر کر دینا پلیز۔ "
"مگر۔۔۔ "
"دو مہینے کا کرایہ میرے ایڈوانس میں ابھی باقی ہے۔  میرے لینڈ لارڈ سے مل کر میرا حساب چکا دینا۔  سامان جسے چاہے دے دینا۔  مجھے کسی چیز سے کچھ لینا دینا نہیں۔ " اس نے ریحا کی بات کاٹ کر کہا۔
"وہ تو میں سب کر دوں گی۔  مگر تم ہو کہاں ؟"
"میں۔۔۔ " ایک پل کو سرمد رکا۔  پھر بولا۔  "میں سعودی عرب میں ہوں ریحا۔  عمرہ کرنے آیا تھا یہاں۔ "
"تو واپسی کب تک ہے تمہاری؟"
"جلد ہے۔ " اس نے بات گول کر دی۔
"وہاں سے پاکستان جاؤ گے کیا؟"
"شاید۔ " اس کی آواز دھیمی ہو گئی۔  " ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن لندن نہ جانے کا میں اپنے پاپا سے وعدہ کر چکا ہوں ریحا۔  اس لئے تمہیں تکلیف دے رہا ہوں۔ "
"وہ تکلیف تو میں اٹھا لوں گی سرمد لیکن مجھ سے وعدہ کرو تم جہاں بھی رہو گے مجھ سے رابطہ رکھو گے۔  "
"ہاں۔ " کچھ سوچ کر سرمد نے کہا۔  " اگر ممکن ہوا تو۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ "
"اور جب بھی ہو سکا مجھ سے ملو گے بھی۔ "اس نے مزید پاؤں پھیلائے۔
"ہاں۔  ضرور۔ "
"تو ٹھیک ہے۔  " وہ ایک دم خوش ہو گئی۔  "میں ایک دو روز میں لندن چلی جاؤں گی۔  پھر تمہیں بتاؤں گی کہ تمہارا کام ہو گیا۔ " وہ اس سے رابطے کا بہانہ محفوظ کر رہی تھی۔
"میں خود تم سے بات کروں گا ریحا۔  تم فکر نہ کرو۔ "
"چلو۔  جو پہلے بات کر لی، وہی سکندر۔ " ریحا کا موڈ بیحد خوشگوار ہو رہا تھا۔  وہ سرمد کے ہنس کر بول لینے ہی پر فدا ہوئی جا رہی تھی۔
"اچھا ریحا۔  اب اجازت۔ "
"کس دل سے کہوں کہ ہاں۔ " وہ جذباتی ہو گئی۔ "مگر ہو گا تو وہی جو طے ہے۔  اس لئے گڈ بائی سرمد۔  آل دی بیسٹ۔ "
"خوش رہو ریحا۔  سلامت رہو۔ " سرمد نے بٹن دبا دیا۔  وہ مزید اس پگلی کو باتیں کرنے کا موقع دے کر اس کے خواب کا دورانیہ طویل نہ کرنا چاہتا تھا۔  موبائل جیب میں رکھ کر اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ پھر کسی گہری سوچ میں گم بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔
سوچتے سوچتے ریحا کی جگہ موجودہ صورتحال نے لے لی اور بے اختیار اس کے رگ و پے میں ایک سکون سا بھر گیا تھا۔  یوں لگتا تھا، وہ جس مقصد کے لئے یہاں آیا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔
"عشاق۔  " اچانک اس کے ذہن کے پردے پر ایک لفظ ابھرا۔  کمانڈر نے کیسا با مقصد لفظ اپنے گروپ کے لئے چُنا تھا۔ اسے اپنے بارے میں خیال آیا تو لگا، یہ لفظ اس کے لئے ہی منتخب کیا گیا ہے۔  وہ جو ایک ناکام عاشق تھا۔  اسے ایک کامیاب راستے کی نوید دے کر اس کے آقا نے رخصت کر دیا تھا۔  صفیہ کے عشق نے، عشقِ مجازی نے اس کا ہاتھ عشقِ حقیقی کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔
٭
تقریباً ایک گھنٹے بعد حسین لوٹا۔  اس نے ڈاکٹر ہاشمی کے پتے پر سرمد کا پیکٹ کوریئر کرا دیا تھا۔  رسید سرمد کو دے کر وہ باتھ روم میں گھس گیا۔  سرمد رسید ہاتھ میں لئے کچھ دیر اسے غور سے دیکھتا رہا۔  پھر ایک طویل سانس لے کر اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔  حسین نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور خاموشی سے صوفے پر آ بیٹھا۔ دوپہر کا کھانا ان دونوں نے اکٹھے کھایا۔  حمزہ شام کے قریب لوٹا۔  وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
"کام ہو گیا ؟" حسین نے بیتابی سے پوچھا۔
"ہاں۔  بڑی مشکل سے ہوا مگر ہو گیا۔ " حمزہ نے تین پاسپورٹ نکال کر اس کی طرف اچھالے اور خود بستر پر گر پڑا۔
"ویری گڈ۔ " حسین نے تیسرا پاسپورٹ دیکھ کر حیرت بھرے تحسین آمیز لہجے میں کہا اور پاسپورٹ سرمد کے ہاتھ میں دے دیا۔
سرمد نے اپنا پاسپورٹ کھول کر دیکھا اور اب حیران ہونے کی باری اس کی تھی۔  "ارے" کہتے ہوئے اس نے حمزہ کی جانب دیکھا۔  "یہ کیسے ہوا حمزہ بھائی؟"
"بس ہو گیا۔  اب تم لوگ تیار رہو۔  ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے ہم لوگ چیک آؤٹ کر جائیں گے۔  نو بجے کی فلائٹ ہے۔  میں ٹکٹ کنفرم کرا لایا ہوں۔ "
سرمد نے مزید کوئی سوال کرنا مناسب نہ سمجھا اور پاسپورٹ جیب میں رکھ لیا جس پر حمزہ نے بھارت کا ویزہ لگوا لیا تھا۔
ٹھیک پونے نو بجے وہ لوگ ایر پورٹ پر تھے۔  ان کے پاس سوائے ایک ایک ہینڈ بیگ کے اب کوئی سامان نہ تھا۔  ریوالور اور فالتو سامان ہوٹل کے کمرے ہی میں چھوڑ دیا گیا تھا۔  ہینڈ بیگز میں ان کا ایک ایک کپڑوں کا جوڑا، چند اشیائے ضرورت اور پاسپورٹ تھی۔
پورے نو بجے گلف ایر لائن کے طیارے نے دہلی کے لئے رن وے چھوڑ دیا۔  کھڑکی کے قریب بیٹھے سرمد نے جدہ ایر پورٹ کی جلتی بجھتی روشنیوں پر نظر ڈالی۔  پھر فضا میں جہاز سیدھا ہوا تو ان لوگوں نے سیفٹی بیلٹس کھول دیں۔  بے اختیار سرمد نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔  اس کا دل بڑے زور سے پھڑپھڑایا۔  گنبدِ خضریٰ اس کی نگاہوں میں دمکا اور غیر اختیاری طور پر اس کے لبوں پر درود شریف مہک اٹھا۔  سارا جسم ایک بار تن کر یوں ٹوٹا جیسے ساری تھکان، ساری کلفتیں ، ساری اداسیاں ہوا ہو گئی ہوں۔  آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔  حمزہ اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا کنکھیوں سے دیکھ رہا تھا کہ سرمد کے لب ہولے ہولے ہل رہے ہیں۔  اس نے کان لگا کر سنا اور عقیدت سے اس کا دل بھر آیا۔  وہ دم بخود رہ گیا۔  سرمد کے ہونٹوں پر خالقِ کون و مکاں کا پسندیدہ وظیفہ جاری تھا۔
"صلی اللہ علیہ وسلم۔  صلی اللہ علیہ وسلم۔  صلی اللہ علیہ وسلم۔ "
"عشاق" کے لئے اس سے بڑا ورد اور کیا ہو سکتا ہے۔  " اس نے سوچا اور بے ساختہ اس کے ہونٹ بھی متحرک ہو گئے۔
"صلی اللہ علیہ وسلم۔  صلی اللہ علیہ وسلم۔  صلی اللہ علیہ وسلم۔ "
اور وہاں سے ہزاروں میل دور، نور پور گاؤں کے قریب، بابا شاہ مقیم کے مزار کے باہر کھڑے درویش نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا۔  ہواؤں میں کچھ سونگھا اور پکار اٹھا۔
"صلی اللہ علیہ وسلم۔  صلی اللہ علیہ وسلم۔  صلی اللہ علیہ وسلم۔ " پھر وہ مزار کی طرف بھاگا۔  "بابا۔  او بابا شاہ مقیم۔  دیکھ۔  وہ چل دیا ہے۔  اپنی منزل کی جانب۔  دیکھ۔ اسے میرے آقا نے قبول کر لیا ہے۔  اس کا عشق اسے مہکا رہا ہے بابا شاہ مقیم۔  اسے دہکا رہا ہے۔  اسے صلی اللہ علیہ وسلم کے پر عطا کر دیے گئے ہیں۔  وہ اڑ رہا ہے۔  اس کی پرواز شروع ہو گئی بابا۔  دیکھ۔  اس نے اپنے خالق، اپنے معبود کی رضا، اپنے مقصود، اپنی منزل کی جانب سفر شرو ع کر دیا ہے۔  دیکھ۔  دیکھ۔  بابا شاہ مقیم دیکھ۔ "
درویش پاگلوں کی طرح ادھر سے ادھر بھاگا پھر رہا تھا۔  آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا اٹھا کر اشارے کر رہا تھا۔  مزار والے کو بتا رہا تھا۔  وہ بچوں کی طرح خوش تھا۔  قلقاریاں مار رہا تھا۔  ہواؤں میں اڑنے کو پر کھول رہا تھا۔  پھر ایسا ہوا کہ ایک دم وہ مزار کے باہر ایک جگہ رک گیا۔  بایاں بازو موڑ کر کمر پر رکھا۔ دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا۔  سر جھکا کر آنکھیں بند کر لیں اور دھیرے دھیرے ہلکورے لینے لگا۔
"صلی اللہ علیہ وسلم۔  صلی اللہ علیہ وسلم۔  صلی اللہ علیہ وسلم۔ "
وہ جھوم رہا تھا۔ گنگنا رہا تھا۔  رقص کر رہا تھا۔  چک پھیریاں لے رہا تھا۔  ہوا اس کے ساتھ محوِ رقص تھی۔  فضا اس کے ساتھ بے خود تھی۔  درختوں کے پتے تال دے رہے تھے۔ شاخیں سر دھُن رہی تھیں۔  مٹی سوندھی سوندھی خوشبو سے مستی پھیلا رہی تھی۔  آسمان پر فرشتے اپنے رب کے حضور گا رہے تھے۔  تارے چمک چمک کر صدائیں دے رہے تھے۔  کائنات وجد میں تھی۔  جلوت و خلوت کے لبوں پر ایک ہی گیت تھا۔ ہر طرف ایک ہی نغمہ سرور بانٹ رہا تھا۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
*  *  *


ڈاکٹر ہاشمی کے سامنے سعودی عرب اور لندن سے آنے والے دونوں پیکٹ کھلے پڑے تھے۔  ایک سے سرمد کے ضروری کاغذات اور دوسرے سے اس کی ایم بی اے کی ڈگری، رزلٹ کارڈ اور یونیورسٹی کے دیگر ڈاکومنٹس بر آمد ہوئے تھے۔ دونوں کے ساتھ ہی سرمد کے طرف سے کوئی خط یا دوسری تحریر نہ تھی۔
ان کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ سرمد نے انہیں یہ سب کچھ ارسال کیا تو کیوں ؟وہ خود کہاں ہے؟ اپنا ٹھکانہ نہ بتایا تو اس کا سبب کیا ہے؟ان کے حساب سے سرمد کو کئی دن پہلے واپس ان کے پاس لوٹ آنا چاہئے تھا مگر اس کے بجائے اس کے کاغذات آئے تھے اور بس۔  مزید نہ کوئی خیر خبر نہ اطلاع۔
سوچ سوچ کر ان کاسردرد سے پھٹنے لگا۔  اپنی الجھن دور کرنے کے لئے انہوں نے آخری بار پیکٹ کے ریپر کا جائزہ لیا۔  اس پر بھیجنے والے کا نام سرمد ہاشمی تحریر تھا۔ یہ پیکٹ جدہ سے بھیجا گیا تھا۔ جبکہ لندن سے آنے والے پیکٹ پر کسی لڑکی ریحا کا نام اور پتہ سرمد کے فلیٹ کا تحریر تھا۔
کچھ سوچ کر انہوں نے لندن یونیورسٹی کے انکوائری آفس کا نمبر ملایا۔  تھوڑی دیر بعد رابطہ ہو گیا مگر وہاں سے جو معلومات حاصل ہوئیں وہ اور بھی فکرمند کر دینے والی تھیں۔  آفس والوں نے بتایا کہ سرمد عمرے کے لئے گیا اور واپس نہیں آیا۔  انہیں جس لڑکی ریحا نے سرمد کے ڈاکومنٹس ارسال کئے، وہ سرمد کی کلاس فیلو تھی۔  بھارت کی رہنے والی اور واپس انڈیا جا چکی تھی۔  وہ دوبارہ کب لندن آئی؟ اور کب اس نے سرمد کے ڈاکومنٹس ڈاکٹر ہاشمی کو کوریئر کئی، اس سے یونیورسٹی والے لاعلم تھے۔
ڈاکٹر ہاشمی کا دل گھبرا گیا۔  ان کا اکلوتا بیٹا کہاں تھا، کیا کر رہا تھا اور کس حال میں تھا؟ انہیں اس بارے میں ایک فیصد بھی علم نہ ہو پایا تھا۔ یہ بے خبری ان کے لئے سوہانِ روح بنتی جا رہی تھی۔  اچانک انہیں کچھ خیال آیا۔  ایک دم انہوں نے سامنے پڑا موبائل اٹھایا اور سرمد کا نمبر ملایا۔  دوسری طرف سے موبائل سرمد نے رسپانڈ نہ کیا۔ وہ بار بار ٹرائی کرتے رہی۔  پہلے مسلسل۔  پھر وقفے وقفے سے مگر کوئی رسپانس نہ پا کر ان کی بے چینی آخری حدوں کو چھونے لگی۔  انہوں نے لندن کے پیکٹ سے ریحا کا کوئی رابطہ جاننا چاہا مگر اس پر ریحا نے اپنا فون نمبر نہ لکھا تھا اور پتہ وہ دیکھ چکے تھے کہ سرمد کے فلیٹ کا تھا۔
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
انہیں سرمد کی حالت یاد آئی۔  وہ جس دگرگوں حال میں انہیں جدہ ایر پورٹ پر ملا تھا وہ اس کی ذہنی پریشانی کا منہ بولتا ثبوت تھی مگر انہوں نے اس کے پاکستان آ جانے پر معاملہ چھوڑ کر غلطی کی، اس کا احساس انہیں اب ہو رہا تھا۔  انہیں چاہئے تھا کہ وہیں اس سے ساری بات جاننے کی کوشش کرتے یا اسے ساتھ لے کر لوٹتے۔  مگر اب کیا ہو سکتا تھا؟
ان کا دل جیسے کوئی مٹھی میں لے کر مسل رہا تھا۔ انہوں نے سرمد کو باپ بن کر کم اور ماں بن کر زیادہ پالا تھا۔  اس کی اچانک گمشدگی اور غیر خبری ان کے لئے ناقابل برداشت ہو رہی تھی۔
 آج صبح سے انہوں نے کوئی مریض نہ دیکھا تھا۔  اپنے کمرے میں آتے ہی انہیں دونوں پیکٹ مل گئے اور انہوں نے چپراسی سے کہہ دیا کہ مریضوں کو ڈاکٹر جمشید کے کمرے میں بھجوا دی۔  ڈاکٹر جمشید کو انٹر کام پر مریض دیکھنے کی ہدایت دے کر انہوں نے پیکٹ کھولے اور اب چکر کھاتے ہوئے دماغ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔
ان کا دماغ کسی ایسے ہمدرد کو تلاش کرنے میں ناکام رہا جو اس صورتحال میں انہیں صحیح راستہ دکھا سکے یا ان کی پریشانی کم کرنے کے لئے کچھ کر سکی۔ سوچتے سوچتے انہیں طاہر کا خیال آیا۔  وہ ان سے کافی بے تکلف بھی تھا۔  اس کے زندگی بھر کے معاملات ان کے سامنے، اور اکثر انہی کے ہاتھوں طے ہوئے تھے حتی ٰ کہ اس کی شادی تک ان کی مرہون منت تھی۔  اس کے تعلقات ہر شعبہ حیات میں تھے۔  THE PROUDکے حوالے سے وہ دنیا کے کئی ممالک میں جانا جاتا تھا۔
انہوں نے ٹیلی فون سیٹ اپنی طرف کھسکایا اور تیزی سے طاہر کا نمبر ملایا۔  نمبر ملاتے ہوئے ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ نمایاں تھی۔
"یس۔  انکل۔  طاہر بول رہا ہوں۔ " دوسری جانب سے آواز ابھری تو ڈاکٹر ہاشمی کا خشک ہوتا ہوا گلا درد سے بھر گیا۔
"طاہر۔۔۔  بیٹے۔ " ان کی آواز بھرا گئی۔
"کیا بات ہے انکل؟" وہ چونک پڑا۔  " خیریت تو ہے؟"
"پتہ نہیں بیٹے۔  " وہ بے بس سے ہو گئے۔
" انکل۔  انکل۔ " طاہر بیتابی سے بولا۔  "خیریت تو ہے ناں۔  کیا بات ہے آپ پریشان لگتے ہیں۔ "
"بیٹے۔  وہ سرمد۔۔۔  سرمد۔۔۔ " ان کی آواز ٹوٹ گئی۔
"کیا ہوا سرمد کو؟" طاہر کے ذہن کو جھٹکا سا لگا۔  "انکل۔۔۔ "
"پتہ نہیں بیٹے۔۔۔  " وہ آنسو پینے کی کوشش کر رہے تھے۔  "سرمد کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔ "
"پتہ نہیں چل رہا؟" حیرت سے طاہر نے کہا۔  "انکل۔  وہ لندن میں ہے ناں۔۔۔ "
"نہیں۔  وہ وہاں نہیں ہے۔  جب ہم واپس آ رہے تھے تو وہ ہمیں جدہ ایر پورٹ پر ملا تھا اور بہت پریشان تھا۔  میں نے اسے عمرہ کر کے سیدھا واپس پاکستان آنے کو کہا تھا مگر ۔۔۔ "
ڈاکٹر ہاشمی کہہ رہے تھے اور طاہر بُت بنا ان کی بات سن رہا تھا۔  اس کے کانوں میں سیٹیاں سی گونج رہی تھیں۔ اسے ڈاکٹر ہاشمی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔  سب کچھ سمجھ میں بھی آ رہا تھا مگر جواب دینے کے لئے اس کی زبان سے کوئی لفظ نہ نکل رہا تھا۔  حواس جیسے پتھرا گئے تھے۔
"اب بتاؤ میں کیا کروں طاہر بیٹے۔  میرا سرمد کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟ کوئی نہیں بتاتا مجھے۔ " وہ بچوں کی طرح رو پڑے۔
"انکل۔ " ایک دم اسے ہوش آ گیا۔  " آپ۔۔۔  آپ گھبرائیے نہیں۔  میں آ رہا ہوں آپ کے پاس۔ فکر کی کوئی بات نہیں انکل۔  ہم مل کر سرمد کو ڈھونڈ نکالیں گے۔  آپ پریشان نہ ہوں۔  میں ابھی چند منٹ میں پہنچ رہا ہوں آپ کے پاس۔ "
اس نے ریسیور کریڈل پر ڈالا اور اٹھ کھڑا ہوا۔  اس کے ذہن میں صرف ایک بار صفیہ اور سرمد کے واسطے سے خیال آیا، جسے سر جھٹک کر اس نے دور پھینک دیا۔  اس بارے میں درویش نے اس کا من یوں دھو ڈالا تھا کہ کیا کوئی تیزاب سنگ مرمر کو دھوتا ہو گا۔ وہ تیز تیز قدموں سے آفس سے نکلا اور چند لمحوں کے بعد اس کی گاڑی ڈاکٹر ہاشمی کے ہاسپٹل کی طرف اڑی جا رہی تھی۔
٭
حمزہ، حسین اور سرمد دہلی ایر پورٹ پر اترے تو صبح کے سات بج رہے تھے۔  سردیوں کی صبح کا سورج طلوع ہونے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
خاصی سخت چیکنگ کے بعد وہ عمارت سے باہر نکلے۔  حمزہ نے ایر پورٹ سے باہر کھڑی ٹیکسیوں میں سے کسی کو لفٹ نہ کرائی اور ان دونوں کو ساتھ لئے ہوئے ایر پورٹ کی حدود سے باہر نکل آیا۔  جونہی اس نے ایر پورٹ بس سٹاپ پر قدم روکے، ایک آٹو رکشا ان کے قریب آ رکا۔
"خاص گنج چلیں گے صاحب؟" دبلے پتلے ڈرائیور نے گردن باہر نکالی۔
"ضرور چلیں گے بھائی۔ " حمزہ نے خوشدلی سے کہا۔  "بیٹھو بھئی۔ " اس نے حسین اور سرمد کو اشارہ کیا۔  تینوں پھنس پھنسا کر ہینڈ بیگز گود میں رکھے رکشا میں سوار ہوئے اور ڈرائیور نے رکشا آگے بڑھا دیا۔
"ناشتہ ؟" اچانک ایک موڑ مڑتے ہوئے ڈرائیور نے پوچھا۔
"گھر چل کر کریں گے۔ " حمزہ نے مختصر جواب دیا اور تب سرمد کو پتہ چلا کہ رکشا والا ان کا اپنا آدمی ہے۔
تقریباً بیس منٹ بعد رکشا خاص گنج کی گنجان آبادی میں داخل ہوا اور ایک دو منزلہ مکان کے سامنے رک گیا۔
حمزہ نے اتر کر دروازے پر دستک دی۔  حسین اور سرمد اس کے پاس آ کھڑے ہوئے۔  سرمد نے ایک طائرانہ نگاہ سے ارد گرد کا جائزہ لیا۔  پاکستان کے کسی اندرون شہر کی آبادی سے ملتا جلتا ماحول تھا۔  دکانیں اور مکان بھی ویسے ہی تھے۔ بھیڑ کا بھی وہی عالم تھا۔  ڈرائیور انہیں اتار کر رکشا وہیں چھوڑ کر کسی طرف نکل گیا۔ دوسری دستک پر دروازہ کھل گیا اور کسی نے انہیں اندر آنے کا راستہ دے دیا۔
وہ تینوں اندر داخل ہوئے۔  سرمد نے اندر قدم رکھا تو دروازہ کھولنے والے باریش نوجوان نے دروازہ بھیڑ دیا۔
"قاسم کہاں ہے؟" اس نے حمزہ سے پوچھا۔
"شاید ناشتہ لینے گیا ہے۔ " حمزہ نے بتایا اور وہ ڈیوڑھی سے گزر کر صحن میں آ گئے۔
"کب روانگی ہے؟" بیٹھک نما کمرے کے دروازے پر جوتیاں اتار کر وہ اندر آئے تو فرشی نشست پر بیٹھتے ہوئے حمزہ نے پوچھا۔
"شام چھ بجے۔ " نوجوان نے کہا۔  پھر اس کی نظر سرمد سے ہٹ کر حمزہ پر ٹھہر گئی۔  "یہ کون ہیں ؟"
"اپنے ہی ساتھی ہیں۔ عمرے کے بعد وہیں مل گئے تھے۔ "
"داؤد کو خبر ہے؟"
"نہیں۔  میں خود بتا دوں گا۔ "
"ٹھیک ہے۔ " نوجوان نے بات ختم کر دی۔  پھر اس نے سرمد کی طرف مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔  "خالد کمال۔ "
"سرمد۔ " اس نے گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
اسی وقت قاسم ناشتے کا سامان لئے ہوئے کمرے کے دروازے پر آ رکا۔  "خالد۔  یہ سنبھالو۔  میں ذرا داؤد کو خبر کر آؤں۔ "
خالد نے دونوں شاپر اس کے ہاتھ سے لے لئے تو وہ وہیں سے لوٹ گیا۔  خالد نے جب تک حلوہ پوڑی، چنے اور بالائی کے دونے پلیٹوں میں نکال کر رکھی، اتنی دیر میں ان تینوں نے باری باری اٹیچ باتھ روم میں جا کر رفع حاجت کی۔  منہ ہاتھ دھویا اور پھر ناشتے کے لئے بیٹھ گئے۔
"تم ناشتہ کر چکے کیا؟"حمزہ نے خالد سے پوچھا۔
"نہیں۔  تم لوگ کرو۔  میں اتنی دیر میں چائے بنا لوں۔ "وہ باہر نکل گیا۔
سرمد، ان دونوں کے ساتھ ناشتے میں مشغول ہو گیا۔  وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ بات جتنی بھی تھی اس کی سمجھ میں آ رہی تھی اور جو نہ آ رہی تھی، اس کے بارے میں وہ سوال کرنا نہ چاہتا تھا۔ ناشتے کے بعد چائے کا دور چلا۔  کپ خالی ہوئے ہی تھے کہ قاسم لوٹ آیا۔
"داؤد کو خبر کر دی ہے میں نے۔  وہ ٹھیک چھ بجے ٹاٹا بس سٹینڈ آگرہ روڈ پر ہمارا انتظار کرے گا۔ "
حمزہ نے جواب دینے کے بجائے محض اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
"اب تم لوگ آرام کر و۔  سرینگر تک کا سفر بڑا تھکا دینے والا ہے۔ "قاسم، خالد کے ساتھ کمرے سے نکل گیا۔
حمزہ اور حسین نے تکیے سر کے نیچے رکھے اور کمبل اوڑھ لئے۔  سرمد نے تکیہ دیوار کے سہارے کھڑا کیا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گیا۔ کمبل اس نے کمر تک کھینچ لیا۔
"سونے کی کوشش کرو سرمد۔  ورنہ سفر میں دشواری ہو گی۔ "
" آپ فکر نہ کریں حمزہ بھائی۔  " سرمد مسکرایا۔  " میں جاگنے کا ایکسپرٹ ہوں۔  نیند آئی تو سو جاؤں گا۔ "
حمزہ نے اس سے بحث نہ کی۔  آنکھیں بند کر لیں۔ حسین اتنی ہی دیر میں خراٹے نشر کرنے لگا تھا۔
اب سرمد انہیں کیا بتاتا کہ سرینگر کا نام سنتے ہی اس کی آنکھوں میں ریحا اتر آئی تھی۔  وہ سرینگر میں جموں کشمیر روڈ پر رہتی تھی۔  انہیں بھی کشمیر جانا تھا۔ سوچیں گڈ مڈ ہونے لگیں۔  اس نے پلکیں موند لیں اور ایک دم ریحا کا تصور دھواں ہو گیا۔
اب گنبدِ خضریٰ سامنے تھا۔  سکون نے اسے باہوں میں لے لیا۔  ایک دم اسے کوئی خیال آیا اور سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ اس کا دل بڑے زور سے دھڑکا۔  پھر یقین نے جیسے اس کے خیال پر مہر ثبت کر دی۔  وہ بے حس و حرکت پڑا رہ گیا۔ وہ خیال کیا تھا ایک خوشبو تھی جو اس کے رگ و پے میں سرایت کرتی جا رہی تھی۔  اس نے جان لیا تھا کہ جب سے جدہ ایر پورٹ سے روانہ ہوا تھا، وہ جب بھی آنکھیں موندتا، گنبدِ خضریٰ اس کے تصور کے پردے پر ابھر آتا اور زبان پر درود تو ہر وقت جاری رہنے لگا تھا۔  جب وہ زبان سے کوئی بات کرنے لگتا تو دل اس وظیفے کو چومنے لگتا۔ اس وقت بھی اس نے پلکیں موندیں تو گنبدِ خضریٰ سامنے آ گیا اور زبان، وہ تو جیسے "صلی اللہ علیہ وسلم " کے لئے وقف ہو چکی تھی۔ اس کے ہولے ہولے ہلتے ہونٹ بے آواز درود پڑھ رہے تھے اور دزدیدہ نگاہوں سے حمزہ اسے دیکھ کر رشک محسوس کر رہا تھا۔  وہ جانتا تھا کہ سرمد ہر وقت درود شریف کے ورد میں محو رہتا ہے۔  اسے اس حال میں دیکھ دیکھ کر وہ خود بھی درود پڑھنے کا عادی ہوتا جا رہا تھا۔  اس وقت بھی جب اس نے سرمد کے ہونٹ ہلتے دیکھے تو بے اختیار خود بھی دل ہی دل میں درود پڑھنے لگا۔  وہ نہیں چاہتا تھا کہ سرمد کو پتہ چلے کہ وہ اس کی تقلید کر رہا ہے۔  وہ اس مہک کو اپنے تک محدود رکھنا چاہتا تھا جس نے اس کے اندر عقیدت کا پودا لگا دیا تھا۔  وہ اس پودے کو چپ چاپ، خاموشی اور راز داری سے سینچنا چاہتا تھا۔
٭
داؤد تیس بتیس سال کا ایک قوی الجثہ کلین شیو آدمی تھا۔  سادہ شلوار قمیض میں بھی وہ بیحد اچھا لگ رہا تھا۔
خالد کے گھر سے چلے تو ان تینوں نے بھی یہی لباس زیب تن کیا جو استعمال شدہ تھوڑے سے مسلے ہوئے شلوار قمیض اور گرم واسکٹوں پر مشتمل تھا۔۔  سروں پر گرم اونی ٹوپیاں پہن لی گئیں اور ہینڈ بیگز وہیں چھوڑ دیے گئے۔
ٹاٹا بس سٹینڈ پر جب حمزہ نے سرمد کا تعارف داؤد سے کرایا تو اس نے چند لمحوں تک بڑی گھورتی ہوئی گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا۔ پھر نجانے کیا ہوا کہ ہنس کر اس نے سرمد کو گلے لگا لیا۔  سرمد نے محسوس کیا کہ جتنی دیر وہ اسے سر سے پاؤں تک دیکھتا رہا، اس کے جسم میں سوئیاں چبھتی رہیں۔ لگتا تھا اس کی نگاہوں سے ایکسریز خارج ہو رہی ہیں جو اس کے دل میں چھپا خیال تک جان لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ٹاٹا کی آرام دہ بس سے جب وہ چاروں سرینگر کے لئے روانہ ہوئے تو شام ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ حمزہ اور حسین کے بائیں ہاتھ دوسری جانب سرمد اور داؤد کی سیٹیں تھیں۔ راستے میں دو جگہ رک کر صبح سات بجے بس نے انہی سرینگر لا اتارا۔ سارا سفر بڑی خاموشی سے کٹا۔  ایک جگہ کھانے اور دوسری جگہ چائے کے دوران چند رسمی سی باتیں ہوئیں اور بس۔
اڈے سے نکل کر وہ چاروں ایک قہوہ خانے پر آ رکی۔  قہوہ خانے کا مالک ایک کشمیری تھا۔  سردی زوروں پر تھی اور پندرہ بیس لوگ گرم گرم قہوے سے شغل کر رہے تھے۔
وہ چاروں ایک خالی لمبے بنچ پر بیٹھ گئے، جس کے آگے ٹوٹی پھوٹی ایک میز نما شے پڑی تھی۔ دو تین منٹ گزرے ہوں گے کہ ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکا ان کے لئے قہوہ کے گلاس لے آیا۔  لمبی قمیض گھٹنوں سے اونچی شلوار اور ہوائی چپل پہنے ہوئے ناک سے شوں شوں کرتا وہ انہیں دو پھیروں میں قہوہ سرو کر کے جانے لگا تو داؤد نے اس کی جانب دیکھا۔
" آدھ گھنٹے بعد ٹرک جا رہا ہے۔ " اس نے میز صاف کرتے ہوئے جھک کر یوں کہا کہ شاید ہی کسی تیسرے نے سنا ہو۔ " کھائی پار موڑ پر۔ "
داؤد خاموشی سے قہوے کی چسکیاں لیتا رہا۔  اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ ابھرا۔  قہوہ ختم کرتے ہی وہ اٹھ گئے۔ داؤد نے لڑکے کو چند چھوٹے نوٹ تھمائے اور وہ چاروں جیکٹوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سرخ مٹی سے آلودہ راستے پر چل پڑے۔  تھوڑی دور سیدھا چلنے کے بعد وہ ایک موڑ پر پہنچے اور ایک دم داؤد انہیں لے کر نیچے سبزے میں اتر گیا۔  سڑک اوپر رہ گئی۔  لمبی لمبی گھاس میں ان کے جسم گم سے ہو گئے۔  تقریباً دس منٹ تک جھک کر چلتے رہنے کے بعد وہ پھر اوپر چڑھ کر دوسری جانب کی سڑک پر آ گئے۔  موڑ مڑے تو دیکھا سامنے سے ایک ٹرک چلا آ رہا تھا، جس پر آرمی سپلائی کی تختی دور سے نظر آ رہی تھی۔
