فقہ، لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
فقہ، لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 20 اکتوبر، 2017

بدعت کسے کہتے ہیں اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

0 comments
بدعت کسے کہتے ہیں اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب:
’’بدعت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو ’’بَدَعَ‘‘ سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے : کسی سابقہ مادہ، اَصل، مثال، نمونہ یا وجود کے بغیر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا؛ یعنی کسی شے کو عدمِ محض سے وجود میں لانے کو عربی زبان میں ’’اِبداع‘‘ کہتے ہیں۔
ابنِ حجر عسقلانی، بدعت کی لُغوی تعریف یوں کرتے ہیں :
البدعة أصلها : ما أحدث علی غير مثال سابق.
’’بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو۔‘‘
 ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 4 : 253
قرآن مجید میں آنے والے بدعت کے مختلف مشتقات سے ان معانی کی توثیق ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اس کائنات کو کسی مثال کے بغیر وجود عطا کیا تو لُغوی اعتبار سے یہ بھی ’’بدعت‘‘ کہلائی اور اس بدعت کا خالق خود اللہ تعالی ہے جو اپنی شانِ تخلیق بیان کرتے ہوئے اِرشاد فرماتا ہے :
بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُO
’’وہی آسمانوں اور زمین کو (عدم سے) وجود میں لانے والا ہے اور جب وہ کسی چیز (کی اِیجاد) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ہے : تو ہو جا، پس وہ ہوجاتی ہےo‘‘
البقره، 2 : 117
اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ ہر وہ نئی چیز بدعت کہلاتی ہے جس کی مثل اور نظیر پہلے سے موجود نہ ہو۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی بھی کام (خواہ وہ نیک اور احسن ہی کیوں نہ ہو ) مثلاً اِیصال ثواب، میلاد اور دیگر سماجی، روحانی اور اخلاقی اُمور، اگر اُن پر قرآن و حدیث سے کوئی نص موجود نہ ہو تو بدعت اور مردود ہیں۔ یہ مفہوم سراسر غلط اور مبنی بر جہالت ہے کیونکہ اگر یہ معنی لیا جائے کہ جس کام کے کرنے کا حکم قرآن و سنت میں نہ ہو وہ حرام ہے تو پھر شریعت کے جملہ جائز امور کا حکم کیا ہوگا کیونکہ مباح تو کہتے ہی اسے ہیں جس کے کرنے کا شریعت میں حکم نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ مردود فقط وہی عمل ہوگا جو نیا بھی ہو اور جس کی کوئی اصل، مثال یا دلیل بھی دین میں نہ ہو اور کسی جہت سے بھی تعلیماتِ دین سے ثابت نہ ہو۔ پس اس وضاحت کی روشنی میں کسی بھی بدعت کے گمراہی قرار پانے کے لئے دو شرائط کا ہونا لازمی ہے :
1۔ دین میں اس کی سرے سے کوئی اصل، مثال یا دلیل موجود نہ ہو۔
2۔ نہ صرف دین کے مخالف اور متضاد ہو بلکہ دین کی نفی کرے اور احکام سنت کو توڑے۔
بدعت کا اِصطلاحی مفہوم واضح کرتے ہوئے فقہاءِ اُمت اور ائمۂ حدیث نے اس کی مختلف تعریفات پیش کی ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :
ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اﷲ علیہ بدعت کا اِصطلاحی مفہوم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
المحدثه والمراد بها ما أحدث، وليس له أصلٌ في الشرع ويسمي في عرف الشرع ’’بدعة‘‘، وما کان له أصل يدل عليه الشرع فليس ببدعة، فالبدعة في عرف الشرع مذمومة بخلاف اللّغة : فإن کل شيء أحدث علي غير مثال يسمي بدعة، سواء کان محمودًا أو مذمومًا
’’محدثہ امور سے مراد ایسے نئے کام کا ایجاد کرنا ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو۔ اسی محدثہ کو اِصطلاحِ شرع میں ’’بدعت‘‘ کہتے ہیں۔ لہٰذا ایسے کسی کام کو بدعت نہیں کہا جائے گا جس کی اصل شریعت میں موجود ہو یا وہ اس پر دلالت کرے۔ شرعی اعتبار سے بدعت فقط بدعتِ مذمومہ کو کہتے ہیں لغوی بدعت کو نہیں۔ پس ہر وہ کام جو مثالِ سابق کے بغیر ایجاد کیا جائے اسے بدعت کہتے ہیں چاہے وہ بدعتِ حسنہ ہو یا بدعتِ سیئہ۔‘‘
 ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 13 : 253
مذکورہ بالا تعریفات سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ہر وہ نیا کام جس کی کوئی شرعی دلیل، شرعی اصل، مثال یا نظیر پہلے سے کتاب و سنت اور آثارِ صحابہ میں موجود نہ ہو وہ ’’بدعت‘‘ ہے، لیکن ہر بدعت غیر پسندیدہ یا ناجائز و حرام نہیں ہوتی بلکہ صرف وہی بدعت ناجائز ہوگی جو کتاب و سنت کے واضح احکامات سے متصادم ہو۔
اِسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے، معروف غیر ُمقلد عالم دین نواب صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں :
البدعة الضلالة المحرمة هی التی ترفع السنة مثلها، والتی لا ترفع شيئا منها فليست هی من البدعة، بل هی مباح الأصل.
’’بدعت ضلالہ جو کہ حرام ہے وہ ہے جس سے کوئی سنت چھوٹ جائے اور جس بدعت سے کوئی سنت نہ چھوٹے وہ بدعت نہیں ہے بلکہ اپنی اصل میں مباح ہے۔‘‘
 وحيد الزمان، هدية المهدی : 117

