داستان مجاہد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
داستان مجاہد لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 2 مئی، 2015

داستان مجاہد آخری قسط

0 comments



جزا اور سزا


  عبد اللہ معلوم تھا کہ خلیفہ ابن صادق کی تلاش میں ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور اسے زندہ رکھنا خطرناک ہے مگر وہ ایسے ذلیل انسان کے خون سے ہاتھ رنگنا بہادر کی شان کے شایاں نہ سمجھتا تھا۔ جب قسطنطنیہ کے راستے میں اس کی فوج نے قونیہ کے مقام پر قیام کیا تو عبد اللہ عامل شہر سے ملا اور اس کے سامنے اپنے قیمتی سامان کی حفاظت کے لیے ایک مکان حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ عامل شہر نے عبد اللہ کو ایک پرانا اور غیرآباد مکان دے دیا۔ عبد اللہ نے ابن صادق کو اس مکان کے تہ خانے میں بند کیا اور برمک اور زیاد کو اس کی حفاظت کے لیے چھوڑ کر فوج کے ساتھ قسطنطنیہ کا راستہ لیا۔
زیاد کو اپنی زندگی پہلے سے دلچسپ نظر آتی تھی۔ پہلے وہ محض ایک غلام تھا لیکن اب اسے ایک شخص کے جسم اور جان پر پورا پورا اختیار تھا۔ وہ جب چاہتا ابن صادق کے ساتھ دل بہلا لیتا۔ وہ محسوس کرتا تھا کہ ابن صادق اس کے لیے ایک کھولنا ہے اور اس کھلونے کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس کا جی کبھی سیر نہ ہوتا۔ اس کی بے لطف زندگی میں ابن صادق پہلی اور آخری دلچسپی تھی۔ اسے اس کے ساتھ چڑ تھی یا پیار۔ بہر صورت وہ ہر روز اسے تھپڑ لگانے، اس کی ڈاڑھی نوچنے اور اس کے منہ پر تھوکنے کے لیے کوئی نہ کوئی موقع ضرور نکال لیتا۔ برمک اپنی موجودگی میں اسے ان حرکات کی اجازت نہ دیتا لیکن جب وہ کھانے کی چیزیں لینے کے لیے بازار جاتا تو زیاد اپنا جی خوش کر لیتا۔
عبد اللہ کے حکم کے مطابق ابن صادق کو اچھے سے اچھا کھانا دیا جاتا۔ اس کا یہ بھی حکم تھا کہ ابن صادق کو کوئی تکلیف نہ دی جائے لیکن زیاد اس حکم کو اتنا ضروری خیال نہ کرتا۔ اگرچہ عربی زبان سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتا لیکن ابن صادق کے ساتھ وہ ہمیشہ اپنی مادری زبان میں گفتگو کرتا۔ ابن صادق کو شروع شروع میں دقت ہوئی لیکن چند مہینوں کے بعد وہ زیاد کی باتیں سمجھنے کے قابل ہو گیا۔
ایک دن برمک بازار سے کھانے پینے کی چیزیں لینے گیا۔ زیاد مکان کے ایک کمرے میں کھڑا کھڑکی سے باہر جھانک رہا تھا کہ اسے اپنا ایک ہم نسل ایک گدھے پر سوار شہر سے باہر نکلتا ہوا دکھائی دیا۔ دیو ہیکل حبشی کے بوجھ سے نحیف گدھے کی کمر دوہری ہو رہی تھی۔ گدھا چلتے چلتے لیٹ گیا اور حبشی اس پر کوڑے برسانے لگا۔ گدھا مجبوراً اٹھ کھڑا ہوا اور حبشی اس پر سوار ہو گیا۔ گدھا تھوڑی دور چل کر پھر بیٹھ گیا اور حبشی پھر کوڑے برسانے لگا۔ زیاد قہقہہ لگاتا ہوا کمرے سے ایک کوڑا اٹھا کر نیچے اترا اور ابن صادق کے قید خانے کا دروازہ کھل کر اندر داخل ہوا۔
ابن صادق زیاد کو دیکھتے ہی حسب معمول ڈاڑھی نچوانے اور کوڑے کھانے کے لیے تیار ہو گیا لیکن زیاد اس کی توقع کے خلاف کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔ بالآخر اس نے آگے جھک کر دونوں ہاتھ زمین پرپر ٹیک دیے اور یک چوپائے کی طرح ہاتھ اور پاؤں کے بل دو تین گز چلنے کے بعد ابن صادق سے کہا۔’’آؤ!‘‘
ابن صادق اس کا مطلب نہ سمجھا۔ آج کسی نئی دل لگی کے خوف نے اسے بد حواس کر دیا تھا۔ وہ اتنا گھبرایا کہ اس کی پیشانی پر پسینہ آگیا۔
زیاد نے پھر کہا۔’’آؤ مجھ پر سواری کرو!‘‘
ابن صادق جانتا تھا کہ اسکے جائز اور نا جائز احکام کی اندھا دھند تکمیل ہی میں بہتری ہے اور اس کی حکم عدولی کی سزا اس کے لیے نا قابل برداشت ہو گی۔اس لیے ڈرتے ڈرتے زیاد کی پیٹھ پر سوار ہو گیا۔ زیاد نے تہہ خانے کی دیوار کے ساتھ دو تین چکر لگائے اور ابن صادق کو نیچے اتار دیا۔ اس نے زیاد کو خوش کرنے کے لیے خوشامدانہ لہجے میں کہا۔’’آپ بہت طاقتور ہیں !‘‘
  لیکن زیاد نے اس کے ان الفاظ پر کوئی توجہ نہ دی اور اٹھتے ہی اپنے ہاتھ جھاڑنے کے بعد ابن صادق کو پکڑ کر نیچے جھکاتے ہوئے کہا۔’’اب میری باری ہے!‘‘
ابن صادق کو معلوم تھا کہ وہ اس بھاری بھرکم دیو کے بوجھ تلے دب کر پس جائے گا لیکن اس نے مجبوراً اپنے آپ کو سپرد تقدیر کر دیا۔
زیاد اپنا کوڑا ہاتھ میں لے کر ابن صادق کی پیٹھ پر سوار ہوا۔ ابن صادق کی کمر دوہری ہو گئی۔ اس کے لیے اس قدر بوجھ لے کر چلنا ناممکن تھا۔ وہ بصد مشکل دو تین قدم اٹھانے کے بعد گر پڑا۔ زیاد نے کوڑے برسانے شروع کر دیے یہاں تک کہ ابن صادق بے ہوش ہو  گیا۔ زیاد نے اسے اٹھایا اور دیوار کا سہارا دے کر بٹھا دیا اور خود بھاگتا ہوا باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد قید خانے کا دروازہ پھر کھلا اور زیاد ایک طشتری میں چند سیب اور انگور لے کر اندر داخل ہوا۔ ابن صادق نے ہوش میں آ کر آنکھیں کھولیں۔ زیاد نے اپنے ہاتھ سے چند انگور اس کے منہ میں ڈالے۔اس کے بعد اس نے اپنے خنجر کے ساتھ ایک سیب چیرا اور اس میں سے آدھا ابن صادق کو دیا۔ جب ابن صادق نے اپنا حصہ ختم کر لیا تو زیاد نے اسے ایک اور سیب کاٹ کر دیا۔
ابن صادق کو معلوم تھا کہ زیاد کبھی کبھی ضرورت سے زیادہ مہربان بھی ہو جایا کرتا ہے، اس لیے اس نے دوسرا سیب ختم کرنے کے بعد خود ہی تیسرا سیب اٹھا لیا۔ زیادہ نے اپنا خنجر سیبوں کے درمیان رکھا ہوا تھا۔ ابن صادق نے قدرے بے پرواہی ظاہر کرتے ہوئے اس کا خنجر اٹھایا اور سیب کا چھلکا اتارنا شروع کر دیا۔ زیاد اس کی ہر حرکت کو غور سے دیکھتا رہا۔ ابن صادق نے خنجر پھر وہیں رکھ دیا اور بولا ’’یہ چھلکا نقصان دہ ہوتا ہے!‘‘
’’ہوں !‘‘ زیاد نے سر ہلاتے ہوئے کہا اور ایک سیب اٹھا کر خود بھی ابن صادق کی طرح اس کا چھلکا اتارنے لگا۔ زیاد کے ہاتھ پر ایک معمولی سا زخم آگیا۔ وہ ہاتھ منہ میں ڈال کر چوسنے لگا۔
’’لائیے۔ میں اتار دوں !‘‘ ابن صادق نے کہا۔
زیاد نے سر ہلایا اور اپنا سیب اور خنجر اسے دے دیا۔
ابن صادق نے سیب کا چھلکا اتارا کر اسے دیا اور پوچھا۔’’اور کھائیں گے آپ؟‘‘
زیاد نے سر ہلایا اور ابن صادق نے ایک اور سیب اٹھا کر اس کا چھلکا اتارنا شروع کیا۔ ابن صادق کے ہاتھ میں خنجر تھا اور اس کا دل دھڑک رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک دفعہ قسمت آزمائی کر کے دیکھ لے لیکن اسے یہ خوف تھا کہ زیاد اسے حملہ کرنے سے پہلے دبوچ لے گا۔ اسے نے کچھ سوچ کر اچانک دروازے کی طرف مڑ کر دیکھا اور پریشان سا منہ بنا کر کہا۔’’کوئی آ رہا ہے!‘‘ زیاد نے بھی جلدی سے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا۔ ابن صادق نے نظر بچاتے ہی چمکتا ہوا خنجر اس کے سینے میں قبضے تک گھونپ دیا اور فوراً کود کر ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ زیاد غصے سے کانپتا ہوا اٹھا اور دونوں ہاتھ آگے کی طرف بڑھا کر ابن صادق کا گلا دبوچنے کے لیے آگے بڑھا۔ابن صادق اس کے مقابلے میں بہت پھرتیلا تھا۔ فوراً بھاگ کر اس کی زد سے باہر نکلا اور تہہ خانے کے دوسرے کونے میں جا کھڑا ہوا۔ زیاد اس کی طرف بڑھا تو وہ تیسرے کونے میں جا پہنچا۔ زیاد نے اسے چاروں طرف سے گھیرنا چاہا لیکن وہ قابو میں نہ آیا۔
زیاد کے قدم لحظہ بہ لحظہ ڈھیلے پڑ رہے تھے۔ زخم کا خون تمام کپڑوں کو تر کرنے کے بعد زمین پر گر رہا تھا۔ طاقت جواب دے چکی تھی۔ وہ سینے کو دونوں ہاتھوں میں دبا کر جھکتے جھکتے زمین پر بیٹھا اور بیٹھتے ہی نیچے لیٹ گیا۔ ابن صادق ایک کونے میں کھڑا کانپ رہا تھا۔ جب اسے تسلی ہوئی کہ وہ مر چکا ہے  بے ہوش ہو گیا ہے تو آگے بڑھ کر اس کی جیب سے چابی نکالی اور دروازہ کھول باہر نکل گیا۔
برمک ابھی تک بازار سے نہیں آیا تھا۔ ابن صادق یہاں سے خلاصی پا کر چند قدم بھاگا لیکن تھوڑی دور کر یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اسے شہر میں کوئی خطرہ نہیں، اطمینان سے چلنے لگا اور شہر کے لوگوں سے باہر کی دنیا کے حالات معلوم کرنے کے بعد وہ خلیفہ کو اپنی آب بیتی سنانے کے لیے رملہ روانہ ہو گیا۔
ابن صادق کے رہائی کے چند دن بعد یہ خبر سنی گئی کہ خلیفہ نے عبد اللہ کو سپہ سالاری کے عہدے سے معزول کر دیا ہے اور وہ پا بہ زنجیر رملہ کی طرف لایا جا رہا ہے۔
  ابن صادق کے متعلق یہ خبر مشہور ہوئی کہ اسے سپین کا مفتی اعظم کا عہدہ دے کر بھیجا جا رہا ہے۔

(۲)

۹۹ھ میں سلیمان نے اپنی فوج کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے کر قسطنطنیہ پر حملہ کر دیا لیکن ابھی فتح کی حسرت پوری نہ ہوئی تھی کہ وہ دنیا سے چل بسا اور عمرؒ بن عبد العزیز تخت خلافت پر رونق افروز ہوئے۔ عمرؒ بن عبد العزیز عادات و خصائل میں بنو امیہ کے تمام خلفا سے مختلف تھے۔ ان کا عہد خلافت اموی دور حکومت کا روشن ترین زمانہ تھا۔ نئے خلیفہ کا پہلا حکم مظلوموں کی داد رسی کرنا تھا۔ بڑے بڑے مجاہدین جو سلیمان بن عبد المالک کے جذبہ حقارت کا شکار ہو کر قید خانے کی تاریک کوٹھڑیوں میں پڑے ہوئے تھے، فورا رہا کر دیے گئے۔ سخت گیر حاکموں کو معزول کر دیا گیا اور ان کی جگہ نیک دل اور عادل حکام بھیجے گئے۔ عبد اللہ جو ابھی تک رملہ کے قید خانے میں محبوس تھا، وہاں سے رہا کر کے دربار خلافت میں بلایا گیا۔
عبد اللہ نے دربار خلافت میں حاضر ہو کر اپنی رہائی کے لیے شکریہ ادا کیا۔
امیر المومنین نے پوچھا۔’’اب تم کہاں جاؤ گے؟
’’امیر المومنین! مجھے گھر سے نکلے ہوئے بہت دیر ہو گئی ہے۔ میں اب وہاں جاؤں گا۔‘‘
’’میں تمہارے متعلق ایک حکم نافذ کر چکا ہوں ‘‘
’’امیر المومنین! میں خوشی سے آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا۔‘‘
عمرؒ ثانی نے ایک کاغذ عبد اللہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔’’میں تمہیں خراسان کا گورنر مقرر کر  چکا ہوں۔ تم ایک مہینے کے لیے گھر رہ آؤ۔ اس کے بعد فوراً خراسان پہنچ جاؤ!‘‘
عبد اللہ سلام کر کے چند قدم چلا لیکن پھر رک کر امیر المومنین کی طرف دیکھنے لگا۔
’’تم کچھ اور کہنا چاہتے ہو؟‘‘ امیر المؤمنین نے سوال کیا۔
’’امیر المومنین! میں اپنے بھائی کے متعلق عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اسے میں نے دمشق کے قید خانے سے نکالنے کی سازش کی تھی۔ وہ بے قصور تھا۔ اگر قصور کچھ تھا تو یہ کہ وہ قتیبہؒ بن مسلم اور محمدؒ بن قاسم کا دست راست تھا اور اس نے دربار خلافت میں حاضر ہو کر امیر المومنین کو قتیبہؒ کے قتل کے ارادے سے منع کیا تھا۔‘‘
عمرؒ ثانی نے پوچھا۔ ’’تم نعیم بن عبدالرحمن کا ذکر کر رہے ہو؟‘‘
’’ہاں امیر المومنین! وہ میرا چھوٹا بھائی ہے۔‘‘
’’اب وہ کہاں ہے؟‘‘
’’سپین میں۔ میں نے اسے ابو عبید کے پاس بھیج دیا تھا لیکن مجھے ڈر ہے کہ پہلے خلیفہ ابن صادق کا وہاں کا مفتی اعظم بنا کر بھیج چکے ہیں اور وہ نعیم کے خون کا پیاسا ہے۔‘‘
امیر المومنین نے کہا۔ ’’ابن صادق کے متعلق میں آج ہی والی سپین کو یہ حکم لکھ رہا ہوں کہ اسے پا بہ زنجیر دمشق بھیجا جائے اور میں تمہارے بھائی کے متعلق بھی خیال رکھوں گا۔‘‘
’’امیر المؤمنین نعیم کے ساتھ اسکا ایک دوست بھی ہے اور وہ آپ کی نظر کرم کا مستحق ہے۔‘‘
امیر المؤمنین نے کاغذ اٹھا کر والی سپین کے نام خط لکھا اور ایک سپاہی کے حوالے کرتے ہوئے کہا:
’’اب آپ خوش ہیں۔ میں نے آپ کے بھائی کو جنوبی پرتگال کا گورنر مقرر کر دیا ہے اور اس کے دوست کو فوج میں اعلیٰ عہدہ دینے کی سفارش کر دی ہے اور ابن صادق کے متعلق بھی لکھ دیا ہے۔‘‘
عبداللہ ادب سے سلام کر رخصت ہوا۔
  والی اندلس قرطبہ میں مقیم تھا۔ وہ جنوبی پرتگال میں ایک نئے جرنیل زبیر کی فتوحات کا سن کر بہت خوش ہوا۔ اس نے ابوعبید کے نام خط لکھا اور زبیر سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ نعیم قرطبہ پہنچا اور والی اندلس کی خدمت میں حاضر ہوا۔ والی اندلس نے گرمجوشی سے اس کا استقبال کیا اور اپنے دائیں ہاتھ بٹھا لیا۔
والی اندلس نے کہا ’’مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ابو عبید نے اپنے خط میں آپ کی بہت تعریف کی ہے۔ چند دن ہوئے مجھے یہ خبر ملی تھی کہ شمال کے پہاڑی لوگوں نے بغاوت کر دی ہے۔ میں آپ کو ان کی سرکوبی کے لیے بھیجنا چاہتا ہوں۔ آپ کل تک تیار ہو جائیں گے؟‘‘
’’اگر بغاوت ہے تو مجھے آج ہی جانا چاہیے اور بغاوت کی آگ کو پھیلنے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔‘‘
’’بہت اچھا۔ میں ابھی امیر عسا کر کو مشورے کے لیے بلاتا ہوں۔‘‘
نعیم اور والی اندلس آپس میں یہ باتیں کر رہے تھے کہ ایک سپاہی نے آ کر کہا۔’’مفتی اعظم آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘
گورنر نے کہا۔ انہیں کہو تشریف لے آئیں !‘‘
’’آپ شاید ان سے نہیں ملے!‘‘ اس نے نعیم کو مخاطب کر کے کہا۔ ’’انہیں آئے ایک ہفتے سے زیادہ نہیں ہوا۔ وہ امیر المؤمنین کے خاص احباب میں سے معلوم ہوتے ہیں اور مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ وہ اس منصب کے اہل نہیں۔‘‘
’’ان کا نام کیا ہے؟‘‘
’’ابن صادق۔ ‘‘ گورنر نے جواب دیا۔
نعیم نے چونک کر پوچھا۔ ’’ابن صادق؟‘‘
’’آپ انہیں جانتے ہیں ؟‘‘
اتنے میں ابن صادق اندر داخل ہوا اور اسے دیکھتے ہی نعیم کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کوئی تازہ مصیبت سر پر کھڑی ہے۔
ابن صادق نے بھی اپنے پرانے حریف کو دیکھا اور ٹھٹھک کر رہ گیا۔
’’آپ انہیں نہیں جانتے؟‘‘ گورنر نے ابن صادق کو مخاطب کیا۔’’ان کا نام زبیر ہے اور ہماری فوج کے بہت بہادر سالار ہیں۔‘‘
’’خوب! ابن صادق نے یہ کہہ کر نعیم کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن نعیم نے مصافحہ نہ کیا۔
’’شاید آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں آپ کا پرانا دوست ہوں۔ ‘‘ ابن صادق نے کہا۔
نعیم نے ابن صادق کی طرف توجہ نہ کی اور گورنر سے کہا۔’’آپ مجھے اجازت دیں !‘‘
’’ٹھہریے۔ میں سالار کے نام حکم نامہ لکھ دیتا ہوں۔ وہ آپ کے ساتھ جتنی فوج درکار ہو گی روانہ کر دے گا اور آپ بھی تشریف رکھیں !‘‘ اس نے ابن صادق کو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ابن صادق گورنر کے قریب بیٹھ گیا اور گورنر نے کاغذ پر حکم نامہ لکھ کر نعیم کو دینا چاہا۔
’’میں دیکھ سکتا ہوں ؟‘‘ ابن صادق نے کہا۔
’’خوشی سے۔‘‘ گورنر نے کہا اور کاغذ ابن صادق کے ہاتھ میں دے دیا۔
ابن صادق نے کاغذ لے کر پڑھا اور گورنر کو واپس دیتے ہوئے کہا۔’’اب اس شخص کی خدمات کی ضرورت نہیں۔ آپ اس کی جگہ کوئی اور آدمی بھیج دیں !‘‘
گورنر نے حیران ہو کر پوچھا۔ ’’آپ کو انکے متعلق کیسا شبہ ہو گیا۔یہ تو ہماری فوج کے بہترین سالار ہیں !‘‘
’’لیکن آپ کو یہ معلوم نہیں کہ یہ امیر المومنین کے بدترین دشمن ہیں اور ان کا نام زبیر نہیں نعیم ہے اور یہ دمشق کے قید خانے سے فرار ہو کر یہاں تشریف لائے ہیں۔‘‘
  ’’کیا یہ سچ ہے؟‘‘ گورنر نے پریشان ہو کر سوال کیا۔
نعیم خاموش رہا۔
ابن صادق نے کہا۔’’آپ فوراً اسے گرفتار کر لیں اور آج ہی میری عدالت میں پیش کریں۔‘‘
’’میں ایک سالار کو بغیر کسی ثبوت کے گرفتار نہیں کر سکتا۔ آپ ایک دوسرے کے ساتھ پہلی ہی ملاقات میں اس طرح پیش آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے درمیان کوئی پرانی رنجش ہے اور اس صورت میں اگر یہ مجرم بھی ہوں تو بھی میں ان کا مقدمہ آپ کے سپرد نہیں کروں گا۔‘‘
’’آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ سپین کے مفتی اعظم سے باتیں کر رہے ہیں۔‘‘
’’اور آپ کو معلوم ہے کہ میں سپین کا عامل ہوں۔‘‘
’’ٹھیک۔ لیکن آپ کو معلوم نہیں کہ میں سپین کے مفتی اعظم کے علاوہ اور بھی کچھ ہوں۔‘‘
نعیم نے کہا۔’’یہ نہیں جانتے میں بتا دیتا ہوں۔ آپ امیر المومنین کے دوست قتیبہؒ بن مسلم، محمدؒ بن قاسم اور ابی عامرؒ کے قاتل ہیں۔ ترکستان کی کی بغاوت آپ کی کرم فرمائی کا نتیجہ تھی اور آپ وہ سفاک انسان ہیں جس نے اپنے بھائی اور بھتیجی کے قتل سے بھی دریغ نہیں کیا لیکن اس وقت آپ میرے مجرم ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر نعیم نے بجلی کی سی پھرتی کے ساتھ نیام سے تلوار نکال لی اور اس کی نوک ابن صادق کے سینے پر رکھتے ہوئے کہا۔’’ میں نے تمہیں بہت تلاش کیا لیکن تم نہ ملے۔ آج قدرت خود ہی تمہیں یہاں لے آئی۔ تم امیر المؤمنین کے دوست ہو۔ انہیں تمہارے اس انجام سے صدمہ تو بہت ہو گا لیکن اسلام کا مستقبل مجھے خلیفہ کی خوشی سے زیادہ عزیز ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر نعیم نے تلوار اوپر اٹھائی۔ ابن صادق بید کی طرح کانپ رہا تھا۔ موت سر پر دیکھ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ نعیم یہ حالت دیکھ کر تلوار نیچے کر لی اور کہا۔’’اس تلوار سے میں نے سندھ اور ترکستان کے مغرور شہزادوں کی گردنیں اڑا چکا ہوں۔ میں اسے تم ایسے ذلیل اور بزدل انسان کے خون سے تر نہیں کروں گا۔ نعیم نے تلوار نیام میں ڈال لی اور کمرے میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
ایک فوجی افسر کی مداخلت نے اس سکوت کو توڑا۔ اس نے آتے ہی والی سپین کی خدمت میں ایک خط پیش کیا۔ والی سپین نے جلدی سے خط کھولا اور دو تین مرتبہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر پڑھنے کے بعد نعیم کی طرف دیکھا اور کہا:
’’اگر آپ کا نام زبیر نہیں نعیم ہے تو اس خط میں آپ کے متعلق بھی کچھ ارشاد ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے نعیم کی طرف خط بڑھا دیا۔ نعیم نے خط پڑھنا شروع کر دیا۔
یہ خط امیر المومنین عمرؒ بن عبد العزیز کی طرف سے تھا۔
والی سپین نے تا لی بجائی۔ چند سپاہی نمودار ہوئے۔
’’اسے گرفتار کر لو!‘‘ اس نے ابن صادق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
ابن صادق کو وہم تک بھی نہیں تھا کہ اس کے مقدر کا ستارہ طلوع ہوتے ہی سیاہ بادلوں میں چھپ جائے گا۔
ادھر نعیم جنوبی پرتگال کی طرف گورنر کی حیثیت سے جا رہا تھا اور ادھر چند سپاہی ابن صادق کو پا بہ زنجیر دمشق کی کی طرف لے جا رہے تھے۔
چند دنوں بعد نعیم کو معلوم ہوا کہ ابن صادق نے دمشق پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی زہر کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے۔
نعیم نے عبد اللہ کو خط لکھ کر گھر کی خیریت دریافت کی۔ اس خط کا جواب دیر تک نہ آیا۔نعیم تنگ آگیا اور تین مہینے کی رخصت پر بصرہ کی طرف روانہ ہوا۔ چونکہ نرگس اس کے ہمراہ تھی اس لیے سفر میں دیر لگ گئی۔گھر پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ عبد اللہ خراسان جا چکا ہے اور عذرا کو بھی ساتھ لے گیا ہے۔ نعیم خراسان جانا چاہتا تھا لیکن سپین کے شمال کی طرف اسلامی افواج کی پیش قدمی کی وجہ سے اپنا ارادہ ملتوی کر کے واپس آنا پڑا۔