وہ ایک سائڈ پر ہو کر کھڑے ہو گئے۔  ٹرک ان کے قریب آ کر رکا۔  ڈرائیور ایک بوڑھا مگر مضبوط بدن کا آدمی تھا۔
"جلدی کرو۔  " اس نے ان چاروں پر نظر ڈالی۔
داؤد ان تینوں کے ساتھ ٹرک کے پچھلے حصے میں سوار ہوا اور ترپال گرا دی۔  وہ راشن کی بوریوں پر جگہ بنا کر بیٹھ گئے۔
خاموشی ان کے لئے یوں ضروری ہو گئی تھی جیسے وہ بولیں گے تو سزاملے گی۔ ٹرک اپنی رفتار سے چلتا رہا۔  موڑ کاٹتا رہا۔  جھٹکے کھاتا رہا۔  سرمد کو جہاں جگہ ملی، وہاں سے کبھی کبھی ترپال ہلتے ہوئے ہٹ جاتی تھی اور سڑک کا منظر دِکھ جاتا تھا۔ وہ ہلتے ہونٹوں پر اپنا ورد سجائے باہر دیکھ رہا تھا۔  گیارہ بج رہے تھے جب ڈرائیور نے ٹھک ٹھک کی آواز کے ساتھ انہیں ہوشیار کیا۔
"خاموش بیٹھے رہنا۔  چیک پوسٹ ہے۔ " داؤد نے سرگوشی کی۔  باقیوں کا تو پتہ نہیں ، سرمد کا سارا خون سمٹ کر اس کی کنپٹیوں میں آ گیا۔ دل یکبارگی زور سے دھڑکا۔  وہ اپنی حالت پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔  داؤد نے اس کا ہاتھ تھام کر زور سے دبایا اور شانہ تھپکا۔  اس سے آنکھیں ملتے ہی اسے حوصلہ سا ہوا۔  خشک لبوں پر زبان پھیر کر اس نے تھوک نگلا۔
"کسی کی طرف مت دیکھنا۔  بس سر جھکائے بیٹھے رہو۔  " داؤد نے دھیرے سے کہا۔  جواب میں اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اسی وقت ٹرک رک گیا۔ فوجی بوٹوں کی آہٹیں گونجیں اور ٹرک کو چاروں طرف سے سنگین آلود رائفلوں نے گھیر لیا۔ ایک جھٹکے سے کسی نے ترپال اٹھا دی۔  ان کے سامنے کتنے ہی فوجی رائفلیں تانے کھڑے انہیں گھور رہے تھے۔
"او رحیم خان۔ " اچانک سب سے اگلے فوجی نے ان چاروں پر خشمناک نگاہ ڈال کر زور سے پکار کر کہا۔
"جی جی کیپٹن صاب۔ جی جی۔ " بوڑھا ڈرائیور لپک کر اس کے پاس چلا آیا۔
"اس بار پھر تم چار مزدور لے کر آ گئے ہو۔  تم اپنی بے ایمانی سے باز نہیں آتے۔ " وہ کڑک کر بولا۔
"بے ایمانی کیسی کیپٹن صاب۔ " رحیم خان لجاجت سے بولا۔  "کام بھی جلدی ہو جاتا ہے اور ان بیچاروں کو دو وقت کی روٹی بھی مل جاتی ہے۔  آپ کا کیا جاتا ہے۔ "
"اچھا زیادہ بڑ بڑ نہ کر۔ " وہ جھڑک کر بولا۔ پھر اس کے ہاتھ سے ایک بوسیدہ سی کاپی چھین لی۔ " میں دستخط کر رہا ہوں ان چاروں کے انٹری پاس اور تمہارے کلیرنس پیپرز پر۔  چلو تم لوگ۔  سب ٹھیک ہے۔ " اس نے فوجیوں کو اشارہ کیا اور رائفلیں جھک گئیں۔  سپاہی انہیں کینہ توز نظروں سے گھورتے ہوئے پلٹ گئے۔
"مہربانی صاب جی۔ " رحیم خان نے دانت نکال دئیے۔
"میری چیز لائے ہو؟" کیپٹن نے بیحد آہستہ آواز میں پوچھا۔
"جی جی۔ " آواز دبا کر رحیم خان نے کہا اور ادھر ادھر دیکھ کر واسکٹ کی سائڈپاکٹ سے ایک نیلا لفافہ نکال کر آہستہ سے کیپٹن کی جیب میں سرکا دیا۔
سرمد نے صاف دیکھا، کیپٹن کے چہرے کا رنگ ایک دم بدل گیا۔  اس کا سانولا پن سرخی میں ڈھل گیا۔  نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر اس نے کاپی رحیم خان کو تھمائی اور اس سے نظر ملائے بغیر رخ پھیر لیا۔
"رحیم خان۔ " بڑی آہستہ سے اس نے کہا۔  "میں تمہارا ہمیشہ آبھاری رہوں گا۔ " اور تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا۔
رحیم خان نے ان کی جانب ایک نظر دیکھ کر ترپال نیچے گرائی اور ٹرک کے اگلے حصے کی جانب بڑھ گیا۔
ٹرک چل پڑا۔  سرمد نے ہلتی جلتی ترپال کے باہر دیکھا۔  چیک پوسٹ سے بیریئر ہٹا کر ٹرک کو کلیرنس دے دی گئی تھی۔  فوجی دوبارہ اپنی اپنی جگہوں پر جا کر کھڑے ہو گئے تھے، مگر ان کی نظروں میں چھلکتی نفرت سرمد سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔ کیسی عجیب بات تھی کہ بھارتی فوج راشن سپلائی کے لئے انہی کشمیریوں کی محتاج تھی جن پر وہ سالوں سے بارود برسا رہی تھی۔
"جانتے ہو رحیم کاکا نے کیپٹن اجے کو کیا چیز دی ہے؟" ٹرک کافی دور نکل آیا تو داؤد نے سوچ میں ڈوبے سرمد سے پوچھا۔
جواب میں اس نے داؤد کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔
"بھارتی فوجیوں کو کشمیر میں ڈیوٹی دیتے ہوئے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ دو ماہ میں ایک سے زیادہ خط اپنے گھر لکھ سکیں یا وہاں سے انہیں کوئی خط آ سکے۔ ڈاک پر سنسر بہت سخت ہے۔  کوئی ایسی بات ان تک نہیں پہنچنے دی جاتی جس سے وہ ڈیوٹی کے دوران ڈسٹرب ہو جائیں۔  واپس جانے کے لئے بیتاب ہو جائیں۔ یا چھٹی کی ڈیمانڈ شدت سے کرنے لگیں۔  کیپٹن اجے کے گھر سے رحیم کاکا اس کی بیوی کا دستی خط لایا ہے۔  ساتھ اس کی تین سالہ بچی کا فوٹو ہے، جسے اس نے دو سال سے نہیں دیکھا۔ "
سرمد سنتا رہا اور اس کا دل کانپتا رہا۔
"ہم کشمیریوں پر ان فوجیوں کے مظالم کی، ہم سے نفرت کی ایک یہ بھی بہت بڑی وجہ ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں ، جس حال میں بھی ہیں ، اپنے گھر والوں کے پاس ہیں یا ہمارے ان سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہم پر ظلم کر کے یہ اپنی اس محرومی کا بدلہ بھی لیتے ہیں اور حکومت کی نظر میں قابل فخر بھی بن جاتے ہیں۔ "
سرمد نے کچھ کہنا چاہا مگر پھر نجانے کیا سوچ کر خاموش ہو رہا۔  کچھ دیر بعد اس نے داؤد کی جانب دیکھا جو حمزہ اور حسین سے کوئی بات کر کے سیدھا ہوا تھا۔
"ہم اب کہاں جا رہے ہیں ؟"
"کشمیر کے وسطی علاقے میں بھارتی فوج کی ایک بڑی چھاؤنی ہے جہاں رحیم کاکا راشن سپلائی کرتا ہے۔ وہاں ہم راشن کی یہ بوریاں اتاریں گے۔  واپسی پر ہم ایک جگہ رات گزارنے کے لئے رکیں گے۔  وہاں تم تینوں کو کمانڈر کے حوالے کر کے میں رحیم کاکا کے ساتھ لوٹ آؤں گا۔ "
"مگر واپسی پر آپ اکیلے ہوں گے تو چیک پوسٹ پر۔۔۔ " سرمد نے کہنا چاہا۔
"تمہاری جگہ تین ساتھی میرے ساتھ وہاں سے واپس آئیں گے، جن کے ذمے سرینگر اور دہلی میں مختلف کام لگائے گئے ہیں۔ "
بات سرمد کی سمجھ میں آ گئی۔  زیادہ جاننے کی خواہش ہی نہیں تھی۔  حمزہ اور حسین ہلکی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔  داؤد بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ سرمد خاموش ہو کر اپنے ورد میں لگ گیا۔
*  *  *



طاہر نے ڈاکٹر ہاشمی کے دُکھ کو یوں سینے سے لگا یا کہ وہ کسی حد تک سنبھل گئے۔  اس نے فوری طور پر سعودی عرب اپنے دو چار ملنے والوں سے رابطہ کیا۔  THE PROUDکے حوالے سے اس کا ایک نام تھا۔  اس نے اپنا نام کیش کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔  امبر نے اپنے طور پر کوشش کی۔  اس ساری بھاگ دوڑ کے نتیجے میں انہیں یہ علم ہو گیا کہ سرمد سعودی عرب سے لندن واپس نہیں گیا بلکہ اس نے انڈیا کا ویزا لگوا یا اور دہلی کے لئے روانہ ہو گیا۔
"انڈیا؟" ڈاکٹر ہاشمی طاہر کی زبان سے سن کر چونکی۔
"جی انکل۔ " طاہر نے ملازم کو کافی کا مگ ان کے آگے رکھنے کا اشارہ کیا اور اپنا مگ تھام لیا۔ "میں بھی وہی سوچ رہا ہوں جو آپ سوچ رہے ہیں۔ "
"کہیں اس لڑکی ریحا کا کوئی تعلق تو نہیں اس سارے قصے سی؟" وہ بیتاب ہو گئی۔
"ہو بھی سکتا ہے انکل۔ " وہ سوچتے ہوئے بولا۔  مگر اس کا اندر نہیں مان رہا تھا کہ سرمد کسی لڑکی کے چکر میں پڑ سکتا ہے۔ اس کا جو کیریکٹر اس کے سامنے آیا تھا۔  اس نے جو کچھ صفیہ کے حوالے سے اس کی زبان سے سنا تھا۔  اس کے بعد سرمد کے لئے کسی اور طرف دیکھنا سمجھ میں آنے اور یقین کرنے والی بات نہ تھی۔
"اس کا مطلب ہے ہمیں انڈین ایمبیسی سے رابطہ کرنا پڑے گا۔ "
"ابھی نہیں انکل۔ ہمیں پہلے پورے طور پر پُر یقین ہو جانا چاہئے کہ سرمد اسی لڑکی یعنی ریحا کے چکر میں انڈیا گیا ہے۔ "
"بچوں جیسی باتیں کر رہے ہو طاہر۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے مگ کے کنڈے سے کھیلتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔  " سرمد کے ڈاکومنٹس ریحا نے مجھے بھیجے ہیں ، جو انڈین ہے۔  سرمد سعودیہ سے پاکستان آنے کے بجائے انڈیا چلا گیا ہے۔  ان دونوں باتوں کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ ریحا سے بنتا ہے یا نہیں ؟"
"بنتا ہے انکل لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ سرمد نے ہی ریحا سے کہا ہو کہ اس کے ڈاکومنٹس آپ کو بھیج دے کیونکہ آپ کے بقول آپ نے اسے لندن جانے سے منع کر دیا تھا اور اس نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ لندن نہیں جائے گا، پاکستان آئے گا۔ "
"تو پھر وہ یہاں آنے کے بجائے انڈیا کیوں چلا گیا؟" ڈاکٹر ہاشمی کا دماغ اور الجھ گیا۔
"یہی تو سوچنے کی بات ہے کہ جو لڑکا آپ سے کئے ہوئے وعدے کا اتنا پابند ہے کہ اس نے خود لندن جا کر ڈاکومنٹس لانے سے گریز کیا وہ آپ کے پاس لوٹ آنے کے بجائے انڈیا کیوں چلا گیا؟"
طاہر نے کہا اور ایک خیال اسے بے چین کر گیا۔  اسے وسیلہ خاتون سے سرمد کی گفتگو یاد آ گئی جس میں اس نے کبھی پاکستان نہ آنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ کیا وہ اپنی اسی بات کو نبھانے کے لئے غائب ہو گیا ؟ اس کے دل میں ایک کسک سی جاگی۔  بات جتنی سمجھ میں آتی تھی اس سے زیادہ سمجھ سے باہر ہوئی جا رہی تھی۔  کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہوتا جا رہا تھا۔
ابھی تک یہ سارا معاملہ انہی دونوں کے بیچ تھا۔  صفیہ اور بیگم صاحبہ کو ان دونوں نے باہمی رضامندی سے اس معاملے سے الگ رکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاکہ ان کے ساتھ وہ بھی پریشان نہ ہو جائیں۔ تیسری ہستی جو اس ساری الجھن سے واقف تھی وہ تھی امبر، جسے طاہر نے صاف منع کر دیا تھا کہ اس بات کا تذکرہ پروفیسر قمر سے بھی نہ کرے۔  امبر نے اس کے لہجے سے معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگا لیا اور کرید کے بجائے اس کے ساتھ صورتحال کو سلجھانے میں شریک ہو گئی۔
"ابھی آپ انڈین ایمبیسی سے کنٹیکٹ کرنے کی بات کر رہے تھے۔ " اچانک طاہر نے کسی خیال کے تحت کہا۔
"ہاں۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کافی کا خالی مگ ٹیبل پر رکھ دیا۔
"میرا خیال ہے، اس کے بجائے ہم خود انڈیا چلیں گے اگر ضرورت پڑے۔ "
تمہارا مطلب ہے ہمیں وہاں نہ جانا پڑے، ایسا بھی ممکن ہے؟" امید بھرے لہجے میں انہوں نے پوچھا۔
"بالکل ممکن ہے انکل۔ " طاہر نے وثوق سے جواب دیا۔ "میں اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔  اور اس معاملے میں تو مجھے بہت زیادہ بہتری کی امید ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمد جیسا بیٹا آپ کو پریشانی سے بچانے کے لئے تو کچھ بھی کر سکتا ہے مگر میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ وہ آپ کو پریشان کرنے کے لئے کوئی الٹی سیدھی حرکت کرے گا۔  بات کچھ اور ہی ہے جس تک فی الحال ہماری رسائی نہیں ہو رہی۔  میرا مشورہ یہ ہے کہ چند دن حالات کے رخ کا اندازہ کرنے کے لئے انتظار کیا جائے۔  سرمد سے رابطے کی مسلسل کوشش کی جائے اور دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشکل سے نجات دے۔ "
"طاہر۔۔۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھ دئیے۔  " میرا جی چاہتا ہے میں تمہاری بات پر یقین کر لوں بیٹے مگر یہ دل۔۔۔ " وہ آبدیدہ ہو گئے۔
"میں سمجھتا ہوں انکل۔ " طاہر نے ان کے ہاتھ تھام لئے۔  "ماں باپ کا دل تو ان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، یہ کسی اور کی بات کیسے مان سکتا ہے۔  تاہم میں یہی کہوں گا کہ آپ ذرا حوصلے سے کام لیں۔  اک ذرا انتظار کر لیں۔۔۔ "
"میں کوشش کروں گا بیٹے۔ " انہوں نے آنسو پینے کی کوشش کی۔  "بہرحال تمہاری باتوں نے میرا دُکھ بانٹ لیا ہے۔ "
"میرا بس چلے انکل تو میں آپ کا دُکھ اپنے دامن میں ڈال لوں۔  " طاہر نے خلوص سے کہا۔  " آپ نے ساری زندگی مجھے جس شفقت اور دوستی سے نوازا ہے میں اس کا مول چکا ہی نہیں سکتا۔ "
"شکریہ بیٹے۔ " انہوں نے آہستہ سے کہا اور ہاتھ کھینچ لئے۔  آہستہ آہستہ آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھے اور کچھ دور صوفے پر جا بیٹھے۔ طاہر کے دل پر چوٹ سی لگی۔  وہ جان گیا کہ وہ اپنے آنسو چھپا رہے ہیں۔ اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا اور کسی سوچ میں ڈوب گیا۔  وہ مسلسل ذہنی گھوڑے دوڑا رہا تھا کہ کسی طرح بات کا سرا اس کے ہاتھ آ جائے تو وہ سرمد کو ڈھونڈ نکالی۔
٭

کئی مربع میل پر پھیلی ہوئی فوجی چھاؤنی نمبر سینتالیس تک پہنچتے پہنچتے انہیں چار چیک پوسٹوں پر رکنا پڑا لیکن پہلی چیک پوسٹ کے کیپٹن اجے کی کلیرنس نے ان کے لئے ہر جگہ آسانی پیدا کر دی۔
ٹرک سے راشن کی بوریاں اَن لوڈ کی گئیں۔  فارغ ہوتے ہوتے انہیں رات کے آٹھ بج گئے۔  وصولی کے کاغذات پر چھاؤنی کے سٹور کیپر کے سائن لے کر رحیم خان نے کام ختم کیا۔  واؤچر بنوا کر جیب میں ڈالا اور باریک بین نگاہوں سے چاروں طرف پھیلے فوجیوں اور ایمونیشن ڈپو کا جائزہ لیتا ہوا ان چاروں کے ساتھ ٹرک میں واپس چل پڑا۔
اب داؤد اور سرمد اس کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔  حمزہ اور حسین پچھلے حصے میں ٹانگیں پسارے بیٹھے تھے، جو اب بالکل خالی تھا۔ ان دونوں کا تو پتہ نہیں مگر سرمد کا جوڑ جوڑ دُکھ رہا تھا۔  اتنا بوجھ اس نے زندگی میں پہلے کب اٹھایا تھا؟
رات کی تاریکی میں ٹرک چھاؤنی کی حدود سے باہر نکلا۔  ان کے انٹری پاس چیک کئے گئے۔ پھر بیرئیر اٹھا کر جانے کا اشارہ کیا گیا۔  ٹرک کو کچے پر موڑتے ہوئے رحیم خان نے داؤد کی جانب ایک نظر دیکھا پھر ہیڈ لائٹس کی روشنی میں سامنے دیکھنے لگا۔
"عقوبت خانے کا اندازہ ہوا کچھ؟"
"میرے کانوں میں ابھی تک وہ چیخیں گونج رہی ہیں رحیم کاکا، جو دیواریں چیر کر مجھ تک پہنچ رہی تھیں۔ " داؤد نے دُکھی لہجے میں کہا مگر اس کی آواز میں ایک آگ بھڑک رہی تھی جس میں وہ دشمن کو جلا کر خاک کر دینا چاہتا تھا۔ سرمد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔  اس کے جسم میں خون کا دوران تیز ہو گیا تھا۔
"میرے گاؤں کی تین جوان لڑکیوں کو اٹھا کر لائے ہیں یہ درندے۔ ارد گرد کے علاقے سے ہر روز درجنوں نوجوانوں کو تفتیش کے نام پر یہاں لایا جاتا ہے جنہیں زندہ واپس جانا نصیب نہیں ہوتا۔  کل تک یہاں درندگی کا نشانہ بننے کے بعد خودکشی کر لینے والی بچیوں کی تعداد ایک سو سترہ ہو چکی ہے۔ "
"بس رحیم کاکا بس۔ " داؤد نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔
"کان بند کر لینے سے کچھ نہیں ہو گا بچی۔ " رحیم خان نے دُکھ سے کہا۔  " یہ چھاؤنی نہیں ایک عذاب ہے اس علاقے میں۔  یقین کرو اگراس کا وجود مٹ جائے تو ارد گرد کا ستر اسی میل کا علاقہ ان درندوں کے جبر سے محفوظ ہو جائے گا۔ "
"میں آج کمانڈر سے اسی بارے میں بات کرنے والا ہوں کاکا۔ " داؤد نے گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے کہا۔
"ایسے اور کتنے عقوبت خانے ہیں کشمیر میں ؟" سرمد نے اچانک پوچھا۔
"گنتی ممکن نہیں سرمد۔  " داؤد نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔  "سات لاکھ انڈین فوج کی ہزاروں چھاؤنیاں ہیں یہاں۔ اور ہر چھاؤنی اپنی جگہ ایک عذاب خانہ ہے۔ "
" آپ لوگوں نے اب تک کیا کیا اس سلسلے میں ؟"
"اپنی سی کرتے رہتے ہیں۔  " پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ داؤد نے کہا۔  " لیکن ایسی بڑی چھاؤنی اگر تباہ کر دی جائے تو بہت فرق پڑ سکتا ہے۔  بے شمار لوگوں کی زندگیاں اور عزتیں کتنی ہی مدت تک محفوظ ہو سکتی ہیں۔ "
اسی وقت رحیم خان نے ٹرک ایک سائڈ پر روک دیا۔  "تم لوگ اب نکل جاؤ۔  صبح ہونے سے پہلے تینوں آدمیوں کو لے کر یہیں پہنچ جانا۔ "
ٹھیک ہے کاکا۔ " سرمد اور داؤد کے بعد حمزہ اور حسین بھی پچھلے حصے سے اتر آئے۔ رحیم کاکا نے انہیں بڑی گرمجوشی سے گلے لگا کر دعائیں دیتے ہوئے رخصت کیا۔ واپسی کے لئے تیسری چیک پوسٹ یہاں سے تقریباً تین میل دور تھی۔
داؤد آگے آگے اور وہ تینوں اس کے پیچھے پیچھے رات کے اندھیرے میں سڑک سے ڈھلوان پر اترتے ہوئے سرسراتی گھاس میں غائب ہو گئے۔  داؤد یوں ان کی رہنمائی کرتا ہوا چلا جا رہا تھا جیسے وہ ان راستوں پر پیدائش کے بعد ہی سے سفر کرتا رہا ہو۔  انہیں شروع میں تھوڑی بہت دقت ہوئی، پھر سرمد بھی حمزہ اور حسین کی طرح بے جگری سے قدم بڑھانے لگا تو جھجک اور اس کے باعث پیدا ہونے والی تھکان نے دم توڑ دیا۔  تاہم اس کا ذہن مسلسل داؤد اور رحیم خان کی باتوں میں الجھا ہوا تھا۔ اخباروں میں پڑھی ہوئی باتوں ، ٹی وی پر دیکھی ہوئی فلموں اور اپنے مشاہدے میں جو فرق تھا، اس نے سرمد کے جسم میں ایک الاؤ دہکا دیا تھا، جس کی تپش وہ اپنے پاؤں کے تلووں سے سر کے بالوں تک میں محسوس کر رہا تھا۔
گھاس کے ڈھلوانی میدان کو عبور کر کے وہ ایک ذخیرے میں داخل ہوئے تو داؤد نے قدم روک لئے۔  چند منٹ تک وہ سب بے حس و حرکت کھڑے رہے۔  داؤد سُن گن لیتا رہا۔  پھر جیسے وہ مطمئن ہو گیا۔  انہیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے وہ ہلکے پیروں سے چلنے لگا۔  ذخیرے سے باہر نکلے تو چاندنی میں انہوں نے خود کو ایک چٹانی سلسلے کے سامنے پایا۔  اونچی نیچی، بڑی چھوٹی، سرخ اور بھوری چٹانیں انہیں حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔
داؤد نے ایک بار پھر اپنے چاروں اطراف کا جائزہ لیا۔  پھر جیب سے موبائل نکالا اور اس پر کسی کا نمبر ملانے لگا۔
"عزت۔ " دوسری جانب سے سلسلہ ملتے ہی ایک نسوانی مگر دبنگ آواز سنائی دی۔
" یا شہادت کی موت۔ " داؤد نے فوراً کہا۔
"ہیلو داؤد۔  پہنچ گئے کیا؟"
"ہاں خانم۔  پہنچ گئے۔ " داؤد نے ادھر ادھر نظریں گھماتے ہوئے جواب دیا۔
"کہاں ہو اس وقت؟" پوچھا گیا۔
"پڑاؤ پر۔ "
"اوکے۔  چلے آؤ۔  میں کمانڈر کو خبر کرتی ہوں۔ "
داؤد انہیں لئے ہوئے چٹانوں پر چڑھا۔  دوسری طرف اترے تو سامنے ایک بہت بڑی قدرتی جھیل دکھائی دی۔  جھیل کا پاٹ کسی چھوٹے موٹے دریا سے کم نہ تھا، جس میں کافی دور ایک بڑا شکارا تیر رہا تھا۔ وہ چاروں اپنا رخ شکارے کی طرف کر کے کھڑے ہو گئی۔  شکارے نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنا رخ پھیرا اور ان کی طرف بڑھنے لگا۔  سرمد کا دل سینے میں بری طرح دھڑک رہا تھا۔ اس کی نظریں شکارے پر جمی تھیں جو لمحہ بہ لمحہ ان کے قریب آتا جا رہا تھا۔  نجانے کیوں اس کا دل کہہ رہا تھا کہ کمانڈر اسی شکارے میں ہے۔
٭
شکارا کیا تھا، ایک بڑی لانچ تھی، جس کے درمیان میں ایک بہت بڑا لکڑی سے تعمیر شدہ کمرہ تھا۔  کشمیریوں کی روایتی صناعی اس میں پوری طرح کارفرما دکھائی دے رہی تھی۔
شکارا کنارے پر آن لگا۔  پہلے داؤد، پھر سرمد، حمزہ اور حسین باری باری شکارے پر چلے گئے۔ سامنے روایتی کشمیری لباس میں اپنی پوری سج دھج کے ساتھ ایک خوبصورت دوشیزہ چہرے پر باریک سا نقاب ڈالے کھڑی انہیں بغور دیکھ رہی تھی۔ چاندنی اس کے چہرے پر اپنا پرتو ڈال رہی تھی اور یوں لگتا تھا جیسے وہ چاندنی رات کا ایک حصہ ہو۔  اگر وہ پردے میں چلی گئی تو رات کا حسن ادھورا پڑ جائے گا۔ وہ جس جگہ کھڑی تھی، اس کے بائیں پہلو میں سٹیرنگ دکھائی دے رہا تھا۔  یعنی وہ حقیقتاً ایک لانچ تھی، جسے شکارا بنا لیا گیا تھا۔
"خانم۔ " داؤد نے ذرا سا سر خم کر کے اسے تعظیم دی۔ اس کی پیروی میں حمزہ اور حسین کے بعد سرمد نے بھی ایسا ہی کیا۔  اس نے معمولی سی سر کی جنبش سے ان کے سلام کا جواب دیا۔
"کمانڈر تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ " اس نے ابرو سے کمرے کی جانب اشارہ کیا۔
داؤد خاموشی سے کمرے کے کھلے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ تینوں اس کے عقب میں تھی۔
وہ کم و بیش بارہ ضرب چوبیس کا ہال کمرہ تھا جس میں ایک سجے سجائے بیڈ سے لے کر ریموٹ کنٹرول ٹی وی تک موجود تھا۔ کشمیر کے شکارے جن دیومالائی داستانوں کے حوالے سے مشہور ہیں ، یہاں ان داستانوں کے سارے لوازمات مہیا تھی۔
لکڑی کے فرش پر کشمیری نمدہ بچھا تھا۔  فرش پر آلتی پالتی مارے کوئی شخص نمدے پرسر جھکائے بیٹھا تھا۔  فانوس اور قندیلوں کی جھلملاتی روشنی میں وہ قدیم قصے کہانیو ں کا کوئی کردار لگ رہا تھا۔
داؤد نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر فوجی انداز میں سیلوٹ کیا اور دو زانو بیٹھ گیا۔  حمزہ، حسین اور سرمد نے بھی اس کی تقلید کی۔  جب وہ چاروں اس کے سامنے ایک قطار میں بیٹھ گئے تو آہستہ سے کمانڈر نے سر اٹھایا۔
سرمد کے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔ اس کی سرخ انگارہ آنکھوں سے جیسے برقی رو کی لہریں نکل رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں دیکھنا یا اس سے نظر ملانا ممکن نہ تھا۔ اس نے بھی گھبرا کر باقیوں کی طرح نظر چرا لی۔  ہاں ، یہ اس نے دیکھ لیا کہ کمانڈر کی عمر بمشکل تیس برس تھی۔  وہ بہت زیادہ حسین نہ تھا مگر یہ طے تھا کہ سرمد نے اس جیسا دلفریب چہرہ پہلے کم کم دیکھا تھا۔  اس میں ایک ایسی کشش تھی، جسے کوئی نام دینا مشکل تھا۔  اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی سیاہ داڑھی بہت اچھی لگ رہی تھی۔
"کیسے ہو داؤد؟" کمانڈر بولا تو ایسا لگا کوئی شیر ہولے سے غرایا ہو۔
"بالکل ٹھیک ہوں کمانڈر۔  اور آپ؟" داؤد نے ادب سے جواب دیا۔
"میں۔۔۔ ؟" جیسے کوئی درندہ ہنسا ہو۔ "میں تو ہمیشہ انتظار میں رہتا ہوں داؤد۔  دشمن کی بربادی اور اپنوں کے سُکھ کی خبر کے انتظار میں۔  کہو۔  کوئی اچھی خبر لائے ہو کیا؟"
"میں آج چھاؤنی نمبر سینتالیس کے اندر سے ہو کر آ رہا ہوں کمانڈر۔ "
"اوہ۔۔۔ " وہ چوکنا ہو گیا۔  "پھر کیا رہا؟" اس کی دہکتی ہوئی نظریں داؤد کے چہرے پر متحرک ہو گئیں۔
"اب میں اس کا نقشہ بنا سکتا ہوں کمانڈر۔ "
جواب میں کچھ کہے بغیر کمانڈر نے اپنے پہلو میں پڑے کاغذوں کا چھوٹا سا ڈھیر اور قلم اس کی طرف سرکا دیا۔
داؤد نے ایک سفید کاغذ پر چھاؤنی کا اندرونی نقشہ بنا نا شروع کیا۔  یہ کام اس نے بمشکل سات آٹھ منٹ میں کر لیا۔ اس دوران کمانڈر اس کے متحرک ہاتھ پر نظر جمائے خاموش بیٹھا رہا۔
"یہ ہے ایمونیشن ڈپو کمانڈر۔ " داؤد نے کہنا شروع کیا اور قلم کی نوک ایک جگہ پر ٹکا دی۔ پھر وہ کہتا رہا اور کمانڈر کے ساتھ ساتھ وہ تینوں بھی سنتے رہے۔  سرمد بڑی یکسوئی سے داؤد کے بیانئے کو سن رہا تھا۔
"اور ایمونیشن ڈپو کے عقب میں تقریباً بیس گز دور یہ ہے وہ عقوبت خانہ کمانڈر جہاں اس وقت بھی ہماری کم از کم بائیس بہنیں ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں۔  یہیں وہ مظلوم بھائی بھی ہیں جن کے سامنے ان کی بہنوں کی عزتیں تار تار کی جاتی ہیں۔"
"بس۔۔۔۔ "کمانڈر تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی آواز میں بجلیاں مچل رہی تھیں۔  "داؤد۔  یہ ایک ٹارچر سیل نہیں ہے۔  یہاں قدم قدم پر ایسے تشدد خانے موجود ہیں جن کے بارے میں سن کر روح کے تار جھنجھنا اٹھتے ہیں۔ تاہم رحیم خان کی یہ بات درست ہے کہ اگر اس ایک ٹارچر سیل کا خاتمہ ہو جائے تو ہم ان بھارتی درندوں کے مظالم کا دائرہ کافی حد تک محدود کر سکتے ہیں۔ "
"تو پلان فائنل کیجئے کمانڈر۔ "کمانڈر کے ساتھ ہی داؤد اور وہ تینوں بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