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

کیا مزار پر چادر چڑھانا اور اس کو چومنا شرک ہے؟

0 comments
مزارات مقدسہ پر چادریں چڑھانا اور ان کو چومنا شرک نہیں ہے۔ آج کل قرآن وحدیث سے بہت دور کچھ لوگ قرآن وحدیث کے نام پر غلط استدلال کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس پر ایک جامع جواب درج ذیل ہے۔
بَابُ الصَّلٰوةِ عَلَی الشَّهِيْدِ
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ اَنَّ النَّبِيَ صلی الله عليه وآله وسلم خَرَجَ يَوْمًا فَصَلّٰی عَلٰی اَهْلِ اُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَی الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ اِنِّيْ فَرَطٌ لَّکُمْ وَاَنَا شَهِيْدٌ عَلَيْکُمْ وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِی الْاٰنَ وَاِنِّيْ اُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ خَزَاءِنِ الْاَرْضِ اَوْ مَفَاتِيْحَ الْاَرْضِ وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ مَا اَخَافُ عَلَيْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِيْ وَلٰکِنْ اَخَافُ عَلَيْکُمْ اَنْ تَنَافَسُوْا فِيْهَا.
’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن باہر نکلے اور احد میں شہید ہوجانے والوں پر نماز پڑھی جیسا کہ آپ میت پر نماز پڑھتے تھے پھر آپ منبر شریف کی طرف واپس تشریف لائے (اور منبر پر جلوہ افروز ہوکر) فرمایا میں تمہارے لئے (فرط) مقدم ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں اور اللہ کی قسم میں اپنے حوض کو اب دیکھ رہا ہوں اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں مجھے دی گئی ہیں یا فرمایا زمین کی کنجیاں اور بے شک میں اللہ کی قسم تم پر شرک کرنے کا خوف نہیں رکھتا لیکن مجھے تم پر یہ خوف ہے کہ تم دنیا میں رغبت کرنے لگ جاؤ گے‘‘۔
بخاری، الصحیح، 1 : 451، الرقم: 1279، دار اابن کثیر الیمامۃ بیروت