آخری فرض


  وقت دنوں سے مہینوں اور مہینوں سے برسوں میں تبدیل ہو کر گزرتا چلا گیا۔ نعیم کو جنوبی پرتگال کی گورنری پر فائر ہوئے اٹھارہ سال گزر چکے تھے۔ اس کی جوانی بڑھاپے میں تبدیل ہو چکی تھی۔ نرگس کی عمر بھی چا لیس سے تجاویز کر چکی تھی لیکن اس کے حسیں چہرے کی جاذبیت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آتی تھی۔
عبد اللہ بن نعیم، ان کا بڑا بیٹا عمر کے پندرھویں برس میں قدم رکھتے ہی سپین کی فوج میں بھرتی ہو چکا تھا۔ تین سال کے اندر اندر اس نے اس قدر شہرت حاصل کر لی تھی کہ نرگس اور نعیم اپنے ہونہار لال پر بجا طور پر فخر کر سکتے تھے۔ دوسرا بیٹا حسین اپنے بڑے بھائی سے آٹھ سال چھوٹا تھا۔
ایک دن حسین بن نعیم مکان کے صحن میں کھڑا لکڑی کے ایک تختے کو ہدف بنا کر تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا۔ نرگس اور نعیم برآمدے میں کھڑے اپنے لخت جگر کو دیکھ رہے تھے۔ حسین کے چند تیر نشانے پر نہ لگے۔ نعیم مسکراتا ہوا آگے بڑھا اور حسین کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔ حسین نے تیر چڑھا کر باپ کی طرف دیکھا اور ہدف کا نشانہ لیا۔
’’بیٹا! تمہارے ہاتھ کانپتے ہیں اور تم گردن ذرا بلند رکھتے ہو!‘‘
’’ابا! جب آپ میری طرح تھے۔ آپ کے ہاتھ نہیں کانپا کرتے تھے؟‘‘
’’بیٹا! جب میں تمہاری عمر میں تھا تو اڑتے ہوئے پرندوں کو گرا لیا کرتا تھا اور جب میں تم سے چار سال بڑا تھا تو بصرہ کے لڑکوں میں سب سے اچھا تیر انداز مانا جاتا تھا۔‘‘
’’ابا جان! آپ نشانہ لگا کر دیکھیں !‘‘
نعیم نے اس کے ہاتھ سے کمان لے کر تیر چلایا تو وہ ہدف کے عین درمیان میں جا کر لگا۔ اس کے بعد نعیم اسے نشانہ لگانے کا طریقہ سمجھانے لگا۔ نرگس بھی ان کے قریب آ کھڑی ہوئی۔
ایک نوجوان گھوڑا بھگاتا ہوا مکان کے پھاٹک پرا کر رکا۔ نوکر نے پھاٹک کھولا۔ سوار گھوڑا نوکر کے حوالے کر کے بھاگتا ہوا صحن کے اندر داخل ہوا۔
نعیم نے ’’عبد اللہ‘‘ کہہ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ نرگس اپنی نگاہ کی ہر جنبش میں ہزاروں دعائیں لیے آگے بڑھی۔ ’’بیٹا! تم آ گئے۔ الحمد للہ!‘‘
نعیم نے سوال کیا۔ ’’کیا خبر لائے ہو بیٹا؟‘‘
’’ابا جان! عبد اللہ بن نعیم نے سر جھکا کر غمگین سا چہرہ بناتے ہوئے کہا۔’’کوئی اچھی خبر نہیں۔ فرانس کے معرکے میں ہمیں سخت نقصان اٹھا کر واپس ہونا پڑا۔ ہم سرحدی علاقے فتح کرنے کے بعد مزید پیشقدمی کی تیاری کر رہے تھے کہ ہمیں فرانس کی ایک لاکھ فوج کا سامنا کرنا پڑا۔ ہماری فوج اٹھارہ ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔ہمارے سپہ سالار عقبہ نے قرطبہ سے مدد طلب کی لیکن وہاں سے خبر آئی کہ مراکش میں بغاوت ہو گئی ہے۔
   اس لیے فرانس کی طرف زیادہ فوجیں نہیں بھیجی جا سکتیں۔ ہمیں مجبوراً شاہ فرانس کے مقابلے میں صف آرا ہونا پڑا اور ہماری فوج کے نصف سے زیادہ سپاہی میدان میں کام آئے۔‘‘
’’اور اب عقبہ کہاں ہے؟‘‘ نعیم نے سوال کیا۔
’’وہ قرطبہ پہنچ چکا ہے اور عنقریب مراکش کی طرف کوچ کرنے والا ہے۔ بغاوت کی آگ کے شعلے مراکش سے تیونس تک بلند ہو رہے ہیں۔ بربریوں نے تمام مسلمان حکام قتل کر دیے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اس بغاوت میں خارجیوں اور رومیوں کا ہاتھ ہے۔‘‘
نعیم نے کہا۔’’عقبہ ایک بہادر سپاہی ہے لیکن قابل سپہ سالار نہیں۔ میں نے والی سپین کو لکھا کہ مجھے فوج میں لیا جائے لیکن وہ مانتے نہیں۔‘‘
’’اچھا  ابا جان! مجھے اجازت دیجئے۔‘‘
’’اجازت! کہاں جاؤ گے؟‘‘ نرگس نے پوچھا۔
’’امی جان! میں فقط آپ کو اور ابا جان کو دیکھنے کے لیے آیا تھا۔ مجھے فوج کے ساتھ مراکش جانا ہے۔‘‘
’’اچھا اللہ تمہاری حفاظت کرے!‘‘ نعیم نے کہا۔
’’اچھا امی خدا حافظ!‘‘ یہ کہہ کر عبد اللہ نے حسین کو گلے لگایا اور وہ جس تیزی سے آیا تھا اسی طرح گھوڑا دوڑاتا ہوا واپس چلا گیا۔

(۲)

بربریوں کی بغاوت میں مسلمانوں کی ہزاروں جانیں تلف ہوئیں۔ انہوں نے مسلمان حکام کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا۔
عقبہ مراکش کے ساحل پر اترا اور ۳۲۱ھ میں شام سے کچھ فوجیں اس کی اعانت کے لیے پہنچ گئیں۔ مراکش میں ایک گھمسان کا معرکہ ہوا۔ نیم عریاں بربریوں کی افواج چاروں طرف سے ایک سیلاب کی طرح نمودار ہوئیں۔ ہسپانیہ اور شام کی افواج نے ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن حریف کی لاتعداد فوج کے سامنے پیش نہ گئی۔عقبہ اس لڑائی میں شہید ہوا اور مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ بربریوں نے انہیں گھیر گھیر کر قتل کرنا شروع کر دیا۔
نعیم کا بیٹا عبد اللہ دشمن کی صفوں کو چیرتا ہوا بہت دور نکل گیا اور زخمی ہو کر اپنے گھوڑے سے گرنے کو تھا کہ ایک عربی جرنیل نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے گھوڑے پر بٹھا لیا اور میدان جنگ سے باہر ایک محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔
ہسپانیہ اور شام کے لشکر کا قریباً تین چوتھائی حصہ قتل ہو چکا تھا۔ رہے سہے سپاہی ایک طرف سمٹنے لگے۔ بربریوں نے انہیں پسپا ہوتے دیکھ کر کئی میل تک تعاقب کیا۔ شکست خورد فوج نے الجزائر میں جا کر دم لیا۔
والی سپین کو جب اس شکست کی خبر پہنچی تو اس نے ہسپانیہ کے تمام صوبوں سے نئی فوج فراہم کرنے کی کوشش کی اور اس نئے لشکر کی قیادت کے لیے نعیم کو منتخب کیا۔ نعیم کو اپنے بیٹے کے خط سے اسکے زخمی ہونے اور ایک مجاہد کے ایثار سے اس کی جان بچ جانے کا حال معلوم ہو چکا تھا۔ ۵۲۱ھ میں جب بربری تمام شما لی افریقہ میں مظالم برپا کر رہے تھے، نعیم اچانک دس ہزار سپاہیوں کے ساتھ افریقہ کے ساحل پر اترا۔ بربری اس کی آمد سے بے خبر تھے۔نعیم انہیں شکست پر شکست دیتا ہوا مشرق کی طرف بڑھا۔
ادھر الجزائز سے شکست خوردہ افواج نے پیش قدمی کی اور بربریوں کی طرف سے سرکوبی ہونے لگی۔ ایک مہینے میں مراکش میں بغاوت کی آگ ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ لیکن افریقہ کے شمال مشرق میں ابھی یہ فتنہ کہیں کہیں جاگ رہا تھا۔ خارجیوں اور بربریوں نے مراکش شے پسپا ہو کر تیونس کو اپنا مرکز بنا لیا تھا۔ نعیم مراکش کے نظم و نسق میں مصروف تھا۔ اس لیے پیشقدمی نہ کر سکا۔ اس نے فوج کے چیدہ چیدہ افسروں کو اپنے خیمے میں اکٹھا کیا اور ایک پر جوش تقریر کرتے ہوئے کہا۔’’تیونس پر حملہ کرنے کے لیے ایک سرفروش جرنیل کی ضرورت ہے۔ آپ میں سے کون ہے جو اس خدمت کا ذمہ لے گا!‘‘
   نعیم نے اپنا فقرہ پورا نہ کیا تھا کہ تین جرنیل اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ ان میں سے ایک اس کا پرانا دوست یوسف تھا۔ دوسرا اس کا نوجوان بیٹا عبد اللہ۔ تیسرے نوجوان کی شکل عبد اللہ سے ملتی جلتی تھی لیکن نعیم اسے ناواقف تھا۔
’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ نعیم نے سوال کیا۔
’’میرا نام نعیم ہے۔‘‘ نوجوان نے جواب دیا۔
’’عبد اللہ؟ عبد اللہ بن عبدالرحمن؟‘‘ نعیم نے پوچھا۔
’’جی ہاں !‘‘
نعیم نے آگے بڑھ کر نوجوان کو گلے لگا لیا اور کہا۔’’تم مجھے جانتے ہو؟‘‘
’’جی ہاں ! آپ ہمارے سالار ہیں۔‘‘
’’میں اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہوں۔‘‘ نعیم نے جوان کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔’’میں تمہارا چچا ہوں۔ عبد اللہ یہ تمہارا بھائی ہے!‘‘
’’ابا جان! انہی نے مراکش کی لڑائی میں میری جان بچائی تھی۔‘‘
’’بھائی جان کیسے ہیں ؟‘‘ نعیم نے سوال کیا۔
’’انہیں شہید ہوئے دو سال ہو گئے ہیں۔ انہیں ایک خارجی نے قتل کر ڈالا تھا۔
نعیم کے دل پر ایک چرکا لگا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر ہاتھ اٹھا کر دعائے مغفرت کی اور پوچھا۔’’تمہاری والدہ؟‘‘
’’وہ اچھی ہیں۔‘‘
’’تمہارے بھائی کتنے ہیں ؟‘‘
’’ایک بھائی اور چھوٹی ہمشیرہ ہے۔‘‘
نعیم نے باقی افسروں کو رخصت کیا اور ان کے چلے جانے کے بعد اپنی کمر سے تلوار نکال کر نعیم بن عبد اللہ کو دیتے ہوئے کہا۔’’تم اس امانت کے حقدار ہو اور تم یہیں رہو۔ میں خود تیونس کی طرف جاؤں گا۔‘‘
’’چچا جان! آپ مجھے کیوں نہیں بھیجتے؟‘‘
’’بیٹا! تم جوان ہو۔ دنیا کو تمہاری ضرورت پڑے گی۔ آج سے تم یہاں کی افواج کے سپہ سالار ہو۔ عبد اللہ یہ تمہارے بڑے بھائی ہیں۔ انکا حکم دل و جان سے بجا لانا!‘‘
نعیم بن عبد اللہ نے کہا۔’’چچا جان میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں !‘‘
’’کہو بیٹا!‘‘
’’آپ گھر نہیں جائیں گے؟‘‘
’’بیٹا! تیونس کی مہم کے بعد میں فوراً وہاں جاؤں گا۔‘‘
’’چچا جان۔ آپ ضرور جائیں۔ امی جان اکثر آپ کا تذکرہ کیا کرتی ہیں۔ میری چھوٹی بہن اور بھائی بھی آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔‘‘
’’انہیں معلوم ہے کہ میں زندہ ہوں ؟‘‘
’’امی کو یقین تھا کہ آپ زندہ رہیں۔ انہوں نے مجھے تاکید کی تھی کہ میں مراکش کی مہم کے بعد آپ کو سپین جا کر تلاش کروں اور آپ سے یہ کہوں کہ آپ چچی کے ہمراہ گھر تشریف لائیں !‘‘
’’میں بہت جلد وہاں پہنچ جاؤں گا۔ عبد اللہ تم اندلس جاؤ اور اپنی والدہ کو لے کر بہت جلد گھر پہنچ جاؤ۔ میں تیونس سے فراغت پاتے ہی آ جاؤں گا۔ میں والی اندلس کو خط لکھ دیتا ہوں۔ وہ تمہارے لیے بحری سفر کا انتظام کر دے گا۔‘‘

(۳)

تیونس میں باغیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے نعیم کو اپنی توقع کے خلاف بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بربری ایک جگہ سے شکست کھا کر بھاگتے تھے اور دوسری جگہ لوٹ مار شروع کر دیتے تھے۔نعیم چند مہینوں میں کئی جنگیں لڑنے کے بعد تیونس کی بغاوت فرو کرنے میں کامیاب ہوا۔ تیونس سے باغی جماعتیں پسپا ہو کر مشرق کی طرف پھیل گئیں۔ نعیم باغیوں کی سرکوبی کا تہیہ کر کے آگے بڑھتا گیا۔ تیونس اور قیروان کے درمیان باغی جماعتوں نے کئی بار نعیم کا مقابلہ کیا لیکن شکست کھائی۔ قیروان کے قریب آخری جنگ میں نعیم بری طرح زخمی ہوا۔ وہ بے ہوشی کی حالت میں قیرون لایا گیا اور وہاں کے عامل نے اسے اپنے پاس ٹھہرایا اور اس کے علاج کے لیے ایک تجربہ کار طبیب بلا بھیجا۔ نعیم کو دیر کے بعد ہوش آیا لیکن بہت زیادہ خون بہ جانے کی وجہ سے وہ اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ اسے دن میں کئی بار غش آتا تھا۔ ایک ہفتے تک نعیم موت و حیات کی کشمکش میں بسترپر پڑا رہا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر والی قیروان نے فسطاط سے ایک مشہور طبیب کو بلا بھیجا۔ طبیب نے نعیم کے زخم دیکھ کر اسے تسلی دی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انہیں دیر تک آرام کرنا پڑے گا!
تین ہفتوں کے بعد نعیم کی حالت میں قدرے افاقہ ہوا اور اس نے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی لیکن طبیب نے کہا۔’’زخم ابھی تک اچھے نہیں ہوئے۔ سفر میں ان کے دوبارہ پھٹ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے آپ کو کم از کم ایک مہینہ زیر علاج رہنا چاہیے۔مجھے ڈر ہے کہ یہ زخم زہر آلود ہتھیاروں لے لگے ہیں اور ممکن ہے کہ خون کی خرابی سے پھر ایک بار بگڑ جائیں !‘‘
نعیم نے ایک ہفتہ اور صبر کیا لیکن گھر جانے کے لیے اس بے قراری میں ہر لحظہ اضافہ ہو رہا تھا۔ وہ ساری رات بستر پر کروٹیں بدلتے گزار دیتا۔ جی میں آتی کہ ایک بار اڑ کر اس جنت ارضی میں پہنچ جائے۔
اسے یقین تھا کہ نرگس وہاں پہنچ چکی ہو گی اور عذرا کے ساتھ ریت کے ٹیلوں پر کھڑی اس کی راہ دیکھتی ہو گی۔
بیس دن اور گزر جانے پر اس کے زخم جو کسی حد تک اچھے ہو چکے تھے بگڑنے لگے اور ہلکا ہلکا بخار آنے لگا۔ طبیب نے اسے بتایا کہ یہ تمام زہر آلود ہتھیاروں کا اثر ہے۔ زہر اس کے رگ و ریشے میں سرایت کر گیا ہے اور اسے کافی دیر تک یہاں ٹھہر کر علاج کرنے پڑے گا۔
ایک روز آدھی رات کے قریب نعیم اپنے بستر پر لیٹا ہوا سوچ رہا تھا کہ وہ گھر پہنچ کر عذرا کو کس حالت میں دیکھے گا۔ وقت نے اس کے معصوم چہرے پر کیا کیا تغیرات پیدا کر دیے ہوں گے۔ اس کی مغموم صورت دیکھنے پر اس کے دل کیا کیفیت ہو گی۔ اسے یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ شاید قدرت کو اب بھی اس کا گھر جانا منظور نہیں۔ وہ پہلے بھی کئی بار زخمی ہوا تھا لیکن ان زخموں کی کیفیت کچھ اور تھی۔ اس نے اپنے دل میں کہا ’’ہو سکتا ہے کہ یہ زخم مجھے موت کی آغوش میں لے جائیں۔ لیکن مجھے نرگس اور عذرا سے بہت کچھ کہنا ہے۔اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو چند وصیتیں کرنی ہیں۔ مجھے موت کا ڈر نہیں۔ میں ہمیشہ موت سے کھیلتا رہا ہوں لیکن یہاں لیٹے لیٹے موت کا انتظار کرنا میرے لیے مناسب نہیں۔ مجھے عذرا نے گھر آنے کا پیغام بھیجا ہے....وہ عذرا جس کی معمولی خوشی کے لیے میں کبھی جان پر کھیل جانا آسان سمجھتا تھا اور اس کے علاوہ نرگس کے دل کی کیا حالت ہو گی؟ میں ضرور جاؤں گا۔ مجھے کوئی نہیں روک سکتا!‘‘
نعیم یہ کہتا ہوا بستر سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ مجاہد کا عزم جسمانی کمزوری پر غالب آنے لگا اور وہ عمل کے ایک بے پناہ جذبے سے بے تاب ہو کر کمرے میں ٹہلنے لگا۔ وہ بھول چکا تھا کہ وہ زخمی ہے اور اس کی جسمانی حالت ایک لمبا سفر اختیار کرنے کے قابل نہیں۔ اس وقت اس کے دماغ میں فقط نرگس، عذرا، عبد اللہ کے کمسن بچے اور بستی کے حسین نخلستانوں کا تصور تھا۔ میں ضرور جاؤں گا! یہ اس کا آخری فیصلہ تھا۔
وہ اچانک کمرے میں ٹہلتا ٹہلتا رک گیا۔ اس نے اپنے میزبان کے نوکر کو آواز دی۔ نوکر بھاگتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور نعیم کو بستر پر  دیکھنے کی بجائے کمرے میں چکر لگتا دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے کہا۔ طبیب کا حکم ہے کہ آپ چلنے پھرنے سے گریز کریں !‘‘
’’تم میرا گھوڑا تیار کرو۔جاؤ!‘‘
’’آپ کہاں جانا چاہتے ہیں ؟‘‘
’’تم گھوڑا تیار کرو!‘‘
’’لیکن اس وقت؟‘‘
’’فوراً! نعیم نے سختی سے کہا۔
’’رات کے وقت آپ کہاں جائیں گے؟‘‘
’’تہیں جو کچھ کہا گیا ہے وہ کر۔ فضول سوالات کا جواب میرے پاس نہیں !‘‘
نوکر گھبرا کر کمرے سے باہر نکلا۔
نعیم پھر بستر پر بیٹھ کر خیالات کی دنیا میں کھو گیا۔
تھوڑی دیر بعد نوکر واپس آیا اور بولا۔’’گھوڑا تیار ہے لیکن....!!‘‘
نعیم نے بات کاٹ کر جواب دیا ’’تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو۔ میں جانتا ہوں مجھے ایک ضروری کام ہے۔ اپنے مالک سے کہنا کہ میں نے اجازت حاصل کرنے کے لیے انہیں رات کے وقت جگانا مناسب خیال نہیں کیا۔‘‘