"تھوڑا وقت لگے گا داؤد۔  یہ کشمیر کی سب سے بڑی پانچ چھاؤنیوں میں سے ایک ہے۔  ہر وقت یہاں چالیس سے پچاس ہزار فوجی موجود رہتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ جب ہم یہاں اٹیک کریں تو ایک بھی بھارتی درندہ بچنا نہیں چاہئے۔ "
"ایسا ہی ہو گا کمانڈر۔ " داؤد نے ایک عزم سے کہا۔
"انشاءاللہ۔ " کمانڈر کے لہجے میں بجلی کی سی کڑک تھی۔
"انشاءاللہ۔ " حمزہ، حسین اور سرمد کے لبوں سے بھی بے اختیار نکلا۔
اپنے آپ پر قابو پاتے پاتے کمانڈر کو چند منٹ لگ گئے۔  پھر اس کا لال بھبوکا چہرہ نارمل ہوا تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوا۔  وہ اس کے سامنے ادب سے کھڑے تھے۔
"ان تینوں کا تعارف نہیں کرایا تم نے ابھی تک داؤد۔ "
"یہ دونوں حمزہ اور حسین تو حریت کانفرنس سے ٹوٹ کر آئے ہیں کمانڈر اور یہ ہے سرمد۔۔۔ "
" آں ہاں۔۔۔ " کمانڈر نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔ " خانم کو بتایا تھا تم نے اس کے بارے میں۔ "
"جی ہاں۔ "
"ہوں۔۔۔ " کمانڈر نے سرمد کو بغور اور بڑی دلچسپی بھری نظروں سے دیکھا۔  سرمد کو اس کی نگاہیں جسم کے آر پار ہوتی لگیں مگر وہ بڑی ہمت سے اس کے سامنے سر جھکائے، ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا رہا۔
"اسے صرف پندرہ دن کی ٹریننگ کراؤ داؤد۔  یہ خشک لکڑی ہے۔  اسے صرف چنگاری دکھانے کی ضرورت ہے۔ "
" جو حکم کمانڈر۔  " داؤد نے سر خم کیا۔  " اور یہ دونوں۔۔۔ "
"انہیں فرنٹ پر بھیج دو۔  ایسے پُر خلوص جوانوں کی وہاں بہت ضرورت ہے۔ یہ دشمن کو جتنا زیادہ اور جتنی تیزی سے نقصان پہنچا سکیں ، اتنا ہی اچھا ہے۔  تاہم چھاؤنی نمبر سینتالیس کے مشن میں یہ تمہارے ساتھ ہوں گے۔ "
"شکریہ کمانڈر۔ " حمزہ اور حسین کے لبوں سے ایک ساتھ جذبات سے بھرائی ہوئی آواز نکلی۔ "ہم آپ کا یہ احسا ن زندگی بھر نہیں بھولیں گے۔ "
"میں جانتا ہوں حمزہ۔  تم اپنی بہن کا بدلہ لینا چاہتے ہو اور حسین اپنی منگیتر کا۔  لیکن میرے بیٹو۔  میرے بھائیو۔  یاد رکھو۔ ہمارے جذبے میں ، ہماری نیت میں جہاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔  کسی ذاتی سبب کو لے کر ہماری جنگ جاری نہیں رہ سکتی۔  یہ محدود ہو جائے گی۔  اسے اللہ کے نام پر لڑو۔  اسے رسول کی ناموس کی خاطر آفاق گیر کر دو۔ ہمارے اتحاد کا نام "عشاق " اسی لئے رکھا گیا ہے کہ ہم اللہ، اس کے حبیب اور اس کے دین کے عاشق ہیں۔  کسی اور شے کو ہمارے عشق میں در آنے کی اجازت نہیں ہے۔  ہاں ، کوئی بھی سبب اس عشق کو مہمیز کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن ہماری بنیاد وہی ہے۔  عشقِ الٰہی۔  عشقِ رسول۔  اس سے کم پر مانو نہیں اور اس سے زیادہ کچھ ہے نہیں۔ "
"یس کمانڈر۔ " حمزہ کی آنکھوں میں شمع سی جلی۔
"یس کمانڈر۔ " حسین کی آواز میں شعلے کی سی لپک ابھری۔
"تو جاؤ۔  اپنے عشق کی آگ سے دشمن کا خرمن خاک کر دو۔ " کمانڈر کی آواز میں بجلی کی سی کڑک تھی۔ "مجھے تمہاری طرف سے بہت سی خوشخبریاں چاہئیں۔ "
"ایسا ہی ہو گا کمانڈر۔ " وہ دونوں سیلوٹ کر کے دو قدم پیچھے ہٹ گئے۔
"اور سرمد۔۔۔ " کمانڈر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔  "تمہیں تو یہ سمجھانے کی ضرورت ہی نہیں کہ عشق کیا چاہتا ہے؟ سرمد تو سر دینا جانتا ہے۔  تاریخِ عشق گواہ ہے کہ جب جب کوئی سرمد آیا، عشق کے رخ سے ایک نیا پرت اترا ہے۔  تمہیں بھی اپنے عشق کی ایک نئی تاریخ لکھنی ہے۔  اپنے لہو میں اپنا موئے قلم ڈبو نے کو تیار ہو جاؤ سرمد۔ میں دیکھ رہا ہوں تم سرخرو ہو کر رہو گے۔"
"کمانڈر۔ " سرمد نے بے اختیار جھک کر اس کا ہاتھ تھاما اور ہونٹوں سے لگا لیا۔  اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے اور کمانڈر کے ہاتھ کی پشت پر گرے۔
"اپنے اشکوں میں دہکتی یہ آگ بجھنے مت دینا سرمد۔  اسی آگ سے تمہیں وضو بھی کرنا ہے اور نماز بھی ادا کرنی ہے۔ نمازِ عشق تمہاری امامت کی منتظر ہے۔ "کمانڈر نے اپنا ہاتھ بڑی نرمی سے اس کے ہاتھ سے چھڑایا اور رخ پھیر لیا۔
"داؤد۔  اسے لے جاؤ۔  اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔  اسے جلدی سے جلدی ضروری مراحل طے کرا دو۔ " نجانے کیوں کمانڈر کی آواز بھرا گئی۔ "یہ ہمارا بڑا لاڈلا مہمان ہے۔ "
"یس کمانڈر۔ " داؤد نے سیلوٹ کیا اور ان تینوں کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے کمرے سے نکل گیا۔
"میرے آقا۔  مہمان بھیجا بھی تو اتنی کم مدت کے لئے۔  میں تو اس کے ناز بھی نہ اٹھا سکوں گا اتنی دیر میں۔ " کمانڈر ہاتھ باندھے مدینہ کی طرف رخ کئے کھڑا سسک رہا تھا اور آنسو اس کے رخساروں پر موتیوں کی طرح بکھر رہے تھے۔
*  *  *


طاہر کے کہنے پر ڈاکٹر ہاشمی نے انتظار کرنا گوارا تو کر لیا مگر ان کے دل کا حال کچھ وہی جانتے تھے۔  جوان اور اکلوتے بیٹے کی گمشدگی اور مفقود الخبری نے انہیں ایک دم بوڑھا کر دیا۔  ان کی قابل رشک صحت کو جیسے نظر لگ گئی۔  ہاسپٹل میں بیٹھنا بالکل ختم کر کے وہ طاہر کے آفس کے ہو کر رہ گئے۔  امبر انہیں روزانہ فون کر کے تسلی و تشفی دیتی۔  پروفیسر قمر ان کے غم میں برابر کا شریک تھا۔  رہ گیا طاہر، تو اس نے کام کی زیادتی کا بہانہ کر کے زیادہ وقت آفس میں گزارنا شروع کر دیا تھا۔  اپنے طور پر لندن، سعودیہ اور انڈیا میں موجود اپنے واقف کار مختلف لوگوں سے رابطہ کر رکھا تھا۔  مگر نتیجہ ابھی تک ڈھاک کے تین پات ہی تھا۔
اس دن طاہر نے سوچ سوچ کر ایک فیصلہ کیا۔  اپنا پاسپورٹ امبر کو بھجوایا اور فون پر اسے خاص انسٹرکشنز دیں۔  امبر نے اس سے بحث نہیں کی، صرف یہ کہا کہ اگر وہ مناسب سمجھے تو اسے ساتھ لے جائے مگر طاہر نے اسے نرمی سے ٹال دیا۔  رات سونے سے پہلے صفیہ کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا۔
"مجھے چند دنوں کے لئے انڈیا جانا ہے۔  "
"کب؟" صفیہ نے چونک کر پوچھا۔  "اور کیوں ؟"
"ایک خاص کام سے جانا ہے اور کیا مجھے وہاں فلم میں کام کرنا ہے؟" طاہر نے محبت سے کہا۔
"ویسے آپ کسی ہیرو سے کم بھی نہیں ہیں۔ " صفیہ نے شرارت سے اس کی جانب دیکھا۔  "مگر اس سے پہلے آپ کبھی ایسے ٹور پر گئے تو نہیں ؟"
"یہ بھی اچھی رہی۔ " طاہر نے ہنس کر کہا۔  " ارے بھئی اب تم نے ہمیں اپنے پلو سے باندھ لیا ہے تو اور بات ہے ورنہ تو میرے مہینے میں بیس دن ملک سے باہر گزرتے تھے۔ "
"اچھا۔ " صفیہ مسکرائی۔  " تو اکیلے جا رہے ہیں کیا؟"
"ہاں۔ " طاہر نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
"کتنے دن کے لئے جا رہے ہیں ؟" بستر پر لیٹی ہوئی وہ اس کے کالرسے کھیلتے ہوئے بولی۔
"دو دن بھی لگ سکتے ہیں اور دو ہفتے بھی۔  یہ تو کام ختم ہونے پر منحصر ہے۔ "
"اور جانا کب ہے؟" وہ اداس ہو رہی تھی۔
"کل شام۔ "
"مجھے روزانہ فون کرنا ہو گا۔ " صفیہ نے کہا اور اس کے سینے میں چہرہ چھپا لیا۔
"ایک بات کہوں صفو۔  برا نہ ماننا۔ ’" طاہر نے اس کا چہرہ سامنے لانا چاہا مگر وہ زور لگا کے اس کے سینے میں گھسی رہی۔
"میں سن رہی ہوں۔ " اس نے وہیں سے جواب دیا۔
"میں وہاں جا کر تمہیں ہرگز فون نہیں کروں گا۔ "
"وہ کیوں ؟" اس نے چہرہ اٹھایا۔
"میں جس کام سے جا رہا ہوں ناں صفو۔  اس میں تمہاری یاد ضروری ہے۔  جو ہر وقت میرے ساتھ رہے گی۔  تم سے رابطہ کروں گا تو بے چینی لگ جائے گی۔  میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی پہلو سے اس کام میں مجھے ڈسٹربنس ہو اور میں جلدی لوٹ آنے کے چکر میں پڑ جاؤں۔  اس لئے میری جان۔۔۔  فون پر کوئی رابطہ نہیں ہو گا۔  "
"ٹھیک ہے۔ " اس نے پھر چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا۔
"اری۔  پاگل ہوئی ہو۔  " اسے اپنے سینے پر صفیہ کی نم آنکھوں کا احساس ہو تو بے چین ہو گیا۔  "اگر تم ایسے کرو گی تو میں ہرگز نہیں جاؤں گا۔ "
"یہ میں نے کب کہا؟" وہ وہیں سے بولی۔ "بس آپ جلدی آ جائے گا۔ "
طاہر نے اسے باہوں کے حلقے میں کس لیا اور کسی سوچ میں ڈوب گیا۔
٭
اس دن صبح ڈاکٹر ہاشمی طاہر کے آفس پہنچے تو مینجر نے انہیں کافی وغیرہ پلانے کے بعد طاہر کی طرف سے ایک لفافہ دیا۔  انہوں نے چشمہ درست کرتے ہوئے لفافہ چاک کیا۔  اندر سے خط نکالا۔  لکھا تھا۔
"انکل۔
میں انڈیا جا رہا ہوں۔  سرمد کے بارے میں کچھ نہ کچھ ہے جو ہمیں وہیں سے مل سکتا ہے۔ میں نے لندن یونیورسٹی سے ریحا کا ایڈریس لے لیا ہے۔  اس سے ملنا بہت ضروری ہے۔  آپ کا ساتھ نہ جانا اس لئے بہتر ہے کہ جس دُکھ کی حالت اور عمر کے حصے میں آپ ہیں وہاں بیٹے کا فرض بنتا ہے کہ آپ کو آرام کرنے کو کہے اور خود آپ کے لئے سُکھ کی تلاش میں نکلے۔  میں بھی ایسا ہی کر رہا ہوں۔  سرمد کے ساتھ میں بھی آپ کا بیٹا ہی ہوں۔  میں یہی سمجھتا ہوں اور آپ مجھے کیاسمجھتے ہیں ، یہ کہنے کی بات نہیں۔ روزانہ آفس آتے رہئے گا۔  کافی، سینڈوچ اور کریم پف آپ کا انتظار کرتے ملیں گے آپ کو۔  دعا صرف یہ کیجئے گا کہ میں آپ کے لئے خوشی کی خبر بن کر واپس آؤں۔
 آپ کا: طاہر
ڈاکٹر ہاشمی نے خط میز پر ڈال دیا اور کسی سوچ میں ڈوبی، سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گئے۔  انہیں نجانے کیوں لگ رہا تھا کہ طاہر نے انہیں ساتھ نہ لے جا کر غلط نہیں کیا۔
٭

پندرہ دن کا وقت پر لگا کر اُڑ گیا۔
داؤد نے سرمد کو ٹریننگ کیمپ میں زین خان کے حوالے کیا۔  اسے کمانڈر کے حکم سے آگاہ کیا اور خود تین ساتھیوں کے ساتھ لوٹ گیا تھا۔
ٹریننگ کیمپ کشمیر کی اترائی میں ایک ایسی جگہ قائم تھا جہاں سے آزاد کشمیر کو جانے والا ایک محفوظ تر خفیہ راستہ موجود تھا۔  بھارتی افواج کی نگاہوں سے یہ مقام اس لئے بھی پوشیدہ تھا کہ اوپر سے یہ گہری کھائی لگتا تھا، جس میں اترنا بظاہر محال مگر بباطن بیحد آسان تھا۔  آسان ان کے لئے جو اس اترائی میں جانے والی قدِ آدم گھاس میں چھپی اس پگڈنڈی سے واقف تھے جو اپنے مسافروں کے قدموں کے نشان اس طرح اپنی آغوش میں چھپا لیتی تھی جیسے کوئی ماں اپنے بیٹے کے عیب پر پردہ ڈال لیتی ہے۔
زین خان نے پندرہ دن میں سرمد کو کلاشنکوف، ریوالور اور راکٹ لانچر چلانے میں طاق کر دیا۔  گوریلا ٹریننگ کے باقی مراحل میں اس نے سرمد کو خاص خاص باتوں سے واقف کرایا اور سولھویں دن رات کو وہ پھر شکارے پر کمانڈر کے سامنے موجود تھا۔
"بیٹھو سرمد۔ " کمانڈر نے زین خان کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔  وہ سیلوٹ کر کے کمرے سے نکل گیا۔ سرمد کمانڈر کے سامنے دو زانو بیٹھ گیا۔  آج وہ گوریلا یونیفارم میں تھا۔  سر پر سفید رومال بندھا تھا جو سر پر کفن باندھ کر راہِ خدا میں نکل پڑنے کی علامت تھا۔  کمانڈر کچھ دیر فرش کو گھورتے سرمد کی جانب بڑی گہری نظروں سے دیکھتا رہا۔  پھر اس کے لبوں پر بڑی آسودہ سی مسکراہٹ ابھری۔
"کوئی الجھن؟ کوئی پچھتاوا؟ کوئی بے چینی سرمد؟"
"نہیں کمانڈر۔ " سرمد نے نفی میں سر ہلایا۔  "بس یوں لگتا ہے جیسے میں کہیں جانا چاہتا ہوں۔  کوئی مجھے بلا رہا ہے۔  یہ مرحلہ طے نہیں ہو رہا۔ "
"ہاں۔ " کمانڈر کے چہرے پر سنجیدگی نے جنم لیا۔  "یہ ہوتا ہے۔  جب تم جیسے سچے جذبوں والے سر پر کفن باندھ لیتے ہیں تب ایسا ہی ہوتا ہے۔  بلاوا آ جاتا ہے تو انتظار مشکل ہو جاتا ہے۔  ایک بات ذہن میں بٹھا لو سرمد۔ جس مشن کے لئے میں نے تمہیں چُنا ہے، اس کی کامیابی اور ناکامی سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ تم اس میں کیا کردار ادا کرتے ہو؟ کشتیاں جلا کر جانا ہو گا تمہیں۔  واپسی کس روپ میں ہو گی، کوئی نہیں کہہ سکتا لیکن یہ طے ہے کہ تم جس پکار پر جا رہے ہو، اس کے لئے جان لینا اور جان دینا، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ "
"مجھے صرف اس بات کی پروا ہے کمانڈر کہ میں جس تڑپ کے ہاتھوں بے حال ہو رہا ہوں اسے قرار کب ملے گا؟کیسے ملے گا؟" سرمد نے نظر اٹھائی۔  اس کی آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈوروں سے مستی سی چھلک رہی تھی۔
"عشاق میں شامل ہوئے ہو سرمد۔  عشق تم پر نازل ہو چکا ہے۔  فصل پک چکی ہے۔  اب تو پھل پانے کا موسم ہے۔ اپنی بے قراری کو مہمیز کرتے رہو۔  یہ ضروری ہے۔  تمہارے لبوں پر جو ورد جاری ہوا ہے اس کا کوئی مقصد ہے۔  کوئی اشارہ ہے اس میں۔ کوئی رمز ہے اس کے اندر۔  "
سرمد نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔  کمانڈر کیسے جانتا ہے کہ وہ ہر وقت درود پڑھتا رہتا ہے؟ اس کے ذہن میں سوال ابھرا۔
"سوالوں میں نہ الجھو سرمد۔  جواب کی طرف دھیان دو۔  میں نہیں کہہ سکتاکہ تم اس مہم سے زندہ لوٹو گے یا شہادت کا جام تمہارا منتظر ہے لیکن اتنا بتا سکتا ہوں کہ جہاں سے تمہاری ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا حکم جاری ہوا ہے، وہاں سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا۔  تم بھی لوٹو گے تو کامیاب ہو کر۔  انشاء اللہ۔ "
"انشاء اللہ۔ " بے اختیار سرمد کہہ اٹھا۔
"داؤد، حمزہ، حسین اور تم سمیت بیس سرفروش اس مہم پر آج رات جا رہے ہیں۔  " کمانڈر نے اپنی جگہ چھوڑ دی تو سرمد بھی اٹھ کھڑا ہوا۔  "میں تمہیں کوئی ہدایت نہیں دوں گا۔  تم عشق کا سبق پڑھ چکے ہو۔  اب تو اسے سنانے کا وقت ہے۔۔۔  اور سنانے میں کہیں اٹکنا مت سرمد۔  کہیں زبان کو لڑکھڑانے مت دینا۔  جاؤ اور سرخرو ہو جاؤ۔ "۔  کمانڈر نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر رکھ دئیے۔  پھر پیشانی پر بوسہ دیا اور کھینچ کر اسے سینے سے لگا لیا۔ "ان سے کہنا۔  میں تمہارا کوئی ناز نہیں اٹھا سکا۔  مجھے معاف فرما دیں۔ " اس نے سرمد کے کان میں سرگوشی کی۔
ایک دم جیسے سرمد کا سارا جسم جھنجھنا اٹھا۔  ایک کیف سا رگ و پے میں دوڑ گیا۔  اسے لگا کہ اس کا جسم ایک بار پھر ہوا سے ہلکا، بے وزن ہو گیا ہے۔  کمانڈر نے کس کے بارے میں یہ بات کہی؟ اس نے سوچنا ہی نہ چاہا۔  جیسے اسے سمجھ آ گیا ہو۔  جیسے اس نے سب جان لیا ہو مگر اس کا بولنے کو جی ہی نہ چاہا۔  وہ بے زبان ہو گیا۔  سبق یاد ہو جانے کی بات اس کے دل سے اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔ کمانڈر کا پیغام اسے لوریاں دے رہا تھا۔
کمانڈر نے اسے خود سے الگ کیا۔  دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لے کر اس کے چہرے کو اپنی برق لٹاتی نم آنکھوں سے دیکھا اور بے اختیار اس کے دائیں گال پر پیار کر لیا۔  پھر ایک قدم پیچھے ہٹا اور سرمد کی مست نگاہی نے دیکھا کہ دونوں پاؤں جوڑ کر کمانڈر نے اسے ایک زوردار سیلوٹ کیا۔  جواب میں وہ بھی ایک قدم پیچھے ہٹا اور کمانڈر کو سیلوٹ کر کے واپسی کے لئے پلٹ گیا۔
وہ جا چکا تھا مگر کمانڈر اسی طرح اپنی تین انگلیوں سے پیشانی چھوئے ہوئے دروازے کو گھور رہا تھا۔  بھیگی ہوئی دھند تھی کہ آنکھوں میں بڑھتی جا رہی تھی۔  لو دیتی شبنم تھی کہ تن من کو بھگو رہی تھی اور جھومتا ہوا دل تھا کہ ایک ہی ورد الاپ رہا تھا۔
"صلی اللہ علیہ وسلم۔  صلی اللہ علیہ وسلم۔  صلی اللہ علیہ وسلم۔ "
رات کا آخری پہر شروع ہو چکا تھا۔
داؤد کی کمان میں وہ انیس سرفروش تاروں کی باڑ کاٹ کر زمین پر رینگتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔  چھاؤنی نمبر سینتالیس کے اندر اپنے اپنے ٹارگٹ پر ریموٹ کنٹرول بم نصب کئے۔ پھر سانپ کی سی تیزی سے اپنا کام ختم کر کے اپنی اپنی جگہ دم سادھ کر بیٹھ گئے۔  سرچ لائٹ سے بچ بچا کر کام کرنا بہت مشکل تھا مگر وہ مشکل کو نہیں ، ناممکن کو ممکن کر دکھانے آئے تھے۔
مشن کا پہلا مرحلہ طے ہو گیا تو اپنی اپنی جگہ سے انہوں نے بڑی ترتیب کے ساتھ چھاؤنی کے اندر مختلف جگہوں کو تاک لیا۔  داؤد، حسن اور سرمد کے حصے میں ٹارچر سیل سے قیدیوں کو رہا کرانے کی ذمہ داری آئی۔  حمزہ نے سات ساتھیوں کے ساتھ ایمونیشن ڈپو اڑانے کا کام سنبھالا۔  قاسم اور اس کے چار ساتھیوں کو چھاؤنی کا دایاں اور خالد اور اس کے چار ساتھیوں کو بایاں حصہ تباہ کرنا تھا۔
سب سے پہلے قاسم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور اپنے ساتھیوں سمیت سامنے آ گیا۔  ریموٹ کا بٹن دباتے ہی چھاؤنی کی سرچ لائٹ والا حصہ دھماکوں کی زد میں آ گیا۔  چیخیں ، شور، دھماکے، فائرنگ۔  ایک قیامت برپا ہو گئی۔  بیس سیکنڈ بعد ان کی تقلید میں خالد نے بایاں حصہ اڑا دیا اور اب وہ دس کے دس سرفروش، بھارتی فوجیوں کے لئے جہنم کے دہانے کھولے میدان میں پھیلے ہوئے انہیں گولیوں سے بھون رہے تھے۔
اس افرا تفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے داؤد، سرمد اور حسن ٹارچر سیل کے قریب پہنچ گئے۔  ہر طرف دھول اڑ رہی تھی۔  اپنے پرائے کی تمیز ختم ہو چکی تھی۔  سرچ لائٹ کی تباہی نے بھارتی فوجیوں کے لئے بڑی مشکل کھڑی کر دی تھی۔  اندھیرے میں انہیں اچانک شب خون نے دوہری تباہی سے دوچار کر دیا تھا۔  ان کے اکثر فوجی ان کی اپنی ہی فائرنگ کا شکار ہو رہے تھے۔ پھر کسی کو عقل آئی اور اس نے چیخ کر جگہ جگہ کھڑی جیپوں اور دوسری فوجی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس آن کرنے کے لئے کاشن دیا۔  مگر انہیں دیر ہو چکی تھی۔  خالد اور قاسم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سرعت کے ساتھ حرکت کی اور ساری چھاؤنی میں بھاگتے دوڑتے ہوئے گاڑیوں پر راکٹ لانچروں کی برسات کر دی۔  تب وہاں روشنی کا سیلاب آ گیا۔ ہاں۔  بھارتی فوجیوں کی اپنی ہی جلتی ہوئی گاڑیوں سے اٹھتے شعلوں نے ہر طرف چراغاں کر دیا مگر یہ چراغاں انہیں بہت مہنگا پڑا۔  پٹرول بموں نے انہیں زندہ جلانے کا کام شروع کر دیا اور وہ جوابی حملے کے بجائے چیختے چلاتے اپنی جانیں بچانے کے لئے دوڑنے لگے۔  بھاگنے لگے۔  تب خالد، قاسم اور ان کے ساتھیوں کے لئے ان کا شکار اور بھی آسان ہو گیا۔
داؤد، سرمد کے ساتھ فائرنگ کرتا ہوا ٹارچر سیل کی سیڑھیاں اترتا جا رہا تھا اور وہاں موجود بھارتی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا کام بڑی تیزی سے مکمل کر رہا تھا۔ حسن تہ خانے کے گیٹ کے اندر کھڑا رہ کر دشمنوں کی خبر لینے لگا۔ اس کی کلاشنکوف کے برسٹ بھارتیوں کے لئے موت کا راگ الاپ رہے تھے۔
بمشکل ڈیڑھ منٹ میں وہاں موجود تمام درندوں کا صفایا ہو گیا۔  تب انہیں اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لینا پڑے۔
انہوں نے ادھر ادھر سے چادریں ، پتلونیں اور قمیضیں اٹھا اٹھا کر تباہی و بربادی کی ان داستانوں پر ڈالنا شروع کیں جو انہیں ویران ویران نظروں سے گھور رہی تھیں۔  ان کے برہنہ جسم اَن کہی کہانیاں سنا رہے تھے۔  جسموں پر نشتروں ، سگریٹوں اور بھنبھوڑنے کے نشانات درندگی کا منہ بولتا ثبوت تھی۔  زنجیروں اور لوہے کے حلقوں میں جکڑے دیواروں کے ساتھ بازوؤں کے سہارے اور الٹے لٹکائے گئے زخمی نوجوانوں کو آزاد کرانے میں انہیں تین چار منٹ لگ گئی۔  نوجوانوں میں سے جو تھوڑا بہت بھی ہوش رکھتے تھی، انہوں نے کتوں کی طرح مرے پڑے بھارتی فوجیوں کی کلاشنکوفیں ، رائفلیں اور دوسرا اسلحہ اٹھایا اور گرتے پڑتے باہر کو بھاگے۔ حسن نے انہیں قطعاً نہ روکا۔  ان کے انتقام کی آگ میں بھارتی درندوں کو جل جانے دینا اس وقت بہت ضروری تھا۔
سات بیحد نازک حالت میں زخمی آدمی تھے جنہیں باری باری حمزہ اور سرمد نے باہر پہنچایا جہاں انہیں ان کے ایک ساتھی نے ایک بڑی جیپ میں ڈالا اور چھاؤنی کے خارجی راستے کی طرف طوفانی رفتار سے روانہ ہو گیا۔
تیرہ لڑکیاں اور عورتیں تھیں جو اپنے عریاں جسموں کو چیتھڑوں ، فوجی وردیوں اور چادروں میں سمیٹے باہر نکلیں اور دوسری جیپ میں سوار کر کے انہیں بھی پہلی جیپ کے تعاقب میں روانہ کر دیا گیا۔  اس وقت تک بھارتیوں کو سنبھلنے کا کچھ موقع مل گیا۔  انہوں نے دونوں جیپوں کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر جیپوں کے عقبی حصے میں سوار خالد اور قاسم نے ان پر وہ دھواں دھار فائرنگ کی کہ انہیں جان بچانے کے لئے بھاگتے ہی بنی۔  ہوا یہ تھا کہ اچانک حملے اور اندھیرے کے باعث ایک تو بوکھلاہٹ میں انہوں نے اپنے بے شمار فوجی مار ڈالے۔  دوسرے ان کے نقصان کا ایک بڑا سبب یہ بنا کہ ایک دن پہلے وہاں سے تقریباً تیس ہزار فوجیوں کی نفری چھاؤنی نمبر انتیس میں منتقل کی گئی تھی۔  ان کی جگہ نئے فوجی دستے پہنچنے میں ابھی بارہ گھنٹے باقی تھے کہ ان پر یہ قیامت ٹوٹ پڑی۔  بیالیس ہزار کی جگہ اس وقت وہاں صرف بارہ ہزار فوجی تھے جن کا صفایا ایسے شبخون میں ذرا سی سمجھداری سے مشکل تو تھا، ناممکن نہیں۔
ٹارچر سیل سے فارغ ہو کر سرمد، داؤد اور حسن بھی حمزہ کے ساتھ آ ملے۔  دھماکوں ، چیخوں اور فائرنگ کا سلسلہ اب بھی جوبن پر تھا۔  وہ لوگ ایک گڑھے نما مورچے میں چھپے بیٹھے باہر پھیلتی تباہی کا نظارہ کر رہے تھے۔
"اپنے کتنے ساتھی کام آئے؟" داؤد نے آواز دبا کر حمزہ سے پوچھا۔
"سات۔ " اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ " ان کی لاشیں ابھی ابھی نکلوائی ہیں یہاں سے میں نے۔ "
"اب ہم یہاں کل کتنے لوگ ہیں ؟"
"چار۔ " حمزہ کے لبوں پر بڑی ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ "باقی سب کو روانہ کر دیا ہے میں نے، جیپوں اور لاشوں کے ساتھ۔ "
سرمد بے چینی سے باہر جھانک رہا تھا۔  اس کی نظریں سامنے ایمونیشن ڈپو پر پڑیں تو اس نے چونک کر داؤد کی توجہ اس طرف دلائی۔ تین چار بھارتی فوجی ڈپو کا بڑا سا لوہے کا گیٹ کھول رہے تھے۔
"یہ کیا کرنے جا رہے ہیں ؟" داؤد سرسرایا۔
"میرا خیال ہے اسلحے کے ساتھ ریزرو گاڑیاں بھی اندر ہوں گی۔ باہر موجود تقریباً تمام گاڑیاں تو بیکار ہو چکی ہیں۔ " حمزہ نے جواب دیا۔
"ایمونیشن ڈپو کے گرد کتنے بم نصب کئے گئے ہیں ؟"
"ایک بھی نہیں۔ " حمزہ نے جواب دیا تو داؤد کے ساتھ ساتھ سرمد اور حسن بھی چونک پڑی۔
"وہ کیوں ؟" داؤد نے تیزی سے پوچھا۔
"بم نوید کے پاس تھے اور وہ سب سے پہلے شہید ہوا۔  اس کی لاش روانہ کر دی گئی تو خیال آیا۔۔۔ "
"اوہ۔۔۔ " داؤد چکرا کر رہ گیا۔  " اب کیا کریں ؟"
موجود اسلحے کا جائزہ لیا گیا تو ایک اور خوفناک انکشاف ہوا۔  ان کے پاس راکٹ لانچر بھی نہ تھا۔  کل ملا کر چار کلاشنکوفیں ، دو ریوالور، چالیس کے قریب راؤنڈ اور ایک دستی بم ان کے پاس بچا تھا۔
"دستی بم دھماکہ تو کر سکتا ہے مگر ایک فرلانگ میں پھیلے اس ایمونیشن ڈپو کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکتا۔ " داؤد نے کچھ سوچتے ہوئے بیتابی سے کہا۔
"پھر اب کیا کیا جائے؟ ہم اس ڈپو کو چھوڑ بھی نہیں سکتے۔ " حسن نے زبان کھولی۔
"ایسا تو سوچو بھی مت۔ " حمزہ نے فوراً کہا۔  "ہم مٹ جائیں گے مگر مشن کو ادھورا چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ "
داؤد جواب میں اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔  اس کا دماغ تیزی سے کسی حل کی تلاش کر رہا تھا۔  اسی وقت ڈپو کا گیٹ پوری طرح کھل گیا اور باہر کھڑے کرنل رینک کے آفیسر نے ڈپٹ کر اپنے ارد گرد جمع فوجیوں سے کہا۔
"فوراً گاڑیاں نکالو اور ان کے تعاقب میں نکل جاؤ۔  یہاں سے بیس میل تک سڑک پر کوئی موڑ نہیں ہے۔  ابھی وہ اتنا فاصلہ طے نہیں کر سکے ہوں گے۔  جلدی کرو۔ "