زیارتِ مزاراتِ اولیاء و شہداء اور عرس

حضرت عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال سے ایک سال قبل ہمیں ساتھ لیا اور احد کے شہداء کے مزارات پر گئے۔ شارحین حدیث نے علی التحقیق لکھا ہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال والے سال کا واقعہ ہے، چونکہ یہ حدیث آگے بھی بخاری میں روایت کی گئی ہے جس میں صحابی کہتے ہیں کہ منبر پر خطاب کرتے ہوئے یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری منظر تھا جو ہم نے دیکھا۔ حدیث میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے نماز پڑھی جیسے الوداع کرنے والا پڑھتا ہے۔ اس پر محدثین نے کہا کہ یہ آخری سال کا واقعہ ہے گویا اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے مزارات پر تشریف لائے شہدائے احد کو آٹھ سال بیت چکے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کو ساتھ لیا اور ایک پورا اجتماع شہدائے احد کی زیارت کے لئے گیا۔
لہٰذا اجتماعی طور پر مزارات کی زیارت کو جانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
آپ کے ساتھ سینکڑوں صحابہ تھے جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کیا۔
گویا سینکڑوں صحابہ کا اجتماع ہوا تو پھر مزار ولی اور مزار شہید پر سینکڑوں کا اجتماع اور زیارت کرنا یہ بھی سنت ہے اور اسی کو عرس کہتے ہیں۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کا عرس منایا تھا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے عرس کہاں سے ثابت ہے ؟ حدیث کا اگلا حصہ اس امر کو واضح کررہا ہے کہ جب آپ نے وہاں نماز پڑھ لی یا دعا فرما لی (شارحین حدیث کے ہاں دونوں معنیٰ آئے ہیں)
ثُمَّ انْصَرَفَ اِليَ الْمِنْبَر
 ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر پر قیام فرماکر خطاب کیا‘‘۔
چونکہ منبر پر کھڑے ہوکر خطاب کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کی تعداد کثیر تھی کیونکہ اگر تعداد کم ہوتی تو منبر پر قیام فرما کر خطاب کی ضرورت و حاجت نہ تھی۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کی کثیر تعداد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھی اور ان تمام کو ساتھ لے کر مزارات شہدائے احد پر آئے۔ شہدائے احد کی قبور میں منبر کی موجودگی سے معلوم ہوتا ہے کہ منبر ساتھ لے کر گئے تھے یا منگوایا گیا تھا۔ گویا جاتے ہوئے یہ ارادہ تھا کہ صرف زیارت ہی نہیں ہوگی بلکہ خطاب بھی ہوگا۔
معلوم ہوا جب مزار کی زیارت ہو، سینکڑوں کا اجتماع ہو، منبر لگے اور منبر پر خطاب ہو یہ تمام اجزاء مل جائیں تو اسی کو عرس کا نام دیا جاتا ہے۔
لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات سے قبل آداب سکھادیئے کہ شہداء، اولیاء، صالحین کے مزار پر جانا، ان کی اجتماعی زیارت کرنا، خطاب کرنا، ذکر و تذکیر اور وعظ و نصیحت کرنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
اس موقع پر خطاب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فضائل اور مناقب بیان کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احکام و شریعت میں سے کوئی مسئلہ بیان نہیں کیا بلکہ خطاب شان مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر تھا۔ فرمایا : لوگو! میں تم سے پہلے جارہا ہوں تاکہ آگے تمہاری بخشش کا انتظام کروں، میں وہاں تمہارا استقبال کروں گا۔
اِنِّيْ فَرَطٌ لَکُمْ وَفِيْ رَوايَة قَالَ حَيَاتِيْ خَيْرُلَّکُمْ وَمَمَاتِيْ خَيْرٌلَّکُمْ.
’’میں تمہاری خاطر آگے جانے والا ہوں اور ایک روایت میں ہے۔ میری زندگی بھی تمہارے لیے بہتر ہے اور میرا وصال (بھی ) تمہارے لیے بہتر ہے‘‘
یعنی میں تم میں تھا تب بھی تمہیں فیض دیتا رہا، اب آگے جارہا ہوں، وفات بھی تمہارے لئے باعث فیض ہوگی، تمہیں بخشوانے کا سامان کرنے جارہا ہوں۔