(۴)

صبح ہونے سے پہلے نعیم قیروان سے کوئی دو منازل پگے جا چکا تھا۔ اس لمبے سفر میں اس نے یہ احتیاط ضرور برتی کہ گھوڑے کو تیز نہ کیا۔ اور تھوڑی تھوڑی منازل کے بعد آرام کرتا تھا۔ فسطاط پہنچ کر اس نے دور دن قیام کیا۔ وہاں کے گورنر نے پہلے تو نعیم کو اپنے پاس ٹھہرانے کے لیے اصرار کیا لیکن جب نعیم کسی صورت میں بھی رضا مند نہ ہوا تو اس نے راستے کی تمام چوکیوں کو اس کی آمد سے مطلع کرتے ہوئے اس کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کرنے کا حکم صادر کر دیا۔
نعیم جوں جوں منزل کے نزدیک پہنچ رہا تھا اسے اپنی جسمانی تکلیف میں افاقہ محسوس ہو رہا تھا۔ کئی دنوں بعد ایک شام وہ ایک صحرائی خطے میں سے گزر رہا تھا۔ اس کی بستی فقط چند کوس کے فاصلے پر تھے۔ ہر نئے قدم پر نئی امنگیں بیدار ہو رہی تھیں۔اس کا دل مسرت کے سمندر میں غوطے لگا رہا تھا۔اچانک اسے افق مغرب پر ایک غبار سا اٹھتا ہوا دکھائی دیا۔ ایک ساعت کے اندر اندر یہ غبار چاروں طرف پھیل گیا اور فضا میں تاریکی چھا گئی۔نعیم ریگستان کے طوفانوں سے اچھی طرح واقف تھا۔ وہ طوفان کی مصیبت میں مبتلا ہونے سے پہلے گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔ اس نے گھوڑے کی رفتار تیز کر دی اور ہوا کا پہلا جھونکا محسوس کرتے ہی اسے سرپٹ چھوڑ دیا۔ ہوا کی تیزی اور فضا کی تاریکی بڑھتی گئی۔ گھوڑا بھگانے کی وجہ سے نعیم کے سینے کے زخم پھٹ گئے اور خون بہنے لگا۔ اس نے اس حالت میں کوئی دو کوس فاصلہ طے کیا ہو گا کہ طوفان نے اسے پوری طاقت کے ساتھ گھیرا۔چاروں طرف سے جھلستی ہوئی ریت برسنے لگی۔ گھوڑا آگے نہ بڑھنے کا راستہ پا کر رک گیا۔ نعیم مجبوراً گھوڑے سے اترا اور ہوا کے مخالف پیٹھ کر کے کھڑا ہو گیا۔ گھوڑا بھی اپنے مالک کی طرح سر نیچا کر کے کھڑا تھا۔ نعیم نے اپنے چہرے کو جھلستی ہوئی ریت سے بچانے کے لیے نقاب اوڑھ کانٹے دار جھاڑیاں ہوا میں اڑتی ہوئی آتیں اور اس کے جسم میں کانٹے پیوست کرتی ہوئی گر جاتیں۔ نعیم ایک ہاتھ سے گھوڑے کی باگ تھامے، دوسرے ہاتھ سے اپنے دامن سے چمٹی ہوئی خاردار ٹہنیوں کو جدا کر رہا تھا۔گھوڑے کی باگ پر اس کے ہاتھ کی گرفت قدرے ڈھیلی تھی۔ببول کی ایک خشک ٹہنی اڑتی ہوئی گھوڑے کی پیٹھ پر زورسے آ  کر لگی۔ گھوڑے نے بدحواس ہو کر ایک جست لگائی اور نعیم کے ہاتھ سے باگ چھڑا کر کچھ دور جا کھڑا ہوا۔ ایک اور ٹہنی گھوڑے کے کانوں میں کانٹے پیوست کرتی ہوئی گزر گئی اور وہ بدحواس ہو کر ایک طرف بھاگ نکلا۔ نعیم دیر تک اسی جگہ بے بسی کی حالت میں کھڑا رہا۔  سینے کا زخم پھٹ جانے سے خون کے قطرے آہستہ آہستہ بہہ کراس کے گریبان کو تر کر رہے تھے۔ اور اس کی جسمانی طاقت لحظہ بہ لحظہ جواب دے رہی تھی۔ وہ مجبوراً ریت پر بیٹھ گیا۔ کبھی کبھی وہ ریت کے اس بے پناہ سیلاب میں دب جانے کے خوف سے اٹھ کر کپڑے جھاڑتا اور پھر بیٹھ جاتا۔ کچھ دیر بعد رات کی سیاہی طوفان کی تاریکی میں اضافہ کرنے لگی۔ ایک پہر سے زیادہ رات گزر جانے پر ہوا کا زور ختم ہوا۔ آہستہ آہستہ مطلع صاف ہو گیا اور آسمان پر جگمگاتے ہوئے ستارے نظر آنے لگے۔
نعیم اپنی بستی سے آٹھ کوس دور تھا۔ اس کا گھوڑا ہاتھ سے جا چکا تھا اور ٹانگوں میں چلنے کی طاقت نہ تھی۔ وہ پیاس محسوس کر رہا تھا۔ اسے خیال گزرا کہ اگر صبح ہونے سے پہلے وہ ریت کے اس سمندر کو عبور کے محفوظ مقام پر نہ پہنچ گیا تو دن کی دھوپ میں اسے تڑپ تڑپ کر جان دینی پڑے گی۔
وہ ستاروں کی سمت کا اندازہ لگاتے ہوئے پیدل چل دیا۔ ایک کوس چلنے کے بعد اس کی طاقت نے جواب دے دیا اور وہ مایوس ہو کر ریت پر لیٹ گیا۔ منزل سے اتنا قریب آ کر ہمت ہار دینا مجاہد کے عزم و استقلال کے منافی تھا۔ وہ ایک بار لڑکھڑاتا ہوا اٹھا اور منزل مقصود کی طرف قدم اٹھانے لگا۔ ریت میں گھٹنوں تک اس کے پاؤں دھنسے جارے تھے۔ وہ چلتے چلتے تین بار گرا، لیکن پھر اسی عزم کے ساتھ اٹھا اور آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ پیاس کی شدت سے اس کا گلا خشک ہو رہا تھا اور کمزوری سے اس کی آنکھوں کے سامنے سیاہی طاری ہو رہی تھی۔ سر چکرا رہا تھا۔ بستی ابھی چار کوس دور تھی۔ اسے معلوم تھا کہ بستی کی طرف جانے والی ندی یہاں سے قریب ہے۔ اس نے ڈگمگاتے، گرتے اور سنبھلتے ایک کورس اور طے کیا تو ایک چھوٹی سی ندی دکھائی دی۔
ندی کا پانی طوفان کے گرد و غبار سے گدلا ہو رہا تھا اور سطح پر جھاڑیوں کی بیشمار ٹہنیاں تیر رہی تھی۔ نعیم نے جی بھر کر ندی سے پانی پیا۔ کچھ دیر ندی کے کنارے لیٹنے کے بعد کچھ تقویت محسوس ہوئی اور وہ اٹھ کر چل دیا۔
ندی کو عبور کرتے ہی بستی کے ارد گرد نخلستان دکھائی دینے لگے۔ نعیم کے دل سے تھکاوٹ اور جسمانی کمزوری کا احساس کم ہونے لگا اور ہر قدم پر اس کی رفتار زیادہ ہونے لگی۔ چند ساعتوں کے بعد وہ ریت کے اس ٹیلے کو عبور کر رہا تھا۔ جس پر بچپن میں وہ اور عذرا کھیلا کرتے تھے اور ریت کے چھوٹے چھوٹے گھر تعمیر کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ کھجور کے بلند درختوں میں سے گزرتا ہوا اپنے مکان کی طرف بڑھا۔ دروازے پر کچھ دیر دھڑکتے ہوئے دل کو دبائے کھڑا رہا۔ بالآخر اس نے ہمت کر کے دروازہ کھٹکھٹایا۔ گھر والے ایک دوسرے کو جگانے لگ گئے۔ ایک نوجوان لڑکی نے آ کر دروازہ کھولا۔نعیم نوجوان لڑکی کو متحیر ہو کر دیکھنے لگا۔ اس کی شکل ہو بہو عذرا جیسی تھی۔ لڑکی نعیم کو دیکھ کر کچھ کہے بغیر واپس اندر چلی گئی۔ تھوڑا دیر بعد اس کا بیٹا عبد اللہ اور نرگس نعیم کے استقبال کے لیے آ موجود ہوئے۔ عذرا، عبد اللہ اور نرگس کے پیچھے جھجکتی ہوئی آ رہی تھی۔
نعیم نے چاند کی روشنی میں دیکھا کہ کائناتِ حسن کی ملکہ کا شباب اگر چہ گردش ایام کی نذر ہو چکا تھا لیکن ابھی تک اس کے پژمردہ چہرے پر ایک غیر معمولی رعب دار اور وقار کی جھلک باقی تھی۔
’’بہن! نعیم نے ایک دردناک لہجے میں کہا۔
’’بھائی!‘‘ عذرا نے خوف زدہ چہرہ بنا کر کہا۔
وہ جسمانی طاقت جسے نعیم نے محض اپنے عزم کی بدولت ابھی تک قائم رکھا ہوا تھا۔ یکلخت جواب دے گئی۔
اس نے کہا۔’’عبد اللہ! بیٹا، مجھے سہارا دینا!‘‘
عبد اللہ اسے سہارا دے کر اندر لے گیا۔
صبح کے وقت نعیم بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ نرگس، عبد اللہ بن نعیم، حسین بن نعیم، خالد عذرا کا چھوٹا اور آمنہ عذرا کی لڑکی اس کے گرد کھڑے تھے۔ نعیم نے آنکھیں کھولیں۔ سب پر نگاہ دوڑائی اور اشارے سے خالد اور آمنہ کو بلا کر اپنے پاس بٹھا لیا۔
  ’’خالد۔ چچا جان۔‘‘
’’اور تمہارا؟‘‘ لڑکی کی طرف دیکھ کر نعیم نے سوال کیا۔
’’آمنہ۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
خالد کی عمر سترہ سال کے لگ بھگ معلوم ہوتی تھی اور آمنہ اپنی شکل و شباہت سے چودہ پندرہ برس کی معلوم ہوتی تھی۔
نعیم نے خالد کی طرف دیکھ کر کہا:’’بیٹا! مجھے قرآن سناؤ!‘‘
خالد نے اپنی شیریں آواز میں سورہ یٰسین کی تلاوت شروع کی۔
دوسرے دن پھٹے ہوئے زخم زیادہ تکلیف دینے لگے اور نعیم کو سخت بخار ہو گیا۔ سینے کے زخم سے خون برابر جاری تھا۔ خون کی کمی کی وجہ سے اسے غش پر غش آنے لگے۔ ایک ہفتے تک اس کی یہی حالت رہی۔ عبد اللہ بصرہ سے ایک طبیب لے آیا۔ وہ مرہم پٹی کر کے چلا گیا مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔
ایک دن نعیم نے خالد سے پوچھا۔’’بیٹا! تم ابھی تک جہاد پر نہیں گئے؟‘‘
’’چچا جان! میں رخصت پر آیا تھا۔‘‘ اس نے جواب دیا۔’’اور اب جانے والا تھا کہ........!‘‘
’’تم جانے والے تھے تو گئے کیوں نہیں ؟‘‘
’’چچا جان۔ آپ کو اس حالت میں چھوڑ کر....!‘‘
’’بیٹا! جہاد کے لیے ایک مسلمان کو دنیا کی عزیز ترین چیزوں سے جدا ہونا پڑتا ہے۔ تم میری فکر نہ کرو۔ اپنا فرض پورا کرو! تمہاری والدہ نے تمہیں یہ سبق نہیں دیا کہ جہاد مسلمان کا سب اہم فرض ہے؟‘‘
’’چچا جان! امی ہمیں بچپن ہی سے یہ سبق دیتی رہی ہیں۔ میں صرف چند دن آپ کی تیمار داری کے لیے ٹھہر گیا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر میں آپ کو اس حالت میں چھوڑ کر چلا گیا تھا تو آپ شاید خفا ہو جائیں گے۔‘‘
’’میری خوشی اسی بات میں ہے کہ جس میں میرے مولیٰ کی خوشی ہو۔ جاؤ عبد اللہ کو بلا تاؤ!‘‘
خالد دوسرے کمرے سے عبد اللہ کو بلا لیا۔
نعیم نے سوال کیا۔’’تمہارا بیٹا تمہاری رخصت ابھی ختم نہیں ہوئی؟‘‘
’’ابا جان! میری رخصت ختم ہوئے پانچ دن ہو چکے ہیں۔‘‘
’’تم گئے کیوں نہیں بیٹا؟‘‘
’’ابا جان! میں آپ کے حکم کا انتظار کر رہا تھا۔‘‘
نعیم نے کہا۔’’خدا اور خدا کے رسولﷺ کے حکم کے بعد تمہیں کسی کے حکم کی ضرورت نہیں بیٹا! جاؤ‘‘ ’’ابا جان! آپکی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
’’میں اچھا ہوں بیٹا!‘‘ نعیم نے اپنے چہرے کو بشاش بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔’’تم جاؤ!‘‘
’’ابا جان! ہم تیار ہیں۔‘‘

(۵)

خالد اور عبد اللہ اپنے اپنے گھوڑوں پر زین ڈال رہے تھے۔ دونوں کی مائیں ان کے قریب کھڑی تھیں۔ نعیم نے اپنے بھتیجے اور بیٹے کو جہاد پر رخصت ہوتے ہوئے دیکھنے کے لیے اپنے کمرے کا دروازہ کھلا رکھنے کا حکم دیا۔ وہ بستر پر لیٹے لیٹے صحن کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آمنہ نے پہلے اپنے بھائی خالد اور پھر شرماتے ہوئے عبد اللہ کی کمر میں تلوار باندھ دی۔ نعیم نے اٹھ کر کمرے سے باہر نکلنا چاہا لیکن دو تین قدم چلنے کے بعد چکر آیا اور گر پڑا۔
عبد اللہ اور خالد اسے اٹھانے کے لیے بھاگے لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے نعیم اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
اس نے کہا۔’’میں ٹھیک ہوں۔ مجھے پانی لا دو!‘‘
آمنہ نے پانی کا پیالہ لا کر دیا۔نعیم پانی پی کر صحن میں آ کھڑا ہوا۔
’’بیٹا! میں تمہیں گھوڑوں کو بھگاتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ تم جلدی سے سوار ہو جاؤ!‘‘
خالد اور عبد اللہ سوار ہو کر گھر کے احاطے سے باہر نکلے۔نعیم بھی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا مکان سے باہر آیا۔
نرگس نے کہا، ’’آپ آرام کریں۔ آپ کے لیے بستر سے اٹھنا مناسب نہیں۔‘‘
نعیم نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔’’ نرگس! میں اچھا ہوں۔ فکر مت کرو۔‘‘
نخلستان سے باہر نکل کر خالد اور عبد اللہ نے خدا حافظ کہہ کر گھوڑوں کو سرپٹ چھوڑ دیا۔ نعیم انہیں دیکھنے کے لیے ریت کے ٹیلے پر چڑھا۔ نرگس اور عذرا نے اسے منع کیا لیکن نعیم نے پرواہ نہ کی۔ اس لیے وہ بھی نعیم کے ساتھ ٹیلے پر چڑھ گئیں۔ جب تک کم سن مجاہدوں کی آخری جھلک نظر آتی رہی نعیم وہاں کھڑا رہا اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے تو زمین پر بیٹھ کر سر بسجود ہو گیا۔
جب نعیم کو سر بسجود ہوئے بہت دیر ہو گئی تو عذرا گھبرا کر اس کے قریب آئی اور سہمی ہوئی آواز میں اسے بھائی کہہ کر پکارا۔ جب نعیم نے اس کی آواز پر سر اوپر نہ اٹھایا تو نرگس نے خوف زدہ ہو کر نعیم کے بازو کو پکڑ کر ہلایا۔نعیم نے جسم نے حرکت نہ کی۔ نرگس نے اس کا سر اٹھا کر گود میں رکھ لیا اور بے اختیار ہو کر کہا:
’’میرے آقا! میرے آقا!‘‘
عذرا نے نبض دیکھ کر آمنہ سے کہا۔’’بیٹی ! یہ بے ہوش ہیں، جاؤ جلدی سے پانی لاؤ!‘‘
آمنہ بھاگ کر گئی اور تھوڑی دیر سے گھر سے پانی کا ایک پیالہ بھر لائی۔ عذرا نے نعیم کے منہ پر پانی چھڑکا۔ نعیم نے ہوش میں آ کر آنکھیں کھول دیں اور پیالہ منہ سے لگا لیا۔
عذرا نے کہا۔’’حسین بیٹا! جاؤ اور بستی سے چند آدمیوں کو بلا لاؤ تاکہ انہیں گھر لے چلیں۔‘‘
نعیم نے کہا۔’’نہیں نہیں ٹھہرو۔ میں چل سکوں گا۔‘‘
نعیم نے اٹھنا چاہا لیکن اٹھ نہ سکا اور دل پر ہاتھ رکھ کر پھر لیٹ گیا۔
’’میرے آقا! میرے مالک! نرگس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
نعیم نے نرگس کے چہرے سے آنکھیں ہٹا کر عذرا، آمنہ اور حسین کی طرف دیکھا۔ ان سب کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے۔ اس نے نحیف آواز میں کہا:
’’حسین بیٹا! تمہاری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر مجھے بے حد تکلیف ہوتی ہے۔ مجاہدوں کے بیٹے اس زمین پر آنسو نہیں بلکہ خون بہایا کرتے ہیں۔ نرگس! تم بھی ضبط سے کام لو۔ عذرا! میرے لیے دعا کرنا۔‘‘
زندگی کی ناؤ موت کے طوفان کی موجوں میں ہچکولے کھا رہی تھی۔ نعیم کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد نہایت
 کمزور آواز میں چند مبہم الفاظ کہہ کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

ختم شد





٭٭٭
ماخذ:
http://www.kitaabghar.com/bookbase/naseemhijazi/dastanemujahid-1.html

داستان مجاہد قسط نمبر5

0 comments
سفیر


  چھ ماہ گزر گئے نعیم نہ آیا۔ اس دوران میں قتیبہ، نزاق کو قتل کر کے ترکستان کی بغاوت کی آگ بہت حد تک ٹھنڈی کر چکا تھا۔ نزاق کا زبردست حلیف شاہ جرجان بھی قتل ہو چکا تھا۔ اس مہم سے فارغ ہونے کے بعد قتیبہ سغد کے بقیہ علاقوں کو فتح کرتا ہوا سیستان تک جا پہنچا۔ وہاں سے شمال کی طرف لوٹا اور خوارزم جا پہنچا۔ شاہ ِ خوارزم نے جزیہ ادا کرنے کا وعدہ کر کے صلح کر لی۔ خوارزم میں خبر ملی کہ اہل سمرقند عہد شکنی کی بغاوت کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
قتیبہ فوج کے چند دوستوں کے ساتھ یلغار کرتا ہوا سمرقند پہنچا اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔یہ شہر محفوظ فصیل اور قلعے کی مضبوطی کے لحاظ سے بخارا کم نہ تھا۔ قتیبہ نے نہایت اطمینان سے محاصرہ جاری رکھا۔ مہینوں کے بعد شاہ سمرقند نے صلح کی درخواست کی، جواب میں قتیبہ نے صلح کی شرائط لکھ بھیجیں۔ بادشاہ نے یہ شرائط منظور کر لیں اور شہر کے دروازے کھول دیے گئے۔
سمرقند کے ایک صنم خانے میں ایک بت کا احترام کیا جاتا تھا۔ اس کے متعلق مشہور تھا کہ جو شخص اسے ہاتھ لگاتا ہے فوراً ہلاک ہو جاتا ہے۔ قتیبہ اس صنم خانے میں داخل ہوا اور اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرنے کے بعد ایک ہی ضرب سے اس خوفناک مجسمے کے ٹکڑے اڑا دیے۔ اس بت کے شکم سے ۰۵ ہزار مثقال سونا برآمد ہوا۔ قتیبہ کی جرات دیکھ کر اسے اس مقدس دیوتا کے کے غضب سے محفوظ پا کر سمرقند کے بے شمار لوگوں نے کلمہ توحید پڑھ لیا۔
قتیبہ بن مسلمان اپنی فتوحات اور شہرت کی آخری حدود تک پہنچ چکا تھا۔ ۵۹ء میں اس نے فرغانہ کا رخ کیا اور بہت سے شہر فتح کیے۔ اس کے بعد وہ اسلامی پرچم لہراتا ہوا کاشغر تک جا پہنچا۔ آگے مملکت چین کی حدود تھیں۔
قتیبہ کاشغر سے چین کی شما لی مغربی سرحد پر حملے کی تیاری کرنے لگا۔ شاہ چین نے قتیبہ کے عزائم سے باخبر ہو کر اس کے پاس اپنا پاس بھیجا اور صلح کی شرائط لے کرنے کے لیے مسلمانوں کی ایک سفارت طلب کی۔سفارت کے فرائض انجام دینے کے لیے قتیبہ نے ہبیرہ اور نعیم کے علاوہ پانچ اور تجربہ کار افسر منتخب کیے۔

(۲)