فوجی اپنی گنیں سنبھالتے ہوئے اندر کو بھاگے۔ داؤد کسی زخمی شیر کی طرح غرایا اور پہلو بدل کر رہ گیا۔
"داؤد بھائی۔  میں کچھ کر سکتا ہوں۔ " اچانک سرمد بولا تو وہ تینوں چونکے۔
"کیا؟" بے اختیار داؤد نے پوچھا۔
" آپ یہیں میرا انتظار کیجئے۔ " کہتا ہوا سرمد ایک دم اٹھا اور گڑھے سے نکل گیا۔
"سرمد۔۔۔ " داؤد نے بڑی تیز سرگوشی کی۔  پھر ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر آواز دبا لی۔  تب تک سرمد نیچا نیچا دوڑتا ہوا ایک مردہ بھارتی فوجی کے پاس رکا۔  اسے پرے دھکا دے کر اس کے نیچے سے راکٹ لانچر نکالا اور آہستہ سے ان کی طرف لڑھکا دیا۔  حمزہ نے ذرا سا اونچا ہو کر ہاتھ بڑھایا اور اسے گڑھے میں کھینچ لیا۔  اسی وقت سرمد زمین پر گرا اور سانپ کی طرح رینگتا ہوا پچیس تیس قدم دور ایک دوسرے فوجی کے پاس جا رکا۔  اس کے پاس پڑا ایمونیشن بیگ تھاما اور واپسی کے لئے رخ بدل لیا۔  دو منٹ کے اندر اندر وہ اپنے ساتھیوں تک پہنچ گیا۔  اس کے ہاتھ میں جو بیگ تھا اس میں پانچ راکٹ موجود تھے۔
"شاباش سرمد۔  میرے شیر تم نے تو کمال کر دیا۔ " داؤد نے اسے خودسے لپٹا لیا۔  حمزہ اور حسن بھی اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
داؤد نے راکٹ، لانچر میں لاؤنج کیا۔ تقریباً چھ انچ اوپر اٹھ کر لانچر کو گڑھے کے کنارے پر رکھ دیا اور نشانہ لینے لگا۔  باقی سب لوگ اپنی اپنی جگہ کانوں پر ہاتھ رکھے ایمونیشن ڈپو کے گیٹ کو دیکھ رہے تھے۔
جونہی پہلی جیپ کی ہیڈلائٹس آن ہوئیں اور روشنی کی لکیر نے گیٹ سے باہر قدم رکھا، داؤد نے راکٹ فائر کر دیا۔
دوسرے پل ایک کان پھاڑ دھماکہ ہوا اور گیٹ اپنے ساتھ وہاں موجود فوجیوں کے پرخچے اڑاتا ہوا تباہی کے گھاٹ اتر گیا۔  پھر جب تک انہیں کسی بات کی سمجھ آتی، داؤد نے دوسرا راکٹ فائر کر دیا اور اب کے بار اس کا نشانہ ڈپو کا اندرونی حصہ تھا۔  بس اس کے بعد تیسراراکٹ فائر کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔  ایمونیشن نے آگ پکڑ لی اور زمین یوں لرزنے لگی جیسے ان کے نیچے کوئی آتش فشاں کروٹیں لے رہا ہو۔  دھماکوں ، چیخوں اور اندھا دھند چاروں طرف فائرنگ کا ایک سلسلہ جو شروع ہوا تو بھارتیوں کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کیسے خود کو اس قیامتِ صغریٰ سے محفوظ رکھیں۔
اس دوران ایک بات ایسی ہوئی جس کی طرف مورچے میں چھپے ان چاروں کا دھیان ہی نہ گیا۔  پہلے راکٹ نے ان کی سمت کی نشاندہی کر دی تھی، اس کا انہیں احساس ہی نہ ہوا۔ جنرل نائر گاڑیوں میں مجاہدین کا پیچھا کرنے کا حکم دے کر وہاں سے چل پڑا تھا۔  اسے دوسری جگہوں پر تباہی کا جائزہ لینا تھا۔  اس کے خیال میں تمام مجاہدین تباہی پھیلا کر انہی کی جیپوں پر فرار ہو چکے تھے مگر جونہی پہلا راکٹ فائر ہوا، وہ چونک کر رک گیا۔  اس وقت وہ ایک سلگتی ہوئی جیپ کے پاس تھا اور اس کے دائیں بائیں اور پیچھے پچیس تیس سپاہی گنیں سنبھالے چل رہے تھے۔  ایک دم اس نے ان سب کو نیچے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا اور خود بھی جھک کر بھویں سکوڑ کر اس طرف دیکھنے لگا جس طرف سے راکٹ فائر کیا گیا تھا۔  دس سیکنڈ کے وقفے سے جب دوسرا راکٹ فائر ہوا تو اسے داؤد اور اس کے ساتھیوں کی پناہ گاہ کا پتہ چل گیا۔  اسی وقت ایمونیشن ڈپو دھماکوں اور چیخوں کی لپیٹ میں آ گیا۔  جنرل نائر اس وقت وہاں سے تقریباً ایک سو گز دور تھا۔  زمین اس کے پیروں تلے کانپ رہی تھی۔  وہ سمجھ گیا کہ اسلحے کے نام پر اب ان کے پاس سوائے بربادی کے نشانات کے کچھ نہیں بچا۔
اس نے دانت اتنے زور سے بھینچے کہ جبڑوں کی ہڈیاں ابھر آئیں۔  بیحد ہلکی آواز میں اس نے اپنے پاس موجود فوجیوں کو ہدایات دیں اور خود ان کی کمان کرتا ہوا اس مورچے کی پچھلی طرف چل پڑا جس میں داؤد اور اس کے ساتھی چھپے بیٹھے تھے۔ چند منٹ بعد مورچے کو عقب اور دائیں بائیں سے اس خاموشی کے ساتھ گھیرے میں لیا گیا کہ ان لوگوں کو علم ہی نہ ہو سکا کہ دشمن ان کے گرد اپنا جال مضبوط کر چکا ہے۔  پتہ تو اس وقت چلا جب جنرل نائر کی چیختی ہوئی آواز نے فضا کا سینہ چیر ڈالا۔
"ہاتھ اٹھا لو۔  تم لوگ گھیر لئے گئے ہو۔ "
تڑپ کر وہ چاروں پلٹے اور یہ دیکھ کر ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا کہ نیم دائرے میں تیرہ چودہ بھارتی فوجی اپنی گنوں کی زد پر لئے انہیں بھون ڈالنے کے لئے تیار کھڑے ہیں اور سب سے آگے جنرل نائر ان کی طرف ریوالور تانے موجود ہے۔
ایک سیکنڈ کے وقفے میں ان سب کی نظروں نے ایک دوسرے سے سوال جواب کئے اور فیصلہ ہو گیا۔  سر پر باندھے کفن کا مول چکانے کا لمحہ آن پہنچا تھا۔  ان سب کے لبوں پر ایک ہی جیسی بڑی جاندار مسکراہٹ ابھری۔
"اللہ اکبر۔ " ایک فلک شگاف نعرے نے سامنے کھڑے دشمن کا دل دہلا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی گنوں کا رخ بھارتیوں کی جانب ہوا اور بابِ جہنم کھل گیا۔
سب سے پہلے حیرت زدہ جنرل نائر کا جسم چھلنی ہوا جس پر داؤد کی کلاشنکوف غرا رہی تھی۔  حسین، سرمد اور حمزہ نے باقی فوجیوں کو نشانے پر رکھ لیا مگر گرتے گرتے جنرل نائر کے ریوالور سے دو فائر ہوئے اور حمزہ کی پیشانی پر مہر شہادت ثبت ہو گئی۔ اسی وقت داؤد نے دشمنوں کی فائرنگ سے بچانے کے لئے حسین اور سرمد کو پرے دھکیل دیا اور خود اوپر اٹھ کر اللہ اکبر کے گرجدار نعرے کے ساتھ آگ برساتی کلاشنکوف کو نیم دائرے میں گھما دیا۔  سات آٹھ فوجیوں کو کھیت کرتا ہوا داؤد مسلسل "اللہ اکبر اللہ اکبر"کا اعلان کرتا ہوا مورچے سے نکلا اور چھلنی ہوتا چلا گیا۔  پہلے فوجیوں کے عقب میں موجود فوجیوں کی دوسری قطار نے اس وقت تک اس پر فائرنگ جاری رکھی جب تک اس کا جسم زمین پر گر کر بے حس و حرکت نہ ہو گیا۔  اور گرا وہ ایسے زاویے سے کہ اس کا چہرہ مورچے میں موجود حسین اور سرمد کی جانب ہو گیا۔  اس کے لبوں سے جو آخری الفاظ نکلی، وہ تھی۔
" لبیک اللھم لبیک۔ "
داؤد نے انہیں دشمن کی گولیوں سے بچانے کے لئے جو ایک طرف دھکا دیا تھا اس کے باعث سرمد کا سر مورچے کی سیمنٹڈ دیوار سے بڑے زور سے ٹکرایا اور وہ کوشش کے باوجود اپنے ذہن میں چھاتی تاریکی سے بچ نہ سکا۔  اس کی بیہوشی سے بے خبرحسین نے اپنے لڑھکتے جسم کو سنبھالا اور کسی زخمی شیر کی طرح اچھل کر گرجتا ہوا دشمن کی طرف لپکا۔  مورچے سے باہر نکلتے نکلتے اس کی کلاشنکوف تقریباً چھ بھارتیوں کو چاٹ گئی مگر شدید زخمی جنرل نائر نے اس وقت بھی فوجی ہمت کا مظاہرہ کیا اور آخری تین گولیاں حسین کا سینہ ادھیڑتی ہوئی نکل گئیں۔
"اللہ اکبر۔  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کی سرگوشی حسین کے لبوں پر ایک ابدی مسکراہٹ بن کر منجمد ہوئی اور وہ اپنے اللہ کے حضور حاضر ہو گیا۔
ڈرے ہوئی، بزدل اور موت کے خوف سے لرزہ بر اندام فوجیوں کے برسٹ اس کے ساکت جسم کو چھلنی کرنے میں مصروف تھے جب زخموں سے چور جنرل نائر کو دو تین سپاہیوں نے اٹھنے میں مدد دی۔ اس کی نظر داؤد، حمزہ اور پھر حسین پر سے ہوتی ہوئی مورچے میں بے حس و حرکت پڑے سرمد پر آ ٹھہری۔  ایک دم اس نے اپنا بایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا۔
"بس۔۔۔ " وہ زور سے چیخا۔  "بے وقوفو۔  وہ مر چکے ہیں۔  لاشوں پر گولیاں برسانا تمہاری عادت بنتی جا رہی ہے۔ "
ایک دم فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔  خاموشی کی چادر تن گئی۔  خون میں نہایا ہوا جنرل نائر بڑی مشکل سے اٹھا اور دائیں بائیں دو فوجیوں کے سہارے کھڑا ہو گیا۔
"دیکھو۔  یہ زندہ ہے یا۔۔۔ "
اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ کوئی فوجی آگے نہ بڑھا۔ سب ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے۔
"سنا نہیں تم نے۔ " کرنل ان پر برس پڑا۔  "نامردو۔  حرامزادو۔  نیچے اتر کر دیکھو اسے۔  " اس نے ایک فوجی کی طرف آتشیں نگاہوں سے دیکھا۔ "تم اسے کور کرو۔ " اس نے باقی فوجیوں سے کہا اور ان سب نے گنیں مورچے کی جانب سیدھی کر لیں۔
فوجی نے تھوک نگلا اور گن بے حس و حرکت سرمد کی جانب تانے کانپتے قدموں سے مورچے میں اترنے لگا۔  اس کی جھجک سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ساکت پڑے سرمد سے بھی خوفزدہ ہے۔  مبادا وہ اس پر جھپٹ نہ پڑے۔
مورچے میں اتر کر سب سے پہلے اس نے پاؤں زمین پر پڑی کلاشنکوف پر جمایا۔  پھر جلدی سے بیٹھ کر سرمد کے نتھنوں کے نیچے ہاتھ رکھا۔
"یہ زندہ ہے سر۔ " اس نے تیزی سے کہا اور کھڑے ہو کر بیہوش سرمد پر گن تان لی، جس کا چہرہ سر کے زخم سے لہو لہان ہو رہا تھا۔
فوراً ہی جنرل نائر کے اشارے پر تین اور فوجی مورچے میں اترے اور ہوش و حواس سے بیگانہ سرمد کو قابو کر لیا۔
"اسے میرے سیل میں لے جاؤ۔ " خون بہت بہہ جانے کے باعث غنودگی کا شکار ہوتے جنرل نائر نے کہا۔  " اسے ہر حال میں زندہ رہنا چاہئے۔  یہ ہمیں اپنے ساتھیوں تک لے جا سکتا ہے۔ "
فوجیوں نے سرمد کو نہتا کیا اور مورچے سے باہر اچھال دیا۔  پھر خود باہر نکلے اور اس کے ہاتھ پیچھے باندھ کر گھسیٹتے ہوئے لے چلی۔  جبکہ جنرل نائر دو فوجیوں کے سہارے طبی امداد کے لئے چھاؤنی کے مشرقی حصے کی جانب روانہ ہو گیا۔  آنکھوں میں چھاتی ہوئی بے خبری کے عالم میں اس نے آخری بار ایمونیشن ڈپو سے اٹھتے شعلوں کو دیکھا۔ ہلکے ہوتے ہوئے دھماکوں کی آوازیں سنیں اور اس کا سر سینے پر ڈھلک گیا۔  حواس نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
*  *  *

عشق کا قاف قسط نمبر8

0 comments



ایک ہفتہ اور گزر گیا۔
عادل اور زبیدہ کی شادی ہو گئی۔  طاہر اور صفیہ خاص طور پر ان کی شادی میں شریک ہوئے۔  صفیہ بہت خوش تھی۔  گاؤں کی شادی اس نے پہلی بار دیکھی تھی۔  وہاں کے رسم و رواج اس کے لئے جہاں اچنبھے کا باعث تھے، وہیں دلچسپی بھی رکھتے تھے۔
زبیدہ کی رخصتی تک وہ دونوں ماسٹر محسن کے ہاں موجود رہے۔  پھر جب وہ اپنے ماں باپ، بھائی اور سہیلیوں کو آنسوؤں کے حوالے کر کے بلکتی ہوئی پیا کے گھر کو سدھار گئی تو اداس اداس صفیہ نم آنکھیں لئے طاہر کے ساتھ حویلی لوٹ آئی۔
رات وہ کتنی ہی دیر تک جاگتی رہی۔  اس کا جی چاہا وسیلہ خاتون سے بات کری۔  وقت دیکھا تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔  وہ اس وقت سو گئی ہوں گی، اس نے سوچا۔ پھر صبح ان سے بات کرنے کا خیال دل میں لئے وہ طاہر کے بازو پر سر رکھ کر سو گئی، جو آنکھیں موندے نجانے کیاسوچ رہا تھا۔
صبح اٹھ کر اس نے سب سے پہلے وسیلہ خاتون کو فون کیا۔  وہ اس کی طرف سے فکرمند تھیں۔  جب اس نے انہیں اپنے بارے میں خیریت کا بتایا تو ان کی جان میں جان آئی۔  دوپہر کے قریب بیگم صاحبہ کا فون آ گیا۔  وہ اعجاز اور ڈاکٹر ہاشمی اس وقت مدینہ منورہ میں تھے اور خوش تھی۔  طاہر نے ان کی واپسی کا جان بوجھ کر نہ پوچھا۔  ایسی مقدس جگہ سے لوٹ آنے کو کس کا جی چاہتا ہے؟ وہ ان سے واپسی کا پوچھ کر گستاخی کا مرتکب نہ ہونا چاہتا تھا۔  صفیہ اور طاہر کو بہت سی دعائیں دے کر انہوں نے فون بند کیا تو صفیہ کے ساتھ ساتھ طاہر کا موڈ بھی بہت اچھا ہو چکا تھا۔
"طاہر۔  آپ بتا رہے تھے کہ آپ کو پھر بابا شاہ مقیم کے مزار پر جانا ہے۔ " وہ موبائل تپائی پر ڈالتے ہوئے بولی۔
"ہاں۔ جانا تو ہے مگر کل۔ " دن کا حساب لگاتے ہوئے اس نے بتایا۔
"میں بھی آپ کے ساتھ چلوں ؟" وہ اشتیاق سے بولی۔
"تم؟" وہ سوچ میں پڑ گیا۔
"کیوں ؟ کیا کوئی دقت ہے؟" اسے غور سے دیکھتے ہوئے صفیہ نے پوچھا۔
"نہیں۔  دقت کوئی نہیں۔ " طاہر نے صاف گوئی سے کہا۔  "دراصل بابا نے مجھے اکیلے آنے کو کہا تھا۔ "
"اچھا اچھا۔ " وہ مطمئن ہو گئی۔  "تو اس میں اتنا سوچنے کی کیا بات ہے۔  آپ اکیلے چلے جائیں مگر لوٹ جلدی آئیے گا۔ پھر ٹھنڈ نہ لگوا بیٹھئے گا۔ "
"تمہیں برا تو نہیں لگا؟" طاہر نے اس کی جانب دیکھا۔
"اری۔ " وہ ہنسی۔  " برا کیوں لگے گا۔  آپ نے کہہ دیا، میں نے مان لیا۔ بس۔ "
طاہر کے دل میں ہوک سی اٹھی۔ اتنا عجز۔  اتنی فرمانبرداری۔ اتنا خلوص۔  وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہ گیا۔
اسی وقت موبائل بول پڑا۔  طاہر نے جیب سے سیٹ نکالا اور سکرین پر امبر کا نمبر دیکھ کر جلدی سے بٹن دبا دیا۔
"ہیلو سر۔  مارننگ۔  میں بول رہی ہوں امبر۔ " دوسری طرف سے وہ چہکی۔
"مارننگ۔  مارننگ۔ " طاہر ہنسا۔  "کیا حال ہے لیڈی ؟"
"بالکل ٹھیک سر۔  آپ سنائیے۔  کیسی گزر رہی ہیں چھٹیاں ؟"
"فسٹ کلاس۔ " وہ صفیہ کی جانب دیکھ کر بولا جو اس کے قریب کھڑی اشارے سے پوچھ رہی تھی کہ کس کا فون ہے۔
"امبر کا فون ہے۔ " طاہر نے ہولے سے بتایا۔
"اچھا اچھا۔ " صفیہ بھی مسکرائی اور اس کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ کر سر اس کے سر کے ساتھ جوڑ لیا۔  اب وہ بھی امبر کی باتیں سن سکتی تھی۔
"کیسا جا رہا ہے آفس؟" طاہر نے پوچھا۔
"میں نے آپ کو کسی قسم کی رپورٹ دینے کے لئے فون نہیں کیا سر۔ " امبر نے خوش گفتاری سے کہا۔  " آپ کی رپورٹ لینے کے لئے کیا ہے۔ "
" وہ تو میں نے بتا دیا لیڈی۔ " طاہر پھر ہنسا۔  امبر سے بات کرتے ہوئے اس کے ذہن میں درویش کا اس کے بارے میں "پگلی " کا لفظ گونج رہا تھا۔  وہ اسی تناظر میں اسے دیکھ اور سن رہا تھا۔ "تم سناؤ۔  تمہارے پروفیسر صاحب کیسے ہیں ؟"
"بالکل ٹھیک سر۔ ‏THE POROUD کے معاملات میں میرا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ "
"مفت کام نہ لیتی رہنا ان سے۔  گھر کے مرغے کو دال برابر سمجھو گی تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ "
"اس کی آپ فکر نہ کریں سر۔ " امبر اس کے کمنٹ پر ہنس ہنس کر بے حال ہو گئی۔ " آپ کی اس بات پر میں آپ کی چھٹی مزید کتنی ایکسٹنڈ کر دوں ؟"
"ابھی پہلی چھٹی ختم ہونے میں تین دن باقی ہیں بھئی۔ " طاہر نے جلدی سے کہا۔
"اسی لئے تو کہہ رہی ہوں سر کہ آج میرا موڈ بہت اچھا ہے، فائدہ اٹھا لیجئے۔ "
"تو پھر یہ بھی تم پر رہا کہ تم ہمیں اور کتنی چھٹی دے سکتی ہو۔  " طاہر شگفتگی سے بولا۔
"اگر میری مرضی پر بات ٹھہری ہے تو سر، آپ جب جی چاہے لوٹئے گا۔  آپ کے لئے کھلی آفر ہے۔ "
"واقعی؟" طاہر نے حیرت سے پوچھا۔
"یس سر۔ جب جی چاہے آئیے گا۔  فکر کی کوئی بات نہیں۔ "
"مگر امبر۔۔۔ "
"پروفیسر صاحب کو کالج سے تین ماہ کی چھٹی مل گئی ہے سر۔  اب میرے پاس وقت ہی وقت ہے۔ "
"اوہ۔  تو یہ بات ہے۔  میں بھی کہوں اتنی نوازش کا سبب کیا ہے؟"
"شکریہ امبر۔  " اچانک بیچ میں صفیہ بول پڑی۔  " آپ نے بہت اچھا کیا جو انہیں مزید کچھ عرصے کے لئے ٹینشن فری کر دیا۔ "
"ارے۔  آپ بھی وہیں ہیں صفیہ جی۔ " امبر کا موڈ اور خوشگوار ہو گیا۔  "بہرحال میں نے اکیلے سر کو نہیں ، آپ کو بھی ان کے ساتھ مزید انجوائے کرنے کا وقت دیا ہے۔ " اور صفیہ نے جھینپ کر سر پیچھے ہٹا لیا۔ "اوکے۔  آلویز بی ہیپی اینڈ بائی۔ " امبر نے ہنستے ہوئے رابطہ ختم کر دیا۔
طاہر نے موبائل جیب میں ڈالا اور انگڑائی لی۔  ایک نظر اس کی جانب دیکھا اور دروازے کی جانب چل پڑا۔
"میں ڈیرے پر جا رہا ہوں۔  دوپہر کا کھانا وہیں کھاؤں گا۔ " کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔
صفیہ اٹھی اور کرسی پر جا بیٹھی۔  ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی آن کر دیا۔
امبر کی باتوں نے اس کا حال عجب کر دیا تھا۔  اس کا بدن ایک دم ٹوٹنے لگا۔  ایک دم تھکن نے گھیر لیا۔  وہ اپنی یہ حالت طاہر پر ظاہر نہ ہونے دینا چاہتی تھی۔  امبر کیا سمجھ رہی تھی، اسے اس کا احساس ہوا تو جذبات میں جوار بھاٹا سا اٹھا مگر وہ امبر کو کیا بتاتی کہ جب سے طاہر نے سرمد کی باتیں سنی تھیں اور اس کے ساتھ گھر لوٹا تھا، تب سے آج تک و ہ دونوں ہر وقت ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی اتنے ہی دور تھے، جتنا شادی سے پہلے۔

صبح کے نو بجے تھے جب مقررہ دن طاہر اکیلا ہی پجارو میں بابا شاہ مقیم کے مزار پر جا پہنچا۔  اس نے ملک یا کسی اور ملازم کو ساتھ نہ لیا۔  ہاں ملک بلال کو اتنا بتا دیا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ ساتھ ہی منع کر دیا کہ کوئی اس کے پیچھے نہ آئے۔
درویش اسے مزار کے باہر ہی مل گیا۔  وہ گاڑی سے اترا اور اس کے پاس چلا آیا۔
" آ گیا پگلے۔ " وہ اسے دیکھ کر معصومیت سے مسکرایا۔
"جی بابا۔ " اس نے ادب سے جواب دیا۔
"چلیں ؟" درویش نے پوچھا۔
"ضرور بابا۔ " یہ پوچھنے کو اس کا جی ہی نہ چاہا کہ کہاں جانا ہے؟ "مگر۔۔۔ " اس نے مزار کی طرف دیکھا۔
"سلام کرنا چاہتا ہے؟" درویش مسکرایا۔  " بابا شاہ مقیم وہاں۔۔۔  " درویش نے مزار کی جانب اشارہ کیا۔ " اندر موجود نہیں ہے۔  کہیں گیا ہوا ہے۔  اینٹ روڑوں کو سلام کرنا ہے تو یہیں سے کر لے۔  کیا خیال ہے؟ " وہ ہنسا۔ " آ جا۔  چلیں۔ "اور وہ سر جھکائے اس کے ساتھ چل پڑا۔  ان کا رخ نور پور گاؤں کی جانب تھا۔
گاؤں میں داخل ہوئے تو جگہ جگہ لوگوں نے درویش کو سلام کیا۔  وہ جواب دیتا ہوا، طاہر کو ساتھ لئے نور پور کی اکلوتی مسجد پر چلا آیا۔ مسجد کا دروازہ بھڑا ہوا تھا۔
درویش نے دروازہ کھول دیا۔  دونوں اندر داخل ہوئے۔  اب وہ جہاں کھڑے تھے وہ ڈیوڑھی نما جگہ تھی جو نمازیوں کے جوتیاں اتارنے کے لئے تھی۔  اس کے بعد سامنے مسجد کا صحن اور اس کے بعد مسجد کی عمارت۔  صحن میں دائیں ہاتھ وضو خانہ بنا ہوا تھا۔  جس کے آخر پر طہارت خانے کے بعد چھوٹی سی کھوئی کے اوپر چرخی اور اس میں رسی سے بندھا چمڑے کا ڈول دکھائی دے رہا تھا۔  بائیں ہاتھ حافظ عبداللہ کا حجرہ تھا، جس کی دیوار آگے کی جانب مسجد کے ساتھ جا ملی تھی۔  حجرے کی مسجد کے صحن میں کھلنے والی کھڑکی کے پٹ وَا تھے۔
"پگلے۔ " درویش نے اپنے دائیں ہاتھ کھڑے طاہر کی طرف دیکھا۔  " عشق کے عین کا نظارہ کرنے کے لئے تیار ہو جا۔ "
طاہر کا دل زور سے دھڑکا اور رگوں میں خون کی گردش تیز ہو گئی۔  نجانے اس کے سامنے کیا آنے والا تھا۔ درویش نے قدم آگے بڑھایا اور کھلی کھڑکی کے قریب جا کھڑا ہوا۔  طاہر اس کے ساتھ تھا۔
اندر کا منظر دیکھ کر طاہر کو پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا۔  پھر نجانے کیوں اسے لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔  ایسا خواب جو دھند بن کر اس کی آنکھوں میں غبار اڑا رہا ہے۔  چمکیلا، رگوں میں سنسناہٹ دوڑاتا، دماغ کے بند دریچوں کو پُر شور آواز کے ساتھ کھولتا ہوا خواب۔
دلہن کے لباس میں ملبوس جواں سال خوبصورت گوری چٹی سکینہ، اپنے سامنے چٹائی پر بیٹھے باریش، سانولے اور واجبی سی شکل کے حامل حافظ عبداللہ کو اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرا رہی تھی۔  وہ روٹی کا لقمہ توڑتی۔  اسے سالن لگاتی اور حافظ عبداللہ کے ہونٹوں کی طرف بڑھا دیتی۔ بچوں کی طرح حافظ عبداللہ منہ کھول کر لقمہ لے لیتا۔  پھر وہ گود میں پڑے اپنے لنجے ہاتھ سے ہونٹ صاف کرنا چاہتا تو وہ بڑی نرمی سے اسے روک دیتی۔  اس کے لنجے ہاتھ کو تھام کر چومتی۔  پھر اپنے گوٹے کناری سے سجے سرخ دوپٹے کے پلو سے اس کے ہونٹوں کو ارد گرد سے صاف کرتی۔  طاہر نے صاف دیکھا کہ حافظ عبداللہ کی آنکھوں میں شبنم لبالب تھی۔  لگتا تھا وہ کسی وقت بھی چھلک پڑے گا۔  نجانے کیوں ؟
طاہر کو لگا جیسے اس کے سامنے جنت کے باسیوں کا کوئی منظر چل رہا ہو۔  ایک حور اپنے مالک کی خدمت کر رہی تھی۔
"یہ ہے عشق کا عین پگلے۔ عبادت، عجز، عقیدت۔ " درویش کی بیحد آہستہ سی آواز نے طاہر کو ہوش و حواس کی دنیا میں کھینچ لیا۔ " وہ پگلی ایسا کیوں کر رہی ہے اور وہ سیانا کیوں اندر سے بلک رہا ہے؟ آ۔  تجھے عین کے ہجے کر کے بتاؤں۔ "
کھڑکی سے ہٹ کر وہ حجرے کے دروازے پر آ گئے۔ درویش نے ایک پل کو کچھ سوچا پھر آہستہ سے دستک دی۔
"کون؟" اندر سے حافظ عبداللہ کی آواز ابھری۔
"اللہ والیا۔  تیرے ہاں مہمان آیا ہے۔ " درویش نے جواب میں کہا اور کوئی جیسے بڑی جلدی میں اٹھ کر دروازے کی طرف لپکا۔  ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور درویش کے پیچھے کھڑے طاہر نے دیکھا، ان کے سامنے حافظ عبداللہ حیران حیران  کھڑا تھا۔  پھر اس نے جلدی سے اپنی آستین سے آنکھیں خشک کر ڈالیں۔
"ارے بابا آپ۔۔۔ " اسے جیسے یقین نہ آ رہا تھا۔  نظر طاہر پر پڑی تو وہ اور کھل گیا۔  " آئیے ناں بابا۔  آئیے۔  آپ بھی آئیے جی۔  باہر کیوں کھڑے ہیں۔ " وہ انہیں راستہ دیتا ہوا ایک طرف ہٹ گیا۔
درویش اور طاہر آگے پیچھے اندر داخل ہوئے۔ کھلی کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی سے منور کمرہ جیسے ان کے استقبال کے لئے مسکرا رہا تھا۔
"سلام بابا۔ " چٹائی پر بیٹھی سکینہ اٹھ کھڑی ہوئی اور درویش کے آگے سر جھکا دیا۔
"کیسی ہے تو اللہ والئے؟" درویش نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"نہال ہوں بابا۔  سُکھ میں ہوں۔ " وہ ہنس کر بولی۔
"سُکھی رہے گی تو۔  میرے رب کے حکم سے۔ " وہ پیار سے بولا۔  "لگتا ہے تم لوگ کھانا پینا کر رہے تھے۔ " درویش نے چٹائی پر برتن پڑے دیکھ کر کہا۔
"ہاں بابا۔  ناشتہ کر رہے تھے۔  آپ بیٹھئے ناں۔  میں آپ کے لئے بھی ناشتہ بناتی ہوں۔ " اس نے اب تک ایک بار بھی طاہر کی جانب نہ دیکھا تھا۔
"بیٹھتے ہیں۔  بیٹھتے ہیں۔  " درویش نے چپل اتار دی اور طاہر اس کی تقلید میں چٹائی پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔  وہ سکینہ کو اچھی طرح دیکھ چکا تھا۔ سہاگ کی چادر سے خود کو ڈھکے، وہ اسے کوئی ایسا محل نظر آ رہی تھی جس میں غلیظ ہوا کے کسی جھونکے کے داخلے کے لئے کوئی روزن موجود نہ ہو۔  حافظ عبداللہ بھی دروازہ بھیڑ کر ان کے پاس آ بیٹھا۔
"لے بھئی پگلے۔  یہ ہے حافظ عبداللہ۔  اس کی کہانی تو تجھے ہم بعد میں سنائیں گے پہلے اپنی بیٹی سے یہ کہہ دیں کہ ہمارے لئے صرف چائے بنائے۔  "
" اچھا بابا۔ " سکینہ مسکرا کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔
حافظ عبداللہ نے کھانے کے برتنوں پر رومال دے کر انہیں ایک طرف سرکا دیا۔  درویش نے اس کے ہاتھ پر نظر ڈالی۔
"کیا حال ہے حافظ اس نشانی کا؟"
"بس۔  ٹھیک ہو گیا ہے بابا۔ اب اس سے تھوڑا بہت کام لینے لگ گیا ہوں۔ " حافظ عبداللہ نے اپنے چُرمرائے ہوئے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
"جانتا ہے، اس ہاتھ کے ساتھ کیا کیا میرے اوپر والے نے؟" درویش نے اچانک طاہر کا رخ کر لیا۔
"کیا بابا؟" حافظ عبداللہ کے ہاتھ کو دیکھتا ہوا طاہر ہمہ تن گوش ہو گیا۔
اور حافظ عبداللہ کا سر جھک گیا۔  درویش نے کہنا شروع کیا تو طاہر کے اندر روزن کھلتے چلے گئے۔  روشنی اور رنگوں کے فوارے چھوٹنے لگی۔  اس کی حیرت فزا آنکھیں حافظ عبداللہ کے چہرے کا طواف کرتی رہیں جہاں سوائے حیا کے کچھ نہ تھا۔  شاید وہ داستان میں اپنی تعریف پر خود کو شرمندہ شرمندہ محسوس کر رہا تھا۔
"یوں میری پگلی نے اس سیانے کو اپنے پلو سے باندھ لیا۔  اس کا یہ ہاتھ، جو بظاہر دیکھنے میں لنجا لولا لگتا ہے، میرے رب کی مہر کی وہ نشانی ہے، جس کے آگے دنیا کی ساری خوبصورتیاں ہیچ ہیں۔  کیوں پگلی، ٹھیک کہا ناں میں نے؟" درویش نے اسے چمکتی آنکھوں سے دیکھا۔