ربط بین الالفاظ کے ذریعے حدیث کو پڑھیں۔ پہلا جز یہ تھا کہ اِنِّيْ فَرَطٌ لَّکُمْ اس میں اپنے وصال اور آخرت میں صحابہ و امت کی شفاعت کا اشارہ موجود ہے کہ تمہاری شفاعت کا بندوبست کرنے جارہا ہوں۔ اس کے بعد فرمایا وَاَنَا شَهِيْدٌ عَلَيْکُمْ اور یہ نہ سمجھنا کہ میں رخصت ہوگیا، نہیں میں پھر بھی تمہیں دیکھتا رہوں گا۔ تمہارے اوپر گواہ اور نگہبان رہوں گا۔ فَرَطٌ لَّکُمْ اورشَهِيْدٌ عَلَيْکُمْ کے درمیان ایک معنوی ربط ہے۔ فَرَطٌ لَّکُمْ وصال کی خبر دے رہا ہے اور شَهِيْدٌ عَلَيْکُمْ اشارہ دے رہا ہے کہ کہیں یہ نہ سمجھنا کہ اب میں نہیں رہا بلکہ میں تم پر نگہبان رہوں گا، تمہارے اعمال اور درود و سلام مجھ پر پیش ہوتے رہیں گے میں تمہارے اعمال نیک و بد سے خوش و غمزدہ ہوتا رہوں گا اور ہر لمحہ تم سے باخبر رہوں گا۔ پھر فرمایا : وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ لَاَنْظُرُ اِلٰی حَوْضِی اَلْاٰن. اس تیسرے جملے میں خوشخبری دی کہ ایک حوض، حوض کوثر ہے اور میں اس وقت اس حوض کوثر کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ حوض، جنت میں ہے مگر اس کا ظہور قیامت کے دن ہوگا اور یہ حقائق غیبیہ میں سے ہے۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی سرزمین پر کھڑے ہوکر اسی لمحے اس حوض کوثر کا مشاہدہ بھی فرمارہے ہیں جو جنت میں ہے یا جو قیامت کے دن ظاہر ہونے والا ہے۔ گویا وہاں کھڑے ہوکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت بھی دیکھ رہے ہیں اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن کا منظر بھی دیکھ رہے ہیں پھر فرمایا :
وَاِنِّيْ اُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ خَزَائِن الْاَرْض اَوْ مَفَاتِيْحَ الْاَرْضِ.
’’اور زمین کے سب خزانوں کی ساری چابیاں مجھے عطا کردی گئی ہیں‘‘۔
’’مَفَاتِيْح‘‘ جمع منتہی الجموع ہے اور ’’خزائن‘‘ بھی جمع ہے۔ ’’مفاتیح‘‘ اور ’’خزائن‘‘ آپس میں مضاف اور مضاف الیہ ہیں، جب مضاف و مضاف الیہ دونوں جمع ہوں نیز مضاف جمع منتہی الجموع ہو یعنی جمع کی اضافت جمع پر ہو تو یہ استغراق کلی کا فائدہ دیتا ہے، کلیت پر دلالت کرتا ہے۔ گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتا رہے ہیں کہ جتنی قِسموں کے خزانے ہیں اور ان کی جتنی چابیاں ہیں، رب نے مجھے عطا کردی ہیں۔ گویا خزانوں کے مالک بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور چابیوں کے مالک بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا :
وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ.
’’اور غیب کی کنجیاں (یعنی وہ راستے جس سے غیب کسی پر آشکار کیا جاتا ہے) اس کے پاس (اس کی قدرت و ملکیت میں) ہیں‘‘۔
الانعام، 6 : 59
غیروں کے لئے تالا ہوتا ہے اور اپنوں کے لئے چابیاں ہوتی ہیں اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی امت کے لئے اشارہ فرمادیا کہ زمین کے کل خزانوں کی کل چابیاں مجھے دی ہیں۔ اِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ ’’تم میرے قدموں سے جڑ جاؤ، جس کو طلب ہوگی، صدق کا تعلق ہوگا اس کو خزانوں سے بھردوں گا‘‘۔
مَفَاتِيْحَ الْاَرْض میں مستقبل میں فتوحات اسلام کی طرف بھی اشارہ ہے نیز اس سے عرب کی سرزمین سے نکلنے والے تیل کی طرف بھی اشارہ ہے۔ یہ بات بغیر دلیل کے نہیں ہے، امام حجر عسقلانی بھی اس بابت ارشاد فرماتے ہیں کہ یہاں سرزمین عرب کے تیل و معدنیات کی طرف اشارہ ہے۔ تو پھر جو کچھ زمین سے نکلا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 1400 سال قبل بیان فرما دیا اور اب جس جس وقت میں جو کچھ بھی ظاہر ہوگا اور جو جو اس سے بہرہ مند ہو گا اور نفع اٹھائے گا وہ سب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کا صدقہ ہو گا۔ مانے یا نہ مانے یہ الگ بات ہے مگر ہر کوئی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کا صدقہ ہی کھائے گا۔