شاہ چین کے سفارت خانے میں ہبیرہ اور نعیم اور ان کے دوسرے ساتھی ایک خوبصورت قا لین پر بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
’’قتیبہ کو کیا اطلاع بھیجی جائے؟‘‘ ہبیرہ نے نعیم سے سوال کیا۔
’’شاہ چین کا لشکر ہمارے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ آپ نے دیکھا کہ وہ کس رعونت سے ہمارے ساتھ پیش آیا ہے!‘‘
نعیم نے کہا۔’’ وہ شاہ ایران سے زیادہ مغرور نہیں ہے اور نہ طاقت میں ہی اس سے زیادہ ہے۔ اسکے آرام طلب سپاہی ہمارے گھوڑوں کی سموں کی آواز سن کر بھاگ جائیں گے۔ ہم نے اپنی شرائط پیش کر دی ہیں۔ اسکا جواب آنے تک انتظار کیجئے۔
  فی الحال قتیبہ کو لکھ دیجئے کہ چین کی تسخیر کے لیے نئی فوجوں ضرورت نہیں ہے۔ لڑائی کی نوبت آئی تو ہمارے سپاہی جو ترکستان میں موجود ہیں۔ اس ملک کو فتح کرنے کے لیے کافی ہیں۔‘‘
ایک درباری کمرے میں داخل ہوا اور اس نے جھک کر ہبیرہ اور اس کے ساتھیوں کو سلام کیا اور کہا۔’’جہاں پناہ پھر ایک بار آپ سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
ہبیرہ نے جواب دیا۔’’ آپ اپنے بادشاہ سے کہیں کہ ہم اپنی شرائط میں رد و بدل نہیں کر سکتے۔ اگر اسے ہماری شرائط منظور نہیں تو ہمارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی؟‘‘
’’جہاں پناہ شرائط کے علاوہ آپ سے چند باتیں اور بھی معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے حکم ہوا ہے کہ آپ میں سے ایک صاحب کو ان کی خدمت میں لے جاؤں۔ جہاں پناہ اس بات محسوس کرتے ہوئے کہ آپ لوگ اتنی دور سے مال و زر کی ہوس میں لوٹ مار کرتے ہوئے آئے ہیں۔ آپ کو کچھ عطیہ دے کر دوستوں کی طرح رخصت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ آپ کے ملک اور قوم کے متعلق بھی کچھ جاننا چاہتے ہیں۔‘‘
نعیم نے اپنی تلوار درباری کو پیش کرتے ہوئے کہا۔ ’’اسے لے جاؤ، یہ تمہارے بادشاہ کے ہر سوال کا جواب دے گی!‘‘
’’آپ کی تلوار؟‘‘ درباری نے حیران ہو کر کہا۔
’’ہاں، اپنے بادشاہ سے کہو کہ اس تلوار کی دھار پر ہماری قوم کی داستان لکھی ہوئی ہے اور اسے یہ بھی بتاؤ کہ ہم اس کے تمام خزانوں کے مجاہدوں کے گھوڑوں سے اڑنے والی گرد کے برابر بھی نہیں سمجھتے۔‘‘
درباری نے نادم ہو کر کہا:’’ جہاں پناہ کا مقصد آپ کو ناراض کرنا نہیں۔ وہ آپ کی جرات کا اعتراف کرتے ہیں۔ آپ ایک بار ملاقات کریں۔مجھے یقین ہے کہ اس ملاقات کے نتائج خوش گوار ہوں گے۔‘‘
ہبیرہ نے نعیم سے عربی زبان میں کہا۔’’ہمیں بادشاہ کو ایک اور موقع دینا چاہیے۔آپ جا کر تبلیغ کریں۔‘‘
نعیم نے جواب دیا۔’’آپ مجھ سے زیادہ تجربہ کار ہیں۔‘‘
’’میں آپ کو اس لیے بھیج رہا ہوں کہ آپ کی زبان اور تلوار دونوں بہت تیز ہیں۔ آپ مجھ سے مؤثر گفتگو کر سکیں گے۔‘‘
نعیم یہ سن کر اٹھا اور درباری کے ساتھ ہو لیا۔
دربار میں داخل ہونے سے پہلے دروازہ پر ایک شاہی غلام سنہری طشتری میں ایک زرتار جبہ لے کر حاضر ہوا لیکن نعیم نے اسے پہننے سے انکار کر دیا۔
درباری نے کہا۔’’آپ کی قمیص بہت پرانی ہے۔ آپ بادشاہ کے دربار میں جا رہے ہیں۔‘‘ نعیم نے جواب دیا۔’’تمہارے قیمتی لباس میں تمہیں شاہوں کے دربار میں سرنگوں ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ لیکن تم دیکھو گے کہ میری پھٹی پرانی قمیص مجھے تمہارے بادشاہ کے سامنے گردن جھکانے کی اجازت نہیں دے گی۔‘‘
نعیم کا موٹے اور کھردرے چمڑے کا جوتا گرد آلو دتھا۔ ایک غلام نے جھک کر اسے ریشمی کپڑے سے صاف کرنا چاہا۔ نعیم نے اسے بازو سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور کچھ کہے بغیر آگے چل دیا۔
شاہِ چین اپنی ملکہ کے ساتھ ایک سنہری تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے زرد چہرے پر جھریاں پڑی ہوئی تھیں۔ ملکہ بھی اگرچہ ادھیڑ عمر تھی لیکن اس کا سڈول چہرہ گزری ہوئی جوانی کے حسن بہار کا پتہ دے رہا تھا۔ وہ فرغانہ کے شاہی گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور اس کے چہرے کے نقوش چینی عورتوں کی نسبت ذرا تیکھے تھے۔ ولی عہد گلے میں جواہرات کی ایک بیش قیمت مالا پہنے ہوئے تھا۔ بادشاہ کے بائیں جانب چند لونڈیاں شراب کے جام اور صراحیاں لیے کھڑی تھیں۔
  ان کے درمیان حسن آراء ایک ایرانی لونڈی اپنی شکل و شباہت سے دوسری لونڈیوں سے ممتاز نظر آتی تھی۔ اس کے لمبے لمبے سنہری بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ سر پر سبز رنگ کا ایک رومال تھا۔ وہ سیاہ رنگ کی ایک قمیص پہنے ہوئے تھی جو کمر سے اوپر جسم کے ساتھ اس حد تک پیوست تھی کہ سینے کا ابھار صاف طور پر نظر آ رہا تھا۔ نیچے رنگ کا کھلا پاجامہ تھا۔ حسن آرا باقی تمام عورتوں سے بلند قامت تھی۔
نعیم ایک فاتح کی طرح دربار میں داخل ہوا۔ بادشاہ اور درباریوں پر ایک نگاہ دوڑائی اور السلام علیکم کہا۔
بادشاہ نے اپنے درباریوں کی طرف اور درباریوں نے بادشاہ کی طرف دیکھا۔ نعیم نے سلام کا جواب نہ پا کر بادشاہ کے چہرے پر ایک گہری نگاہ ڈالی۔ بادشاہ نے مجاہد کی تیزی نظر کی تاب نہ لا کر آنکھیں جھکا لیں۔ ولی عہد اپنی جگہ سے اٹھا اور اس نے نعیم کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ نعیم اس کے ساتھ مصافحہ کر کے اس کے اشارے سے ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔
بادشاہ نے اپنی ملکہ کی طرف دیکھا اور تاتاری زبان میں کہا۔’’مجھے یہ بہت دلچسپ معلوم ہوتے ہیں۔ یہ ہمارا ملک فتح کرنے آئے ہیں۔ ذرا ان کا لباس تو دیکھنا!‘‘
نعیم نے جواب دیا۔’’سپاہی کی طاقت کا اندازہ اس کے لباس سے نہیں بلکہ اس کی تلوار کی تیزی اور بازو کی طاقت سے لگانا چاہیے۔‘‘
شاہ چین کا خیال تھا کہ نعیم تاتاری زبان سے بے بہرہ ہے۔ لیکن اس جواب نے اسے پریشان کر دیا۔ اس کہا۔’’خوب! تم تاتاری زبان جانتے ہو۔ نوجوان! میں تمہاری جرات کی داد دیتا ہوں لیکن اگر تم اپنی طاقت کی آزمائش کے لیے کوئی اور مد مقابل چنتے تو شاید تمہارے لیے اچھا ہوتا۔ تم اس سلطنت کے بادشاہ کو ترکستان کے چھوٹے چھوٹے نام نہاد حکمرانوں جیسا سمجھنے میں غلطی کرتے ہو۔ میرے برق رفتار گھوڑے تمہارے مغرور سروں کو پیس ڈالیں گے، تم نے جو کچھ حاصل کیا ہے۔ اس پر قناعت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم چین کو فتح کرتے کرتے ترکستان بھی کھو بیٹھو!‘‘
نعیم جوش میں اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنا دایاں ہاتھ تلوار کے قبضے پر رکھتے ہوئے کہا۔ ’’مغرور بادشاہ! یہ تلوار ایران اور روم کے شہنشاہوں کو خاک میں ملا چکی ہے۔تم اس کی ضرب کی تاب نہیں لا سکو گے۔ تمہارے گھوڑے ایرانیوں کے ہاتھیوں سے زیادہ طاقتور نہیں۔‘‘
نعیم کے الفاظ سے دربار پر ایک سناٹا چھا گیا۔ بادشاہ نے اپنے سر کو خفیف سی جنبش دی، حسن آراء نے آگے بڑھ کر جام شراب پیش کیا اور پھر اپنی جگہ پرا کھڑی ہوئی۔
ایک لونڈی نے حسن آرا کے کان میں حسن آراء کے کاں میں آہستہ سے کہا۔’’جہاں پناہ جلال میں آ رہے ہیں۔ یہ نوجوان حد سے تجاوز کر رہا ہے!‘‘
حسن آراء نے نعیم کو ایک دلفریب تبسم کے ساتھ دیکھتے ہوئے کہا۔’’یہ بے وقوفی کی حد تک بہادر ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ ایسی جرات کی کیا قیمت ہو سکتی ہے؟‘‘
بادشاہ نے شراب کے چند گھونٹ پیئے اور نعیم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
’’نوجوان! میں پھر ایک بار تمہاری جرات کی داد دیتا ہوں۔ ہمارے دربار میں آج تک کسی کو اس طرح بولنے کی جرات نہیں ہوئی۔ یہ خیال نہ کرنا کہ ہم تمہاری دھمکیوں سے مرعوب ہو جائیں گے۔ تمہاری بہادری کا امتحان بھی ہو جائے گا لیکن ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ تم لوگ دنیا کی پرامن سلطنتوں میں بد امنی کیوں پیدا کرتے پھرتے ہو۔ تمہیں اگر حکومت کا لالچ ہے تو تمہاری سلطنت پہلے ہی بہت وسیع ہے۔ اگر دولت کی حرص ہے تو ہم خوشی سے تمہیں بہت کچھ عطا کر دیں گے۔ تمہارا دامن سونے اور چاندی سے بھر دینے کے باوجود ہمارے خزانوں میں کمی نہیں آ سکتی۔ مانگو کیا مانگتے ہو؟‘‘
نعیم نے جواب دیا:
’’ہم اپنی شرائط پیش کر چکے ہیں۔ آپ نے ہمارے متعلق غلط اندازہ لگایا۔ ہم دنیا میں بد انتظامی پیدا کرنا نہیں چاہتے لیکن ہم اس امن کے قائل نہیں جس میں ایک طاقت ور ملک کا ظلم ایک کمزور کو اپنی بے بسی پر قانع رہنے کے لیے مجبور کر دیتا ہے۔ ہم تمام دنیا کے امن کے لیے ایک عالم گیر قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں جس میں طاقت ور کا ہاتھ کمزور سے بلند نہ ہو، جس میں آقا و بندہ کی تمیز نہ ہو، جس میں بادشاہ اور رعایا کے درمیان کوئی وجہ امتیاز باقی نہ رہے اور وہ قانون اسلام ہے۔ ہمیں دولت اور حکومت کا لالچ نہیں بلکہ ہم دنیا کی اسبتدادی طاقتوں سے مظلوموں کے کھوئے ہوئے حقوق واپس دلانے کے لیے آئے ہیں۔ آپ کو شاید معلوم نہیں کہ ہم دنیا کی مضبوط ترین حکومت کے مالک ہونے کے باوجود بھی دنیوی جاہ و حشمت سے بے نیاز ہیں۔‘‘
نعیم یہاں تک کہہ کر بیٹھ گیا۔ دربار پر ایک بار پھر سناٹا چھا گیا۔
حسن آراء نے اپنے ساتھ والی لونڈی سے کہا۔’’مجھے اس خوش وضع نوجوان پر رحم آتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندگی سے تنگ آ چکا ہے۔ جہاں پناہ کے ہاتھ کا معمولی اشارہ اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دے گا لیکن میں حیران ہوں کہ جہاں پناہ آج ضرورت سے زیادہ رحم دل ثابت ہو رہے ہیں۔ دیکھیں اس کا کیا حشر ہوتا ہے! اس جوانی میں مفت کی موت خریدنا کتنی حماقت ہے!‘‘
بادشاہ نے نعیم کی تقریر کے دوران ایک دو مرتبہ بے چینی سے پہلو بدلا اور کوئی جواب دینے کی بجائے اپنے تمام درباریوں کی طرف نگاہ دوڑائی۔ پھر ملکہ کی طرف دیکھا اور چینی زبان میں چند باتیں کرنے کے بعد نعیم سے کہا۔’’ ہم اس معاملے پر پھر گفتگو کریں گے۔ آج ہماری مرضی کے خلاف بہت سی دل آزار باتیں ہوئی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس مجلس میں کوئی دلچسپی کا سامان پیدا کیا جائے۔‘‘ یہ کہہ کر بادشاہ نے حسن آراء کی طرف دیکھا اور ہاتھ سے اشارہ کیا۔ حسن آراء آگے بڑھی اور بادشاہ اور درباریوں کے درمیان آ کر کھڑی ہو گئی۔ نعیم کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔ پاؤں کو جنبش دے کر ہاتھ دونوں طرف پھیلا دیے۔ ایک ریشمی پردے کے پیچھے سے طاؤس و رباب کی صدائیں سنائی دینے لگیں۔ حسن آراء دھیمے سروں کے ساتھ آہستہ آہستہ قدم اٹھائی ہوئی تخت کے قریب دو زانو ہو کر بیٹھ گئی۔ بادشاہ نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ حسن آراء نے ادب سے چوما اور اٹھ کر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع کیا۔ طاؤس و رباب کی صدائیں یک لخت بلند ہوئیں۔ حسن آراء بجلی کی سی تیزی سے اپنے گرد چکر لگا کر رقص کرنے لگی۔ اس کے جسم کا ہر عضو اپنی نزاکت اور جاذبیت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ وہ کبھی سر کو جھٹکا دے کر لمبے لمبے بالوں کو اپنی حسین چہرے پر بکھیر لیتی اور کبھی سر کو جنبش دے کر بالوں کو پیچھے ہٹاتی اور اپنے حسین چہرے کو اچانک بے نقاب کر کے تماشائیوں کو محو حیرت دیکھ کر مسکراتی، کبھی اس کے سڈول اور سفید بازو سر سے اوپر بلند ہو کر زخم خوردہ سانپ کی طرح پیچ و بل کھاتے۔ کبھی وہ تھرکتی ہوئی آگے بڑھتی اور کبھی پیچھے ہٹتی۔ بعض اوقات وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر آگے اور پیچھے کی طرف اس حد تک جھکتی کہ اس کے بال زمین کو چھونے لگتے۔ غرض وہ اپنی ہر ادا سے ’’انا البرق‘‘ کہہ رہی تھی۔ وہ رقص کرتی ہوئی ایک سنہری پھول دان کے قریب پہنچی اور وہاں سے گلاب کا ایک پھول توڑ کر نعیم کے قریب آئی اور اس کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گئی۔ نعیم آنکھیں جھکائے بیٹھا تھا۔ رقاصہ کی اس حرکت پر اس کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ اپنے کانوں اور رخساروں پر جلن سی محسوس کرنے لگا۔ رقاصہ نے پھول کو اپنے ہونٹوں سے لگایا اور پھر دونوں ہاتھوں سے رکھ کر نعیم کو پیش کیا۔ جب نعیم نے آنکھیں اوپر نہ کیں تو رقاصہ نے ہاتھ اور آگے بڑھا دیے، یہاں تک کہ اس کی انگلیاں نعیم کے سینے کو چھونے لگیں۔ نعیم نے اس کے ہاتھ سے پھول لے کر نیچے پھینک دیا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔رقاصہ تلملا کر اپنے ہونٹ کاٹتی ہوئی اٹھی اور نعیم کی طرف ایک لمحہ کے لیے قہر آلود نگاہوں سے دیکھنے کے بعد وہاں سے بھاگی اور ایک دروازے کے ریشمی پردے کے پیچھے غائب ہو گئی۔ حسن آراء کے قریب جاتے ہی رباب کی تانیں بھی بند ہو گئیں اور دربار پر سکوت طاری ہو گیا۔
  بادشاہ نے کہا۔’’آپ کو شاید یہ رقص و سرود پسند ہیں آیا؟‘‘
نعیم نے جوا ب دیا۔ ’’ہمارے کانوں کو صرف وہی اچھا لگتا ہے جو تلواروں کی جھنکار سے پیدا ہوتا ہو۔ ہماری تہذیب عورتوں کو رقص کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اب نماز کا وقت ہو رہا ہے، مجھے جانا چاہیے۔‘‘ یہ کہہ کہ نعیم لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا دربار سے باہر نکلا۔ دروازے پر حسن آراء کھڑی تھی۔ اس نے نعیم کو آتے دیکھ کر تیوری چڑھائی اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ نعیم بے پروائی سے آگے نکل گیا۔ حسن آراء کو ایک بار پھر اپنی شکست کا احساس ہوا۔
’’تم بہت حقیر ہو۔ مجھے تم سے بہت نفرت ہے۔‘‘ اس نے تاتاری زبان میں نعیم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا لیکن نعیم نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا اور وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔ جب نعیم دور چلا گیا تو وہ مایوس ہو کر واپس نہ مڑی۔ اس کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ اسے سرنگوں ہو کر چلنا پڑا۔
رات کے وقت نعیم اپنے بستر پر لیٹا سونے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ اس کے ساتھی گہری نیند سو رہے تھے۔ کمرے میں بہت شمعیں جل رہی تھیں۔ دن کے واقعات بار بار دماغ میں آ کر اسے پریشان کر رہے تھے۔ حسن آراء کے تصور سے اس کے خیالات کی پرواز اسے بار بار نرگس تک لے جاتی تھی۔ ان دونوں کی صورت میں بہت حد تک مناسب تھی، لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ حسن آراء حسین تھی اور اپنے حسن کا احساس بھی تھا۔یہ احساس اس خطرناک حد تک غالب آ چکا تھا کہ وہ اپنے حسن سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی خواہش میں پاکیزگی اور معصومیت سے محروم ہو چکی تھی۔ اس کی شکل و صورت میں سادگی کی بجائے تصنع کا پہلو غالب نظر آتا تھا۔ اس کے برعکس نرگس حسن فطرت کی ایک سادہ، معصوم اور غیر فانی تصویر تھی۔نرگس سے آخری بار رخصت ہونے کا منظر اسے بار بار یاد آتا تھا۔ نعیم پر جو کچھ نرگس ظاہر کر چکی تھی، وہ اسے بھولا نہیں تھا۔اسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ نرگس کے معصوم دل کی گہرائیوں میں بے پناہ محبت کا طوفان بیدار کر چکا ہے۔گذشتہ چند مہینوں میں اس نے کئی بار نرگس کے پاس جانے کا وعدہ پورا کرنے کا ارادہ کیا لیکن یہ ارادے ہر بار اس کی مجاہدانہ ولولوں میں دب کر رہ جاتے تھے۔ ہر فتح ایک نئی مہم کا دروازہ کھول دیتی اور نعیم ہر نئی مہم کو آخری مہم قرار دے کر نرگس کے پاس جانے کا ارادہ کسی اور وقت پر ملتوی کر دیتا تھا لیکن اس بے نیازی کی وجہ فقط یہی نہ تھی۔ اس کی حالت اس مسافر کی سی تھی جو ایک لمبے سفر میں اپنے زادہ راہ کی قیمتی اور ضروری چیزیں ڈاکوؤں کی نذر کرنے کے بعد اس قدر مایوس ہو جائے کہ اپنا تھوڑا سا بچا ہوا اثاثہ خود ہی زمین پر پھینک کر تہی دست آگے بڑھنے لگے۔ نعیم کے لیے زلیخا کی موت اور عذرا سے ہمیشہ کے لیے جدائی کے بعد اس اس دنیا میں سکھ چین اور آرام بے معنی الفاظ تھے۔ اگرچہ نرگس سے آخری ملاقات ان الفاظ کو کسی قدر معنی خیز بنا چکی تھی لیکن ان معنوں میں گہرائی اس قدر زیادہ نہ تھی کہ وہ غوطہ لگانے کے لیے بے قرار ہو جاتا۔ وہ نرگس کو جس رنگ میں چاہتا، اس کے لیے قربت یا بعد ایک ہی بات تھی لیکن پھر جب کبھی وہ نرگس کے متعلق سوچتا۔ وہ اسے زندگی کا آخری سہارا نظر آتی وارا س سہارے سے ہمیشہ کی جدائی کا تصور اسے خوفناک محسوس ہوتا۔ اسے بستر پر لیٹے خیال آیا کہ خدا معلوم نرگس کن حالات میں اور کن خیالات کے ساتھ اس کی راہ دیکھتی ہو گی۔ اگر وہ زلیخا.... یا عذرا کی طرح....نہیں، نہیں۔ خدا ایسا نہ کرے۔ نرگس کے متعلق ہزاروں توہمات اسے پریشان کرنے لگے اور وہ اپنے دل کو تسلیاں دینے لگا۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ ابتدا میں کسی شاندار کامیابی کا منہ دیکھ چکا ہو تو مایوسی کی خطرناک گھٹاؤں میں بھی امید کے چراغ جلا لیتا ہے۔ لیکن ایسا انسان جو ابتدا میں ناکامیوں کی انتہا دیکھ چکا ہو، اول تو کسی شے کو اپنی امیدوں کا مرکز نہیں بناتا اور اگر بنا بھی لے تو حصول مدعا کے یقین کے باوجود وہ مطمئن نہیں ہوتا۔ منزل مقصود کی طرف اس کا ہر قدم اپنے ساتھ ہزاروں خطرات کا تصور لیے بغیر نہیں اٹھتا اور حصول مقصد کے بھی اس کی حالت اس مفلس آدمی کی سی ہوتی ہے جسے راہ میں پڑے ہوئے جواہرات کا انبار مل جانے پر مال دار ہونے کی خوشی کی بجائے دوبارہ لٹ جانے کا ڈر ہو۔
  ہزاروں پریشان کن خیالات سے گھبرا کر نعیم نے سو جانے کی کوشش کی لیکن دیر تک کروٹیں بدلنے کے بعد مایوس ہو کر اٹھا اور بے قراری سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔ ٹہلتے ٹہلتے وہ کمرے سے باہر نکلا اور چاند کی دلفریب منظر دیکھنے لگا۔

(۳)