"ہاں بابا۔ " طاہر کے حلق سے بڑی چھلکتی ہوئی آواز نکلی۔ "ایسے ہاتھ نصیبوں والوں کے ہوتے ہیں۔ "
"ہاں۔ " درویش بچوں کی طرح خوش ہو کر بولا۔  "یہی تو میں کہتا ہوں۔  ایسے ہاتھ نصیبوں والے کے ہوتے ہیں جنہیں کوئی دم دم بوسے دیتا رہے۔  چومتا رہے۔  "
"بابا۔ " حافظ عبداللہ نے آبدیدہ ہو کر سر جھکا لیا۔  " سکینہ تینوں وقت مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی ہے۔  ہر نماز کے لئے وضو کراتی ہے۔  میرے اس ناکارہ ہاتھ کو سو سو بوسے دیتی ہے۔  مجھے ہر وہ کام کرنے سے روک دیتی ہے جو مجھے اس ہاتھ سے کرنا ہوتا ہے۔ وہ میرا دایاں ہاتھ بن گئی ہے بابا۔  " حافظ عبداللہ کی آواز بھرا گئی۔
"وہ بھی تو اپنے اس بندے کا ہاتھ بن جاتا ہے۔  زبان بن جاتا ہے۔  کان بن جاتا ہے۔  آنکھ بن جاتا ہے جو اس کے لئے اپنا آپ تیاگ دیتا ہے۔ عاجز ہو جاتا ہے۔  عبودیت کی سیڑھی پر پاؤں رکھ دیتا ہے۔ عشق کے عین کے رستے پر چل پڑتا ہے۔ " درویش نے وجد میں آ کر کہا۔
"کیا میں غلط کرتی ہوں بابا؟" اسی وقت سکینہ چائے کے تین پیالے پلاسٹک کے پھولدار ٹرے میں رکھے آ گئی اور ٹرے ان کے سامنے چٹائی پر رکھ دی۔
درویش نے طاہر کی جانب نظر کی، جو حیران حیران سا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں دیے سے جل رہے تھے۔  لو دے رہی تھیں اس کی آنکھیں۔
" کیا مجھے عبادت نہیں کرنی چاہئے ؟"
"کرنی چاہئے میری پگلی بیٹی۔  کرنی چاہئے۔ " درویش کا حلق آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا۔ " یہ اگر کبھی تجھے روکے ناں۔  تو اس کی بات کبھی نہ ماننا۔  اپنی سی کرتی رہنا۔  یہ سیانا ہے۔  کبھی اسے خیال آ گیا ناں کہ تیری نیکیاں بڑھتی جا رہی ہیں ، تیری عبادت پہ رنگ آ رہا ہے تو شاید رشک کے مارے تجھے روکنا چاہے مگر اس وقت اس کی نہ ماننا۔  اپنے اللہ کی کہی کرنا۔  وہ کہتا ہے ناں کہ جس کا مالک اس سے راضی، وہ بھی اس سے راضی۔  تو اپنے دونوں مالکوں کو راضی کرتی رہنا۔  ایک کی خدمت اور دوسرے کی عبادت میں بڑا گہرا تعلق ہے پگلی۔  تو نے یہ جان لیا ہے۔  بس اس بھید کا دامن نہ چھوڑنا۔  مضبوطی سے پکڑ ے رکھنا اسے۔ "
"جی بابا۔ "
"کیوں پگلے۔  عشق کے عین کی حقیقت پلے پڑی؟" درویش نے چائے کا پیالہ اس کے آگے سرکایا۔
"ہاں بابا۔" وہ جلتی ہوئی آواز میں بولا۔
"تو پھر اس کی خدمت کو قبول کر کے بھی کیوں انجان بنا رہتا ہے؟ کیوں اس کی عبادت کو صبر کے کانٹوں پر ڈال دیتا ہے؟ وہ جو تیرا ماتھا چوم کر کمرے سے نکل جاتی ہے، اسے آنسوؤں سے وضو کرا کے تیرے من کو سکون ملتا ہے کیا؟"
"نہیں بابا نہیں۔ "وہ جلدی سے بول اٹھا۔ "بس۔  اندر ایک پھانس سی چبھ گئی ہے۔  وہ نہیں نکلتی۔ " وہ بے بسی سے بے حال ہو گیا۔
"نکل جائے گی۔  نکل جائے گی۔ " درویش نے اس کے کندھے پر ہاتھ پھیرا۔  "ابھی یہ تبرک حلق سے اتار۔ "
بڑے ضبط سے کام لیتے ہوئے طاہر نے آنکھوں کو چھلکنے سے روکا۔  پھر آستین سے چہرہ صاف کیا اور چائے کا پیالہ اٹھا لیا۔  حافظ عبداللہ اور سکینہ بھی چٹائی کے ایک کونے پر بیٹھ گئے۔
"سکینہ بیٹی۔  ایک بات تو بتا۔ " درویش نے طاہر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"جی بابا۔ " اس نے پلکیں اٹھائیں۔
"تو نے میرے ساتھ آئے اس مشٹنڈے سے پردہ کیوں نہیں کیا؟" درویش کا اشارہ طاہر کی طرف تھا۔
"میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں بابا۔ " وہ سادگی سے بولی۔ " اور جو نظر ہی نہ آئے اس سے پردہ کیسا؟"
"اللہ۔۔۔۔ " درویش نے بے اختیار ایک فلک شگاف نعرہ لگایا اور یوں جھومنے لگا جیسے اس پر جذب طاری ہو گیا ہو۔  "ٹھیک کہتی ہے پگلی۔  جو دکھائی نہ دے اس سے پردہ کیسا؟ وہ بھی تو دکھائی نہیں دیتا۔  اسی لئے تو اس سے بھی پردہ نہیں کیا جاتا۔  اس سے پردہ کیسا؟ اس سے پردہ کیسا؟" وہ بڑبڑائے جا رہا تھا۔
"چل پگلی۔  آ جا۔  چلیں۔ " ایک دم درویش اٹھ کھڑا ہوا۔  " یہ تو بہت آگے چلی گئی۔  اسے تو حافظ کے سوا کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا۔  آ جا۔  چلیں۔  اس نے عبادت کی منزل کو چھو لیا ہے۔  عشق کا عین اس پر کھل گیا ہے بابا۔  عین کا در اس پر وَا ہو گیا ہے۔  " درویش کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔
طاہر اس کے پیچھے لپکا۔  درویش بڑبڑاتا ہوا مسجد سے باہر نکل چکا تھا۔  طاہر نے پلٹ کر دیکھا۔  حافظ عبداللہ اور سکینہ اپنے کمرے کے دروازے میں کھڑے اسی کی جانب دیکھ رہے تھے۔  اس کی نظریں حافظ عبداللہ سے ملیں تو دونوں بے اختیار مسکرا دئیے۔  لرزتا ہوا نچلا ہونٹ دانتوں میں داب کر اس نے حافظ عبداللہ کی جانب ہاتھ ہلایا۔  جواب میں اس نے بھی اپنے جلے ہوئے ہاتھ سے اس کی جانب اشارہ کیا تو وہ جلدی سے مسجد کا دروازہ پار کر گیا۔  آنکھوں میں چھا جانے والی دھند کے پار دیکھا تو درویش اس سے کتنی ہی دور بھاگتا ہوا گلی کا موڑ مڑ رہا تھا۔  طاہر نے خود کو تیز قدموں سے اس کی آواز کے تعاقب میں ڈال دیا، جو ہوا کے دوش پر لہرا لہرا کر رقص کر رہی تھی۔
"اس سے پردہ کیسا؟
اس سے پردہ کیسا؟
اس سے پردہ کیسا؟"
*  *  *


طاہر اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا مگر درویش کو زمین نگل گئی تھی یا آسمان، اس کا پتہ نہ چلا۔ وہ پاگلوں کی طرح اسے تلاش کرتا ہوا بابا شاہ مقیم کے مزار پر آیا۔  درویش وہاں بھی نہیں تھا۔  طاہر کا حال عجیب ہو رہا تھا۔  اس کا دل اس کے قابو میں نہ تھا۔  جی چاہتا تھا وہ کپڑے پھاڑ کر جنگلوں میں نکل جائے۔  اس کا رنگ ایک دم سرخ ہو گیا۔  لگتا تھا ابھی رگیں پھٹ جائیں گی اور خون ابل پڑے گا۔  سینے میں ایک الاؤ سا دہکنے لگا تھا جس کی لپٹیں اسے جھلسائے دے رہی تھیں۔  سکون کس چڑیا کا نام ہے؟ وہ بھول گیا تھا۔  قرار کسے کہتے ہیں ؟ اسے یاد نہ تھا۔  بے کلی تھی کہ اسے آگ کے پالنے میں جھُلا رہی تھی۔
"بابا۔۔۔۔ " اس نے بے بس ہو کر پورے زور سے صدا دی اور چررر چررر کی آواز کے ساتھ اس کا گریبان لیر لیر ہو گیا۔ چیتھڑے اڑ گئے۔  اس نے اپنے بال نوچ لئے۔ گھٹنوں کے بل وہ کچی زمین پر گرا اور دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر ہچکیاں لینے لگا۔
وہ دیوانوں کی طرح رو رہا تھا۔  آہیں بھر رہا تھا۔  اس کی سسکیوں میں کوئی فریاد بار بار سر اٹھاتی اور دم توڑ دیتی۔ وہ کیا کہہ رہا تھا؟ کس سے کہہ رہا تھا؟ کون جانے۔  ہاں ، ایک بابا شاہ مقیم کا مزار تھا جو روشن دھوپ میں سر اٹھائے اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔  اس کی اس حالت کا گواہ ہو رہا تھا۔
دوپہر سے شام ہوئی اور شام سے رات۔ درویش نے آنا تھا نہ آیا۔
وہ کسی بے آسرا، بے سہارا، بے زبان کی طرح اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے خاک کے فرش پر سر جھکائے بیٹھا رہا۔  اس کا ذہن سفید لٹھے کی طرح کورا ہو چکا تھا۔  کوئی سوچ، کوئی خیال، کوئی شبیہ اس پر ابھر ہی نہ پا رہی تھی۔ بالکل خالی الذہنی کے عالم میں وہ وہاں یوں بیٹھا تھا جیسے دنیا اور دنیا والوں سے اس کا تعلق ٹوٹ چکا ہو۔
گھٹنے کھڑے کئے، ان کے گرد دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے تھامے، سر جھکائے، آنکھیں بند کئے وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر بیٹھا تھا کہ ایک آہٹ نے اسے اپنا سُتا ہوا چہرہ اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
 آہستہ سے اس نے سر گھمایا۔  دائیں دیکھا۔  کچھ نہ تھا۔  بائیں دیکھا۔  خاموشی مہر بہ لب تھی۔  مگر یہ اس کا وہم نہیں تھا۔  اس نے کسی کے تیز تیز قدموں سے پتوں اور گھاس پر چلنے کی آواز سنی تھی۔  اسی وقت وہ آواز پھر ابھری۔  اب اس کے ساتھ کسی کی صدا بھی ابھری۔
وہ تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔  اس آواز کو تو وہ لاکھوں میں پہچان سکتا تھا۔
"اس سے کیسا پردہ؟" درویش کی آواز اب کے صاف سنائی دی۔  اس نے ادھر ادھر دیکھا اور اسے آواز کی سمت کا اندازہ ہو گیا۔  بابا شاہ مقیم کے مزار کے عقب میں ایک چھوٹا سا قبرستان تھا، آواز اسی طرف سے آ رہی تھی۔  وہ دیوانہ وار اس طرف بھاگا۔
درویش قبرستان میں تیز تیز قدموں سے ٹہل رہا تھا۔  اسے کوئی ہوش نہ تھا کہ اس کے پاؤں تلے آنے والے کانٹے اسے زخم زخم کئے دے رہے ہیں۔  اس کے کپڑے تار تار ہو چکے تھے۔  بالوں میں خاک اور جسم پر مٹی نے تہہ جما دی تھی۔ وہ جذب کے عالم میں قبرستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر شے سے بیگانہ ٹہل رہا تھا۔  کبھی کبھی آسمان کی طرف دیکھ لیتا۔  پھر اس کے ٹہلنے میں اور شدت آ جاتی۔ ہونٹوں پر ایک ہی فقرہ تھا جو کبھی نعرہ بن جاتا اور کبھی سرگوشی۔
"اس سے پردہ کیسا؟ اس سے پردہ کیسا؟ اس سے پردہ کیسا؟"
طاہر گرتا پڑتا اس کے قریب پہنچا اور پھر ایک بار جب وہ پلٹ کر قبروں کے درمیان سے دوسری جانب جانے کو تھا کہ وہ اس کے قدموں سے جا لپٹا۔
"بابا۔ "
"ارے۔۔۔ " ایک دم درویش کی زبان تھم گئی۔  " پگلے۔  تو ابھی یہیں ہے؟" وہ اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ "
"بابا۔ " طاہر نے اس کے ہاتھ تھام کر اپنا ماتھا ان پر ٹکا دیا۔ "میں کہاں جاؤں اب؟" اس کا بھیگا ہوا لہجہ تھکان سے لبریز تھا۔
"کہاں جاؤں سے کیا مطلب؟" سسکتے ہوئے طاہر پر درویش کی نظریں جم سی گئیں۔  "ارے۔  واپس جا۔ "
"واپس کہاں بابا؟" طاہر نے برستی ہوئی آنکھیں درویش کی جانب اٹھائیں۔  چٹکی ہوئی چاندنی میں وہ دونوں قبرستان کے خاموش ماحول میں دو روحوں کی طرح ہمکلام نظر آ رہے تھے۔ "مجھے تو کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔  کوئی راستہ سامنے نہیں ہے جس پر چل کر میں جہاں سے آیا تھا وہاں لوٹ کر جا سکوں۔ "
"پگلا ہوتا جا رہا ہے تو واقعی۔ " درویش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ "اور یہ تو نے اپنا حال کیا بنا لیا ہے؟"
"پتہ نہیں بابا۔  مجھے کچھ پتہ نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔  کیا ہونے والا ہے؟"
"چل۔  ادھر چلتے ہیں۔  یہ تیری جگہ نہیں ہے۔  چل۔ " درویش نے اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکالی۔ اسے اٹھایا اور دونوں ایک دوسرے کے سہارے کمرے میں چلے آئے۔ وہاں تک آتے آتے طاہر کی حالت کافی سنبھل گئی۔  طبیعت میں ٹھہراؤ سا آ گیا اور الاؤ کی دہک میں کمی بھی۔
کمرے میں داخل ہو کر چٹائی پر بیٹھتے ہی ایک دم طاہر گھبرا گیا۔  اس کی نظر درویش کے پیروں پر پڑی جو لہو لہان ہو رہے تھے۔  کانٹوں نے اس کی پنڈلیوں تک کو خون میں نہلا رکھا تھا۔  خون اور مٹی میں لتھڑے اس کے پاؤں دیکھ کر وہ تھرا گیا۔
"بابا۔  آپ تو زخمی ہیں۔ " اس نے بے اختیار اس کے پاؤں چھو لئے۔
"اچھا۔ " درویش نے حیرت سے اپنے پیروں کی جانب دیکھا۔  "یہ کیسے ہو گیا؟"
" آپ یہیں بیٹھئے۔  میں پانی لاتا ہوں انہیں دھونے کے لئے۔ "طاہر اٹھا اور درویش کے روکتے روکتے کمرے سے نکل گیا۔  دوسرے کمرے میں بھی کچھ نہ ملا تو وہ مزار کے صحن میں چلا آیا۔  دروازے کے پاس ہی ایک میلا سا سٹیل کا جگ پڑا تھا۔  اس نے اس میں ہینڈ پمپ سے پانی نکالا اور واپس لوٹ آیا۔
درویش سرہانے بانہہ دھرے چٹائی پر آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔ طاہر نے اپنے پھٹے کرتے کے دامن سے ایک ٹکڑا پھاڑا اور درویش کے پاس بیٹھ گیا۔  کپڑے کو جگ کے پانی میں بھگو بھگو کر وہ درویش کے زخم صاف کرنے لگا اور بڑی نرمی سے تلووں سے کانٹے نکالنے لگا۔  درویش یوں بے حس و حرکت پڑا تھا جیسے بڑے آرام سے سو رہا ہو۔  طاہر اس کے کانٹے نکالتا رہا۔  خون اور مٹی صاف کرتا رہا۔ زخم برہنہ ہوتے چلے گئی۔  جگہ جگہ سے گوشت اڑ گیا تھا۔  اذیت کا احساس ہوا تو طاہر کا دل بھر آیا۔
"پگلے۔  " اچانک درویش نے آنکھیں کھول دیں۔  " رات بہت جا چکی۔  اب گھر جا۔ "
"نہیں بابا۔ " طاہر نے نفی میں سر ہلایا اور اس کے پیروں میں بیٹھ گیا۔ " اب کسی گھر کی یاد دل میں باقی رہی ہے نہ کہیں جانے کو جی چاہتا ہے۔ مجھے یہیں اپنے قدموں میں پڑا رہنے دیں۔ "
"نہیں رے۔ " درویش نے پاؤں سمیٹ لئے اور اٹھ بیٹھا۔ "تو اکیلا نہیں ہے۔  کوئی اور بھی بندھا ہے تیرے نام سے۔  اس کا حق مارے گا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔ " درویش نے اوپر کی جانب دیکھا۔
"میں اسے آزاد۔۔۔ "
"بس۔ " درویش نے سختی سے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔  "ایک لفظ اور نکالا تو راندہ درگاہ ہو جائے گا۔ " وہ بھڑک اٹھا۔ " اپنی مستی کے لئے اسے خود سے الگ کرنا چاہتا ہے۔  پگلے۔  اس کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔  "
"تو پھر میں کیا کروں بابا؟" وہ بے بسی سے نم دیدہ ہو گیا۔ " میں کیا کروں ؟ ایک پھانس ہے جو اس دل میں اٹک گئی ہے۔  نکلتی ہی نہیں۔ "
"نکالنا ہی پڑے گی۔ " درویش آنکھیں موند کر بڑبڑایا۔  "تو نے ہمارے کانٹے نکالے ہیں۔  اب تیری پھانس بھی نکل ہی جانی چاہئے۔ "اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھول دیں۔
"ادھر دیکھ۔ " وہ تحکم سے بولا۔
بے اختیار طاہر کی نظریں اٹھیں اور درویش کی نظروں میں مدغم ہو گئیں۔
"یہ جو تیرے اندر پھانس اٹکی ہوئی ہے ناں۔ یہ پھانس نہیں ہے، عشق کا دوسرا حرف ہے۔  شین۔  کیا سنا تو نے؟ عشق کا دوسرا حرف شین ہے یہ۔  جانتا ہے شین کس کی علامت ہے؟ مگر نہیں تو کیسے جانے گا؟ تو تو بس اسے دل میں اتار کر بے خبر ہو گیا۔ یہ نہ سوچا کہ یہ حرف تیرے دل میں اترا کیسے؟ کیوں اترا؟"
طاہر بُت بنا درویش کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔  اس کے اندر ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی تھی۔  عشق کے عین نے اس کا یہ حال کر دیا تھا جو اس کے ساتھ بیتا بھی نہ تھا۔  اور عشق کا شین اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا جو اس کے اندر پھانس بن کر اٹکا ہوا تھا۔  اس کے دل میں اندر تک اترا بیٹھا تھا۔
اس کا جی چاہا، درویش سے کہے۔  "بابا، رکو مت۔  بولتے رہو۔  بولتے رہو۔  " اس کے بولنے میں سُکھ تھا۔  سکون تھا۔  ٹھہراؤ تھا۔  فیض تھا۔  ایسا فیض جو طاہر کی بے کلی کو تسلی کی چادر سے ڈھانپ لیتا تھا۔  تشفی کے دامن میں سمیٹ لیتا تھا۔
"شین۔۔۔ " درویش نے آنکھیں بند کر لیں اور ایک سسکی لی۔ " عشق کے پہلے حرف عین سے عبادت۔  عجز میں ڈوبے عبد کی عبادت اور عقیدت ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔  عبادت، جیسی سکینہ کر رہی ہے۔  جیسی تیرے گھر میں ہو رہی ہے۔  جیسی تیرے شہر میں داغدار قمر کے دامن میں پھول کھلا رہی ہے۔  اور اب عشق کادوسرا حرف شین۔  " درویش ایک لمحے کو رکا۔  پھر اس کی آواز ابھری تو نشے میں ڈوبی ہوئی تھی۔  خمار آلود، بھرائی ہوئی۔  طاہر اپنے آپ سے بے خبر ہوتا چلا گیا۔  اسے صرف درویش کی خوشبو سے بوجھل، تپش سے لبریز آواز سنائی دے رہی تھی۔  نہیں۔  سنائی نہیں دے رہی تھی۔  بے خودی کا شہد تھا جو قطرہ قطرہ اس کے کانوں میں ٹپک رہا تھا۔ اس کے دل پر شبنم بن کر اتر رہا تھا۔
"عشق حقیقی تک پہنچنے کے لئے عشق مجازی ضروری ہے۔  جیسے کسی چھت تک پہنچنے کے لئے سیڑھی کی ضرورت ہوتی ہے۔  چھت پر پہنچ کر سیڑھی سے الگ ہو جانا ایک قدرتی امر ہے۔  سیڑھی کے بغیر چھت پر پہنچنا غیر فطری ہے۔  ہاں جو پیدا ہی چھت پر ہوا ہو اس کے لئے سیڑھی کی ضرورت نہیں پڑتی مگر ہم عام اور بے حیثیت انسانوں کے لئے وسیلہ اور حیلہ دونوں ضروری ہیں۔  کبھی سیڑھی کا وسیلہ۔  کبھی کمند کا حیلہ۔  عشق مجازی کے لئے ضروری ہے کہ کوئی دل کے دروازے پر آ کر دستک دے۔  اس میں آ کر مکین ہو جائے۔  دل کو اپنی جاگیر سمجھ کر اس پر قابض ہو جائے۔  اس میں اپنی مرضی کی دھڑکنیں جگائے۔  کبھی اسے توڑے۔  کبھی اسے جوڑے۔  کبھی اچانک غائب ہو جائے اور رلا رلا کر دل والے کو عاجز کر دے۔  کبھی ایسا مہربان ہو کہ نہال کر دے۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب دل میں ایسا گداز پیدا ہو جاتا ہے کہ دل والا بات بے بات آبگینے کی طرح پھوٹ پڑتا ہے۔  آنسو اس کی پلکوں کی نوکوں پر موتیوں کی طرح اٹکے رہتے ہیں۔  وہ غم ملے تو روتا ہے۔  خوشی پائے تو روتا ہے۔  سوئے تو روتا ہے۔  جاگے تو روتا ہے۔  سوچے تو روتا ہے۔  سمجھے تو روتا ہے۔ یہ رونا اس کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے۔  اس وقت۔۔۔  " درویش نے دھیرے سے پلکیں وَا کیں۔  طاہرسر جھکائے، بے حس و حرکت بیٹھا، ہر شے سے بیگانہ اس کی بات سن رہا تھا۔  اس نے طاہر کے چہرے پر نگاہیں جما دیں اور پھر گویا ہوا۔
"اس وقت اس کے دل میں اس قدر نرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہاں رحمان آن بسیرا کرتا ہے اور اگر ذرا سا۔۔۔ " درویش نے انگلی کی پور کے کونے پر انگوٹھے کا ناخن رکھ کر کہا۔  "اتنا سا بھی شیطان کو موقع مل جائے تو وہ چھلانگ مار کر دل کے سنگھاسن پر آ بیٹھتا ہے۔  تب گداز پر غیریت کا پردہ پڑ جاتا ہے۔  رحمانیت رخصت ہو جاتی ہے اور شیطانیت لوریاں دینے لگتی ہے۔  دوئی لپک کر آتی ہے اور وحدانیت سے بیگانہ کر دیتی ہے۔ پھر انسان، انسان صرف اس حد تک رہ جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ پیر انسانوں جیسے ہیں اور بس۔  اس کے اندر دہکتا عشق کا الاؤ ہوس کی آگ بن جاتا ہے۔  لوگ اس کے ہاتھ پیر چومنے لگتے ہیں۔  اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔  جوانیاں اس کے انگ لگتی ہیں تو وہ اسے نفس پر غلبے کا نام دے کر خوش ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ خود شیطان کو خوش کر رہا ہوتا ہے۔  عشق کے نام پر بھڑکنے والے شعلے پر ہوس کے چھینٹے پھوار بن کر برسنے لگتے ہیں اور پھوار میں بھیگنے کا تو ایک اپنا ہی مزا ہوتا ہے ناں۔  یہ مزا انسان کو عشق کی کسک سے دور لے جاتا ہے۔  اس چبھن سے دور لے جاتا ہے جس کا نام مجاز ہے۔  وہ دھیرے دھیرے اس رنگ میں ایسا رنگا جاتا ہے کہ اس کا اپنا رنگ، عشق کا رنگ ناپید ہو جاتا ہے۔  ہوش اسے تب آتا ہے جب آخری لمحہ اس کے سامنے اس کا کچا چٹھا لئے آن کھڑا ہوتا ہے۔۔۔  مگر اس وقت اس کا ہوش میں آنا بیکار ہو جاتا ہے۔  عشق کے نام پر پھیلائی ہوئی بربادی اسے اپنے پیروں تلے روندتی ہوئی گزر جاتی ہے اور اس کا وجود تو مٹ جاتا ہے تاہم اس کا نام ابد الآباد تک عبرت بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔  اور اگر۔۔۔ " درویش نے آنکھیں بند کر لیں۔  اس کا لہجہ گمبھیر ہو تا چلا گیا۔  آواز میں ایک عجیب سی نرمی پر کھولنے لگی۔۔۔ " اگر یہ گداز رحمانیت کو چھو لے تو عشق مجازی کا ہاتھ عشق حقیقی کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔  دل، اس کا گھر بن جاتا ہے جو ہر کافر کے دل میں بھی کبھی نہ کبھی پھیرا ضرور ڈالتا ہے۔  پھر جسے وہ چُن لے، وہ کافر رہتا ہے نہ مشرک، بس اس کا بندہ بن جاتا ہے اور جس کا دل اسے پسند نہ آئے وہ اس کے آنے کو یوں بھول جاتا ہے جیسے جاگنے پر خواب یاد نہیں رہتا۔۔۔ عشقِ مجازی کی پہلی منزل عشق کے پہلے حرف عین سے شروع ہوتی ہے۔  عبادت جہاں پھل پانا شروع کرتی ہے، وہاں سے عشق کے دوسرے حرف شین کے رخ سے پردہ اٹھتا ہے۔  شین۔۔۔ " درویش نے ایک مستی بھری سسکی لی۔  "شین۔۔۔  شین سے شک ہوتا ہے پگلے۔ "
"شک۔۔۔ ؟" ایک دم طاہر کا ذہن جھنجھنا اٹھا۔  سارے بدن میں ایک پھریری سی دوڑ گئی۔  لرز کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔
"ہاں پگلے۔ " درویش کی نگاہیں اسی کی جانب مرکوز تھیں۔ وہ درویش کی لو دیتی آنکھوں میں ڈوبتا چلا گیا۔  زبان کو مزید کچھ کہنے کا یارا ہی نہ رہا۔  وہ ایک بار پھر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گیا۔ درویش کہہ رہا تھا۔
"شک۔۔۔  عشق کو مہمیز کرتا ہے۔  اسے ایڑ لگاتا ہے۔  انسان جس سے عشق کرتا ہے اس کے بارے میں ہر پل، ہر لمحہ شک کا شکار رہتا ہے۔  کبھی اسے یہ شک چین نہیں لینے دیتا کہ اس کا محبوب کسی اور کی طرف مائل نہ ہو جائے تو کبھی یہ شک نیندیں اڑا دیتا ہے کہ کوئی اور اس کے محبوب پر کمند نہ ڈال رہا ہو۔ کبھی یہ شک بے قراری کی آگ کو ہوا دینے لگتا ہے کہ اس کے عشق میں کوئی کمی نہ رہ جائے کہ اس کا محبوب ناراض ہو جائے تو کبھی یہ شک کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کسی اور کے جذبے کی شدت میرے محبوب کو متاثر نہ کر لے۔  شک کے یہ ناگ جب انسان کو ڈسنے لگتے ہیں تو وہ درد کی اذیت سے بے چین ہو ہو جاتا ہے۔  شک اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے محبوب کے آس پاس رہے۔  اس کے ساتھ ساتھ رہے۔  اس پر کسی دوسرے کا سایہ نہ پڑنے دے۔  اسے دل میں یوں چھپا لے کہ کسی کی اس پر نظر نہ پڑے۔  کھو دینے کا یہ خوف اسے کچھ پا لینے کی منزل کی طرف ہانک دیتا ہے۔ جتنی شدت سے یہ شک کا خوف اس پر حملہ آور ہوتا ہے، اتنی ہی جلدی وہ عشق کی یہ دوسری منزل طے کر لیتا ہے۔  جب صدیق کو یہ شک ستاتا ہے کہ کوئی دوسرا اس کے محبوب کے حضور اس سے بڑھ نہ جائے تو گھر کی سوئی تک نچھاور کر دی جاتی ہے۔  جب عمر کو یہ شک مس کرتا ہے تو صدیق سے آگے بڑھ جانے کے لئے رشک کی آخری منزل تمنا بن کر دل میں جنم لیتی ہے۔ جب عبداللہ کو یہ شک بے قرار کرتا ہے تو وہ اپنے سگے باپ کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ جب تک وہ اس کے محبوب سے معافی نہ مانگ لے گا وہ اسے مدینہ میں داخل نہ ہونے دے گا۔  جب یہ شک زید کی جان کو آتا ہے تو وہ اپنے باپ کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی کو ٹھکرا کر اپنے آقا کے در پر ابدی غلامی کے لمحات کو چُن لیتا ہے۔  قیس کو یہ شک لیلیٰ کے کتے کو چومنے پر مائل کر لیتا ہے کہ وہ اس کتے سے بھی پیار کرتی ہے۔  یہ شک رانجھے کو کان پھڑوا کر جوگی بنا دیتا ہے تاکہ وہ کسی اور کو حالتِ ہوش میں ویسے دیکھ ہی نہ سکے جیسے ہیر کو دیکھتا تھا۔  یہ شک مہینوال کو ران کے کباب بنا کر سوہنی کے حضور پیش کرنے پر آمادہ کر لیتا ہے اور۔۔۔  یہی شک ہے جو اپنے پر پھڑپھڑاتا ہے تو ساری ساری رات سونے نہیں دیتا۔  انسان کروٹیں بدلتے بدلتے چپکے سے اٹھتا ہے۔  یخ بستہ پانی سے وضو کرتا ہے اور محبوبِ حقیقی کی آرزو میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔  یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ میرے علاوہ اور کس کس کی طرف مائل بہ لطف ہے؟ کون کون اس کی مِہر سے فیض یاب ہو رہا ہے؟ کس کس طرح کوئی اس کے حضور آہ و زاری کے نذرانے پیش کر رہا ہے؟ جن سے متاثر ہو کر وہ رونے والوں پر کیا کیا مہربانیاں کر رہا ہے؟ کیا کیا ناز دکھا رہا ہے کہ اپنے عشق کے مبتلاؤں کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا؟ بندہ یہ سبب ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود ناپید ہو جاتا ہے کہ جس کے باعث اس کا رب اوروں پر مہربان اور اس خام و ناکام کی طرف سے لاپروا ہوا بیٹھا ہے۔ بندہ اس شک میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کا خالق، اس کا مالک اس کے علاوہ باقی سب پر مہربان ہے۔  اور ایسا ہے تو کیوں ؟ یہ "کیوں "اسے اپنے مالک کے حضور لرزہ بر اندام رکھتا ہے۔ اس "کیوں " کا جواب پانے کے لئے یہ شک اسے ایسے قیام میں ڈبو دیتا ہے کہ اپنی خبر بھی نہیں رہتی۔  ایسے رکوع میں گم کر دیتا ہے کہ اس کی طوالت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ سُوہ لینے کی اس حالت میں یہ شک رات رات بھر سجدے کراتا ہے۔  ایسے سجدے کہ سر اٹھانے کو جی ہی نہیں چاہتا۔ لگتا ہے کہ ابھی سجدے میں سر رکھا تھا کہ فجر کی اذان ہو گئی۔  محبوبِ حقیقی کی دبے پاؤں یہ تلاش اس شک ہی کی دین ہوتی ہے جس میں انسان یہ سوچ کر نکل کھڑا ہوتا ہے کہ:
کوٹھے تے پِڑ کوٹھڑا ماہی، کوٹھے سُکدیاں توریاں
ادھی ادھی راتیں جاگ کے میں نپیاں تیریاں چوریاں "
بڑی پُرسوز آواز میں درویش نے تان لگائی۔
طاہر کا دل ایک دم کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔  اس کی حالت ایسی غیر ہوئی کہ وہ بیقراری کے عالم میں سر مار کر رہ گیا۔  دونوں ہتھیلیاں پہلوؤں میں چٹائی پر ٹیکے وہ ہلکورے لے رہا تھا۔  جھوم رہا تھا۔  لوہا جانے کیسا گرم تھا کہ ایک ہی چوٹ نے اسے سانچے میں ڈھال دیا۔
"وہ جو سب کا محبوبِ حقیقی ہے۔  محبوبِ ازلی ہے۔  اسے اپنے علاوہ کسی اور کی طرف مائل دیکھنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ " درویش نے ایک سرد آہ بھری۔  "مگر۔۔۔ " اس کے ہونٹوں پر بڑی آسودہ سی مسکراہٹ نے جنم لیا۔  " وہ تو سب کا محبوب ہے ناں۔  سوائے ایک کے کسی اور ایک کا ہو کر رہنا اس کی سرشت ہی میں نہیں۔  جس ایک کا وہ ہے، اسے اس نے اپنا محبوب بنا لیا ہے۔ باقی سب کا وہ مشترکہ محبوب ہے۔ اسی لئے تو وہ ہر جگہ مل جاتا ہے۔  ہرجائی جو ہے۔۔۔ ہرجائی۔۔۔  ہر جگہ مل جاتا ہے۔ " درویش کی آنکھوں کے سوتے ابل پڑے۔  "ہرجائی۔۔۔  وہ تیرا بھی ہے اور میرا بھی۔ اس کا بھی ہے اور اُس کا بھی۔  یہاں بھی ہے اور وہاں بھی۔۔۔ وہ سب کا ہے اور کسی کا بھی نہیں۔۔۔  ہرجائی۔ " وہ بچوں کی طرح سسک پڑا۔  "مگرکیسا ہرجائی ہے وہ کہ ہر جگہ ہے اور کہیں دکھائی نہیں دیتا۔  پھڑائی نہیں دیتا۔  لکن میٹی کھیلتا ہے ہمارے ساتھ۔  خود چھپا رہتا ہے اور ہمیں ڈھونڈنے پر لگا دیا ہے۔ پھر کہتا ہے میں تو تمہاری شہ رگ کے قریب ہوں۔  سرجھکاؤ اور مجھے پا لو۔  میں تمہارے دل میں رہتا ہوں۔ دل۔۔۔  جس میں اس کے عشق کے تینوں حرف اودھم مچائے رکھتے ہیں۔  شک ان میں سب سے زیادہ لاڈلا ہے۔  اسے کھل نہ کھیلنے دو تو یہ روٹھ جاتا ہے۔  منہ پھیر کر چل دیتا ہے۔  اسے کبھی دل سے جانے نہ دینا پگلے۔  اس کے ہونے سے ہی عشق کی سج دھج ہے۔  عشق کا الاؤ اسی چنگاری سے دہکتا ہے۔  یہ چنگاری سلگنا بند کر دے تو عشق کا شعلہ سرد پڑنے لگتا ہے۔  دم توڑنے لگتا ہے۔  یہ شک ہی ہے جو انسان کا ہاتھ پکڑ کر عشقِ مجازی کے راستے سے عشقِ حقیقی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ محبوب کی نظروں میں ہلکا پڑ جانے کا شک انسان کو کبھی بے وزن نہیں ہونے دیتا۔  اسے محبوب سے دور نہیں جانے دیتا۔  دل میں پھانس بن کر اٹک جانے والا یہ شک۔۔۔ " درویش رک گیا۔
"بولتے رہئے بابا۔  رکئے مت۔ " طاہر نے مچل کر درویش کی جانب دیکھا۔  جان سمٹ کر جیسے لبوں پر آ گئی۔
طاہر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے درویش کے لبوں پر بڑی عجیب سی مسکراہٹ ابھری۔  طاہر اس مسکراہٹ سے اور بے قرار ہو گیا۔
"یہی وہ شک ہے۔  وہ پھانس ہے۔ عشق کے شین کی یہی وہ شدت ہے جس نے کسی تیسرے کا خوف تیرے دل میں بٹھا دیا ہے۔ "درویش نے اس کی جانب انگلی سے اشارہ کیا۔
طاہر کے دل کا بھید آشکار ہوا تو وہ حیرت سے سُن ہو گیا۔  اس نے کچھ کہنے کے لئے ہونٹ کھولے۔
"نہ۔۔۔ " درویش نے انگلی اس کی جانب اٹھا دی۔  اسے بولنے سے روک دیا۔  "تجھے یہ شک نہیں ہے کہ تیری پگلی اور اس تیسرے میں کوئی واسطہ ہے۔  نہ نہ۔  تجھے تیرے عشق کی شدت نے ا س شک میں مبتلا کر دیا ہے کہ کسی روز وہ سامنے آ گیا تو اس کے عشق کی شدت تیری پگلی کو تجھ سے دور نہ لے جائے۔  وہ ایک پل کو بھی اگر اس کے بارے میں کچھ سوچ لے گی تو تیرا کیا حال ہو گا؟ اس کا خیال بھی تیرے اور تیری پگلی کے درمیان نہ آ جائے، یہ شک تجھے تیری پگلی کے قریب نہیں جانے دیتا۔ ایساہی ہے ناں پگلے؟" درویش نے اس کی جانب مسکرا کر دیکھا۔
بے بسی سے ہونٹ کاٹتے ہوئے طاہر نے سر جھکایا اور اثبات میں ہلا دیا۔
"اسی لئے تو میں تجھے پگلا اور اسے پگلی کہتا ہوں جو دن رات تیری پوجا کرتی ہے۔  پگلا ہونے میں بڑا فائدہ ہے۔  سیانا ہو جائے ناں بندہ تو اس کے ہر ہر فعل کی جانچ ہوتی ہے۔  اس کا امتحان لیا جاتا ہے جیسے حافظ عبداللہ کا لیا گیا۔  اسے تو اس کی پگلی نے بچا لیا۔  تو بول۔  تیرے پاس کوئی پگلی ہے جو تجھے بچا لے؟"
جواب میں طاہر درویش کو درد بھری نظروں سے دیکھ کر رہ گیا۔  اس کے پاس درویش کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
" ہے۔  تیرے لئے ہونی تو سیانی چاہئے تھی مگر اس کے رنگ نیارے ہیں۔  اس نے تجھ جیسے پگلے کو سیانی نہیں دی، پگلی ہی دی۔  وہ جو تیرے گھر میں پڑی ہے ناں۔  تیرے جیسی ہی پگلی ہے۔  پگلا اور پگلی۔  دونوں کو سمجھانے کے لئے میری جان عذاب میں آئی ہوئی ہے۔  اسے تو کیا سمجھاؤں گا، تو ہی اکیلا کافی ہے میرے لئے۔ " وہ بگڑ گیا۔
"بابا۔ " طاہر نے لجاجت سے کہتے ہوئے اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ دئیے۔
"دیکھ۔  " درویش نرم پڑ گیا۔  " دیکھ پگلی۔  سیانے جو ہوتے ہیں ناں۔  انہیں سب معلوم ہو جاتا ہے اور یہ پھنس جاتے ہیں۔  جو جتنا سبق یاد کرتا ہے اسے اتنا ہی قابل سمجھا جاتا ہے۔  اور جو جتنا قابل ہوتا ہے اسے اتنی ہی بڑی ذمے داری نبھانا پڑتی ہے۔ پھر ان سیانوں کی کمر دوہری ہو جاتی ہے ذمے داری کے بوجھ سے۔  آزمائش اور امتحان کے کانٹوں بھرے طویل راستے پر احتیاط کا دامن پھٹنے نہ پائی، یہ احساس انہیں اس اکیلے کی طرح تنہا کر دیتا ہے جس کا عشق ان کے لئے سوہانِ روح بن جاتا ہے۔ پھر بھی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کب ان کا نتیجہ فیل ہونے کی صورت میں نکل آئے۔  اس کے مقابلے میں تجھ جیسے پگلے بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں۔  اتنا ہی جانتے ہیں جس سے گزارا ہو جائے۔  بس خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ سر جھکائے عشق کے سفر پر چل دیتے ہیں۔  دنیا بھی نبھ جاتی ہے اور مقصود بھی ہاتھ آ جاتا ہے۔ جہاں غلطی ہو جائے، کوتا ہے ہو جائے، وہاں معافی بھی مل جاتی ہے، پگلا ہونے کا یہ سب سے بڑا فائدہ ہے۔ جبکہ سیانا بیچارہ معافی کے لفظ سے ہی نا آشنا ہو جاتا ہے۔
مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا "
کہہ کر درویش قلقاری مار کر ہنسا۔  طاہر اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے اس کی ہر ہر بات ایک نیا بھید، ایک نیا راز آشکار کر رہی ہو اور اسے سمجھ نہ آ رہی ہو کہ وہ ان رازوں کو ان بھیدوں کو کہاں سنبھال کر رکھے کہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔
"اسی لئے کہا تھا میں نے کہ اس پگلی کو چھوڑنے کا خیال بھی کبھی دل میں مت لانا۔ اس پر، اپنے جذبے پر شک کر تو صرف اس لئے کہ تو اسے جی جان سے چاہتا ہے۔  اسے کھو دینے کا ڈر اس کے ساتھ کسی کا بھی نام آتا دیکھنا نہیں چاہتا، یہ اچھا ہے۔  اس طرح تیرا اس سے عشق کا تعلق "دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی "جیسا ہو جائے گا۔۔۔  مگر کبھی اس پر شبہ نہ کرنا۔  شک اور شُبے میں یہی بنیادی فرق ہے پگلی۔  عشق میں شک جائز بھی ہے اور ضروری بھی، اگر کھوٹ درمیان میں نہ آئے اور شُبہ۔۔۔  الامان الحفیظ۔۔۔  " درویش نے کانوں کو لووں کو چھوتے ہوئے کہا۔  "عشق میں شُبہ در آئے تو پاک دامن بیوی بیسوا نظر آتی ہے۔  بستر کی شکنوں میں کسی باہر والے کا جسم لپٹا دکھائی دیتا ہے۔  اس کا بناؤ سنگھار کسی دوسرے کے لئے لگتا ہے۔  کاجل کی دھار، گناہ آلود راتوں کی طرح خیالات پر بال کھولے بین کرنے لگتی ہے۔  شُبے سے ہمیشہ بچنا۔  اسے کبھی دل میں جگہ نہ دینا۔ پھر تو بچا رہے گا برباد ہونے سی۔  "
" آپ روشن ضمیر ہیں بابا۔ " طاہر کے حواس لوٹ رہے تھے۔  " آپ جانتے ہیں میں نے صفیہ کو کبھی شبے کی نظر سے نہیں دیکھا۔  جو پھانس تھی وہ کسی حد تک نکال دی ہے آپ نے۔ "
"یعنی ابھی اس کی ٹیس کچھ باقی ہے دل میں ؟" درویش نے بھویں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
"بس اتنی سی بابا کہ اگر کبھی سرمد لوٹ آیا تو۔۔۔ ؟" اس نے سر جھکا لیا۔
"تو۔۔۔ " درویش نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ " تو کیا ہو گا؟"
"یہی تو میری سمجھ میں نہیں آتا بابا۔ " وہ اسی طرح بیٹھے ہوئے بولا۔ "تب کیا ہو گا؟"
"تب کیا ہو گا، یہ تو میں نہیں بتا سکتا تجھی۔  اجازت نہیں ہے مجھے۔۔۔  مگر ایک بات تجھے ابھی سمجھا سکتا ہوں میں۔ "
طاہر نے نظریں اٹھائیں۔  درویش اسے بڑی سرد نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
"ایک پارسا تھا۔ ، اس نے کہنا شروع کیا۔  " اس کے گھر سے کھانا آتا تو وہ سالن میں پانی ملا کر کھایا کرتا تھا۔  کسی نے سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ میں کھانے کی لذت ختم کر کے کھاتا ہوں تاکہ میرا نفس مزہ لینے کی عیاشی نہ کر سکے اور میں اس کے بہکاوے میں نہ آ جاؤں۔ میں نے سنا تو اتنے بڑے بڑے پھکڑ تولے میں نے۔  اسے گالیاں دیں میں نے۔  جانتا ہے کیوں ؟ "
درویش نے انگلی اس کی جانب اٹھائی اور اس کے جواب کا انتظار کئے بغیر کہا۔
"اس لئے کہ وہ میرے مالک کی نعمت کا کفران کر رہا تھا۔ میں نے کہا ارے بھڑوے۔  اگر لذت نہ دے کر نفس کو مارنا چاہتا ہے تو کھانا ہی پھیکا، بدمزہ اور بے لذت کیوں نہیں پکواتا۔  میرا رب تجھے اچھی نعمت دے رہا ہے اور تو اس میں خرابی پیدا کر کے کھاتا ہے۔  اس کی دی ہوئی چیز میں اپنی طرف سے مین میخ نکال کر، خود کو پارسا ظاہر کر رہا ہے تاکہ لوگ تجھے نیکو کار سمجھیں یا کم از کم تیرا نفس تجھے اس بھول میں رکھے کہ تو بڑا اچھا کام کر رہا ہے۔  اس سے تیرا رب تجھ سے راضی ہو گا لیکن اگر رب نے پوچھ لیا کہ پاگل کے بچے۔  میں نے تجھے ایک نعمت دی کہ تو اس سے بہرہ ور ہو۔  اس سے لطف اٹھائے اور میرا شکر ادا کرے مگر تو نے اسے بد ہیئت اور بدمزہ کیوں کیا؟ تو تیرے پاس اس کا کیا جواب ہو گا؟ تلا جائے گا یا نہیں اس وقت؟ تو بھی اس پارسا کی طرح اللہ کی بخشی ہوئی نعمت کو آنے والے، نادیدہ، مستقبل کی دھند میں لپٹے وقت کا پانی ڈال کر بد مزہ کرنے کا گناہ کر رہا ہے۔  یہ ریا کاری ہے میرے بچے۔  اللہ نے تجھے پاکیزہ لباس عطا کیا ہے، اسے وہم کا پیوند نہ لگا۔  اسے چوم چاٹ کر پہن۔  اسے کھونٹی پر ٹانگے رکھے گا تو وہ بوسیدہ ہو جائے گا۔  اس پر بے توجہی کا غبار جم جائے گا۔  گزرتے وقت کی ٹڈیاں اسے جگہ جگہ سے کتر ڈالیں گی۔  اور جب تجھے اس لباس کی اہمیت کا اندازہ ہو گا تب تک وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ تو اسے پہن سکے۔  پھر تجھ سے کفرانِ نعمت کا حساب لیا جائے گا۔  دے سکے گا تواس کا حساب؟ سیانا نہ بن۔  پگلا بنا رہ۔  کوتا ہے اور غلطی کی معافی مانگ کر لوٹ جا اپنی پگلی کے پاس۔  اسے پہن لے جا کر۔  اسے بوسیدہ ہونے سے پہلے پہن لے۔  ایسے پاکیزہ لباس کسی کسی کو نصیب ہوتے ہیں۔ "
درویش خاموش ہو گیا۔
طاہر کے اندر آندھیاں سی چل رہی تھیں۔  اسے عشق کے عین نے چھو لیا تھا کہ صفیہ اسے کس بلندی پر رکھ کر دیکھتی ہے۔ عشق کے شین کا فہم عطا ہو گیا تھا۔  ادراک ہو گیا تھا اسے کہ اس کا عشق صفیہ کے لئے کس مقام پر پہنچا ہوا تھا۔  صفیہ کے بارے میں تو وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے لئے کیا جذبات رکھتی ہے مگر آج اسے اپنے بارے میں جو احساس ہوا تھا اس نے اس کے لئے ایک نئے جہان کے در وَا کر دیے تھی۔  خودشناسی کے در کھلے تو اسے پتہ چلا کہ عشق ہوتا کیا ہے؟ عشق کا عین اور شین اس پر ادراک کے نئے نئے عالم آشکار کر رہے تھے۔
"کیا سوچ رہا ہے؟ ابھی کوئی الجھن باقی ہے کیا؟" درویش نے اس کی بدلتی ہوئی حالت دیکھ کر آہستہ سے پوچھا۔
"نہیں بابا۔ " اس کے لبوں سے سرگوشی آزاد ہوئی۔ "اب کوئی الجھن نہیں۔۔۔  بس ایک خواہش چٹکیاں لے رہی ہے۔ "
"خواہش۔۔۔ ؟" درویش نے اسے غور سے دیکھا۔
"ہاں بابا۔  " طاہر نے دونوں ہاتھوں میں اس کا ہاتھ تھام لیا۔ " عشق کا عین اور شین تو آپ نے سمجھا دئیے۔  عشق کا قاف ابھی باقی ہے۔ "
"توبہ کر توبہ۔ " درویش نے تڑپ کر ہاتھ کھینچ لیا۔  ایک دم وہ خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزنے لگا تھا۔  چہرے پر زردی کھنڈ گئی اور آواز ایسی پست ہو گئی جیسے کسی کنویں سے آ رہی ہو۔
"بابا۔۔۔ " طاہر نے کہنا چاہا۔
"سبق یاد ہو گیا تو چھٹی نہیں ملے گی۔  باز آ جا۔ اس بھیدکو بھید ہی رہنے دے۔ " درویش کانپے جا رہا تھا۔
"نہیں بابا۔ " طاہر پر ضد سی سوار ہو گئی۔ "میں اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کے بارے میں مکمل طور پر نہ جان سکوں ، یہ بات مجھے چین سے مرنے بھی نہ دے گی۔ "
"مکمل طور پر جاننا میرے تیرے لئے ممکن نہیں ہے پگلے۔ " درویش نے اٹھ جانا چاہا۔  "ضد نہ کر۔ "
"میں ضد کہاں کر رہا ہوں بابا۔ " طاہر بھی اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔  "میں تو عرض کر رہا ہوں۔ "
"مت بہکا مجھے۔ " درویش نے اسے جھڑک دیا۔  " یوں چاپلوسی کرے گا تو میں پھسل جاؤں گا۔  چُپ ہو جا۔  "
"بابا۔ " طاہر نے اس کا راستہ روک لیا۔  "اگر آپ نہیں بتائیں گے تو میں گھر نہیں جاؤں گا۔ "
"تو نہ جا۔ " وہ بھڑک گیا۔  "میرے باپ کے سر پر کیا احسان کرے گا جا کر۔  پوچھ تجھ سے ہو گی۔  جواب دینا پھر اسے۔ " اس نے کمرے سے باہر قدم رکھا۔  " میں تو کہہ دوں گا کہ میں نے اسے سمجھا دیا تھا۔  اب یہ جان بوجھ کر کفرانِ نعمت کرے تو اس میں میرا کیا قصور؟"
"میں بھی کہہ دوں گا کہ آپ نے مجھے آدھی بات بتا کر ٹال دیا تھا۔ "
"کیا۔۔۔ کیا۔۔ ؟" درویش نے کچی زمین پر اتر کر قدم روک لئے۔ "میں نے تجھے آدھی بات بتائی۔  یہ کہا تو نے؟" وہ غصے سے بولا۔
"ہاں تو اور کیا؟" طاہر بچوں کی طرح مچلا۔  " عشق کا تیسرا حرف کہاں سمجھایا آپ نے مجھے؟"
"تو سہہ نہیں پائے گا۔ " ایک دم وہ طاہر کو جیسے بہلانے پر آ گیا۔  " ہر چیز کا ایک وزن ہوتا ہے پگلے۔  تو اٹھا نہیں سکے گا اس بوجھ کو۔"
"تو کیا ہو گا؟" طاہر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ " زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ میں اس بوجھ تلے دب کر مر جاؤں گا۔  یہ منظور ہے مجھے مگر ۔۔۔  نہ جاننے کا ناسور دل میں پال کر میں زندہ نہیں رہنا چاہتا بابا۔ "
"تو پگلا کم اور سیانا زیادہ ہے۔  " درویش نے ایک آہ بھر کر آسمان کی طرف دیکھا جہاں چاند مسکرا رہا تھا۔  چاروں طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔  بابا شاہ مقیم کا مزار کسی بھید کی طرح ان کے سامنے بُکل مارے کھڑا تھا۔
" آپ جو بھی سمجھیں بابا۔ " طاہر نے امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
"ٹھیک ہے۔ " کچھ دیر بعد درویش نے آسمان سے نظریں ہٹائیں اور طاہر کی طرف دیکھ کر پھر ایک سرد آہ بھری۔ " میں تجھے عشق کے قاف سے بھی ملا دوں گا مگر ۔۔۔ " اس نے رک کر طاہر کی جانب ہاتھ کھڑا کیا۔ "ابھی نہیں۔ "
"ابھی کیوں نہیں بابا؟" طاہر جلدی سے بولا۔
"ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے پگلے۔ " درویش پھر جھلا گیا۔  "یہ امکانات کی دنیا ہے۔  مجھے یہ بھید تجھ پر کھولنے کا جب حکم ہو گا تو اس کے اسباب پہلے پیدا ہوں گے۔  اس کی تمثیل جنم لے گی۔  تیرے سامنے عین اور شین کی مثالیں موجود ہیں ناں۔  اسی لئے تجھے انہیں سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔  اب اس تیسرے بھید کے لئے بھی کچھ تو ایسا ہو جو تجھ پر فہم اور ادراک کے دروازے کھول سکی۔  جب بھی ایسا ہو گا۔  جب بھی مجھے حکم ہو گا، میں تجھے ضرور آگاہ کر دوں گا۔۔۔  یہ میرا وعدہ ہے تجھ سے۔ "
"ٹھیک ہے بابا۔ " کچھ دیر تک اس کی آنکھوں میں کھوئے رہنے کے بعد طاہر نے دھیرے سے کہا۔  "میں انتظار کروں گا۔ "
"بے صبرا نہ ہو۔  میں نے کہا ناں۔  وقت آنے پر تجھے ضرور بتاؤں گا۔  اب تو جا۔  رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو گئی ہے۔  کہیں وہ پگلی تیری تلاش میں نہ نکل پڑے۔ " درویش نے اس کے کندھے پر تھپکی دی۔
"اچھا بابا۔ " طاہر نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔  "میری گستاخی معاف کیجئے گا۔ "
"پگلا ہے تو۔ " درویش ہنس پڑا۔  "گستاخی کیسی؟ یہ تو تیرے نصیب کی بات ہے۔  اگر اس میں لکھا ہے کہ تو مکتبِ عشق میں داخلہ لے لے تو میں کون ہوتا ہوں تجھے روکنے یا چھٹی دینے والا۔ "
طاہر نے درویش کا دایاں ہاتھ تھاما۔  دل سے لگایا۔  ماتھے سے چھوا اور آہستہ سے چھوڑ دیا۔  پھر الٹے پاؤں اپنی گاڑی تک آیا۔  دروازہ کھول کر اندر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
درویش اسے وہیں کھڑا تب تک دیکھتا اور دایاں ہاتھ ہلاتا رہا جب تک اس کی گاڑی وجاہت آباد جانے والے راستے پر نہ مڑ گئی۔  پھر وہ آہستہ سے پلٹا اور مزار کی طرف چل پڑا۔
"عشق کا قاف۔  عشق کا قاف۔  پگلا ہے بالکل۔  " بڑبڑاتے ہوئے اچانک رک کر ایک دم اس نے مزار کی جانب نظر اٹھائی۔
"خود آرام سے تماشا دیکھتے رہتے ہو۔  ساری مصیبت میری جان پر ڈال دی ہے۔ " وہ جیسے بابا شاہ مقیم سے لڑنے لگا۔  "اسے یہاں رکنے ہی کیوں دیا تھا؟ آیا تھا تو اس کا رخ گھر کی طرف کر کے روانہ کر دیتے۔  مگر نہیں۔  تم ایسا کیوں کرو گے۔ تمہیں تو مزا آتا ہے مجھے تنگ کر کے۔ " اس نے پاؤں پٹخ کر کہا۔ پھر اس کی آواز بھرا گئی۔  "پگلا ہے وہ۔  بچوں کی طرح ضد کرتا ہے مجھ سے۔  کہتا ہے وہ اس سے کہہ دے گا کہ میں نے اسے پوری بات نہیں بتائی۔۔۔  پوری بات۔۔۔  " ایک دم وہ جیسے روتے روتے ہنس پڑا۔  "پوری بات جاننا چاہتا ہے۔۔۔  پوری بات۔ " اس کے حلق سے قہقہہ ابلا اور وہ ہنستے ہنستے بے حال ہو گیا۔ " پوری بات۔۔۔ "وہ کچی زمین پر گر پڑا۔  "پوری بات۔۔۔  دم نکل جائے گا اس پگلے کا پوری بات جان کر۔ "
وہ یوں خاک میں لوٹ پوٹ ہو رہا تھا جیسے پھولوں کے بستر پر مچل رہا ہو۔  رات کی تنہائی اس کی آواز سے گونج رہی تھی۔  سناٹا کان لگائے اسے سن رہا تھا۔  ہوا نے اپنے قدم آہستہ کر لئے کہ اس کی بات میں مخل نہ ہو۔  چاندنی اس کے گرد ہالہ بنائے ہاتھ باندھے دم بخود کھڑی تھی۔  ستاروں نے پلکیں جھپکنا چھوڑ کر دیا تھا اور چاند یوں ساکت ہو گیا تھا جیسے اپنا سفر بھول کر اس کے لبوں سے کسی انہونی واردات کا قصہ سننا چاہتا ہو۔
"پوری بات۔۔۔  عشق کا قاف۔۔۔۔  عشق کا قاف۔۔۔  " درویش بڑبڑا رہا تھا۔  مچل رہا تھا۔  ہنس رہا تھا۔  رو رہا تھا۔  ایک سیانا، پگلا ہو گیا تھا۔
*  *


صبح صادق طلوع ہو رہی تھی جب طاہر نے گاڑی حویلی کے پورچ میں روکی۔  گیٹ کھولنے والا ملازم گیٹ بند کر کے مڑا تو طاہر گاڑی سے اتر رہا تھا۔  ملازم اس کے پھٹے ہوئے کرتے اور مٹی میں اٹے جسم کو دیکھ کر حیران ہوا۔  پھر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، مردانے سے ملک بلال نے باہر قدم رکھا۔
"چھوٹے مالک۔  کیا ہوا؟ " وہ گھبرا کر اس کے قریب چلا آیا۔
"کچھ نہیں۔ " طاہر نے مختصر سا جواب دیا اور اندر کو چلا۔
"مگر یہ۔۔۔ " ملک نے اس کے کپڑوں کی جانب حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔  "کیا کسی سے جھگڑا ہو گیا؟"
"نہیں۔ " طاہر اس کے قریب سے گزر گیا۔
" آپ آ کہاں سے رہے ہیں چھوٹے مالک؟" سارے لوگ آپ کے انتظار میں جاگ رہے ہیں۔  مالکن اس قدر پریشان ہیں کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔  آپ تو بابا شاہ مقیم کا کہہ کر گئے تھے۔۔۔ "
"میں وہیں سے آ رہا ہوں۔ " طاہر نے قدم برآمدے میں رکھا۔
"تو ساری رات آپ وہیں تھی؟" ملک کی حیرت دوچند ہو گئی۔
"ہاں۔۔۔  اور اب بس۔ " طاہر، ہال کمرے کے دروازے پر رکا۔ پلٹا اور ملک کی آنکھوں میں اس انداز سے دیکھا کہ ملک کو مزید کچھ کہنے کا یارا، نہ رہا۔  "اور کوئی سوال نہیں۔  تم نے جو دیکھا، سمجھو، نہیں دیکھا۔  سب کو سمجھا دو۔ دن میں ڈیرے پر ملاقات ہو گی۔ " وہ اندر داخل ہو گیا۔
ملک خاموش، منہ پھاڑے کھڑا رہ گیا۔  اس کے ذہن میں بے شمار سوال مچل رہے تھے مگر اسے زبان بندی کا حکم دے کر طاہر جا چکا تھا۔ اسی وقت وہ ملازم تیز تیز قدموں سے اس کے پاس چلا آیا جس نے گیٹ کھولا تھا۔
"ملک صیب۔ " وہ سرگوشی کے لہجے میں بولا۔  "کیا ہوا۔  چھوٹے مالک کا کسی سے جھگڑا ہو گیا کیا؟"
" آں۔۔۔ " ملک چونکا۔  اس کی نظر ملازم پر پڑی تو جیسے ہوش میں آ گیا۔  "کیا کہا تو نے؟"
ملازم نے اپنی بات دہرائی تو ملک ایک دو لمحے اس کی جانب خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا، پھر اس کی تیوریوں پر بل پڑ گئے۔
"گیٹ تو نے کھولا تھا؟" ملک کا لہجہ سخت پا کر ملازم گھبرا گیا۔
"ج۔۔ جی ہاں ملک صیب۔ " وہ ہکلایا۔
"اور کس نے چھوٹے مالک کو اس حال میں دیکھا ہے؟"
"کسی نے نہیں جی ملک صیب۔  باقی ملازم ڈیرے پر ہیں۔ "
"تو بس۔ " ملک نے ہاتھ اٹھا کر تحکم سے کہا۔  "چھوٹے مالک کو تو نے بھی نہیں دیکھا کہ وہ کس حال میں لوٹے ہیں۔  سمجھ گیا۔ "
"سمجھ گیا جی۔  بالکل سمجھ گیا۔ " ملازم نے زور زور سے سر ہلایا۔
"زبان کو گانٹھ دے کر رکھنا۔  مجھے بات دہرانی نہ پڑے۔ " کہہ کر ملک اندر جانے کے لئے پلٹا۔
"جی ملک صیب۔  " ملازم کا رنگ بدل گیا۔  ملک اس کی دگرگوں حالت کو نظر انداز کرتا ہوا ہال میں داخل ہو گیا، جہاں اس کی توقع کے مطابق طاہر موجود نہیں تھا۔  وہ زنان خانے میں جا چکا تھا۔
٭
"میرے مالک۔ ان کو اپنی امان میں رکھنا۔  انہیں ہر بلا سے محفوظ فرمانا۔  مجھے ان کا کوئی دُکھ نہ دکھانا۔  میرے معبود۔ انہیں حفاظت کے ساتھ گھر لے آ۔  ان کی آئی مجھے آ جائے۔  ان کی بلا مجھ پر پڑے۔  انہیں کچھ نہ ہو میرے مالک۔  انہیں کچھ نہ ہو۔  تجھے تیرے حبیب کا واسطہ۔  مجھے میرے حبیب سے خیر و عافیت کے ساتھ ملانا۔ "
سجدے میں پڑی صفیہ زار زار روئے جا رہی تھی۔  اس کی آواز ہچکیوں میں ڈوبی ٹوٹ ٹوٹ کر ابھر رہی تھی۔  اسے یوں بلکتا دیکھ کر دروازے میں کھڑا طاہر بے کل سا ہو گیا۔
کاریڈور میں قدم رکھا تو اس کی حالت پر حیرت زدہ فہمیدہ نے سلام کر کے کمرے کی طرف دوڑ لگانا چاہی۔  شاید وہ صفیہ کو طاہر کے آنے کی خبر سناناچاہتی تھی مگر طاہر نے اسے روک دیا۔  اسے خاموشی سے چلے جانے کا کہہ کر وہ کمرے کی جانب بڑھا اور آہستہ سے کھلے دروازے میں آ کھڑا ہوا۔  شاید وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کی گم خبری پر صفیہ کا کیا حال ہے؟اور اب اسے یوں تڑپتا پاکر اس کا دل ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا۔
"صفو۔۔۔ "
 آواز تھی یا نوید حیات۔  صفیہ کا خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپتا جسم ایک دم ساکت ہو گیا۔  ایک پل کو اسے لگا کہ یہ اس کی سماعت کا دھوکا ہے مگر دوسرے ہی پل اس نے سر سجدے سے اٹھایا اور دروازے کی جانب دیکھا۔