سوادِ اعظم پر شرک کے فتوے لگانے والوں کیلئے مقام غور !

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کی زیارت کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے آخری حصے میں فرمایا :
وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ مَا اَخَافُ عَلَيْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِی.
’’خدا کی قسم! مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں ہے کہ میرے بعد تم شرک کرو گے‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو مشرک قرار دینے والے غور کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت پر شرک کا اتہام تہمت لگانے والوں کیلئے مقام غور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھائی کہ مجھے اس بات کا خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے۔
وَلٰکِنْ اَخَافُ عَلَيْکُمْ اَنْ تَنَافَسُوْا فِيْهَا.
’’بلکہ اس بات کا خوف ہے کہ تم دنیا طلبی اور دنیا کی اغراض میں پھنس جاؤ گے‘‘ دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا کہ دنیا کی وجہ سے ہلاکت میں چلے جاؤ گے‘‘۔
یہاں ایک جزئیہ سمجھنے والا ہے۔ بعض احباب یہ کہہ سکتے ہیں کہ شرک کے خوف کا نہ ہونا یہ صرف صحابہ کرام کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شرک سے مستثنیٰ اور مبراء تھے۔ اور ہمیں مبراء نہیں کیا کہ امت شرک میں مبتلا نہ ہوگی۔ ایک لمحہ کے لئے اس سوال کو اگر قبول کر لیا جائے تو اب اس کا جواب یہ ہے۔ ’’ولکن‘‘ (لیکن) کے آنے کی وجہ سے جملے کے دونوں اجزاء ایک ہی جملہ ہوں گے۔ مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ یہ خوف ہے کہ تم دنیا پرستی کرو گے۔ اس جملے کو صرف صحابہ کے دور تک محدود کرنے والے غور کریں کہ اگر صحابہ کے ساتھ شرک کے خوف کا نہ ہونا خاص کرنا ہے تو صرف شرک کے خوف کا نہ ہونا ہی صحابہ کے ساتھ خاص نہ ہوگا بلکہ پھر دنیا پرستی کا الزام بھی ان کے ساتھ خاص ہوگا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو باتیں کہیں۔
  1. عدم شرک
  2. دنیا پرستی
اب یہاں دو امکان ہیں کہ یہ بات یا تو جمیع امت کے لئے فرمائی ہے یا صرف صحابہ کرام کے لئے ہے۔ اگر جمیع امت کے لئے ہے تب بھی دونوں جزء ہیں، کامل جملہ منسوب کیا جائے گا۔ اور اگر صرف صحابہ کے لئے ہے تب بھی دونوں جزء، کامل جملہ منسوب کیا جائے گا۔ کیونکہ ’’ولکن‘‘ ’’لیکن‘‘ کے بغیر جملہ مکمل نہیں ہوگا۔ پس حدیث مبارکہ میں موجود شرک کے خوف کا نہ ہونا صرف صحابہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جمیع امت کے لئے ہے۔ پس معنی یہ ہوگا کہ اے میری امت مجھے تمہارے بارے شرک کا خوف تو نہیں مگر یہ خوف ہے کہ دنیا کی اغراض میں پھنس جاؤ گے۔ میں نے شرک کو جڑوں سے کاٹ کر اتنا ختم کردیا ہے کہ قیامت کے دن تک میری امت من حیث المجموع اب مشرک کبھی نہیں بنے گی۔ اور اگر خطرہ ہے تو صرف یہ کہ امت دنیا پرستی میں مبتلا ہوگی۔ آج ہم دنیا پرستی میں مبتلا ہیں۔ تو پھر جزء اول بھی حق ہوا اور جزء ثانی بھی حق ہوا۔ جب جزء ثانی امت کے بارے میں حق ہے کہ واقعتاً امت دنیا پرستی میں مبتلا ہے تو جزء اول بھی حق ہے کہ امت شرک میں مبتلا نہ ہوگی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک جزء لے لیا جائے اور ایک جزء چھوڑ دیا جائے۔
آج امت دنیا پرستی کا شکار ہے اور اسی کے باعث ذلت و رسوائی کا عذاب بھگت رہی ہے مگر بطور مجموعی امت مشرک نہیں ہوگی اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضمانت دے دی۔ لہٰذا اب امت کے سواد اعظم کو مشرک کہنا یا ان کے عقیدہ کو شرک تصور کرنا یہ سواد اعظم پر اعتراض نہیں بلکہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم کو معاذ اللہ رد کرنا ہے۔
آپ لوگوں کو مبارک ہوکہ شرک کی تہمت کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سب سے دفع فرمادیا۔ لہٰذا امت کو مشرک قرار دینے سے احتیاط کرنی چاہئے۔