محل کی دوسری جانب ایک خوشنما کمرے میں حسن آرا آبنوس کی کرسی پر بیٹھی اپنے دیوتاؤں سے نعیم کے طرز عمل کا شکوہ کر رہی تھی۔ مروارید اس کی ایک خادمہ اس کے سامنے ایک قا لین پر بیٹھی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ حسن آرا کے دل میں ابھی تک شکست کے انتقام کی آگ سلک رہی تھی۔
’’کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اس نے مجھ سے زیادہ حسین عورت دیکھی ہو؟‘‘ یہ سوچتے ہوئے وہ کرسی سے اٹھی اور دیوار کے ساتھ ایک قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنا عکس دیکھنے کے بعد کمرے میں ٹہلنے لگی۔ مروارید اس کی تمام حرکات کو بغور دیکھ رہی تھی۔‘‘
’’آج آپ سوئیں گی نہیں ؟‘‘ مروارید نے پوچھا۔
’’جب تک میں اپنے پاؤں میں پڑا ہوا نہ دیکھوں گی۔ مجھے نیند نہیں آئے گی؟‘‘ یہ کہہ کر حسن آرا ذرا تیزی سے ادھر ادھر گھومنے لگی۔ مروارید اپنی جگہ سے اٹھی اور کمرے کی کھڑکی میں کھڑی ہو کر پائیں باغ کی طرف دیکھنے لگی۔ اچانک اسے باغ میں کوئی شخص گھومتا ہوا نظر آیا۔اس نے حسن آراء کہ ہاتھ کے اشارے سے اپنے قریب بلایا اور باغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔’’دیکھیے! بالکل آپ کی سی بے قراری کے ساتھ کوئی ٹہل رہا ہے!‘‘
حسن آراء نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا اور جب ٹہلنے والا درختوں کے سائے سے نکلا اور چاند کی پوری روشنی اس کے چہرے پر پڑنے لگی تو حسن آراء نے اسے پہچان لیا۔ وہ نعیم تھا۔ حسن آراء کے بجھے ہوئے چہرے پر ایک تبسم نمودار ہوا۔
’’مروارید! میں ابھی آتی ہوں !‘‘ یہ کہہ کر حسن آراء اپنے کمرے سے باہر نکلی اور آن کی آن میں باغ میں پہنچ کر ایک درخت کی آڑ سے نعیم کو دیکھنے لگی۔ جب نعیم ٹہلتا ہوا درخت کے قریب پہنچا تو حسن آرا اچانک درخت کی آڑ سے نکل کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ نعیم بھی ٹھٹک کر کھڑا ہو گیا اور حیران ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔
’’آپ گھبرا گئے! مجھے افسوس ہے۔‘‘
’’تم یہاں کیسے؟‘‘
’’یہی میں آپ سے پوچھنا چاہتی تھی۔‘‘ حسن آراء نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر کہا۔
’’میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔‘‘
’’خوب! تو آپ کی طبیعت بھی ناساز ہو جایا کرتی ہے۔ میں یہ خیال کرتی تھی کہ آپ ہماری طرح کے انسانوں سے مختلف ہیں۔ طبیعت ناساز ہونے کی وجہ پوچھ سکتی ہوں ؟‘‘
’’میں یہ ضروری خیال نہیں کرتا کہ تمہارے ہر سوال کا جواب دیا جائے!‘‘ نعیم نے جانا چاہا۔
حسن آراء اپنے ساتھ یہ خیال لے کر آئی تھی کہ نعیم کا رات کے وقت ٹہلنا اس کی چشم فسوں سازی کا کرشمہ تھا۔ لیکن اس کا یہ وہم غلط ثابت ہوا۔ یہ نفرت تھی یا محبت؟ بہر حال حسن آراء جرات کر کے آگے بڑھی اور نعیم کا راستہ روک کر کھڑی ہو گئی۔نعیم نے دوسری طرف سے گزرنا چاہا مگر اس نے اس کا دامن پکڑ لیا۔ نعیم نے مڑ کر کہا۔’’تم کیا چاہتی ہو؟‘‘
  حسن آراء کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس کا غرور مجاہد کے قدموں پر نثار ہو چکا تھا۔ نعیم نے اس کے کانپتے ہاتھوں سے اپنا دامن چھڑایا اور کچھ کہے بغیر تیزی سے قدم اٹھاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
حسن آراء کچھ دیر وہیں کھڑی رہی۔ بالآخر ندامت کا پسینہ پونچھتی اور غصے سے کانپتی ہوئی اپنے کمرے میں پہنچی۔ اپنا چہرہ ایک بار پھر آئینہ میں میں دیکھا اور غصے میں شراب کی ایک صراحی آئینے پر دے ماری۔
’’وہ جنگلی ہے۔ میں اس کے پاؤں پر کیوں گری؟‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ پھر ایک بار اسی طرح کمرے میں بے قراری سے ٹہلنے لگی۔ ’’میں اس کے پاؤں پر کیوں گری؟‘‘ میں اس کے پاس کیوں گئی؟‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹوٹے ہوئے آئینے کا ایک ٹکڑا اٹھا کر اپنا چہرہ دیکھا اور اپنے منہ پر ایک تھپڑ مارکر شیشے کا ٹکڑا نیچے پھینک دیا اور نعیم کے علاوہ تمام دنیا کو گالیاں دیتی ہوئی بستر پر منہ کے بل گر پڑی اور سسکیاں بھرنے لگی۔
اس واقعے کے ایک مہینہ بعد نعیم نے کاشغر پہنچ کر قتیبہ سے چھ ماہ کی رخصت حاصل کی۔ عرب اور ایران کے چند مجاہدین جو رخصت پر گھر جانے والے تھے، اس کے ساتھ سفر میں شامل ہو گئے۔ اس مختصر قافلے میں وقیع، نعیم کا ایک دیرینہ دوست بھی تھا۔ نعیم نے چند منازل طے کرنے کے بعد قافلے سے جدا ہونا چاہا لیکن وقیع نے جسے وہ اپنے دل کا حال بتا چکا تھا، قافلے والوں کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ نعیم کو اس کی منزل مقصود تک چھوڑ کر آگے بڑھیں گے۔


(۴)

نرگس پہاڑی کی ایک چوٹی پر بیٹھی اونچے اونچے پہاڑوں کے دلکش مناظر دیکھ رہی تھی۔ زمرد اسے نیچے دیکھ کر بھاگتی ہوئی پہاڑی پر چڑھی۔
’’نرگس! نرگس!!‘‘
نرگس نے اٹھ کر ادھر ادھر دیکھا اور زمرد کو آواز دے کر پھر اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔
’’نرگس! نرگس!!‘‘ زمرد نے قریب آتے ہوئے کہا۔
’’نرگس وہ آگیا۔ تمہارا شہزادہ آگیا!‘‘
اگر اس پہاڑ کی مٹی اچانک سونے میں تبدیل ہو جاتی تو بھی نرگس شاید اس قدر حیران نہ ہوتی۔ اسے اپنے کانوں پر شبہ ہونے لگا۔ زمرد نے پھر وہی الفاظ دہرائے۔
’’تمہارا شہزادہ آگیا۔ تمہارا شہزادہ آگیا!‘‘
نرگس کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔ وہ اٹھی لیکن دھڑکتے ہوئے دل اور کانپتے جسم پر قابو نہ پا کر پھر ایک بار بیٹھ گئی۔زمرد نے آگے بڑھ کر اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اٹھایا۔ وہ زمرد کے ساتھ لپٹ گئی۔ میرے خواب سچے نکلے!‘‘ نرگس نے لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے کہا۔
’’نرگس! میں ایک اور خوش خبری لائی ہوں !‘‘
’’بتاؤ! زمرد بتاؤ!! اس سے زیادہ اچھی خبر کیا ہو سکتی ہے؟‘‘
’’نرگس آج تمہاری شادی ہو گی!‘‘
’’آج!........نہیں !‘‘
’’نرگس ابھی!‘‘
  نرگس جلدی سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کا خوشی سے تمتماتا ہوا چہرہ پھر زرد ہو گیا۔ اس نے کہا۔’’زمرد ایسا مذاق اچھا نہیں۔‘‘
’’نہیں نہیں، مجھے تمہارے شہزادے کی قسم وہ آگیا ہے۔ اس نے آتے ہی تمہارے متعلق پوچھا تھا۔ میں نے سب کچھ بتا دیا۔ اس کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی ہے۔ اس نے تمہارے بھائی سے علیحدگی میں کچھ باتیں کیں اور تمہارے بھائی نے مجھے تمہاری تلاش کے لیے بھیجا ہے، ہومان آج بہت خوش نظر آ رہا تھا۔ چلو نرگس! ‘‘ نرگس زمرد کے ساتھ پہاڑی سے نیچے اتری، زمرد بہت تیز چلتی تھی لیکن نرگس کے پاؤں ڈگمگا رہے تھے۔ اس نے کہا۔’’زمرد! ذرا آہستہ چلو۔ مجھ سے تیز نہیں چلا جاتا!‘‘
گاؤں کے بہت سے لوگ ہومان کے گھر جمع تھے۔ وقیع نے نعیم اور نرگس کا نکاح پڑھایا۔ دولہا اور دلہن پر چاروں طرف سے پھولوں کی بارش ہونے لگی۔
زمرد ایک کونے میں کھڑی ہومان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ہومان کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ اس نے ایک بوڑھے تاتاری کے کان میں کچھ کہا اور اس نے زمرد کے باپ کے پاسا کر اس سے چند باتیں کیں۔ زمرد کے باپ نے اثبات میں سر ہلا دیا اور وہ ہومان کو پکڑ کر خیمے سے باہر لے گیا۔
’’آج؟‘‘ زمرد کے باپ نے کہا۔
’’اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو!‘‘
’’بہت اچھا! میں اپنے گھر والوں سے مشورہ کر آؤں۔‘‘ یہ کہہ کر زمرد کا باپ اپنے گھر چلا گیا۔
شام سے کچھ دیر پہلے یہ لوگ زمرد کے باپ کے گھر جمع تھے۔ ہومان اور زمرد کا نکاح پڑھانے کی خدمت بھی وقیع کے سپرد کی گئی۔
جب دلہن ہومان کے گھر لائی گئی اور زمرد کو تنہائی میں باتیں کرنے کا موقع ملا تو نرگس نے اپنی چمڑے کی ایک چھوٹی سی صندوقچی کھولی۔
’’زمرد! میں تمہاری شادی پر ایک تحفہ دینا چاہتی ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اسنے صندوقچی سے نعیم کا دیا ہوا رومال نکال کر زمرد کو پیش کیا اور کہا:
’’اس وقت اس سے زیادہ قیمتی چیز میرے پاس کئی نہیں۔‘‘
زمرد نے کہا۔’’اگر تمہارا شہزادہ نہ آتا تو اس قدر فیاضی سے کام نہ لیتیں۔‘‘
نرگس نے زمرد کو گلے لگا لیا۔’’زمرد اب مجھے اپنی خوش نصیبی کا اندازہ کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ آج کے تمام واقعات ایک خواب کی طرح گزرے ہیں۔‘‘
زمرد نے مسکراتے ہوئے کہا۔’’اگر یہ واقعی ایک خواب ہوا تو؟‘‘
’’ہم ایسے دلکش خواب کے بعد بیدار ہو کر زندہ رہنا کبھی گوارا نہیں کریں گی۔‘‘ نرگس نے جواب دیا۔
وقیع اور اس کے ساتھیوں نے اس رات وہیں قیام کیا اور صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سفر کی تیاری کی۔ نعیم نے اسے رخصت ہوتے وقت بتایا کہ وہ بھی عنقریب بصرہ پہنچ جائے گا۔
ہومان کے مکان کا وہ کمرہ جس میں نعیم کچھ عرصے پہلے ایک اجنبی کی حیثیت سے ٹھہرا تھا اس نرگس اور اس کے لیے وقف تھا۔ ایک دوسرے کے پہلو میں دو دھڑکتے ہوئے دلوں کی داستان کی بتانے کی ضرورت نہیں۔ نعیم کے لیے یہ بستی ایک جنت تھی۔ اس ماحول میں اسے دنیا کی ہر چیز پہلے سے زیادہ دلچسپ نظر آنے لگی۔ پھولوں کی مہک، ہوا کے جھونکے، پرندوں کے چہچہے، غرض ہر چیز محبت اور سرور کے نغموں سے لبریز تھی۔




نیا دور


  خلیفہ ولید کے عہد حکومت کے آخری ایام میں بحر اوقیانوس سے لے کر کاشغر اور سندھ تک مسلمانوں کی فتوحات کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ تاریخ اسلام کے تین سپہ سالار شہرت اور ناموری کی آخری حدود تک پہنچ چکے تھے۔ مشرق کی طرف محمدؒ بن قاسم دریائے سندھ کے کنارے ڈیرہ ڈالے ہندوستان کے وسیع میدانوں کی تسخیر کی تیاری کر رہا تھا۔
قتیبہؒ کاشغر کی ایک بلند پہاڑی پر کھڑا دربار خلافت سے مملکت چین کی طرف پیش قدمی کے حکم کا انتظار کر رہا تھا۔
مغرب میں موسیٰ کا لشکر پرے نیز کی پہاڑیوں کو عبور کر کے فرانس کی حدود میں داخل ہوا چاہتا تھا لیکن ۴۹ ھ میں خلیفہ کی وفات اور خلیفہ سلیمان کی جانشینی کی خبر نے اسلامی فتوحات کا نقشہ بدل دیا۔ سلیمان کے دل میں دیر سے خلیفہ ولید اور اس کے اہلکاروں کے خلاف حسد اور انتقام کی آگ سلگ رہی تھی۔ اس نے مسند خلافت پر بیٹھتے ہی ولید کے منظور نظر سپہ سالاروں کو واپس بلا لیا، سلیمان، حجاج بن یوسف کے لیے بد ترین سزا تجویز کر چکا تھا لیکن وہ اپنی زندگی کا عبرتناک دن دیکھنے سے پہلے ہی چل بسا۔ حجاج کی موت پر بھی سلیمان کا سینہ ٹھنڈا نہ ہوا اور اس نے چچا کا غصہ بھتیجے پر نکالا۔ محمدؒ بن قاسم کو سندھ سے بلا کر سخت اذیتیں دینے کے بعد مروا ڈالا۔موسیٰ کی خدمات کا صلہ یہ دیا گیا کہ اس کی تمام جائیداد ضبط کر لی گئی اور اس کے نوجوان بیٹے کا سر قلم کر کے اس کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس سفاکانہ کھیل میں ابن صادق سلیمان کا دایاں ہاتھ تھا۔ اس بوڑھی لومڑی نے طوفانِ حوادث کے ہزاروں تھپیڑے کھائے لیکن ہمت نہ ہاری۔ خلیفہ ولید کی وفات اس کے لیے ایک مژدہ جانفزا تھا۔ حجاج پہلے ہی راہی ملک عدم ہو چکا تھا۔ اس کے عزیز و اقارب یا تو قید کر لیے گئے یا موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ اب اسے دنیا میں کسی سے خدشہ نہ تھا۔ وہ کسی گوشہ تنہائی سے پھر ایک بار نمودار ہو کر سلیمان کے دربار میں حاضر ہوا۔ سلیمان نے اپنے دوست کو پہچان کراس کی بے حد حوصلہ افزائی کی۔ ابن صادق چند ہی دنوں میں خلیفہ کے مشیروں کی صف اول میں شمار ہونے لگا۔
محمدؒ بن قاسم کے متعلق باقی مشیروں کی رائے تھی وہ بے گنا ہے اور بے گناہ کا قتل جائز نہیں لیکن ابن صادق ایسے مخلص لوگوں کا وجود اپنے لیے خطرناک سمجھتا تھا۔ اس نے محمدؒ بن قاسم کے قتل کو جائز بلکہ ضروری ثابت کرتے ہوئے کہا۔’’ امیر المؤمنین کے دشمنوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ حجاج کا بھتیجا ہے۔ ایسے لوگوں کو جب بھی موقع ملے گا، خطرناک ثابت ہوں گے!‘‘
محمدؒ بن قاسم کے باقی مشیروں کی رائے تھی وہ بے گناہ ہے اور بے گناہ کا قتل جائز نہیں لیکن ابن صادق ایسے مخلص لوگوں کا وجود اپنے لیے خطرناک سمجھتا تھا۔ اس نے محمدؒ بن قاسم کے قتل کو جائز بلکہ ضروری ثابت کرتے ہوئے کہا۔’’امیر المؤمنین کے دشمنوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ حجاج کا بھتیجا ہے۔ ایسے لوگوں کو جب بھی موقع ملے گا، خطرناک ثابت ہوں گے!‘‘
محمدؒ بن قاسم کے المناک انجام کے بعد موسیٰ کے زخمی دل پر نمک پاشی کی گئی۔ اس کے بعد سلیمان قتیبہ بن مسلم کو دام میں لانے کی تجاویز سوچنے لگا۔ قتیبہ کی شخصیت کا تمام اسلامی ممالک میں احترام کیا جاتا تھا۔ عربی اور ایرانی افواج کے علاوہ ترکستان کے نو مسلم بھی اس پر دل و جان سے نثار تھے۔ سلیمان کو ڈر تھا کہ گر وہ بگڑ بیٹھا تو ایک طاقت ور حلیف ثابت ہو گا اور بغاوت میں وہ تمام لوگ جنھیں وہ اپنے طرز عمل سے برگشتہ کر چکا ہے، اس کا ساتھ دیں گے۔ اس مشکل سے نجات حاصل کرنے کی کوئی تدبیر اس کے ذہن میں نہ آئی تو اس نے ابن صادق سے مشورہ لیا۔
    ابن صادق نے کہا:
’’حضور اسے دربار میں حاضر ہونے کا حکم بھیجیں۔ا جائے تو بہتر ورنہ کئی اور طریقے عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔‘‘
’’کیسے طریقے؟‘‘ سلیمان نے پوچھا۔
’’حضور یہ بات اپنے خادم پر چھوڑ دیں اور مطمئن رہیں کہ اسے ترکستان میں بھی قتل کروایا جا سکتا ہے۔‘‘


(۲)

نرگس کے ساتھ رہتے ہوئے نعیم نے چند ہفتوں میں ایک سہانے خواب کی طرح گزار دیے۔ ان وادیوں اور پہاڑوں میں فطرت کا ہر منظر ان کے لیے اس کیف آور خواب کی کیفیت کو زیادہ مؤثر بنا رہا تھا۔ اس خواب کی رنگینی میں محو ہو کر نعیم نے گھر جانے کا ارادہ چند دنوں کے لیے ملتوی کر دیا لیکن اس کے دل کی کیفیت دیر تک نہ رہی۔ ایک دن اس نے نیند سے بیدار ہوتے ہی نرگس سے کہا۔’’نرگس! میں حیران ہوں کہ میں نے اتنے دن یہاں کیونکہ گزار دیے! اب میرے خیال میں ہمیں بہت جلد رخصت ہو جانا چاہیے۔ ہماری بستی یہاں سے سینکڑوں میل دور ہے۔ وہاں پہنچ کر تمہارا دل اداس تو نہ ہو جائے گا؟‘‘
’’اداس! کاش آپ کو معلوم ہوتا کہ میرے دل میں آپ کا وطن دیکھنے کا کس قدر اشتیاق ہے اور میں اس مقدس خاک کو آنکھوں سے لگانے کے لیے کتنی بے قرار ہوں !‘‘
’’اچھا ہم پرسوں یہاں سے روانہ ہو جائیں گے۔‘‘ نعیم یہ کہہ کر اٹھا اور صبح کی نماز کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔اتنے میں ہومان داخل ہوا۔ اس نے بتایا کہ بستی کا ایک سپاہی برمک نامی قتیبہ بن مسلم کا پیغام لے کر آیا ہے۔ نعیم قدرے پریشان ہو کر باہر نکلا۔ برمک گھوڑے کی باگ تھامے کھڑا تھا۔ نعیم کو شک گزرا کہ وہ نیک خبر لے کر نہیں آیا۔ نعیم کی طرف سے کسی سوال کا انتظار کیے بغیر برمک نے کہا۔’’آپ میرے ساتھ چلنے کے لیے فوراً تیار ہو جائیں !‘‘
’’خیریت توہے؟‘‘ نعیم نے سوال کیا۔
برمک نے قتیبہ کا خط پیش کیا۔ نعیم نے خط کھول کر پڑھا۔ خط کا مضمون یہ تھا:
’’تمہیں سخت تاکید ہے کہ خط ملتے ہی سمرقند پہنچ جاؤ۔ تمہیں یہ حکم ان حالات کے پیش نظر دیا جاتا ہے جو امیر المؤمنین کی وفات کے باعث پیدا ہو رہے ہیں۔ تفصیلی حالات برمک بتلا دے گا۔‘‘
نعیم نے حیران ہو کر برمک سے سوال کیا ’’سمرقند سے بغاوت کی خبر تو نہیں آئی؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ برمک نے جواب دیا۔
’’تو پھر مجھے سمرقند پہنچنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟‘‘
’’قتیبہ اپنے تمام جرنیلوں سے کوئی مشورہ کرنا چاہتا ہے۔‘‘
’’لیکن وہ تو کاشغر میں تھے !‘‘
’’نہیں۔ وہ بعض حالات کی بنا پر سمرقند چلے گئے ہیں۔‘‘
’’کیسے حالات؟‘‘
برمک نے کہا۔’’امیر المؤمنین کی وفات کے بعد ان کے جانشین خلیفہ سلیمان نے حجاج بن یوسف کے مقرر کیے ہوئے بہت سے افسروں کو قتل کروا دیا ہے۔ موسیٰ بن نصیر کے بیٹے اور محمدؒ بن قاسم فاتح سندھ کو مروا دیا ہے۔ہمارے سپہ سالار کو بھی دربار خلافت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ وہ وہاں جانے میں خطرہ محسوس کرتے ہیں کیونکہ نئے خلیفہ سے بھلائی کی امید نہیں۔وہ اپنے تمام سالاروں کو جمع کر کے مشورہ لینا چاہتے ہیں۔ اس لیے آپ کو بلانے کے لیے بھیجا ہے۔‘‘
نعیم، برمک کی گفتگو کا آخری حصہ زیادہ توجہ سے نہ سن سکا۔ محمدؒ بن قاسم کے قتل کی خبر کے بعد اسے باقی گفتگو میں کوئی بات زیادہ اہم محسوس نہ ہوئی۔
  اس نے آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے کہا۔‘‘ برمک تم بہت بری خبر لائے ہو۔ ٹھہرو میں تیار ہو آؤں !‘‘
نعیم واپس جا کر نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ نرگس اس کا مغموم چہرہ دیکھ کر ہزاروں توہمات پیدا کر چکی تھی۔ جب نعیم نے نماز ختم کی تو اس نے جرات کر کے پوچھا۔ ’’آپ بہت پریشان ہیں۔ کیسی خبر لایا ہے وہ؟‘‘
’’نرگس ہم ابھی سمرقند جا رہے ہیں۔ تم فوراً تیار ہو جاؤ!‘‘
نرگس کا مغموم چہرہ نعیم کے اس جواب پر خوشی سے چمک اٹھا۔ اس کے دل میں نعیم کے ساتھ رہ کر زندگی کے تمام خطرات کا مقابلہ کرنے کی جرات موجود تھی لیکن مصیبت میں اس سے تھوڑی دیر کے لیے جدا ہونا اس کے لیے موت سے زیادہ خوفناک تھا۔ اس کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ نعیم کے ساتھ جا رہی ہے۔کہاں اور کن حالات میں۔ وہ ان سوالات کا جواب پوچھنے سے بے نیاز تھی۔