"طاہر۔۔۔ " شبنم میں دھلتا ہوا اس کا چہرہ دودھ کی طرح سفید ہو رہا تھا۔  اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔  دروازے میں کھڑے طاہر کی حالت دیکھ کر وہ سُن ہو گئی۔
"صفو۔۔۔ " طاہر کے بازو وَا ہوئے۔
اب شبے کی گنجائش کہاں تھی؟
"طاہر۔۔۔ " وہ تڑپ کر جائے نماز سے اٹھی اور بھاگتی ہوئی اس کے سینے سے آ لگی۔  "طاہر۔۔۔  طاہر۔۔۔ " وہ اس سے لپٹی سسک رہی تھی۔  "یہ آپ کو کیا ہوا؟ کہاں تھے آپ اب تک؟ کہاں تھے؟"
"شش۔۔۔ " طاہر نے اسے باہوں کے گھیرے میں لے کر بھینچ لیا۔  "خاموش ہو جاؤ صفو۔  کچھ مت کہو۔  کچھ مت کہو۔ " اس کی زلفوں میں چہرہ چھپا کر طاہر نے سرگوشی کی۔
بچوں کی طرح ہچکیاں لیتی ہوئی صفیہ نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر لئے اور یوں لپٹ گئی جیسے جدا ہونا اس کے لئے ممکن نہ رہا ہو۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔
پھر طاہر نے اسے آہستہ سے اپنے آپ سے الگ کیا۔ دوسرے ہی لمحے وہ اس کی باہوں میں جھول گئی۔  وہ غش کھا گئی تھی۔
"صفو۔۔۔ " طاہر گھبرا گیا۔ اسے ہاتھوں پر اٹھا کر بستر پر ڈالا۔  کمبل اوڑھایا اور بیڈ کی پٹی پر بیٹھ کر اس کے چہرے کو والہانہ دیکھنے لگا، جو یوں پُرسکون تھا جیسے پریاں اس پر کہانیوں کے رنگ لے کر اتر رہی ہوں۔ چہرے کی سفیدی، سرخی میں بدلتے پا کر اسے کچھ حوصلہ ہوا۔  اس نے چاہا کہ فہمیدہ کو آواز دے۔  پھر نجانے کیوں اس کا جی چاہا کہ بس ایک ٹک صفیہ کو دیکھتا رہے۔  کسی بھی تیسرے کا اس وقت وہاں آنے کا خیال اسے اچھا نہ لگا۔  آنسوؤں نے صفیہ کا چہرے شبنم دھلے گلاب کا سا کر دیا تھا۔  بے اختیار وہ جھکا اور صفیہ کے رخسار پر ہونٹ رکھ دئیے۔
یکبارگی صفیہ کا سارا جسم لرز گیا۔  اس نے ہولے سے حرکت کی۔
"طاہر۔۔۔ " ہونٹ لرزے تو آہ نکلی۔
"صفو۔۔۔ " طاہر نے اس کے ہاتھ تھام لئے جو برف کی طرح سرد ہو رہے تھے۔
"طاہر۔۔۔ " آہستہ سے پلکوں کو حرکت ہوئی۔
"صفو میری جان۔۔۔ " طاہر نے اس کے ہاتھ ہونٹوں سے لگا لئے۔
"طاہر۔۔۔ " پلکیں وَا ہوئیں تو آنکھوں کے گوشوں سے آنسو ڈھلک پڑے۔
"بس۔۔۔ " طاہر نے ہونٹوں سے وہ شفاف موتی چُن لئے۔  " بس۔  اب نہیں۔  کبھی نہیں۔ " اس نے گڑیا سی صفیہ کو کمر میں ہاتھ ڈال کر اٹھایا اور سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔  پھر پاگلوں کی طرح اسے چومنے لگا۔ اس کی دیوانگی صفیہ کو رُلا رہی تھی۔  کھلا رہی تھی۔  بتا رہی تھی کہ اس کا صبر رنگ لے آیا ہے۔ اس کا طاہر لوٹ آیا ہے۔  وہ اس کے بازوؤں میں بے خود سی پڑی اس دیوانگی کو سینت سینت کر دل کے نہاں خانے میں رکھتی رہی۔ سنبھالتی رہی۔  یہ وہ لمحے تھے جن کا وہ کب سے انتظار کر رہی تھی۔ بہار کے یہ پل جو اس کے لئے خواب ہو چکے تھے، خزاں ختم ہو جانے کی نوید لے کر لوٹے تو وہ سر تا پا گلاب ہو گئی۔ ایسا گلاب، جس کی شبنم قطرہ قطرہ، طاہر کا غبار دھو رہی تھی۔  یقین اور اعتماد کا غسل دے رہی تھی۔
عشق کا عین، عشق کے شین کا ہاتھ تھامے اپنی پوری وضاحتوں کے ساتھ طاہر پر نازل ہو رہا تھا۔
٭
غسل کر کے طاہر باتھ روم سے نکلا تو صفیہ میز پر ناشتہ سجا چکی تھی۔
"جلدی آ جائیے۔  ایک دم بھوک حملہ آور ہو گئی ہے۔ " وہ اس کے لئے کرسی سرکاتے ہوئے بولی اور گردن گھما کر اس کی طرف دیکھا۔
"طاہر۔۔۔ " اس کے لبوں پر ایک لفظ مچلا اور وہ مسحور و حیراں اسے تکتی رہ گئی۔  سفید شلوار کرتے میں دھلا دھلایا طاہر اس کے سامنے کھڑا تھا۔  مگر نہیں۔  یہ وہ طاہر تو نہیں تھا جو کل تک اس کے سامنے رہتا تھا۔  یہ تو کوئی اور تھا۔  ایک عجیب سا نورانی ہالہ جس کے چہرے کو چوم رہا تھا۔  ایک ناقابلِ برداشت چمک جس کی آنکھوں میں لو دے رہی تھی۔  ایک ملکوتی مسکراہٹ جس کے لبوں پر مہک رہی تھی۔  اسے لگا جیسے طاہر اس کے سامنے نہیں ، بہت بلندی پر، بہت اونچی جگہ پر کھڑا اسے دیکھ رہا ہو۔  ایسی بلندی، جس کا اسے ادراک تو ہو رہا تھا، مگر جسے وہ کسی اور کو سمجھا نہ سکتی تھی۔  یہ سب کیا تھا؟ کیسے ہوا؟ کب ہوا؟ اس کا ذہن ریشمی تاروں میں الجھ کر رہ گیا۔
"کیا دیکھ رہی ہو؟" طاہر اپنی جگہ سے اس کی طرف چل پڑا۔
"کچھ نہیں۔ " وہ گڑبڑا سی گئی۔  گھبرا کر نظریں اس کے چہرے سے ہٹا لیں۔  اسے محسوس ہوا کہ اگر وہ مزید چند لمحے اسے یونہی دیکھتی رہی تو طاہر کو نظر لگ جائے گی۔  کرسی کی پشت پر ہاتھ ٹکا کر اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ایک گہرا سانس لیا۔  جیسے وہ طاہر کی اس شبیہ کو اپنے دل میں ، اپنی سانسوں میں ، اپنی روح میں اتار لینا چاہتی ہو۔
تینوں ویکھیاں صبر نہ آوی
وے چناں تیرا گھُٹ بھر لاں
اس کے اندر سے ایک صدا ابھری اور سارے وجود پر سرور بن کر چھا گئی۔
"کہاں کھو گئیں ؟" طاہر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
"یہیں ہوں۔  آپ کے قدموں میں۔ " وہ نشے میں ڈوبی آواز میں بولی اور اس کے سینے میں سما گئی۔
"میری طرف دیکھو۔ " طاہر نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھا۔
" نہیں۔ " صفیہ نے مچل کر کہا اور اس سے الگ ہو تے ہوئے چہرہ پھیر لیا۔
"کیوں ؟" طاہر ہولے سے ہنسا۔
"نظر لگ جائے گی آپ کو۔ " صفیہ نے اس کی جانب دیکھنے سے گریز کیا۔
"تمہاری نظر۔۔۔ " طاہر نے مسکراتے ہوئے حیرت سے کہا۔  " اور مجھے لگ جائے گی؟" وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے صفیہ اس کے ساتھ والی نشست پر بیٹھ گئی۔ " اور اب بس۔  خاموشی سے ناشتہ کیجئے۔ "
"جو حکم سرکار کا۔ " طاہر نے سر خم کیا اور دونوں ناشتے میں مصروف ہو گئے۔
ناشتہ واقعی خاموشی سے کیا گیا۔  پھر فہمیدہ آئی اور برتن لے گئی۔
صفیہ نے اس کے پیروں سے چپل نکالی اور اسے بستر میں گھس جانے کا اشارہ کیا۔  اس نے کوئی ہچر مچر نہ کی۔  صفیہ نے کمبل اسے خوب اچھی طرح اوڑھایا اور خود اس کے پاس پیروں کی جانب بیٹھ گئی۔
"میں جانتی ہوں آپ تھکے ہوئے ہیں اور اس وقت آپ کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز نیند ہے لیکن میرا ضبط اور صبر اب ختم ہو رہا ہے۔  مجھے بتائیے کہ کل کا سارا دن اور آج رات آپ کہاں رہے؟ جس حالت میں آپ لوٹے، وہ کوئی اچھی خبر نہ دے رہی تھی۔ مجھے ایک ایک بات بتائیے۔ "
"ایک ایک بات۔ " طاہر نے کہا اور اس کی جانب بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
"کیوں ؟ بتانے کی بات نہیں ہے کیا؟" صفیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھنا چاہا۔  پھر نظر ہٹا لی۔  ان بلور آنکھوں کی چمک اس سے سہی نہ گئی۔
"نہیں۔  ایسی کوئی بات نہیں جو میں تم سے چھپاؤں۔ مگر صفو۔۔۔ "وہ ایک پل کو رکا۔  سر جھکا کر آنکھیں بند کر لیں۔  پھر دائیں ہاتھ سے ماتھا سہلانے لگا۔
چند لمحے خاموشی کی نذر ہو گئے تو صفو نے زبان کھولی۔
"کیا سوچ رہے ہیں ؟"
"سوچ رہا ہوں۔ " طاہر نے ایک گہرا سانس لیا اور ہاتھ ماتھے سے ہٹا لیا۔  " تمہیں کیا بتاؤں ؟ کیسے بتاؤں ؟ میں تو خود نہیں جانتا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے؟ بس یوں لگتا ہے کہ میں کسی خواب میں گم ہو گیا تھا۔  جاگا ہوں تو سب کچھ یاد ہے مگر اسے بیان کرنا میرے لئے اتنا ہی مشکل ہے صفو، جتنا کسی کو یہ بتانا کہ ہم جس کی عبادت کرتے ہیں وہ کیسا ہے؟کہاں نہیں ہے؟"
"مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ " صفیہ نے اسے حیرت سے دیکھا۔  " آپ کل گھر سے بابا شاہ مقیم کے مزار پر گئے تھی۔  یہ کہہ کر کہ شام تک لوٹ آئیں گے۔  شام گئی۔  رات ہوئی۔  جب آدھی رات نے دم توڑا تو میرا حال برا ہو گیا۔  آپ کا موبائل بھی یہیں تھا۔  ملک نے بتایا کہ آپ سختی سے منع کر گئے ہیں کہ کوئی آپ کے پیچھے نہ آئے۔ حویلی کے سب لوگ پریشان تھی۔  سب جاگ رہے تھے۔  ملازم ڈیرے پر چلے گئے کہ جب بھی آپ لوٹے، وہ فوراً یہاں خبر کر دیں گے۔  ملک یہیں مردانے میں رک گیا۔  اس کی پریشانی میری وجہ سے دو چند ہو گئی تھی۔  جب مجھے کچھ نہ سوجھا تو میں نے مصلیٰ پکڑ لیا۔  پھر مجھے کچھ پتہ نہیں کہ کتنا وقت گزرا اور کیسے گزرا۔  آپ کے آنے سے کچھ دیر پہلے میرا بڑی شدت سے جی چاہ رہا تھا کہ میں آپ کی تلاش میں بابا شاہ مقیم کے مزار کی طرف چل پڑوں۔۔۔ "
"ہاں۔۔۔  تمہاری اس حالت کی خبر ہے مجھے۔ " طاہر نے اس کی جانب نظر اٹھائی۔
"کیسے؟" وہ حیران ہوئی۔
"اس نے بتایا تھا۔  " وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولا۔  "اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اب تو گھر چلا جا ورنہ وہ تیری تلاش میں نکل پڑے گی۔ "
"کس کی بات کر رہے ہیں آپ؟" صفیہ نے اسے گھبرا کر دیکھا۔
"درویش کی۔ " طاہر ایک گہرا سانس لے کر بولا۔  " وہ بابا شاہ مقیم کے مزار پر رہتا ہے۔  میں کل سارا دن اور آج رات اسی کے ساتھ تھا۔ "
"درویش کے ساتھ؟" صفیہ اچنبھے سے بولی۔
"ہاں۔  کل جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ مجھے حافظ عبداللہ اور سکینہ کے پاس لے گیا۔ "
"حافظ عبداللہ؟ سکینہ؟" صفیہ اور الجھ گئی۔۔۔  مگر ان دو ناموں کے ساتھ ہی جیسے بات کا سِرا طاہر کے ہاتھ آ گیا۔
"ہاں۔ " وہ نیم دراز ہو گیا۔ " میں تمہیں ان کی کہانی سناتا ہوں صفو۔  ایسی بات تم نے شاید اپنی زندگی میں کبھی نہ سنی ہو گی۔ "
پھر وہ ہولے ہولے بولتا رہا۔  کبھی اس کی آواز بھیگ جاتی تو کبھی لہجے میں تھکن اتر آتی۔  کبھی آنکھوں کے گوشے نم ہو جاتے تو کبھی چہرہ لرزہ بر اندام ہو جاتا۔ بُت بنی صفیہ، حافظ عبداللہ اور سکینہ کی داستان سنتی رہی اور ایک ایک پل، ایک ایک گھڑی میں یوں سانس لیتی رہی، یوں جیتی رہی جیسے وہ خود سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو۔
"اب وہ دونوں نور پور کی مسجد کے حجرے میں یک جان دو قالب بنے بیٹھے ہیں۔  ایک سانس لیتا ہے تو دوسرا زندہ دکھائی دیتا ہے۔  ایک کا دل دھڑکتا ہے تو دوسرے کا سینہ متحرک لگتا ہے۔  درویش کہتا ہے یہ عشق کا عین ہے جس نے ان دونوں کو اپنی باہوں میں لے لیا ہے۔  عشق کا عین جو عاشقِ صادق کی عبادت سے شروع ہوتا ہے اور عقیدت تک پھیلا ہوا ہے۔ "
طاہر خاموش ہو گیا۔
صفیہ کتنی ہی دیر ایک کیف میں ڈوبی رہی۔  اس کا سارا جسم سنسنا رہا تھا۔  اس سنسناہٹ میں ایک لذت تھی۔  ایک سرور تھا۔  ایسی باتیں اس نے پہلے کب سنی تھیں مگر یوں لگتا تھا جیسے وہ ان باتوں سے ہمیشہ سے آگاہ ہو۔  ان کا مفہوم اسے قطعاً اجنبی نہ لگا۔  طاہر نے جو کہا، ایک ایک لفظ اس کے لئے آشنا نکلا۔  اس بات پر اسے حیرت بھی تھی مگر اس سے زیادہ وہ اس لذت میں گم تھی جس نے اس کے رگ و پے میں سفر شروع کر دیا تھا۔
"ارے۔۔۔ " آہستہ سے اس نے نظر اٹھائی تو بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلا۔ " آپ رو رہے ہیں طاہر؟" آگے سرک کر وہ اس کے پہلو میں آ گئی۔
"کہاں ؟" طاہر نے دھیرے سے اپنی آنکھوں کو چھوا۔  اس کے ہاتھ نم ہو گئے تو وہ مسکرا دیا۔ " ارے واقعی۔۔۔  مگر کیوں ؟ یہ آنسو کیوں بہہ رہے ہیں ؟"
"یہ آنسو نہیں ہیں۔  موتی ہیں۔  گوہر ہیں۔  " صفیہ نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر اس کی آنکھوں سے سارے موتی، سارے گوہر چوم چوم کر چُن لئے۔
طاہر نے تھکے تھکے انداز میں آنکھیں موند لیں اور سر صفیہ کے سینے پر رکھ دیا جو اسے کسی بچے کی طرح سینے سے لگائے بیٹھ گئی۔
" یہ تو ہوئی دن کی بات۔  رات کی بات ابھی باقی ہے۔  اب وہ سنائیے۔ " وہ پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔
"رات کی بات۔۔۔ " طاہر آہستہ سے ہنسا۔  " اچھا کہا تم نے۔ رات کی بات۔ " اس نے دہرایا۔  "کہتے ہیں رات گئی بات گئی۔۔۔  مگر صفو۔  لگتا ہے جو رات میں درویش کے ساتھ گزار کر آیا ہوں ، اس کی بات تو شروع ہی اب ہوئی ہے۔  ختم کب ہو گی، کون جانے۔ "
وہ خاموش ہو گیا۔
صفیہ کچھ دیر اس کے بولنے کا انتظار کرتی رہی۔  جب خاموشی طویل ہو گئی تو اس نے آہستہ سے طاہر کے چہرے کی جانب دیکھا۔  وہ تو سکون سے سو رہا تھا۔  صفیہ اس کے چہرے کو وارفتگی سے تکتی رہی۔  جی ہی نہ بھر رہا تھا اسے دیکھ دیکھ کر۔  دھیرے سے اس نے طاہر کے ہونٹوں کا بوسہ لے لیا۔ پھر دونوں رخساروں پر پیار کیا۔  آخر میں پیشانی کو نرم ہونٹوں سے چھوا اور اسے بستر پر آرام سے لٹا یا اور بیڈ سوئچ دبا کر لائٹ آف کر دی۔  وہ طاہر کو خوب سونے دینا چاہتی تھی۔  کمبل اس پر اچھی طرح اوڑھا کر کے وہ اس کے پاؤں کی طرف سمٹ کر یوں لیٹ گئی کہ طاہر کے پاؤں اس کے بازوؤں کے حلقے میں سینے کے ساتھ بھنچے تھے اور ہونٹ تلووں کو چھُو رہے تھے۔
کمرے کے نیم اندھیرے میں سکون نے آہستہ سے آنکھ کھولی اور کسی پہرے دار کی طرح ان کی رکھوالی کرنے لگا۔
٭

جدہ ایر پورٹ پر بیگم صاحبہ اعجاز اور ڈاکٹر ہاشمی بورڈنگ کارڈ حاصل کرنے کے بعد فلائٹ کی اناؤنسمنٹ کے انتظار میں لاؤنج میں چلے آئے۔
عمرہ کے بعد انہوں نے مدینہ شریف میں پورے دو ماہ گزارے تھے۔  اب مزید قیام بڑھوانا ممکن نہ رہا تو مجبوراً بیگم صاحبہ نے واپسی کی تیاری کر لی۔  طاہر اور صفیہ کے ساتھ ساتھ وسیلہ خاتون کو بھی واپسی کی اطلاع دو دن پہلے دی جا چکی تھی۔  فلائٹ کا وقت تین بجے کا تھا۔  ابھی دو بج کر چالیس منٹ ہوئے تھے۔
بیگم صاحبہ  اعجاز اور ڈاکٹر ہاشمی آمنے سامنے گدیلے صوفوں پر بیٹھے تھے۔  بیگم صاحبہ کے ہاتھ میں تسبیح چل رہی تھی جبکہ ڈاکٹر ہاشمی ایر پورٹ کی گہما گہمی کو نظروں میں تولتے ہوئے کاؤنٹر پر انگوٹھا چلا رہے تھے۔ رہ گیا اعجاز تو وہ سوائے بتیاں دیکھنے کے اور کیا کرتا۔
"ارے۔۔۔ " ایک دم بیگم صاحبہ کے ہونٹوں سے تحیر بھری آواز نکلی۔  وہ ڈاکٹر ہاشمی کے پچھلی طرف کسی کو دیکھ رہی تھیں۔
"کیا ہوا بیگم صاحبہ؟" ڈاکٹر ہاشمی چونکے۔
"ڈاکٹر صاحب۔  یہ اپنا سرمد یہاں کیا کر رہا ہے؟" وہ جلدی سے بولیں۔
"سرمد۔۔۔  اور یہاں ؟" ڈاکٹر ہاشمی نے حیرت سے کہا اور پلٹ کر دیکھا۔  "ارے ہاں۔  یہ تو سرمد ہی ہے۔ " وہ اٹھ گئی۔  " آپ بیٹھئے۔  میں اسے لے کر آتا ہوں۔ " وہ کہہ کر تیزی سے باہر جاتے سرمد کی طرف بڑھے جو احرام باندھے خارجی دروازے کی طرف چلا جا رہا تھا۔
"سرمد۔۔۔ " انہوں نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
سر جھکائے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا سرمد رک گیا۔  بڑی آہستگی سے اس نے گردن گھمائی اور ڈاکٹر ہاشمی کی جانب دیکھا۔
ڈاکٹر ہاشمی کے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔  دونوں باپ بیٹا آمنے سامنے کھڑے تھے۔  سرمد کندھے پر سفری بیگ ڈالے بڑی سپاٹ سی نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا اور ڈاکٹر ہاشمی اس کے سُتے ہوئی، زرد اور بجھے بجھے چہرے کو حیرت سے جانچ رہے تھے۔
"ارے ابو آپ۔۔۔ " بڑی آہستگی سے سرمد کی آنکھوں میں شناسائی جاگی۔  جیسے اس نے انہیں پہچاننے میں بڑی دقت محسوس کی ہو۔
"سرمد۔ " ڈاکٹر ہاشمی اس کے کمزور سراپے کو نظروں سے کھنگالتے ہوئے بولے۔  "یہ تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے بیٹے۔  تمہاری صحت کو کیا ہوا؟" انہوں سے سرمد کو گلے لگا لیا۔
"صحت کو کیا ہوا ابو۔  اچھی بھلی تو ہے۔ " وہ پھیکی سی ہنسی ہنسا اور ان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
"خاک اچھی ہے۔  مجھے بے وقوف بنا رہے ہو۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے اسے بھینچ لیا۔  پھر اس کی گردن پر بوسہ دیتے ہوئے اسے خود سے الگ کیا۔
"مجھے کچھ نہیں ہوا ابو۔  آپ کو وہم ہو رہا ہے۔ " نم آنکھوں سے باپ کو دیکھ کر سرمد نے کہا۔  اس کا جی چاہ رہا تھا وہ ماں جیسی شفقت لٹاتے باپ کے کندھے پر سر رکھ کر خوب روئے۔  اتنا روئے کہ اندر رکا ہوا سارا غبار دھل جائے۔ جل تھل ہو جائے۔۔۔  مگر اس نے خود پر قابو پا لیا۔
" آپ عمرے سے فارغ ہو گئے اور میں کرنے جا رہا ہوں۔ " سرمد نے باپ کا ہاتھ تھام کر کہا۔
" آؤ۔  ادھر آؤ۔  بیگم صاحبہ سے ملو۔ " وہ اسے لئے ہوئے بیگم صاحبہ کے پاس چلے آئے۔  سرمد نے انہیں ادب سے سلام کیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ اعجاز کو جیسے اس نے دیکھا ہی نہ تھا۔
"ارے بیٹے۔  یہ تمہاری صحت کو کیا ہو گیا؟"بیگم صاحبہ نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔
"یہی ابو بھی کہہ رہے ہیں آنٹی۔ " وہ ہنسا۔  "مگر میں تو خود کو بالکل ٹھیک محسوس کر رہا ہوں۔ "
"ہم دونوں غلط کہہ رہے ہیں اور تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے اپنی جگہ بیٹھتے ہوئے خفگی سے کہا تو سرمد نے سر جھکا لیا۔
"چلئے ابو۔  آپ ہی ٹھیک ہیں۔ "
"تو اب سیدھے سیدھے بتا دو کہ تمہاری اس کمزوری اور خراب صحت کا سبب کیا ہے؟" ڈاکٹر ہاشمی نے تلخی سے کہا۔
"کچھ خاص نہیں ابو۔  بس بخار نے یہ حالت کر دی۔  چند دنوں میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔  واپس جاتے ہی اپنا علاج باقاعدگی سے کراؤں گا۔ "
"واپس کہاں ؟" ڈاکٹر ہاشمی نے سختی سے کہا۔ " تم عمرہ کر کے سیدھے پاکستان آؤ گے۔  رزلٹ آ چکا ہے۔  اب واپس جانا ضروری نہیں ہے۔ "
"مگر ابو۔  مجھے ساری کاغذی کارروائیاں پوری کرنا ہیں۔  اپنے رزلٹ ڈاکومنٹس وصول کرنا ہیں اور۔۔۔ "
"کچھ نہیں سنوں گا میں۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے اسی لہجے میں کہا۔  ان کا دل تڑپ رہا تھا۔  پھول جیسا بیٹا سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا۔  لگتا تھا کوئی روگ اندر ہی اندر اسے چاٹ رہا ہے۔  انہوں نے بال دھوپ میں سفید نہیں کئے تھے۔  انہیں کچھ کچھ اندازہ ہو رہا تھا کہ بات کیا ہو سکتی ہے؟مگر وہ سرمد سے بات کئے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا نہ چاہتے تھے۔  اور بات کرنے کے لئے یہ جگہ مناسب تھی نہ یہ ماحول۔
بیگم صاحبہ بھی اندر ہی اندر کسی سوچ کے گرد خیالوں کا جال بُن رہی تھیں۔  باپ بیٹے کی گفتگو میں انہوں نے کوئی دخل نہ دیا۔  تاہم اتنا تو وہ بھی سمجھ ہی سکتی تھیں کہ بخار جینے کی امنگ چھین لیتا ہے نہ زندگی کو بے رونق کر دیتا ہے۔  سرمد کی آنکھوں میں زندگی کی وہ علامت مفقود تھی جو چمک چمک کر انسان کو حالات کے سامنے سینہ سپر رکھتی ہے۔  اسے دیکھ کر تو لگتا تھا وہ جینا ہی نہیں چاہتا۔ بس کسی مجبور کی طرح سانس لے رہا ہے کہ موت آنے تک زندہ کہلا سکی۔  ان کا جی چاہا ڈاکٹر ہاشمی سے کہیں کہ سرمد کی اس حالت کا سبب ضرور کوئی جذباتی حادثہ ہے۔  طاہر کی ماں ہونے کے ناطے وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ محبت کی چوٹ سے بڑا کوئی ایسا حادثہ نہیں ہے جو انسان کو نیم جان کر دے مگر پھر انہوں نے بھی اس بات کو پاکستان پہنچنے تک کے لئے موقوف کر دیا۔
"تم عمرہ کر کے فوراً وطن پہنچو۔  اور اگر تمہارا ارادہ کسی گڑ بڑ کا ہے تو میں کچھ بھی کر کے رک جاتا ہوں۔  تمہیں ساتھ لے کر ہی جاؤں گا۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے کہا تو سرمد گھبرا گیا۔
"کیسی باتیں کر رہے ہیں ابو۔ " اس نے جلدی سے کہا۔  "میں وعدہ کرتا ہوں کہ یہاں سے لندن نہیں جاؤں گا۔  "
"لندن نہیں جاؤ گے اور پاکستان آؤ گے۔  یوں کہو۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے لفظوں پر گرفت کمزور نہ ہونے دی۔
"جی ہاں۔  ایسا ہی ہو گا۔ " وہ بیچارگی سے ہنس پڑا۔
"پیسے ویسے ہیں ؟" انہوں نے جیب سے پرس نکالا۔
"وافر ہیں ابو۔  ضرورت ہوتی تو میں خود ہی کہہ دیتا۔ " اس نے انہیں روک دیا۔
"پھر بھی یہ رکھ لو۔ " انہوں نے ویزا کارڈ پرس سے نکال کر اسے تھما دیا۔
سرمد جانتا تھا، ضد کا کوئی فائدہ نہیں۔  اس لئے اس نے خاموشی سے کارڈ، بیگ کھول کر اندر رکھ لیا۔
اسی وقت پاکستان جانے والی فلائٹ کی اناؤنسمنٹ کی جانے لگی۔
"اپنا خیال رکھنا۔ " ڈاکٹر ہاشمی کے ساتھ ہی بیگم صاحبہ اور سرمد بھی اٹھ گئے۔  انہوں نے کھینچ کر اسے پھر گلے سے لگا لیا۔  وہ بھی باپ کے سینے سے لگا ایسے سکون میں ڈوب گیا جس نے اس کی آنکھیں نم کر دیں۔  کتنی ہی دیر گزر گئی۔  تب دونوں الگ ہوئی۔  ڈاکٹر ہاشمی نے چشمہ اتارا۔  رومال سے آنکھیں خشک کیں۔  سرمد کی آنکھیں پونچھیں۔
"ارے۔  آپ تو بچوں کی طرح جذباتی ہو گئے ڈاکٹر صاحب۔ " بیگم صاحبہ نے صورتحال کو مزید گمبھیر ہونے سے بچانا چاہا۔
"یہ میرا اکلوتا بچہ ہے بیگم صاحبہ اور میں عمر کے اس حصے میں ہوں جب انسان ویسے ہی بچہ بن جاتا ہے۔ " وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائے تو سنجیدگی میں خاصی کمی آ گئی۔
"اچھا آنٹی۔  اللہ حافظ۔ " سرمد نے سر جھکا دیا۔  بیگم صاحبہ نے اس کے سر پر پیار دیا اور پیشانی چوم لی۔
"جیتے رہو۔  جلدی پاکستان آ جانا۔  زیادہ انتظار نہ کرانا ہمارے ڈاکٹر صاحب کو۔ "
"جی آنٹی۔ " اس نے مختصراً کہا اور باپ کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا۔ " اپنا خیال رکھئے گا ابو۔  میرا بھی اور کون ہے آپ کے سوا۔ "
"جلدی آ جانا۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔  نجانے کیوں ابھی تک انہیں سرمد کے پاکستان چلے آنے کا یقین نہ ہو رہا تھا۔
"جی ابو۔ " اس نے باپ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔  تیزی سے پلٹا اور خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ جب تک وہ باہر نہ نکل گیا، ڈاکٹر ہاشمی اسے ایک ٹک دیکھتے رہے۔ پھر جب وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تو بیگم صاحبہ کی طرف مڑے۔
"نجانے کیا ہو گیا ہے اسے؟" وہ آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے بڑبڑائے۔
"اسے پاکستان آ لینے دیں۔  سب ٹھیک ہو جائے گا۔  فکر نہ کریں۔ " بیگم صاحبہ نے انہیں تسلی دی لیکن نجانے کیوں یہ الفاظ کہتے ہوئے ان کا دل بڑے زور سے دھڑک اٹھا۔
" آئیے۔  چلیں۔ " ڈاکٹر ہاشمی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے رن وے کی جانب کھلنے والے گیٹ کا رخ کیا۔  بیگم صاحبہ نے ایک نظر پلٹ کر اس دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے چند لمحے پہلے سرمد باہر گیا تھا۔  پھر اعجاز کے ساتھ ڈاکٹر ہاشمی کے پیچھے قدم بڑھا دئیے۔
*  *  *


جس دن سرمد کی وسیلہ خاتون سے بات ہوئی، وہ اس کی زندگی میں مسکراہٹوں اور شگفتگی کا آخری دن تھا۔
ہنستا کھیلتا، زندگی سے بھرپور قہقہے لگاتا سرمد ایک دم مرجھا گیا۔  اس کے ساتھی لڑکے اور لڑکیاں اس کی حالت پر پہلے تو حیران ہوئے۔  اسے بہلانے اور کریدنے کی کوششیں کرتے رہے۔  اس کے لبوں سے چھن جانے والی ہنسی کی واپسی کے راستے ڈھونڈتے رہے لیکن جب انہیں اپنی ہر کوشش میں ناکامی ہوئی تو آہستہ آہستہ وہ اس سے دور ہوتے چلے گئے۔  لندن کی ہنگامہ خیز رُتوں میں کسی کے پاس اس پر ضائع کرنے کے لئے وقت نہ تھا۔  ایک انڈین لڑکی ریحا نے بڑے دنوں تک اس کا انتظار کیا۔  اس کے فلیٹ کے چکر کاٹے۔  دن رات کی پرواہ کئے بغیر اسے اپنے ماحول میں کھینچ لانے کے جتن کئے مگر جب سرمد کی اداسی بڑھتی ہی چلی گئی۔  صحت مسلسل گرنے لگی اور ہونٹوں پر سوائے آہوں کے کچھ نہ رہا تو وہ بھی مایوس ہو کر لوٹ گئی۔