(۳)

سمرقند کے قلعے کے ایک کمرے میں قتیبہ اپنے منظور نظر سالاروں کے درمیان بیٹھا ان سے باتیں کر رہا تھا۔ کمرے کی دیواروں کے ساتھ چاروں مختلف ممالک کے بڑے بڑے نقشے آویزاں تھے۔ قتیبہ نے چین کے نقشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔’’ہم اس وسیع ملک کو چند مہینوں میں فتح کر لیتے، لیکن نئے خلیفہ نے مجھے برے وقت واپس بلایا ہے۔ تم جانتے ہو وہاں میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟‘‘
ایک جرنیل نے جواب دیا۔’’وہی سلوک جو محمدؒ بن قاسم کے ساتھ کی گیا ہے!‘‘
’’لیکن کیوں ؟‘‘ قتیبہ نے پر جوش آواز میں کہا۔ ’’مسلمانوں کو ابھی میری خدمات کی ضرورت ہے۔ چین کو فتح کرنے سے پہلے اپنے آپ کو خلیفہ کے حوالے نہیں کروں گا!‘‘ قتیبہ نے پھر نقشہ دیکھنا شروع کر دیا۔
اچانک نعیم کمرے میں داخل ہوا۔ قتیبہ نے بڑھ کر اس سے مصافحہ کیا اور کہا۔’’افسوس تمہیں بے وقت تکلیف دی گئی۔ اکیلے آئے ہو یا....؟‘‘
’’میں اپنی بیوی کو بھی ساتھ لے آیا ہوں۔ میں نے سوچا تھا کہ شاید مجھے دمشق جانا پڑے۔‘‘
’’دمشق؟‘‘ نہیں ایلچی نے شاید تمہیں غلط بتایا ہے۔ دمشق میں تمہیں نہیں مجھے بلایا گیا ہے۔ نئے خلیفہ کو میرے سر کی ضرورت ہے۔‘‘
’’اسی لیے تو میں وہاں جانا ضروری خیال کرتا ہوں۔‘‘
’’نعیم!‘‘ قتیبہ نے پیار سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے تمہیں اس لیے نہیں بلایا کہ تم میری جگہ دمشق جاؤ۔ مجھے تمہاری جان اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے، بلکہ میں اپنے ہر ایک سپاہی کی جان اپنی جان سے زیادہ قیمتی سمجھتا ہوں۔ میں نے تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ تم بہت حد تک معاملہ فہم ہو۔ میں تم سے اور اپنے باقی جہاندیدہ دوستوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے اب کیا کرنا چاہیے؟ امیر المؤمنین میرے خون کا پیاسا ہے۔‘‘
نعیم نے اطمینان سے جواب دیا ’’خلیفہ وقت کے حکم سے سرتابی ایک مسلمان سپاہی کے شایانِ شان نہیں۔‘‘
’’تم محمدؒ بن قاسم کا انجام جانتے ہوئے بھی مجھے یہ مشورہ دیتے ہو کہ میں دمشق جاؤں اور اپنے ہاتھوں سے اپنا سر خلیفہ کے سامنے پیش کروں ؟‘‘
’’میرا خیال ہے خلیفة المسلمین آپ کے ساتھ اس درجہ برا سلوک نہیں کریں گے لیکن اگر یہاں تک نوبت آ بھی جائے تو ترکستان کے سب سے بڑے جرنیل کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ اطاعت امیر میں کسی سے پیچھے نہیں۔‘
قتیبہ نے کہا۔’’میں موت سے نہیں گھبراتا لیکن یہ محسوس کرتا ہوں کہ اسلامی دنیا کو میری ضرورت ہے۔ چین کو فتح کرنے پہلے میں اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنے سے گھبراتا ہوں۔ میں ایک اسیر کی موت نہیں بلکہ ایک بہادر کی موت چاہتا ہوں۔‘‘
’’دربار خلافت میں شاید آپ کے متعلق کوئی غلط فہمی پیدا ہو گئی ہو۔ بہت ممکن ہے وہ دور ہو جائے۔
  آپ فی الحال یہیں رہیں اور مجھے دمشق جانے کی اجازت دیں۔‘‘
قتیبہ نے کہا۔’’یہ کیا ہو سکتا ہے کہ میں اپنی جان بچانے کے لیے تمہاری جان خطرے میں ڈالوں ! تم مجھے کیاسمجھتے ہو؟‘‘
’’تو آپ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟‘‘
’’میں یہیں ٹھہروں گا۔ اگر امیر المؤمنین بلاوجہ میرے ساتھ محمدؒ بن قاسم کا سا سلوک کرنا چاہتے ہیں تو میری تلوار میری حفاظت کرے گی!‘‘
’’یہ تلوار آپ کو دربار خلافت سے عطا ہوئی تھی۔ اسے خلیفہ کے خلاف استعمال کرنے کا خیال تک بھی دل میں نہ لائیں۔ مجھے وہاں جانے کی اجازت دیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میری بات سنیں گے اور میں ان کی غلط فہمی دور کر سکوں گا۔ میرے متعلق کوئی خدشہ دل میں نہ لائیں۔ دمشق میں مجھے جاننے والے بہت کم ہیں۔ وہاں میرا کوئی دشمن نہیں۔ میں ایک معمولی سپاہی کی حیثیت سے وہاں جاؤں گا۔‘‘
’’نعیم میں اپنے لیے تمہیں کسی خطرے میں پڑنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘
’’یہ آپ کے لیے نہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ امیر المؤمنین کی حرکات سے اسلامی جمعیت کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ میرا فرض ہے کہ میں انہیں اس خطرے سے آگاہ کروں۔ آپ مجھے اجازت دیں !‘‘
قتیبہ نے باقی جرنیلوں کی طرف دیکھا اور ان کی رائے دریافت کی۔
ہبیرہ نے کہا۔’’تمام عمر کی قربانیوں کے بعد ہمیں زندگی کے آخری دنوں میں باغیوں کی جماعت میں نام نہیں لکھوانا چاہیے۔ نعیم کی زبان کی تاثیر سے ہم واقف ہیں۔ آپ اسے دمشق جانے کی اجازت دیں۔‘‘
قتیبہ نے تھوڑی دیر پیشانی پر ہاتھ رکھ کر سوچنے کے بعد کہا۔ ’’اچھا نعیم، تم جاؤ! دربار خلافت میں میری طرف سے یہ عرض کر دینا کہ میں چین کی فتح کے بعد حاضر ہو جاؤں گا۔‘‘
’’میں یہاں سے کل صبح روانہ ہو جاؤں گا۔‘‘
’’لیکن تم نے ابھی ابھی بتایا تھا کہ تم اپنی بیوی کو ساتھ لائے ہو۔ تم اسے ....!‘‘
’’میں اسے اپنے ساتھ ہی لے جاؤں گا۔‘‘ نعیم نے بات کاٹتے ہوئے جواب دیا۔ ’’دمشق میں اپنا فرض پورا کرنے کے بعد میں اسے اپنے گھر پہنچا کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا۔‘‘
اگلے دن نعیم اور نرگس دس اور سپاہیوں کے ساتھ دمشق روانہ ہو گئے۔ نعیم نے بعض مصلحتوں کے پیش نظر برمک کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔

(۴)

نعیم نے دمشق پہنچ کر ایک سرائے میں اپنے ساتھیوں کے قیام کا بندوبست کیا۔ اپنے لیے ایک مکان کرائے پر لیا اور برمک کو نرگس کی حفاظت کے لیے چھوڑ کر خود خلیفہ کے محل میں حاضر ہوا اور باریابی کی اجازت چاہی۔ وہاں سے ایک دن انتظار کرنے کا حکم ملا۔ دوسرے دن دربار خلافت میں حاضر ہونے سے پہلے نعیم نے برمک سے کہا۔’’ا گر کسی وجہ سے مجھے دربار خلافت میں دیر لگ جائے تو گھر کی حفاظت کرنا اور جب تک میں نہ آؤں نرگس کا خیال رکھنا!‘‘
اس نے نرگس کو بھی تسلی دی کہ اس کی غیر موجودگی میں گھبرا نہ جائے۔ وہاں کوئی خطرناک معاملہ پیش نہیں آئے گا۔‘‘
نرگس نے اطمینان سے جواب دیا۔’’میں آپ کے آنے تک ان اونچے اونچے مکانوں کو گنتی رہوں گی۔‘‘
نعیم کو کچھ دیر قصر خلافت کے دروازے پر ٹھہرنا پڑا۔ بالآخر دربان کے اشارے سے وہ دربار خلافت میں حاضر ہوا اور خلیفہ کو سلام کر کے ادب سے کھڑا ہوا۔ خلیفہ کے دائیں اور بائیں جانب چند معززین بیٹھے تھے لیکن نعیم نے کسی کی طرف دھیان نہ دیا۔ خلیفہ سلیمان بن عبد المالک کے چہرے پر کچھ ایسا جلال تھا کہ بہادر سے بہادر لوگ بھی اس سے آنکھ ملا کر بات کرنے کی جرات نہ کر تے تھے۔




اژدہا شیروں کے نرغے میں


  سلیمان مسند خلافت پر رونق افروز تھا۔ اس کے چہرے پر تفکرات کے گہرے اثرات تھے۔ اس نے ابن صادق کی طرف دیکھا اور کہا۔’’ ابھی تک ترکستان سے کوئی خبر نہیں آئی؟‘‘
’’امیر المؤمنین! بے فکر رہیں۔ انشاء اللہ ترکستان سے پہلی خبر کے ساتھ قتیبہ کا سر بھی آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔‘‘
’’دیکھیں ! سلیمان نے ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
کچھ دیر بعد ایک دربان نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ ’’سپین سے ایک سالار عبد اللہ نامی حاضر ہوا ہے۔‘‘
’’ہاں اسے لے آؤ! ’’خلیفہ نے حکم دیا۔
دربان چلا گیا اور عبداللہ حاضر ہوا۔
خلیفہ نے ذرا اوپر اٹھتے ہوئے دایاں ہاتھ آگے بڑھایا۔ عبد اللہ آگے بڑھا اور خلیفہ سے مصافحہ کر کے ادب سے کھڑا ہو گیا۔
’’تمہارا نام عبد اللہ ہے؟‘‘
’’ہاں ! امیر المؤمنین!‘‘
’’میں نے سپین میں تمہارے معرکوں کی تعریف سنی ہے۔ تم تجربہ کار نوجوان معلوم ہوتے ہو، سپین کی فوج میں کب بھرتی ہوئے تھے ؟‘‘
’’امیر المؤمنین! میں طارق کے ساتھ سپین کے ساحل پر پہنچا تھا اور اس کے بعد وہیں رہا۔‘‘
’’خوب! طارقؒ کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
’’امیر المؤمنین۔ وہ صحیح معنوں میں ایک مجاہد ہے۔‘‘
’’اور موسےٰ کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘
’’امیر المؤمنین! ایک سپاہی دوسرے سپاہی کے متعلق بری رائے نہیں دے سکتا۔ میں بذات خود موسےٰ کا مداح ہوں اور اسکے متعلق کوئی برا لفظ منہ سے نکالنا گناہ سمجھتا ہوں۔‘‘
’’ابنؒ قاسم کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘
’’امیر المؤمنین! میں اس کے متعلق اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ وہ ایک بہادر سپاہی تھا۔‘‘
’’تم یہ جانتے ہو کہ میں ان لوگوں سے کس قدر متنفر ہوں ؟‘‘ سلیمان نے کہا۔
’’امیر المؤمنین! میں آپ کا احترام کرتا ہوں لیکن میں منافق نہیں ہوں۔ آپ نے میری ذاتی رائے دریافت کی تھی، وہ میں نے بیان کر دی۔‘‘
’’میں تمہاری اس بات کی قدر کرتا ہوں اور چونکہ تم نے میرے خلاف کس سازش میں حصہ نہیں لیا۔ میں تم پر اعتماد کرتا ہوں۔‘‘
امیر المؤمنین مجھے اس اعتماد کے قابل پائیں گے۔‘‘
’’بہت اچھا۔ ہمیں قسطنطنیہ کی مہم کے لیے ایک تجربہ کار جرنیل کی ضرورت تھی۔ وہاں ہماری فوجوں کو کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ تمہیں سپین سے اسی لیے بلایا گیا ہے کہ تم بہت جلد یہاں سے پانچ ہزار سپاہی لے کر قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہو جاؤ!‘‘
سلیمان نے ایک نقشہ اٹھا کر کھولا اور عبد اللہ کو اپنے قریب بلا کر قسطنطنیہ پر حملے کے مختلف طریقوں پر ایک لمبی چوڑی بحث شروع کر دی۔
دربان نے آ کر ایک خط پیش کیا۔
سلیمان نے جلدی سے خط کھول کر پڑھا اور ابن صادق کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
’’قتیبہ قتل ہو چکا ہے اور چند دن تک اس کا سر یہاں پہنچ جائے گا۔‘‘
’’مبارک ہو!‘‘ ابن صادق نے خلیفہ کے ہاتھ سے خط لے کر پڑھتے ہوئے کہا۔’’اور آپ نے اس نوجوان کے متعلق کیا سوچا؟‘‘
’’کون سا نوجوان؟‘‘
’’وہی جو قتیبہ کی طرف سے پچھلے دنوں یہاں آیا تھا۔ بہت خطرناک آدمی معلوم ہوتا ہے۔ ‘‘
’’ہاں اس کے متعلق بھی ہم عنقریب فیصلہ کریں گے۔‘‘
خلیفہ پھر عبد اللہ کی طرف متوجہ ہوا۔
’’تمہاری تجاویز مجھے کامیاب نظر آتی ہیں۔ تم فوراً روانہ ہو جاؤ!‘‘
’’میں کل ہی روانہ ہو جاؤں گا۔‘‘ عبد اللہ سلام کر کے باہر نکل گیا۔


(۲)

عبد اللہ دربار خلافت سے نکل کر زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ پیچھے سے کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ٹھہرا لیا۔ عبد اللہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک خوش وضع نوجوان اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ عبد اللہ نے اسے گلے لگا لیا۔
’’یوسف! تم یہاں کیسے؟ تم سپین سے ایسے غائب ہوئے کہ پھر تمہاری شکل تک دکھائی نہ دی۔‘‘
’’مجھے یہاں کوتوال کا عہدہ دیا گیا ہے۔ آج تمہیں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ عبد اللہ تم پہلے آدمی ہو جس کی بیباکی پر خلیفہ خفا نہیں ہوا۔‘‘
’’یہ اس لیے کہ اسے میری ضرورت تھی!‘‘ عبد اللہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔’’تم وہیں تھے؟‘‘
’’میں ایک طرف کھڑا تھا لیکن تم نے دھیان نہیں دیا۔‘‘
’’تم صبح جا رہے ہو؟‘‘
تم نے سن ہی لیا ہو گا؟‘‘
’’آج رات تو میرے پاس ٹھہرو گے نا؟‘‘
’’مجھے تمہارے پاس ٹھہرتے ہوئے بہت خوشی ہوتی لیکن علی الصباح لشکر کو کوچ کی تیاری کا حکم دینا ہے اس لیے میرا مستقر میں ٹھہرنا زیادہ مناسب ہو گا!‘‘
عبد اللہ چلو اپنی فوج کو تیاری کا حکم دے آؤ۔ میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ ہم تھوڑی دیر میں واپسا جائیں گے۔ اتنی دیر کے بعد ملے ہیں۔ باتیں کریں گے؟‘‘
’’اچھا چلو!‘‘
عبد اللہ اور یوسف باتیں کرتے ہوئے لشکر کی قیام گاہ میں داخل ہوئے۔ عبد اللہ نے امیر لشکر کو خلیفہ کا حکم نامہ دیا اور  پانچ ہزار سپاہیوں کو علی الصباح کوچ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی اور یوسف کے ساتھ واپس شہر میں چلا آیا۔
رات کے وقت یوسف کے مکان پر عبد اللہ اور یوسف کھانا کھانے کے بعد باتوں میں مشغول تھے۔ وہ قتیبہ بن مسلم باہلی کی فتوحات کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے حسرت ناک انجام پر اظہار افسوس کر رہے تھے۔
عبد اللہ نے سوال کیا۔ ’’وہ شخص کون تھا جس نے امیر المؤمنین کو قتیبہ کے قتل کی خبر آنے پر مبارکباد دی تھی؟‘‘
یوسف نے جواب دیا ’’وہ تمام دمشق کے لیے ایک معما ہے۔ میں اس کے متعلق اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ اس کا نام ابن صادق ہے اور خلیفہ ولید نے اس کے سر کی قیمت ایک ہزار اشرفی مقرر کی تھی، خلیفہ کی وفات کے بعد یہ کسی گوشہ سے باہر نکل کر سلیمان کے پاس پہنچا۔ نئے خلیفہ نے اس کا بے حد احترام کیا اور اب یہ حالت ہے کہ خلیفہ اس سے زیادہ کسی کی نہیں سنتا۔‘‘
عبد اللہ نے کہا۔ ’’مدت ہوئی میں نے اس کے متعلق کچھ سنا تھا۔ دربار خلافت میں اس کا اقتدار تمام مسلمانوں کے لیے خطرے کا باعث ہو گا۔ موجودہ حالات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہمارے لیے بہت برا وقت آ رہا ہے۔‘‘
یوسف نے کہا۔ ’’میں نے اس سے زیادہ سنگ دل اور کمینہ انسان آج تک نہیں دیکھا۔محمدؒ بن قاسم کے المناک انجام پر کوئی شخص ایسا نہ تھا جس نے آنسو نہ بہائے ہوں۔ خود سلیمان نے اس قدر سخت دل ہونے کے باوجود کسی سے کئی دن بات نہ کی۔ لیکن یہ شخص تھا جو اس دن بے حد بشاش تھا۔ اگر میرے بس میں ہو تو اسے کتوں سے نچوا ڈالوں۔ یہ شخص جس کی طرف انگلی اٹھاتا ہے، خلیفہ اسے جلاد کے سپرد کر دیتے ہیں۔ قتیبہ کو قتل کرنے کا مشورہ اسی نے دیا تھا اور آج تم نے سنا، یہ شخص خلیفہ کو ایک قیدی یاد دلا رہا تھا!‘‘
’’ہاں۔ وہ کون ہے؟‘‘
’’وہ قتیبہ کا ایک نوجوان جرنیل ہے۔ جب اس شخص کا خیال آتا ہے، میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مجھے اس کا انجام محمدؒ بن قاسم سے زیادہ المناک نظر آتا ہے۔ عبد اللہ میرا جی چاہتا ہے کہ نوکری چھوڑ کر پھر فوج میں شامل ہو جاؤں۔ میرا ضمیر مجھے ہر وقت کوستا رہتا ہے۔ محمدؒ بن قاسم پر عرب کے تمام بچے اور بوڑھے فخر کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو بدترین مجرم کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔جب اسے واسط کے قید خانہ میں بھیجا گیا تو مجھے بھی اس کی نگرانی کے لیے وہاں پہنچنے کا حکم ہوا۔ واسط کا حاکم صالح پہلے ہی اس کے خون کا پیاسا تھا۔ اس نے محمدؒ بن قاسم کو سخت اذیتیں دیں۔ چند دن بعد ابن صادق بھی وہاں پہنچ گیا۔ یہ شخص ہر روز محمدؒ بن قاسم کا دل دکھانے کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ سوچتا۔ مجھے وہ وقت نہیں بھولتا جب محمدؒ بن قاسم قتل سے ایک دن پہلے قید خانے کی کوٹھڑی میں ٹہل رہا تھا، میں لوہے کی سلاخوں سے باہر کھڑا اس کی ہر حرکت کا معائنہ کر رہا تھا، اس کے خوبصورت چہرے کی متانت دیکھ کر میرا دل چاہتا تھا کہ اندر جا کر اس کے پاؤں چوم لوں۔ رات کے وقت مجھے سخت نگرانی کا حکم تھا۔ میں نے اس کی اندھیری کوٹھڑی میں شمع جلادی۔عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد اس نے آہستہ آہستہ ٹہلنا شروع کر دیا۔ رات گزر چکی تھی۔ یہ ذلیل کتا ابن صادق قید خانے کے پھاٹک پرا کر چلانے لگا۔ پہرے دار نے دروازہ کھولا اور ابن صادق نے میرے پاسا کر کہا ’’میں محمد بن قاسم سے ملنا چاہتا ہوں !‘‘
میں نے جواب دیا۔’’صالح کا حکم ہے کہ کسی کو بھی اس سے ملاقات کی اجازت نہ دی جائے۔‘‘
اس نے جوش میں آ کر کہا ’’تم جانتے ہو میں کون ہوں ؟‘‘
میں قدرے گھبرا گیا۔ اس نے لہجہ بدل کر مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ صالح تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔ میں نے مجبوراً محمدؒ بن قاسم کی کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا۔ ابن صادق آگے بڑھ کر دروازہ کی سلاخوں میں سے اسے جھانکنے لگا۔ محمدؒ بن قاسم اپنے خیالات میں محو تھا۔ اس نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔ ابن صادق نے حقارت آمیز لہجے میں کہا:
’’حجاج کے لاڈلے بیٹے! تمہارا کیا حال ہے؟‘‘
محمدؒ بن قاسم نے چونک کر اس کی طرف دیکھا لیکن کوئی بات نہ کی۔
’’مجھے پہچانتے ہو؟‘‘ ابن صادق نے دوبارہ سوال کیا۔
محمدؒ بن قاسم نے کہا۔ ’’مجھے یاد نہیں آپ کون ہیں۔‘‘
اس نے کہا۔’’دیکھا تم بھول گئے لیکن میں تمہیں نہیں بھولا!‘‘
محمدؒ بن قاسم نے آگے بڑھ کر دروازہ کی سلاخوں کو پکڑتے ہوئے ابن صادق کی طرف غور سے دیکھنے کے بعد کہا۔ ’’شاید میں نے کہیں آپ کو دیکھا ہے لیکن یاد نہیں۔‘‘
ابن صادق نے بغیر کچھ کہے اپنی چھڑی اس کے ہاتھ پر دے ماری اور اس کے منہ پر تھوک دیا۔
میں حیراں تھا کہ اس کے چہرے پر غصے کے آثار تک پیدا نہ ہوئے۔ اس نے اپنی قمیص کے دامن سے اپنے چہرے کو پونچھتے ہوئے کہا۔’’ بوڑھے آدمی! میں نے تمہاری عمر کے کسی آدمی کو کبھی تکلیف نہیں دی۔ اگر میں نے لا علمی میں تمہیں کوئی دکھ پہنچایا ہو تو میں خوشی سے تمہیں ایک بار اور تھوکنے کی اجازت دیتا ہوں۔‘‘
میں سچ کہتا ہوں کہ اس وقت محمدؒ بن قاسم کے سامنے اگر پتھر بھی ہوتا تو پگھل کر رہ جاتا۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میں ابن صادق کی داڑھی نوچ لوں۔ لیکن شاید یہ دربار خلافت کا احترام تھا یا میری بزدلی کہ میں کچھ نہ کر سکا۔ اس کے بعد ابن صادق گالیاں بکتا ہوا واپس چلا آیا۔ آدھی رات کے قریب میں نے قید خانے کا چکر لگاتے ہوئے دیکھا کہ وہ دو زانو بیٹھا ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہا ہے۔ مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں قفل کھول کر کوٹھڑی کے اندر داخل ہوا۔ اس نے دعا ختم کر کے میری طرف دیکھا۔
’’اٹھیے!‘‘ میں نے کہا۔
’’کیوں ؟‘‘ اس نے حیران ہو کر سوال کیا۔
میں نے کہا ’’میں اس گناہ میں حصہ نہیں لینا چاہتا۔ میں آپ کی جان بچانا چاہتا ہوں۔‘‘
اس نے بیٹھے بیٹھے ہاتھ بڑھا کر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ مجھے اپنے قریب بٹھا لیا اور کہا۔’’اول  تو مجھے اس بات کا یقین نہیں کہ امیر المؤمنین میرے قتل کا حکم صادر فرمائیں گے۔ اگر یہ ہوا بھی تو تمہارا کیا خیال ہے کہ میں اپنی جان بچانے کے لیے تمہاری جان خطرے میں ڈال دوں گا؟‘‘
میں نے کہا۔’’میری جان خطرے میں نہیں پڑے گی۔ میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گا۔ میرے پاس دو نہایت تیز رفتار گھوڑے ہیں۔ ہم بہت جلد یہاں سے دور نکل جائیں گے۔ ہم کوفہ اور بصرہ کے لوگوں کی پناہ لیں گے۔ وہ لوگ آپ کے لیے خون آخری قطرہ تک بہانے کے لیے تیار ہیں۔ اسلامی دنیا کے تمام بڑے بڑے شہر آپ کی آواز پر لبیک کہیں گے۔‘‘
اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا۔’’تمہارا کیا خیال ہے کہ میں بغاوت کی آگ پھیلا کر مسلمانوں کی تباہی کا تماشہ دیکھوں گا؟ نہیں یہ نہیں ہو گا۔ میں اسے ایک بزدلی خیال کرتا ہوں۔ بہادروں کو بہادروں کی موت مرنا چاہیے۔ میں اپنی جان کی حفاظت کے لیے ہزاروں مسلمانوں کی جانیں خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ تم یہ چاہتے ہو کہ دنیا محمدؒ بن قاسم کو ایک مجاہد کے نام سے یاد کرنے کی بجائے ایک باغی کہے؟‘‘
میں نے کہا۔’’لیکن مسلمانوں کو آپ جیسے بہادر سپاہیوں کی ضرورت ہے۔‘‘
اس کہا۔’’مسلمانوں میں میرے جیسے سپاہیوں کی کمی نہیں۔ اسلام کو تھوڑا بہت سمجھنے والا شخص بھی ایک بہترین سپاہی کے اوصاف پیدا کر سکتا ہے۔‘‘
میرے پاس اور الفاظ نہیں تھے۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔’’معاف کیجئے۔ آپ میرے خیال سے بہت بلند نکلے۔ اس نے اٹھ کر میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور کہا۔’’دربار خلافت مسلمانوں کی طاقت کا مرکز ہے۔ اس سے بے وفائی کا خیال کبھی اپنے دل میں نہ لانا۔‘‘
  یوسف نے بات ختم کی۔ عبد اللہ نے اس کی اشک آلو آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’وہ ایک ہونہار مجاہد تھا۔‘‘
یوسف نے کہا۔’’ اب میرے لیے ایک اور بات سوہان روح بنی ہوئی ہے۔ میں ابھی آپ سے قتیبہ بن مسلم باہلی کے ایک جرنیل کا تذکرہ کر رہا تھا۔ اس کی شکل و صورت آپ سے ملتی جلتی ہے۔ قد ذرا آپ سے لمبا ہے۔ مجھے اس کے ساتھ بہت انس ہو گیا ہے اور خدا نہ کرے اگر اس کا انجام بھی وہی ہوا تو میں بغاوت کا علم بلند کر دوں گا۔ اس بے چارے کا بس اتنا قصور ہے کہ اس نے محمدؒ بن قاسم اور قتیبہؒ کے متعلق چند اچھے الفاظ کہہ دیے۔ اب ابن صادق ہر روز قید خانے میں جا کر اس کا دل دکھاتا ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اسے ابن صادق کی باتوں سے بے حد تکلیف ہوتی ہے، اس نے مجھ سے کئی بار پوچھا ہے کہ اسے کب آزاد کیا جائے گا۔ مجھے ڈر ہے کہ ابن صادق کے اصرار سے خلیفہ اسے آزاد کرنے کی بجائے قتل کر ڈالے گا۔محمدؒ بن قاسم کے چند اور دوست بھی قید ہیں لیکن جو سلوک اس کے ساتھ کیا جاتا ہے، شرمناک ہے۔ اس کی تاتاری بیوی بھی اس کے ساتھ آئی ہے اور وہ اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ شہر میں رہتی ہے۔ اس نے چند روز ہوئے مجھے اپنی بیوی کا پتہ دیا تھا۔ اس کا نام شاید نرگس ہے۔ میری خالہ کا مکان اس کے مکان کے قریب ہی ہے۔ خالہ کو اس کے ساتھ بہت انس ہو گیا ہے۔ وہ سارا دن وہاں رہتی ہے اور مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں اس کے شوہر کو بچانے کی کوئی صورت نکالوں۔ میں حیران ہوں کہ کیا کروں اور کس طرح اس کی جان بچاؤں ؟‘‘
عبد اللہ ایک گہری سوچ میں ڈوبا یوسف کی باتیں سن رہا تھا۔ اس کے دل میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہو رہے تھے۔ اس نے یوسف سے سوال کیا۔ اس کی شکل مجھ سے ملتی جلتی ہے؟‘‘
’’ہاں، لیکن وہ آپ سے ذرا لمبا ہے۔‘‘
’’اس کا نام نعیم تو نہیں ؟‘‘ عبد اللہ نے مغموم لہجے میں پوچھا۔
’’ہاں نعیم! آپ اسے جانتے ہیں ؟‘‘
’’وہ میرا چھوٹا بھائی ہے۔ میرا چھوٹا بھائی۔‘‘
’’اف! مجھے یہ معلوم نہ تھا۔‘‘
عبد اللہ نے ایک لمحے کی خاموشی کے بعد کہا۔ ’’اگر اس کا نام نعیم ہے اور اس کی پیشانی میری پیشانی سے کشادہ، اس کی ناک میری ناک سے ذرا پتلی، اس کی آنکھیں میری آنکھوں سے بڑی، اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے مقابلے میں پتلے اور خوب صورت، اس کا قد میرے قد سے ذرا لمبا، اس کا جسم میرے جسم کے مقابلے میں ذرا پتلا ہے تو میں قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ میرے بھائی کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ وہ کتنی دیر سے زیر حراست ہے؟‘‘
’’اسے قید ہوئے کوئی دو مہینے ہونے والے ہیں۔ عبد اللہ! اب ہمیں اسے بچانے کی تدبیر کرنی چاہیے!‘‘
’’تم اپنی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتے؟‘‘ عبد اللہ نے کہا۔
’’عبد اللہ! تمہیں یاد ہے کہ قرطبہ کے محاصرے میں جب میں زخموں سے چور تھا، تم نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر میری جان بچائی تھی اور تیروں کی بارش میں لاشوں کے ڈھیر سے مجھے اٹھا لائے تھے ؟‘‘
’’وہ میرا فرض تھا۔ تم پر احسان نہیں تھا!‘‘
’’میں بھی اسے اپنا فرض خیال کرتا ہوں۔ تم پر احسان نہیں سمجھتا۔’’
عبد اللہ کچھ دیر تک یوسف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتا رہا۔ وہ کچھ کہنے کو تھا کہ یوسف کے حبشی غلام زیاد نے آ کر اطلاع دی کہ ابن صادق دروازے پر کھڑا آپ سے ملنا چاہتا ہے۔
یوسف کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اسے گھبرا کر عبد اللہ سے کہا۔’’آپ دوسرے کمرے میں چلے جائیں وہ شک نہ کرے !‘‘
عبد اللہ جلدی سے پچھلے کمرے میں چلا گیا۔ یوسف نے کمرے کا دروازہ بند کرنے کے بعد اطمینان کا سانس لیا اور زیاد سے کہا۔’’اسے اندر لے آؤ!‘‘
زیاد چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد ابن صادق داخل ہوا۔ ابن صادق نے کوئی رسمی گفتگو شروع کرنے کی بجائے آتے ہی کہا۔’’آپ مجھے دیکھ کر بہت حیران ہوئے ہوں گے؟‘‘
یوسف نے اپنے ہونٹوں پر ایک معنی خیز تبسم لاتے ہوئے کہا۔ ’’اس جگہ کیا، میں آپ کو ہر جگہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں۔ آپ تشریف رکھیں !‘‘
’’شکریہ۔‘‘ ابن صادق نے چاروں طرف نظر دوڑا کر عقبی کمرے کے دروازے کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہوئے کہا۔’’ میں آج بہت مصروف ہوں۔ وہ آپ کے دوست کہاں ہیں ؟‘‘
یوسف نے پریشان ہو کر کہا۔’’کون سے دوست؟‘‘
’’آپ جانتے ہیں میں کون سے دوست کے متعلق پوچھ رہا ہوں ؟‘‘
’’مجھے آپ کی طرح علم غیب نہیں ہے۔‘‘
’’میرا مطلب ہے کہ نعیم کا بھائی عبد اللہ کہاں ہے؟‘‘
’’نعیم کے متعلق معلومات مہیا کرتے ہوئے میں نے کئی سال گزار دیے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ مجھے اس کے ساتھ کس قدر دلچسپی ہے؟‘‘
یوسف نے ترش لہجے میں جواب دیا۔’’یہ تو میں جانتا ہوں لیکن میں یہ پوچھنے کی جرات کر سکتا ہوں کہ آپ کو عبد اللہ کے ساتھ کیا کام ہے؟‘‘
ابن صادق نے جواب دیا ’’آپ کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا۔ پہلے آپ یہ بتائیں کہ وہ کہاں ہے؟‘‘
’’مجھے کیا معلوم۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کو کسی کے ساتھ دلچسپی ہو تو میں بھی اس کی جاسوسی کرتا پھروں۔‘‘
ابن صادق نے کہا۔ ’’جب دربار خلافت سے باہر نکلا تھا آپ اس کے ساتھ تھے، جب لشکر کی قیام گاہ میں پہنچا تو آپ اس کے ساتھ تھے۔ جب وہ واپس شہر کی طرف آیا تھا تو آپ اس کے ساتھ تھے۔ میرا خیال تھا کہ اب بھی وہ آپ کے ساتھ ہو گا!‘‘
’’وہ یہاں سے کھانا کھا کر چلا گیا ہے۔‘‘
’’کب؟‘‘
’’ابھی۔‘‘
’’کس طرف؟‘‘
’’غالباً لشکر کی قیام گاہ کی طرف۔‘‘
’’یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قید خانے کی طرف گیا ہو یا اپنے بھائی کی بیوہ کو تسلی دینے کے لیے گیا ہو۔‘‘
’’بھائی کی بیوہ؟ آپ کا مطلب ہے کہ ........؟‘‘
ابن صادق نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا ’’میرا مطلب ہے کہ وہ کل تک بیوہ ہو جائے گی۔ میں آپ کو امیر المؤمنین کا یہ حکم سنانے آیا ہوں کہ محمدؒ بن قاسم کے تمام دوستوں کی اچھی طرح نگرانی کریں۔ کل ان کے متعلق حکم سنایا جائے گا اور میں اپنی طرف سے آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ اپنی جان عزیز رکھتے ہیں تو عبد اللہ کے ساتھ مل کر نعیم کی رہائی کی سازش نہ کریں !‘‘
’’آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں ایسی سازش کر سکتا ہوں ؟ ‘‘ یوسف نے غصے میں آ کر کہا۔
مجھ کو یقین تو نہیں لیکن شاید عبد اللہ کی دوستی کا پاس آپ کو مجبور کر دے۔ آپ نے قید خانے پر کتنے سپاہی مقرر کیے ہیں ؟‘‘
یوسف نے جواب دیا۔’’چالیس اور میں خود بھی وہاں جا رہا ہوں !‘‘
’’اگر ہو سکے تو چند اور سپاہی مقرر کر دیں کیونکہ وہ آخری وقت پر بھی فرار ہو جایا کرتا ہے۔‘‘
’’آپ اس قدر گھبراتے کیوں ہیں ؟ وہ ایک معمولی آدمی ہے۔ قید خانے پر اگر پانچ ہزار آدمی بھی حملہ کر دیں تو بھی اسے چھڑا کر لے جانا محال ہے۔‘‘
’’میری فطرت مجھے آنے والے خطرات سے آگاہ کر دیتی ہے۔ اچھا میں جاتا ہوں۔ چند اور سپاہی بھی آپ کے پاس بھیج دوں گا۔ آپ ان کو بھی نعیم کی کوٹھڑی پر متعین کر دیں !‘‘
یوسف نے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔’’آپ مطمئن رہیں۔ نئے پہریداروں کی ضرورت نہیں۔ میں خود پہرہ دوں گا۔ آپ اتنے فکر مند کیوں ہیں ؟‘‘
ابن صادق نے جواب دیا۔’’آپ کو شاید معلوم نہیں۔ اس کی رہائی دوسرے معنوں میں میری موت ہو گی۔ جب تک اس کی گردن پر جلاد کی تلوار نہیں پڑتی، مجھے چین نہیں آ سکتا!‘‘
ابن صادق نے اپنا فقرہ ختم کیا ہی تھا کہ عقبی کمرے کا دروازہ یکا یک کھلا اور عبد اللہ نے باہر نکلتے ہوئے کہا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نعیم کی موت سے پہلے تم قبر کی آغوش میں سلا دیے جاؤ!‘‘
ابن صادق چونک کر پیچھے ہٹا اور چاہتا تھا کہ وہاں سے بھاگ نکلے لیکن یوسف نے آگے بڑھ کر راستہ روک لیا اور اپنا خنجر دکھاتے ہوئے کا:
’’اب تم نہیں جا سکتے!‘‘
ابن صادق نے کہا۔’’تم جانتے ہو میں کون ہوں ؟‘‘
’’ہم تمہیں اچھی طرح جانتے ہیں اور اب تمہیں یہ جاننا ہو گا کہ ہم کون ہیں ؟‘‘ یہ کہہ کر یوسف نے تا لی بجائی اور اس کا غلام زیاد بھاگتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔ وہ اپنے جسم کے طول و عرض اور شکل و شباہت کی ہیبت سے ایک کالا دیو معلوم ہوتا تھا۔ توند اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ چلتے وقت اس کا پیٹ اوپر نیچے اچھلتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ ناک نہایت لمبوتری اور موٹی تھی۔ نیچے کا ہونٹ اس قدر موٹا تھا کہ نچلے دانت مسوڑھوں تک نظر آتے تھے۔ اوپر کے دانت اوپر کے ہونٹ سے مقابلتاً لمبے تھے۔ آنکھیں چھوٹی لیکن چمکدار تھیں۔ اس نے ابن صادق کی طرف دیکھا اور اپنے آقا کے حکم کا انتظار کرنے لگا۔
یوسف نے ایک رسی لانے کا حکم دیا۔ زیادہ اسی طرح پیٹ کو اوپر نیچے اچھالتا ہوا باہر نکلا اور رسی کے علاوہ ایک کوڑا بھی لے آیا۔
یوسف نے کہا۔’’زیاد! اسے رسی سے جکڑ کر اس ستون کے ساتھ باندھ دو!‘‘
زیادہ پہلے سے زیادہ خوفناک شکل بنا کر آگے بڑھا اور اس نے ابن صادق کو بازوؤں سے پکڑ لیا۔ ابن صادق نے کچھ جدوجہد کی لیکن اپنے طاقت ور حریف کی گرفت میں بے بس ہو کر رہ گیا۔ زیاد نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر اس قدر جھنجھوڑا کہ اس کے ہوش و حواس جاتے رہے۔ اس کے بعد نہایت اطمینان سے اس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور ایک ستون کے ساتھ جکڑ دیا۔ عبد اللہ نے اپنی جیب سے رومال نکالا اور اس کے منہ پر کس کر باندھ دیا۔
یوسف نے عبد اللہ کی طرف دیکھا اور اس سے سوال کیا۔’’اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‘‘
عبد اللہ نے جواب دیا۔ ’’میں نے سب کچھ سوچ لیا ہے۔تم تیار ہو جاؤ اور میرے ساتھ چلو۔ تمہیں اس مکان کا پتہ ہے جہاں نعیم کی بیوی رہتی ہے؟‘‘
’’ہاں وہ نزدیک ہی ہے۔‘‘
’’بہت اچھا یوسف تم ایک لمبے سفر پر جا رہے ہو۔ فوراً تیار ہو جاؤ!‘‘
یوسف لباس تبدیل کرنے میں مصروف ہو گیا اور عبد اللہ نے کاغذ اور قلم اٹھایا اور جلدی جلدی میں خط لکھ کر اپنی جیب میں ڈالا۔
’’یہ خط آپ کس کے نام لکھ رہے ہیں ؟‘‘
’’یہ بات اس ذلیل کتے کے سامنے بتانا قرین مصلحت نہیں۔ میں باہر نکل کر بتاؤں گا، آپ اپنے غلام سے کہہ دیں کہ میں جس طرح کہوں اس طرح کرے، اسے میں آج صبح اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔‘‘
اور اس کا کیا ہو گا؟‘‘ یوسف نے ابن صادق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
عبد اللہ نے جواب دیا۔’’تم اس کی فکر نہ کرو۔ زیاد کو کہہ دو کہ جب تک میں واپس نہ آؤں، اس کی حفاظت کرے.... اور آپ کے ہاں لکڑی کا کوئی بڑا صندوق ہے جو اس خطرناک چوہے کے لیے پنجرے کا کام دے سکے ؟‘‘
یوسف عبداللہ کا مقصد سمجھ کر مسکرایا۔ اس نے کہا۔’’ہاں ایک بڑا صندوق دوسرے کمرے میں پڑا ہے۔ جو اس کے لیے اچھے خاصے پنجرے کا کام دے سکے گا۔ آئیے میں آپ کو دکھاتا ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر یوسف عبد اللہ کو اپنے ساتھ دوسرے کمرے میں لے گیا اور لکڑی کے ایک صندوق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔’’میرے خیال میں یہ آپ کی ضرورت کو پورا کر سکے گا!‘‘
’’ہاں، یہ بہت اچھا ہے۔ اسے فوراً خالی کرو!‘‘ یوسف نے ڈھکنا اوپر اٹھایا اور صندوق کو اٹھا کر تمام سامان فرش پر ڈھیر کر دیا۔ عبد اللہ نے صندوق کے ڈھکنے میں چاقو سے دو تین سوراخ کر دیے اور کہا۔’’بس اب ٹھیک ہے۔ زیادہ سے کہو کہ اسے اٹھا کر دوسرے کمرے میں لے جائے۔‘‘
یوسف نے زیاد کو حکم دیا اور وہ صندوق اٹھا کر دوسرے کمرے میں لے گیا۔
عبد اللہ نے کہا۔ ’’اب تم زیاد سے کہو کہ اسکی پوری پوری نگرانی کرے اور اگر یہ آزاد ہونے کی کوشش کرے تو فوراً اس کا گلا گھونٹ دے۔‘‘
یوسف نے زیاد کی طرف دیکھا اور کہا۔’’زیاد! تم سمجھتے ہو تمہیں کیا کرنا ہے؟‘‘
زیاد نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’ان کا حکم بالکل میرا حکم سمجھنا!‘‘
زیاد نے پھر اسی طرح سر ہلا دیا۔
عبد اللہ نے کہا۔’’چلو اب دیر ہو رہی ہے۔‘‘
یوسف اور عبداللہ کمرے سے باہر نکلنے کو تھے کہ یوسف کچھ سوچ کر رک گیا اور بولا۔’’شاید میں اس شخص سے دوبارہ نہ ملوں۔ مجھے اس سے کچھ کہنا ہے۔‘‘
عبد اللہ نے کہا۔’’اب ایسی باتوں کا وقت نہیں۔‘‘
’’کوئی لمبی بات نہیں۔ ’’یوسف نے کہا۔’’ذرا ٹھہریے!‘‘
یہ کہہ کر یوسف، ابن صادق کی طرف متوجہ ہوا۔’’میں آپ کا مقروض ہوں اور اب چاہتا ہوں کہ آپ کا تھوڑا بہت قرضہ ادا کر دوں۔ دیکھیے، آپ نے محمدؒ بن قاسم کے منہ پر تھوکا تھا، اس لیے میں آپ کے منہ پر تھوکتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ابن صادق کے منہ پر تھوک دیا۔
  آپ نے اس کے ہاتھ پر چھڑی بھی ماری تھی، اس لیے لیجئے۔‘‘ وی سف نے اسے ایک کوڑا رسید کرتے ہوئے کہا۔’’آپ کو یاد ہے کہ آپ نے نعیم کے منہ پر تھپڑ بھی مارا تھا، یہ اس کا جواب ہے۔‘‘یوسف نے یہ کہہ کر زور سے ایک تھپڑ رسید کیا۔’’اور آپ نے نعیم بال بھی نوچے تھے۔‘‘ یوسف نے اس کی ڈاڑھی کو زور زور سے جھٹکے دیتے ہوئے کہا۔
’’یوسف بچے نہ بنو۔‘‘ جلدی کرو!‘‘عبد اللہ نے واپس مڑ کر اسے بازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے کہا۔
’’اچھا۔ باقی پھر سہی۔ زیاد ! اس کا اچھی طرح خیال رکھنا!‘‘
زیاد نے پھر اسی طرح سر ہلایا اور یوسف عبد اللہ کے ساتھ باہر نکل گیا۔‘‘

(۳)