رزلٹ کے بعد یہ مہینہ بھر کا وقت پارٹیوں ، ہاؤ ہو اور مستی کا تھا۔  سرمد کے گرو پ کے سبھی سٹوڈنٹ کامیاب ہوئے تھے۔  واپس اپنے اپنے ملک جانے سے پہلے وہ آخری دنوں کو یادگار بنا دینا چاہتے تھے۔  سرمد ان سے کٹتا کٹتا بالکل اکیلا ہو گیا تو وہ اسے بھولنے لگی۔  پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ پورا ایک ہفتہ اپنے فلیٹ میں پڑا بخار سے جنگ لڑتا رہا اور کوئی اسے ملنے بھی نہ آیا۔  اس دن کے بعد وہ خود ہی ان سب سے دور ہو گیا۔
وہ کرتا بھی کیا؟ اس نے اپنے حساب میں کوئی غلطی کی تھی نہ وقت ضائع کیا تھا۔  ہوا یہ تھا کہ اس نے ڈاکٹر ہاشمی کے ساتھ اپنے طور پر کی ہوئی کمٹ منٹ نبھانے کے لئے یہ فیصلہ کر لیا کہ اپنا رزلٹ آنے تک وہ ان سے کوئی بات نہیں کرے گا۔  جب اس کا رزلٹ نکلا تو اپنے آپ سے کئے ہوئے وعدے کے مطابق اس نے سب سے پہلے انہیں یہ خوشخبری سنانا چاہی مگر ساتھ ہی اس خیال سے کہ اس اچھی خبر کے بعد وہ انہیں صفیہ کے رشتے کے لئے اس کے گھر جانے کو کہے گا، وسیلہ خاتون سے پوچھ لینا مناسب سمجھا۔  اسے بظاہر اپنے لئے انکار کی کوئی وجہ نظر نہ آ رہی تھی، پھر بھی وہ ان کا عندیہ لے لینا چاہتا تھا۔  تاکہ کسی بھی قسم کی کوئی بدمزگی پیدا ہی نہ ہو۔  اس کی یہ احتیاط ایک طرف اگر اس کے لئے زندگی بھر کے زخم کا پیغام لے کر آئی تو دوسری طرف باپ سے اس بارے میں بات کر کے جو شرمندگی اس کے حصے میں آنے والی تھی، اس سے بچ گیا۔
سب باتیں اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت تھیں مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتا جو دھڑکنا ہی بھولتا جا رہا تھا۔ صفیہ کا خیال اب اس کے لئے شجرِ ممنوعہ تھا مگر وہ اس کے خیال سے دامن چھڑاتا تو کیسی؟ اس کی راتیں بے خواب ہو گئیں۔  دن بے رونق ہو گئی۔  وقت کا ایک ایک لمحہ ٹیس بنتا چلا گیا۔  سانس لیتا تو آہ نکلتی۔  آنکھ اٹھاتا تو ہر طرف اس دشمنِ جاں کی تصویر سجی نظر آتی جو کبھی اس کی تھی ہی نہیں۔ وہ اکیلا ہی اس آگ میں جلتا رہا تھا۔  اس نے صفیہ کے ساتھ گزرے ہوئے ایک ایک پل میں جھانکا۔  کسی جگہ اسے صفیہ کی جانب سے کوئی ہمت افزائی کا اشارہ نہ ملا۔  کہیں اس کی نظروں سے چھلکنے والا کوئی پیغام نہ تھا۔  وہ کس وہم کے سہارے زندگی میں اس کے تصور کو جینے کا بہانہ مان لیتا؟اگر یہ عشق تھا تو یک طرفہ تھا۔  اگر یہ محبت تھی تو صرف اسی کی طرف سے تھی۔ اگر یہ پیار تھا تو اس میں صفیہ کی رضا کہیں نہ تھی۔
 آہیں ، آنسو، پچھتاوا۔  یہی اس کا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔  صفیہ کا خیال آتا تو آہ ہونٹوں پر مچل جاتی۔  اس کے طاہر کا ہو جانے کے بارے میں سوچتا تو آنسو دل کا دامن بھگو دیتی۔  اپنی طرف سے کی گئی دیر پچھتاوا بن کر دل مسل ڈالتی تو وہ تڑپ تڑپ جاتا۔ بڑی کوشش کی کہ کسی طرح خود کو سنبھال لے مگر عشق میں ناکامی کا داغ ایسی آسانی سے دھُل جانے والا ہوتا تو کوئی بات بھی تھی۔  یہ ناسور تو ایساتھاجو اندر کی جانب رِستا تھا۔  اس کا سارا زہر سوچوں اور خیالوں میں اترتا اور وہیں پڑا چرکے لگایا کرتا۔  وہ چند ہفتوں ہی میں سوکھ کر کانٹا ہو گیا۔
ایک دن فلیٹ کے پتے پر خط آیا۔  کھولا تو یونیورسٹی کی طرف سے انوی ٹیشن تھا۔  یونیورسٹی والوں نے کامیاب طلبہ کے اعزاز میں ایک فنکشن ارینج کیا تھا جس میں انہیں ڈگریاں دی جانے والی تھیں۔  تب اسے خیال آیا کہ اس نے ابھی تک باپ کو اپنی کامیابی کی اطلاع ہی نہیں دی۔  خود کو سنبھالا کہ باپ کہیں اس کی آواز اور لہجے سے اس کے دُکھ کا بھید نہ جان لی۔  پھر اسے فون کیا۔  ڈاکٹر ہاشمی نے اس کی آواز سن کر بیتابی سے پوچھا کہ اتنے دنوں تک رابطہ کیوں نہیں کیا۔  بتایا کہ وہ اسے وقفے وقفے سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر اس کا موبائل نہ مل رہا تھا۔  سرمد نے بہانہ کیا کہ موبائل خراب تھا اور وہ رزلٹ آنے پر ہی انہیں بتانا چاہتا تھا اس لئے جان بوجھ کر رابطہ نہیں کیا۔  وہ اس کی کامیابی کا سن کر پھولے نہ سمائے۔  اس وقت سرمد کو پتہ چلا کہ وہ پاکستان میں نہیں ، ارضِ حجاز پر ہیں۔
تقسیمِ اسناد کی تقریب میں شرکت کے لئے وہ عین وقت پر گیا اور ڈگری وصول کر کے نکال آیا۔  ریحا نے اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر وہ لوٹ آیا۔
اب اس کا لندن میں کوئی کام نہ تھا۔ اہم امور نمٹانے میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ لگ جاتا۔  اس کے بعد وہ وطن جا سکتاتھا مگر وہ وہاں نہ جانے کے بارے میں اپنا فیصلہ وسیلہ خاتون کو سنا چکا تھا۔  ویسے بھی وہ وہاں جا کر کیا کرتا؟ خود پر قابو نہ رکھ پاتا تو معمولی سی حرکت صفیہ کے لئے وبالِ جان بن سکتی تھی۔  اس نے عزم کر لیا کہ کبھی پاکستان نہیں جائے گا۔  ڈاکٹر ہاشمی کو کس طرح سمجھایا جاتا، اس بات کو اس نے آنے والے وقت پر چھوڑ دیا۔
پندرہ دن پہلے آخری بار اس کی بات ڈاکٹر ہاشمی سے ہوئی۔  ان کا ارادہ ابھی مزید مدینہ شریف میں رکنے کا تھا۔  تین مہینے کا وقت پورا کئے بغیر وہ واپس پاکستان جانا چاہتے تھے نہ بیگم صاحبہ۔
اب پہلی بار وہ سوچ میں پڑ گیا۔  پندرہ دن بعد جب ڈاکٹر ہاشمی کا ارضِ حجاز پر قیام ختم ہو جاتا تو وہ لازماً واپس چلے جاتے۔  پھر وہ لندن میں مزید رکنے کا کیا بہانہ کرتا؟
سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھوڑا بن گیا۔  ایک طرف صفیہ سے دور رہنے کا ارادہ اور دوسری طرف تنہائی کا مارا باپ۔  جو اس کے لئے گن گن کر دن گزار رہا تھا۔
اس شام ریحا اس سے ملنے آئی۔  دونوں کتنی ہی دیر چُپ چاپ بیٹھے رہے۔  وہ اس کی حالت پر بیحد دُکھی تھی۔
"سرمد۔ " خاموشی طویل ہو گئی تو ریحا نے لب کھولی۔  "ایک بات پوچھوں ؟"
"پوچھو۔ " اس نے بجھی بجھی نظروں سے اس کے ملیح چہرے کو دیکھا۔
"مجھے تمہارے نجی معاملے میں دخل تو نہیں دینا چاہئے لیکن ہم نے ابھی تک بڑا اچھا وقت گزارا ہے۔  تم اسے دوستی کہہ لو مگر میں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں رکھتی کہ میں تم میں انٹرسٹڈ تھی۔  آں ہاں۔۔۔  چونکو مت۔ " ریحا نے ہاتھ اٹھا کراسے کچھ کہنے سے روک دیا۔  "اسی لئے میں اب تک تمہارے لئے خوار ہو رہی ہوں۔  بارہا ایسا ہوا ہے کہ تم مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے مگر میں ڈھیٹ بن کر تمہارے ارد گرد منڈلاتی رہی۔  یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم دونوں کا مذہب جدا ہے۔  کلچر جدا ہے۔  رہن سہن جدا ہے، میں اس آس پر تمہیں مائل کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ تم لندن کے آزاد ماحول میں پل بڑھ رہے ہو۔  ہم کسی نہ کسی کمپرومائز پر پہنچ کر ایک ہو جائیں گی۔  تمہاری ایک دم بدل جانے کی کیفیت نے مجھے تم سے قریب رکھا جب میں نے پوری طرح جان لیا کہ ہماری یونیورسٹی کی یا باہر کی کسی لڑکی میں تم انٹرسٹڈ نہیں ہو۔  مگر تمہارے گریزاں رویے نے مجھے بد دل کر دیا تو میں کچھ دنوں کے لئے تم سے دور چلی گئی۔  یہ سوچ کر کہ شاید میری دوری تمہیں میرے ہونے کا احساس دلائے اور تم مجھ سے ملنا چاہو مگر ۔۔۔ " وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائی۔  "یہ میری بھول تھی۔  تم آج بھی ویسے ہی ہو جیسے چند ماہ پہلے پتھر ہو گئے۔  بہرحال۔۔۔ " اس نے اپنے بال جھٹکے سے چہرے سے ہٹائے اور اس کی حیران حیران آنکھوں میں جھانک کر کہا۔  " آج میں تم سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا تمہاری یہ حالت کسی لڑکی کی وجہ سے ہے؟"
سرمد نے اس سے نظریں چرا لیں۔  اس کے لب کانپے اور سر جھک گیا۔
"خاموش مت رہو سرمد۔ " وہ اٹھی اور اس کے سامنے قالین پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئی۔  اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے اور اسے والہانہ دیکھنے لگی۔  "یہ مت سوچو کہ تمہارے اقرار سے مجھے دُکھ ہو گا۔ ہو گا مگر اس سے زیادہ یہ ضروری ہے سرمد کہ میں حقیقت جان لوں تاکہ مجھے یہ پچھتاوا نہ رہے کہ میں نے تم سے اصل بات جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔  بولو سرمد۔  ویسے بھی جب تک تم اپنا دُکھ کسی کو بتاؤ گے نہیں ، تمہارے غم کا مداوا نہ ہو سکے گا۔  یہی سوچ کر بولو سرمد کہ شاید میں ، تمہارے کسی کام آ سکوں۔ "
بے اختیار سرمد کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے اور ریحا کے ہاتھوں پر گری۔
"سرمد۔ " بے چین ہو کر ریحا نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے لیا، جس پر کئی دنوں کی بڑھی ہوئی شیو نے اداسی اور یاسیت کھنڈ دی تھی۔
"میں کیا بولوں ریحا؟" وہ یوں رو دیا جیسے اسے اب تک ریحا ہی کے کندھے کا انتظار تھا۔  ریحا اٹھی اور اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔  سرمد نے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا اور اس کی گود میں سر رکھ کر بلکنے لگا۔ ریحا اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی اور اپنے آنسوپینے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔
جی بھر کر رو لیا تو سرمد کا من ہلکا ہو گیا۔  ریحا نے اس کا منہ ہاتھ دھلوایا۔  اصرار کر کے شیو کرائی۔ کپڑے بدلوائے اور اپنی ننھی سی ٹو سیٹر میں اسے ہل پارک میں لے آئی۔
شام ہونے کو تھی۔  آمنے سامنے گھاس کے فرش پر بیٹھے جب چند منٹ سکوت کے عالم میں گزر گئے تو ریحا نے محبت سے اس کا ہاتھ تھام کر سہلاتے ہوئے کہا۔
"ہاں تو سرمد جی۔  اب کھل جائے۔  ذرا بتائیے تو کہ وہ کون مہ وش ہے جس نے ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے؟"
"ڈاکہ؟" سرمد نے نظریں اٹھائیں اور مسکراتی ہوئی ریحا کو دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر بھی ابھری۔  پھر یہ مسکراہٹ ایک سرد آہ میں بدل گئی۔
"وہ مجھ سے ٹیوشن پڑھا کرتی تھی ریحا۔۔۔ " ہولے ہولے اس نے کہنا شروع کیا۔  ریحا سنتی رہی اور جب سرمد نے بات ختم کی تو ریحا کو اداسی پوری طرح گرفت میں لے چکی تھی۔
سرمد خاموش ہو گیا۔
ریحا سر جھکائے تنکے توڑ تی رہی۔  لگا، جیسے اسے سرمد کی بات ختم ہونے کا پتہ ہی نہیں۔  وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔  تب ہوا کے ایک سرد جھونکے نے انہیں کپکپا کر رکھ دیا۔
ریحا نے سر اٹھایا۔  شام اتر آئی تھی۔ پرندے چہچہانا ختم کر چکے تھے۔ پارک سے لوگ رخصت ہو رہے تھے۔
"تمہارا اداس ہونا سمجھ میں آتا ہے سرمد۔ " ریحا نے ایک گہرا سانس لیا۔ "واقعی۔  بات ہی ایسی ہے کہ انسان اپنے قابوسے باہر ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم۔۔۔  مگر اب کیا؟ ساری زندگی تو دُکھ کی یہ چادر اوڑھ کر نہیں گزاری جا سکتی۔ "
"گزاری جا سکتی ہے ریحا۔ " پہلی بار سرمد کے لبوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ بکھری۔  " آج سے پہلے مجھے بھی یہ زندگی بوجھل لگتی تھی۔  سانس جیسے سینے میں آرا بن کر چلتا تھا۔  چاہتا تھا کہ جیسے تیسے یہ جینا ختم کر کے دنیا سے چل دوں مگر ۔۔۔ " اس نے بڑی محبت سے ریحا کا ہاتھ تھام لیا۔  " آج تمہارے کندھے پر سر رکھ کر رو لیا ہے تو لگتا ہے سانس لینا آسان ہو گیا ہے۔  میں تمہارا یہ احسان مرتے دم تک یاد رکھوں گا ریحا۔ تم نے میرا من دھو کر سارا غبار اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے۔  اب صفیہ کا دُکھ، دُکھ نہیں رہا۔  ایک نشہ بن گیا ہے۔  اس کی یاد اب نشتر نہیں چبھوتی، ٹیس بن کر درد جگاتی ہے۔  اس درد میں ایک لذت ہے ریحا۔  میں نے ایسی لذت کبھی محسوس ہی نہیں کی، جس سے آج گزر رہا ہوں۔ یاد ایسی مست بھی ہوتی ہے، مجھے اس سے تم نے آشنا کیا۔  یہ غم کا مزہ تمہاری دین ہے۔  صفیہ کے ساتھ تمہاری یاد جُڑ گئی ہے ریحا۔  اسے میں چاہوں بھی تو الگ نہیں کر سکتا۔ "
"میں ایسی گہری اور مشکل مشکل باتیں نہ کر سکتی ہوں نہ سوچ سکتی ہوں سرمد۔ " ریحا نے مسکرا کر کہا۔  "بس یہ جان کر خوش ہوں کہ اب تم زندگی کی طرف لوٹ رہے ہو۔  ساری بات سمجھ کر ایک امید کی جوت دل میں جگا لی ہے میں نے کہ شاید ایک دن تم میرے پاس آ جاؤ اور کہو کہ ریحا۔  مجھے اپنی باہوں میں لے لو۔  میں بہت تھک گیا ہوں۔  آؤ مل کر ایک آشیانہ بنائیں جس میں۔۔۔ "
"بس۔ " سرمد نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگا لیا۔  "مجھ سے کوئی وعدہ نہ لینا ریحا۔  اگر تم میرا نصیب ہو تو ایسا ضرور ہو گا اور اگر میں تمہارا حصہ نہیں ہوں تو آرزو کا پودا پالنے سے کوئی کسی کو نہیں روک سکتا۔ "
"جانتی ہوں۔ " ریحا نے اپنا ہاتھ واپس کھینچا اور چوم لیا۔  "تمہارا یہ بوسہ میرے لئے کافی ہے۔  تمہارا یہ لمس میری تمنا کے پودے کو سینچتا رہے گا سرمد۔  میں جب تک ممکن ہو سکا تمہارا انتظار ضرور کروں گی۔  زندگی کے آخری سانس تک انتظار کا وعدہ اس لئے نہیں کر سکتی کہ ماں باپ کی نافرمان نہیں ہونا چاہتی تاہم کوشش کروں گی کہ اس وقت تک کسی کی سیج نہ سجاؤں جب تک تمہاری طرف سے نا امیدی کی خزاں کا جھونکا میرے یقین کے گلشن میں نہ در آئے۔ "
ایک عجیب سے وعدے اور امید کے دیپ دلوں میں جلا کر دونوں اٹھے اور چل پڑی۔  اسے فلیٹ پر چھوڑ کر ریحا نے باہر ہی سے رخصت چاہی تو سرمدکو پتہ چلا کہ وہ اگلے دن واپس انڈیا جا رہی ہے۔
"کبھی لوٹنا چاہو تو بڑا سیدھا سا پتہ ہے سرمد۔  سرینگر میں جموں کشمیر روڈ پر کوٹھی نمبر تین میرا گھر ہے۔  میرا موبائل نمبر تمہیں ازبر ہے۔  کوشش کرنا کہ یہ سیٹ تم بھی کبھی نہ بدلو جس کا نمبر میرے پاس ہے۔ اس پر میں اکثر تمہیں تنگ کرتی رہوں گی۔ "
"واپس جا کر کیا کرو گی؟" سرمد نے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر پوچھا۔
"سب سے پہلے ماں سیتا کے مندر جاؤں گی۔  ان سے تمہیں مانگوں گی۔  فرقت کا دُکھ وہ خوب سمجھتی ہیں۔  مجھے یقین ہے اگر تم میرے نصیب میں نہیں بھی ہو تو وہ میرا نصیب بدل دیں گی۔  تمہیں ضرور میرے دامن میں ڈال دیں گی۔۔۔ اور جب تک ایسا ہو نہیں جاتا تب تک مجھے سکون اور سُکھ کا وردان ضرور دیں گی۔ "
ریحا نے اس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگایا۔  آنکھوں سے مس کیا اور اس کی جانب دیکھے بغیر گاڑی میں بیٹھ کر رخصت ہو گئی۔  شاید اس میں جاتے ہوئے سرمد کو چھوڑ جانے کے احساس سے آنکھیں ملانے کی ہمت نہ تھی۔
ریحا چلی گئی۔
مگر۔۔۔  وہ اپنی جگہ بُت بنا کھڑا تھا۔  اس کے دماغ میں بگولے سے چکرا رہے تھے۔  کانوں میں سیٹیاں سی بج رہی تھیں۔  کیا کہہ گئی تھی ریحا؟ اس کا ایک بُت پر کیسا پختہ یقین تھا۔  اسے کیسا اعتماد تھا ایک پتھر پر کہ وہ اس کا مقدر بدل دے گا۔  اسے سکون اور اطمینان بخش دے گا۔  ہونی کو انہونی کر دکھائے گا۔  یہ ایک باطل مفروضے پر قائم مذہب نما ڈھکوسلے پر یقین رکھنے والی ریحا کا حال تھا اور وہ خود جو ایک آفاقی، ازلی و ابدی سچ کے حامل دین کا پیروکار تھا۔  جس کا ایمان ایک، اکیلے اور واحد اللہ پر تھا۔  اس کی سوچ اپنے معبود کی طرف گئی ہی نہ تھی، جو اسے سب کچھ دے سکتا تھا۔  انہونی کو ہونی کر سکتا تھا۔  سکون اور سُکھ کے لئے جس کی طرف رجوع کر لینا ہی کافی تھا۔  وہ اس کے بارے میں اب تک غفلت کا شکار تھا۔
ندامت سے اس کی پیشانی پر پسینہ آ گیا۔  جسم میں شرمندگی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔  صفیہ تو اب اس کی نہ ہو سکتی تھی مگر اس نے اپنے خالق سے اس زخم کا تریاق مانگا ہی نہ تھا۔ تنہائی اوڑھ لی تھی۔  اداسی پہن لی تھی۔  نا امیدی کے رستے پر تھکے تھکے قدم اٹھاتا وہ زندگی کا لاشہ گھسیٹ رہا تھا۔  بھول گیا تھا کہ ہر غم، ہر دُکھ، ہر زخم کا مداوا جس کے پاس ہے وہ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اس کے پکار لینے کا ہر آن منتظر ہے۔
ایک بُت پرست نے اپنے دو فقروں سے اسے ملیا میٹ کر دیا۔  گرتا پڑتا وہ فلیٹ میں پہنچا اور قبلہ رخ ہو کر سجدے میں گر پڑا۔  کچھ نہ کہا۔  کچھ نہ بولا۔  بس، روتا رہا۔  ہچکیاں لیتا رہا۔  سسکتا رہا۔  اس کے حضور ندامت کی سب سے اعلیٰ زبان آنسو ہیں اور آنسو اسے جس قدر پسند ہیں ، اس کے بارے میں آنسو بہانے والا سب سے بہتر جانتا ہے۔ یہ آبگینے جب جب پھوٹتے ہیں تب تب اس کے دربار میں بیش قیمت ہوتے جاتے ہیں۔
دوسرے دن اس نے عمرے کے لئے ویزا اپلائی کر دیا۔  اس کے اندر ایک اور ہی شمع روشن ہو گئی تھی۔  اس کا جی چاہتا تھا اڑ کر حرم جا پہنچی۔  اپنے آقا کے حضور جائے اور پھر لوٹ کر نہ آئی۔  اسے شرم آتی تھی ریحا کے پتھر کے بے جان بھگوان کے بارے میں سوچ کر۔  جس کا ذکر کر کے ریحا نے اسے اس کے سچے خدا کی طرف رجوع کا ادراک بہم پہنچایا تھا۔ ریحا کا یہ دوسرا احسان اس کے پہلے احسان سے بھی بڑا تھا جو اس نے سرمد کی ذات پر کیا تھا۔
٭
ڈاکٹر ہاشمی سے رخصت ہو کر وہ ایر پورٹ سے باہر نکلا اور مکہ کے لئے روانہ ہو گیا۔
ہوٹل میں سامان رکھ کر حرم پہنچا تو اس کی حالت غیر ہو گئی۔  جسم سے جان نکل گئی۔  ہاتھ پاؤں سرد پڑ گئی۔  وہ گرتا پڑتا صحنِ حرم میں داخل ہوا اور گر پڑا۔  اپنے رب کے گھر کے سامنے سجدے میں پڑا وہ سسک رہا تھا۔  کتنی ہی دیر گزر گئی۔  اس کا سر اٹھانے کو جی ہی نہ چاہتا تھا۔  پھر جیسے دل کو قرار سا آ گیا۔ سکون اس کا شانہ تھپک کر تسلی دیتا ہوا جسم و جان میں اتر گیا۔  آنسو خشک ہو گئے یا شاید ختم ہو گئی۔
اس نے سجدے سے سر اٹھایا۔  کعبہ، اپنے اللہ کے پہلے اور آخری گھر پر نظر ڈالی۔  اسے لگا، کعبہ اسے اپنی طرف بلا رہا ہے۔  باہیں پسارے اسے سینے سے لگانے کو اشارے کر رہا ہے۔  وہ آہستہ سے اٹھا اور عمرے کے ارکان ادا کرنے لگا۔  حجرِ اسود کو چومنے کے لئے جھکا تو ایک خیال برق کی طرح اس کے دل و دماغ میں روشنی دے گیا۔
"اسے میرے آقا نے بوسہ دیا ہے۔ "
اس کے لئے حجرِ اسود کا بوسہ لینا مشکل ہو گیا۔  جس پتھر کو اس کے آقا نے اپنے لبِ اطہر سے چوما تھا، وہ اسے کس ادب سے بوسہ دے؟ کس احترام سے ہونٹوں سے لگائے؟ لرزتے کانپتے ہوئے اس نے اس جنتی پتھر کو بوسہ دیا اور بادل نخواستہ پیچھے ہٹ گیا۔  طواف کرتے کرتے وہ جب بھی حجرِ اسودکے بوسے کے لئے رکا، اس کی یہی حالت ہوئی۔
وہ مکہ میں ارکانِ عمرہ سے فارغ ہو گیا۔ اب اسے مدینہ شریف جانا تھا۔  اپنے اللہ کے حبیب پاک کے حضور حاضر ہونا تھا۔  اپنے آقا و مولا کا خیال آتے ہی اس پر ایک کیف سا طاری ہو گیا۔ رات گزارنا اس کے لئے مشکل ہو گیا۔  ساری رات وہ حرم میں نفل پڑھتا رہا۔  اسے صبح صبح شہرِ نبی کے لئے روانہ ہو جانا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ اس دوران نیند میں ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرے۔
صبح آخری بار حرم کا طواف کر کے جب وہ رخصت ہوا تو اس کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھے۔  دل سے ایک خوشبو کا جھونکا نکلا اور حرم کی جانب روانہ ہو گیا۔
"میرے معبود۔  اسے سُکھی رکھنا۔ "
 آمین کے لفظ کے ساتھ اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے حرم کو نگاہوں میں جذب کر لینا چاہا تو جدائی کا احساس، رخصت ہونے کا غم اس کی آنکھوں کو دھندلا گیا مگر جانا تو تھا۔  اس نے سر جھکا کر دونوں ہاتھ کسی غلام کی طرح باندھ لئے اور قدم وداع ہونے کے لئے اٹھا دیا۔
٭
بیگم صاحبہ کا فون آیا تو طاہر نے صفیہ سے واپسی کی تیاری کرنے کا کہہ دیا۔  وہ دو دن بعد آ رہی تھیں۔
"طاہر۔ " جھجکتے ہوئے صفیہ نے کہنا چاہا۔
"کہو ناں۔  رک کیوں گئیں ؟" طاہر نے اسے باہوں میں لے لیا۔
"واپسی سے پہلے ایک بار بابا شاہ مقیم کے مزار پر لے چلئے مجھے بھی۔ " صفیہ نے اس کے سینے پر پیشانی ٹکا دی۔
"تو پھر آج ہی چلو۔  صبح واپس جانا ہے۔  وقت نہیں ملے گا۔ "
"تو چلئے۔  میں تیار ہوں۔ " وہ کھل اٹھی۔
"کرایہ دینا پڑے گا جانے آنے کا؟" شرارت سے طاہر نے اسے ہاتھ تھام کر اپنی طرف کھینچا۔
"واپس آ کر۔ " اس نے ہاتھ چھڑایا اور شرما کر الماری کی طرف بڑھ گئی۔  طاہر ہنسا اور وضو کرنے چلا گیا۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ بابا شاہ مقیم کے مزار پر تھی۔  درویش برگد تلے دری بچھائے جیسے انہی کے انتظار میں بیٹھا تھا۔
"سلام کر کے ادھر ہی آ جانا اللہ والیو۔ " اس نے وہیں سے صدا لگائی۔  صفیہ نے خود کو چادر میں خوب اچھی طرح ملفوف کر رکھا تھا۔  اس نے گاڑی سے اتر کر درویش کی جانب نظر اٹھائی جو سر جھکائے ہولے ہولے جھوم رہا تھا۔
" آ جاؤ۔  پہلے سلام کر لیں۔ " طاہر اسے لئے ہوئے مزار کی جانب چل پرا۔
سادہ سے مزار کے اندر داخل ہوتے ہی صفیہ کو ایک عجیب سے سکون نے گھیر لیا۔  جتنی دیر وہ طاہر کے ساتھ اندر کھڑی دعا کرتی رہی اس کا سارا جسم کسی نامعلوم احساس سے لرزتا رہا۔  اس کپکپاہٹ میں ایک ایسا سرور تھا ، ایک ایسی لذت تھی، ایک ایسا کیف تھا، جسے وہ بیان نہ کر سکتی تھی۔
دعا کے بعد وہ دونوں باہر آئے اور درویش کے پاس دری پر جا بیٹھی۔  طاہر نے اس سے مصافحہ کیا اور اس کے چہرے پر کچھ تلاش کرنے لگا۔  کوئی پیغام۔  کوئی سندیسہ۔
"بیٹی آئی ہے۔ " اس نے صفیہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"جی بابا۔ " صفیہ نے ادب سے جواب دیا۔
"جیتی رہو۔  تمہارے سُکھ کی دعا تو وہاں قبول ہوئی ہے جہاں۔۔۔ " کہتے کہتے درویش خاموش ہو گیا۔ "اس پگلے کا خیال رکھا کرو۔ " اس نے بات بدل دی۔
"اپنی سی کوشش تو کرتی ہوں بابا۔ " صفیہ نے آنکھ نہ اٹھائی۔
"کوشش ہی فرض ہے پگلی۔  اس کے بعد تو سب اس کی مرضی پر ہے۔ " درویش نے آسمان کی جانب دیکھا۔  "اور کوشش کا پھل وہ ضرور دیتا ہے۔ "
صفیہ خاموش رہی۔
"بابا۔  کل صبح ہم واپس جا رہے ہیں۔ " طاہر نے پہلی بار زبان کھولی۔
"خیر سے جاؤ اللہ والیو۔ خیر سے جاؤ۔  خیر سے رہو۔ " وہ جھوم کر بولا۔
" آپ کو اپنا وعدہ یاد ہے ناں بابا؟"
"یاد ہے۔  یاد ہے۔ " درویش نے اس کی جانب مسکرا کر دیکھا۔  "اتاولا نہ ہو۔  وقت آنے دے۔  وعدے سارے پورے ہوں گے اس کے حکم سے۔ " پھر اس نے پاس پڑی ایک کاغذ کی پڑیا اٹھائی اور صفیہ کی جانب بڑھا دی۔  "یہ لے بیٹی۔  یہ بابے شاہ مقیم کا تبرک ہے۔  گھر جا کر دونوں چکھ لینا۔ "
" جی بابا۔ "صفیہ نے پڑیا لے کر پرس میں رکھ لی۔
"بس اب جاؤ۔  اللہ کی پناہ۔  رسول کی امان۔ " درویش نے دونوں ہاتھوں سے صفیہ کے سر پر پیار دیا۔ طاہر سے ہاتھ ملایا۔  اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا۔ دھیرے سے مسکرایا اور دو زانو بیٹھا رہا۔
طاہر اور صفیہ اٹھی۔  الٹے پاؤں دری سے اتری۔  جوتے پہنے اور ایک بار پھر اسے سر خم کر کے سلام کر کے گاڑی میں آ بیٹھی۔ درویش آنکھیں بند کئے جھوم رہا تھا۔  طاہر نے گاڑی سٹارٹ کی تو درویش کے لبوں سے ایک مدھ بھری تان نکلی۔
پیلُو پکیاں وی۔  پکیاں نے وے
 آ چُنوں رَل یار
وہ جھوم جھوم کر گاتا رہا۔  طاہر نے بڑی خوابناک نظروں سے صفیہ کی طرف دیکھا جو درویش کی تان میں گم پلکیں موندے اس کے شانے سے لگی بیٹھی تھی۔  جسم میں پھریریاں لیتے سرور نے طاہر کو مست سا کر دیا۔  بے خودی کے عالم میں اس نے ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھا دیا۔  نور پور کی حدود سے نکلنے تک درویش کی تان ان کا یوں پیچھا کرتی رہی جیسے انہیں رخصت کرنے کے لئے ان کے ساتھ ساتھ محو سفر ہو۔
*  *  *