راستے میں یوسف نے پوچھا۔ ’’آپ نے کیا تجویز سوچی ہے؟‘‘
عبد اللہ نے کہا۔’’سنو! تم مجھے نعیم کی بیوی کے مکان پر چھوڑ کر قید خانے کی طرف جاؤ اور نعیم کو وہاں سے نکال کر اپنے گھر لے جاؤ۔ وہاں سے نکالنے میں کوئی دقت تو نہیں ہو گی؟‘‘
’’کوئی دقت نہیں۔‘‘
’’اچھا، تم نے بتایا تھا کہ تمہارے پاس دو بہترین گھوڑے ہیں۔ میرا گھوڑا فوجی اصطبل میں ہے۔ تم ایک اور گھوڑے کا انتظام نہیں کر سکتے؟‘‘
’’انتظام تو دس گھوڑوں کا بھی ہو سکتا ہے لیکن نعیم کے اپنے تین گھوڑے بھی تو اس کے گھر میں موجود ہیں۔‘‘
’’اچھا تم نعیم کو نکال کر اپنے گھر لے آؤ۔ میں اتنی دیر میں اس کی بیوی کے ساتھ شہر کے مغربی دروازے کے باہر تمہارا انتظار کروں گا۔ تم دونوں گھر سے سوار ہو کر وہاں پہنچ جاؤ!‘‘
عبد اللہ نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہو خط جیب سے نکال کر یوسف کو دیتے ہوئے کہا:
’’تم یہاں سے سیدھے قیروان جاؤ گے۔ وہاں کا سالار اعلیٰ میرا دوست ہے اور نعیم کا ہم مکتب بھی رہ چکا ہے۔ وہ تمہیں سپین تک پہنچانے کا بندوبست کر دے گا۔ سپین پہنچ کر طیطلہ کے امیر عسا کر ابو عبید کو یہ خط دینا۔ وہ تمہیں فوج میں بھرتی کر لے گا۔ وہ میرا نہایت مخلص دوست ہے، آپ کی پوری پوری حفاظت کرے گا۔ اسے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ نعیم میرا بھائی ہے۔میں نے لکھ دیا ہے کہ آپ دونوں میرے دوست ہیں۔ کسی اور کو اپنے حالات سے آگاہ نہ کرنا۔ میں قسطنطنیہ سےا کر امیر المؤمنین کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘
یوسف نے خط لے کر جیب میں رکھ لیا اور ایک خوبصورت مکان کے دروازے پر پہنچ کر بتایا کہ نعیم کی بیوی اس جگہ رہتی ہے۔‘‘
عبد اللہ نے کہا۔’’اچھا، تم جاؤ اور اپنا کام ہوشیاری سے کرنا!‘‘
’’بہت اچھا۔خدا حافظ!‘‘
’’خدا حافظ!‘‘
یوسف کے چند قدم دور چلے جانے کے بعد عبد اللہ نے مکان کے دروازے پر دستک دی۔ برمک نے اندر سے دروازہ کھولا اور عبد اللہ کو نعیم سمجھتے ہوئے خوشی سے اچھل کر تاتاری زبان میں کہا۔’’آپا گئے؟ نرگس! نرگس! ! بیٹا وہ آ گئے!‘‘
عبد اللہ شروع شروع میں کچھ عرصہ ترکستان میں گزار چکا تھا۔ اس نے برمک  کا سمجھ کر کہا۔’’میں اس کی بھائی ہوں۔‘‘
اتنے میں نرگس بھاگتی ہوئی آئی۔ ’’کونا گئے!‘‘ اس نے آتے پوچھا۔
’’یہ نعیم کے بھائی ہیں۔‘‘ برمک نے جواب دیا۔
’’میں سمجھی تھی وہ....!‘‘ نرگس کا اچھلتا ہوا دل میں بیٹھ گیا اور وہ آگے کچھ نہ کہہ سکی۔
’’بہن! میں نعیم کا پیغام لے کر آیا ہوں۔‘‘ عبد اللہ نے مکان کے صحن میں داخل ہو کر دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔
’’ان کا پیغام؟ آپ ان سے مل کر آئے ہیں ؟ وہ کیسے ہیں ؟ بتائیے! بتائیے!!‘‘
نرگس نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے کہا۔
’’تم میرے ساتھ چلنے کے لیے فوراً تیار ہو جاؤ!‘‘
’’کہاں ؟‘‘
’’نعیم سے ملنے کے لیے !‘‘
’’وہ کہاں ہیں ؟‘‘
’’وہ آپ کو شہر سے باہر ملیں گے۔‘‘
نرگس نے مشکوک نگاہوں سے عبد اللہ کو دیکھا اور کہا۔’’آپ تو سپین میں تھے!‘‘
عبد اللہ نے کہا۔’’میں وہیں سے آیا ہوں اور آج مجھے معلوم ہے کہ وہ قید میں پڑا ہوا ہے۔ میں نے اسے قید سے نکالنے کا انتظام کیا ہے۔ آپ جلدی کریں !‘‘
برمک نے کہا۔‘‘ چلیے آپ کمرے میں چلیں، یہاں اندھیرا ہے۔‘‘
برمک، نرگس اور عبد اللہ مکان کے ایک روشن کمرے میں پہنچے۔ نرگس نے عبد اللہ کو شمع کی روشنی میں غور سے دیکھا۔ نعیم کے ساتھ اس کی غیر معمولی مشابہت دیکھ کر اسے بہت حد تک اطمینان ہو گیا۔
’’ہم پیدل جائیں گے؟‘‘ اس نے عبد اللہ سے سوال کیا۔
’’نہیں گھوڑوں پر۔‘‘ یہ کہہ کہ عبد اللہ نے برمک کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ ’’گھوڑے کہاں ہیں ؟‘‘
اس نے جواب دیا۔’’وہ سامنے اصطبل میں ہیں۔‘‘
’’چلو ہم گھوڑے تیار کریں۔‘‘
عبداللہ اور برمک نے اصطبل میں پہنچ کر گھوڑوں پر زینیں ڈالیں۔ اتنے میں نرگس تیار ہو کرا گئی۔ عبد اللہ نے اسے ایک گھوڑے پر سوار کرایا اور باقی دو گھوڑوں پر وہ اور برمک سوار ہو گئے۔ شہر کے دروازے پر پہریداروں نے روکا۔ عبد اللہ نے انہیں بتایا کہ وہ صبح کے وقت قسطنطنیہ جانے والی فوج کے ساتھ شامل ہونے کے لیے لشکر کی قیام گاہ کی طرف جا رہا ہے اور ثبوت میں خلیفہ کا حکم نامہ پیش کیا۔ پہریداروں نے ادب سے جھک کر سلام کیا اور دروازہ کھول دیا۔ دروازے سے چند قدم آگے چل کر یہ تینوں گھوڑوں سے اتر ے اور درختوں کے سائے میں کھڑے ہو کر یوسف اور نعیم کا انتظار کرنے لگے۔
’’وہ کب آئیں گے؟‘‘ نرگس بار بار بے چین ہو کر پوچھتی۔
عبد اللہ ہر بار شفقت آمیز لہجے میں جواب دیتا۔’’بس وہ آ ہی رہے ہوں گے!‘‘
انہیں انتظار میں تھوڑا عرصہ گزرا تھا کہ دروازے کی طرف سے گھوڑوں کی ٹاپ سنائی دی۔ ’’وہ آ رہے ہیں !‘‘ عبد اللہ نے آہٹ پا کر کہا۔
سواروں کے آنے پر عبداللہ اور نرگس درختوں کے سائے سے نکل کر سڑک پر کھڑے ہو گئے۔
نعیم قریب پہنچ کر گھوڑے سے اترا اور بھائی سے لپٹ گیا۔
عبد اللہ نے کہا۔ ’’اب دیر نہ کرو۔ صبح ہونے والی ہے۔ قیروان پہنچنے سے پہلے دم نہ لینا۔ برمک میرے ساتھ چلے گا!‘‘
  نعیم گھوڑے پر سوار ہوا۔ اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ عبد اللہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چوما اور آنکھوں سے لگا لیا۔ نعیم کی آنکھوں میں آنسوا گئے۔
’’بھائی عذرا کیسی ہے؟‘‘ نعیم نے مغموم آواز میں سوال کیا۔
’’وہ اچھی ہے۔ اگر خدا کو منظور ہوا تو ہم تمہیں سپین میں ملیں گے۔‘‘
اس کے بعد عبد اللہ نے یوسف کے ساتھ مصافحہ کیا اور پھر نرگس کے قریب جا کر اپنا ہاتھ بلند کیا۔ نرگس نے اس کا مطلب سمجھ کر سر نیچے جھکا دیا۔ عبد اللہ نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
نرگس نے کہا۔’’بھائی جان! عذرا سے میرا سلام کہیے!‘‘
’’اچھا۔خدا حافظ! عبد اللہ نے کہا۔
تینوں نے اس کے جواب میں خدا حافظ کہا اور گھوڑوں کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیں۔ عبد اللہ اور برمک کچھ دیر وہیں کھڑے رہے اور جب نعیم اور اس کے ساتھی رات کی تاریکی میں غائب ہو گئے تو یہ اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر لشکر کی قیام گاہ میں پہنچے۔
پہریداروں نے عبد اللہ کو پہچان کو سلام کیا۔ برمک کا گھوڑا ایک سپاہی کے حوالے کیا اور اس کی سواری کے لیے اونٹ کا انتظام کر کے دوبارہ شہر کی طرف لوٹا۔

(۴)

زیاد اپنے مالک سے ابن صادق کا پورا پورا خیال رکھنے کا حکم سن چکا تھا اور اس نے ابن صادق کا اس حد تک خیال رکھا کہ اس کے چہرے سے نظر تک نہ ہٹائی۔ جب نیند کا غلبہ ہوتا تو اٹھ کر اس ستون کے گرد چکر لگانا شروع کر دیتا جس کے ساتھ ابن صادق جکڑا ہوا تھا، وہ اس تنہائی سے تنگ آ چکا تھا۔ اسے اچانک خیال آیا اور وہ ابن صادق کے قریب جا کھڑا ہو گیا اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔اس کے چہرے پر اچانک ایک خوفناک مسکراہٹ نمودار ہوئی، اس نے ابن صادق کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ دے کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا اور اس کے منہ پر تھوکنے لگا۔ اس کے بعد اس نے پوری طاقت سے ابن صادق کو چند کوڑے رسید کر دیے اور پھر اس کے منہ پر اس زور سے تھپڑ مارا کہ تھوڑی دیر کے لیے اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی، جب اسے ہوش آیا تو زیاد اس کی داڑھی پکڑ کر کھینچنے لگا۔ جب ابن صادق نے بے بس ہو کر گردن ڈھیلی چھوڑ دی تو زیاد بھی اس کی خلاصی کر کے تھوڑی دیر کے لیے اس کے گرد گھومنے لگا۔ابن صادق نے ہوش میں آ کر آنکھیں کھولیں تو زیاد نے پھر وہی عمل دہرایا۔ چند بار ایسا کرنے پر جب اس نے محسوس کیا کہ اس کی طاقت کوڑے کھانے سے جواب دے چکی ہے تو ستون کے گرد چکر لگانے کے بعد وہ کبھی کبھی ابن صادق کی داڑھی پکڑ کر ایک آدھ جھٹکا دے دیتا۔ کبھی کبھی وہ تھک کر بیٹھ جاتا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد یہ دل لگی شروع کر دیتا۔
جس وقت صبح کی اذان ہو رہی تھی۔ زیاد نے دروازے سے باہر دیکھا۔ عبد اللہ اور برمک آتے دکھائی دیے۔ اس نے آخری بار جلدی جلدی تھوکنے، کوڑے مارنے، طمانچے رسید کرنے اور ڈاڑھی نوچنے کا شغل پورا کرنا چاہا۔ ابھی اس نے داڑھی نوچنے کی رسم پوری طرح ادا نہ کی تھی کہ عبد اللہ اور برمک آ پہنچے۔
عبد اللہ نے کہا۔’’بے وقوف تم کیا کرتے ہو، اسے جلدی سے صندوق میں ڈالو۔‘‘
زیادہ نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور اس ادھ موئے اژدہے کو صندوق میں بند کر دیا۔
سورج نکلتے ہی عبد اللہ اپنی فوج کے ساتھ قسطنطنیہ کی طرف جا رہا تھا۔ سامان رسد کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ کی پیٹھ پر ایک صندوق بھی لدا ہوا تھا۔ اس اونٹ کی نکیل زیاد کی سواری کے اونٹ کی دم سے بندھی ہوئی تھی۔لشکر میں عبد اللہ، برمک اور زیاد کے سوا کسی کو معلوم نہ تھا کہ اس صندوق میں کیا ہے۔
  عبد اللہ کے حکم سے برمک بھی گھوڑے پر سوار اس صندوق والے اونٹ کے ساتھ ساتھا رہا تھا۔

(۵)

نعیم، نرگس اور یوسف کے ہمراہ قیروان پہنچا۔ وہاں سے ایک لمبی مسافت طے کرنے کے بعد قرطبہ پہنچا۔ قرطبہ سے طیطلہ کا رخ کیا۔وہاں پہنچ کر نرگس کو ایک سرائے میں ٹھہرایا اور یوسف کے ہمراہ امیر عسا کر ابوعبیدہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عبد اللہ کا خط پیش کیا۔
ابوعبیدہ نے خط کھول کر پڑھا اور یوسف اور نعیم کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور کہا۔’’آپ عبداللہ کے دوست ہیں۔ آج سے مجھے اپنا دوست خیال کریں۔ کیا عبد اللہ خود واپس نہیں آئے گا؟‘‘
نعیم نے جواب دیا۔’’امیر المومنین نے انہیں قسطنطنیہ کی مہم پر روانہ کیا ہے۔‘‘
’’اس جگہ ان کی قسطنطنیہ سے زیادہ ضرورت تھی۔ طارقؒ اور موسیؒ کی جگہ لینے والا کوئی نہیں۔ میں ضعیف ہو چکا ہوں اور پوری تن دہی سے اپنے فرائض ادا نہیں کر سکتا۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ ملک شام اور عرب سے بہت مختلف ہے۔ یہاں پہاڑی لوگوں کے جنگ کے طریقے بھی ہم سے جدا ہیں۔ اس سے پیشتر آپ کو فوج میں کوئی اچھا عہدہ دیا جائے، اس جگہ معمولی سپاہیوں کی حیثیت سے کافی دیر تک تجربہ حاصل کرنا ہو گا۔ رہا آپ کی حفاظت کا سوال تو اس کے متعلق مطمئن رہیں۔ اگر امیر المومنین نے آپ کو یہاں تک تلاش کرنے کی کوشش کی تو آپ کو کسی محفوظ مقام پر پہنچا دیا جائے گا۔ میرا یہ اصول ہے کہ میں کسی شخص کی قابلیت کا امتحان لیے بغیر اسے کسی ذمہ داری پر مامور نہیں کرتا!‘‘
نعیم نے سپہ سالار کی طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا۔’’آپ اطمینان رکھیں، مجھے سپاہیوں کی آخری صف میں رہ کر بھی وہی مسرت حاصل ہو گی جو میں قتیبہؒ بن مسلم اور محمدؒ بن قاسم کے دائیں ہاتھ پر رہ کر محسوس کیا کرتا تھا۔‘‘
’’آپ کا مطلب ہے کہ آپ........!‘‘
ابو عبیدہ نے اپنا فقرہ پورا نہ کیا تھا کہ یوسف بول اٹھا۔’’یہ ابن قاسم اور قتیبہؒ کے مشہور سالاروں میں سے ایک ہیں۔‘‘
’’معاف کیجئے۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ میں اپنے سے زیادہ قابل اور تجربہ کار سپاہی کے سامنے کھڑا ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ابوعبیدہ نے پھر ایک بار نعیم سے مصافحہ کیا۔
’’میں اب سمجھا کہ آپ امیر المومنین کے زیر عتاب کیوں ہیں۔ یہاں آپ کو کوئی خطرہ نہیں۔ تاہم احتیاط کے طور پر آج سے آپ کا نام زبیر اور آپ کے دوست کا نام عبد العزیز ہو گا۔ آپ کے ساتھ اور کوئی بھی ہے؟‘‘
نعیم نے کہا۔’’ہاں ! میری بیوی بھی ساتھ ہے۔ میں اسے سرائے میں ٹھہرا کر آیا ہوں۔‘‘
’’میں ان کے لیے ابھی کوئی بندوبست کرتا ہوں !‘‘ ابوعبیدہ نے آواز دے کر ایک نوکر کو بلایا اور شہر میں کوئی اچھا سا مکان تلاش کرنے کا حکم دیا۔
چار مہینوں کے بعد نعیم زرہ بکتر پہنے نرگس کے سامنے کھڑا ہوا تھا اور اس سے یہ کہہ رہا تھا ’’جس رات بھائی عبد اللہ اور عذرا کی شادی ہوئی تھی وہ اسی رات جہاد پر روانہ ہو گیا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ عذرا کے چہرے پر تفکرات اور غم کے معمولی آثار بھی نہ تھے۔‘‘
’’میں آپ کا مطلب سمجھتی ہوں۔‘‘ نرگس نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔’’آپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ تاتاری عورتیں عرب عورتوں کے مقابلے میں بہت کمزور ہیں لیکن میں آپ کا خیال غلط ثابت کر دوں گی۔‘‘
نعیم نے کہا۔’’پرتگال کی مہم میں ہمیں قریباً چھ ماہ لگ جائیں گے۔ میں کوشش کروں گا کہ اس دوران ایک دفعہ آ کر تمہیں دیکھ جاؤں۔اگر میں نہا سکا تو گھبرا نہ جانا۔ آج ابوعبیدہ ایک لونڈی تمہارے پاس بھیج دے گا۔‘‘
’’میں آپ کو....!‘‘ نرگس نے اپنی آنکھیں نیچے جھکاتے ہوئے کہا۔’’ایک نئی خبر سنانا چاہتی ہوں۔‘‘
  ’’سناؤ!‘‘ نعیم نے نرگس کی ٹھوڑی پیار سے اوپر اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’جب آپ آئیں گے....!‘‘
’’ہاں ہاں کہو!‘‘
’’آپ نہیں جانتے؟‘‘ نرگس نے نعیم کا ہاتھ پکڑ کر دباتے ہوئے کہا۔
’’میں جانتا ہوں۔ تمہارا مطلب ہے کہ میں عنقریب ایک ہونہار بچے کا باپ بننے والا ہوں !‘‘
نرگس نے اس کے جواب میں اپنا سر نعیم کے سینے کے ساتھ لگا لیا۔
’’نرگس! اس کا نا م بتاؤں ....اس کا نا م عبد اللہ ہو گا۔ میرے بھائی کا نام!‘‘
’’اور اگر لڑکی ہوئی تو؟‘‘
’’نہیں وہ لڑکا ہو گا۔ مجھے تیروں کی بارش اور تلواروں کے سائے میں کھیلنے والے بیٹے کی ضرورت ہے۔ میں اسے تیر اندازی، نیزہ بازی اور شاہسواروں کے کرتب سکھایا کروں گا۔ میں اپنے آباؤ اجداد کی تلواروں کی چمک برقرار رکھنے کے لیے اس کے بازوؤں میں طاقت اور اس کے دل میں جرات پیدا کروں اگا۔‘‘

(۶)

اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے خلیفہ ولید نے قسطنطنیہ کی تسخیر کے لیے جنگی جہازوں کا ایک بیڑا روانہ کیا تھا اور ایک فوج ایشیائے کوچک کے راستے بھیجی تھی لیکن اس حملے میں مسلمانوں کو سخت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ قسطنطنیہ کی مضبوط فصیل کی تسخیر سے پہلے اسلامی افواج کا سامان رسد ختم ہو گیا۔ دوسری مصیبت یہ نازل ہوئی کہ موسم سرما کے آغاز پر لشکر میں طاعون کی وبا پھیل گئی اور ہزاروں مسلمانوں کی جانیں ضائع ہو گئیں۔ ان مصائب میں اسلامی افواج کو ایک سال کے محاصرے کے بعد نا کام لوٹنا پڑا۔
محمدؒ بن قاسم اور قتیبہ بن مسلم باہلی کے حسرتناک انجام کے بعد سندھ اور ترکستان میں اسلامی فتوحات دور تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ سلیمان نے بدنامی کے اس بد نما دھبے کو دھونے کے لیے قسطنطنیہ کو فتح کرنا چاہا۔ اس خیال تھا کہ وہ قسطنطنیہ فتح کرنے کے بعد خلیفہ ولید پر سبقت لے جائے گا لیکن بدقسمتی سے اس اس کام کی تکمیل کے لیے ان لوگوں کو چنا جنہیں سپاہیانہ زندگی سے کوئی سروکار نہ تھا۔ جب اس کے سپہ سالار کو پے درپے ناکامی ہوئی تو اس نے والی اندلس کو ایک بہادر اور تجربہ کار جرنیل بھیجنے کا حکم دیا۔ جیسا کہ ذکر آ چکا ہے۔ عبد اللہ اس کی تعمیل میں حاضر ہوا اور دمشق سے پانچ ہزار سپاہی لے کر قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہوا۔ سلیمان نے خود بھی دمشق چھوڑ کر رملہ کو اپنا دارالخلافہ بنایا تاکہ وہاں سے قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والی فوج کی نگرانی کر سکے۔ اس نے خود بھی کئی بار حملہ آور فوج کی راہنمائی کی لیکن کوئی کامیابی نہ ہوئی۔
عبد اللہ کو سلیمان کی بہت سی تجاویز کے ساتھ اختلاف تھا۔ وہ یہ چاہتا تھا کہ ترکستان اور سندھ کے مشہور جرنیل جو قتیبہ بن مسلمؒ اور محمدؒ بن قاسم کے ساتھ عقیدت کے جرم کی پاداش میں معزول کر دیے گئے تھے، دوبارہ فوج میں شامل کر لیے جائیں لیکن خلیفہ نے ان کی بجائے اپنے چند نا اہل دوست بھرتی کر لیے۔
عوام میں سلیمان کے خلاف جذبہ حقارت پیدا ہو رہا تھا۔ اسے خود بھی اپنی کمزوری کا احساس تھا۔ خدا کی راہ میں جان و مال نثار کرنے والی سپاہ محض خلیفہ کی خوشنودی کے لیے خون بہانا پسند نہیں کرتی تھی۔ اس لیے کشور کشائی کا وہ پہلا سا جذبہ آہستہ آہستہ فنا ہو رہا تھا ابن صادق کے اچانک غائب ہونے سے خلیفہ کی پریشانیوں میں اضافہ ہو گیا۔اسے جھوٹی تسلیاں دے دے کر آنے والے مصائب سے بے پروا کرنے والا کوئی نہ تھا۔محمدؒ بن قاسم جیسے بے گناہوں کے قتل پراس کا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا۔ اس نے ابن صادق کی تلاش میں ہر ممکن کوشش کی۔ جاسوس دوڑائے، انعام مقرر کیے لیکن اس کا کوئی پتہ نہ چلا۔