اہل ایمان کے مزارات پر پھول چڑھانا اور چراغاں کرنا

فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ہر چیز اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہے :
وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلاَّ يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـكِن لاَّ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًاo
’’کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح (کی کیفیت) کو سمجھ نہیں سکتے، بے شک وہ بڑا بردبار بڑا بخشنے والا ہے‘‘۔
بنی اسرائیل 17 : 44
معلوم ہوا کہ کائنات کی ہر چیز اپنی زبان اور حال کے مطابق اﷲ تعالیٰ کی پاکی بولتی ہے ہاں مگر ہر چیز کی تسبیح کو ہر ایک نہیں سمجھتا۔ اہل ایمان کی قبروں پر جو سبزہ گھاس وغیرہ ہے وہ بھی اﷲ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل کرتا ہے اور اس کا ثواب قبر والے کو پہنچتا ہے نیک ہے تو اس کے درجات بلند کیے جاتے ہیں گناہگار ہے تو اس کی مغفرت ہوتی ہے اور عذاب میں تخفیف کا باعث ہے۔ قبروں اور مزارات پر لوگ پھول چڑھاتے ہیں اس کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ سبزہ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر و تہلیل کرے گا اور اہل قبور کو اس کا ثواب ملتا رہے گا جب تک ہرا ہے۔

حدیث مبارکہ کی روشنی میں

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اﷲُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي کَبِیرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَکَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَکَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِي کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً فَقَالُوا يَا رَسُولَ اﷲِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا فَقَالَ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا.
’’حضرت ابن عباس ضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے جن کو عذاب دیا جا رہا تھا۔ فرمایا کہ ان کو عذاب دیا جا رہا ہے اور کبیرہ گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔ ایک پیشاب کے چھینٹوں سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھایا کرتا تھا۔ پھر آپ نے ایک سبز ٹہنی لی اور اس کے دو حصے کیے۔ پھر ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! یہ کیوں کیا؟ فرمایا کہ شاید ان کے عذاب میں تخفیف رہے جب تک یہ سوکھ نہ جائیں‘‘۔
بخاری، الصحیح، 1 : 458، رقم : 1295

شرح حدیث

امام ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں :
أن المعنی فيه أنه يسبح مادام رطبا فيحصل التخفيف ببرکة التسبيح وعلی هذا فيطرد في کل ما فيه رطوبة من الأشجار وغيرها وکذلک فيما فيه برکة کالذکر وتلاوة القرآن من باب الأولی.
’’مطلب یہ کہ جب تک ٹہنیاں (پھول، پتیاں، گھاس) سر سبز رہیں گی، ان کی تسبیح کی برکت سے عذاب میں کمی ہوگی بنابریں درخت وغیرہ جس جس چیز میں تری ہے (گھاس، پھول وغیرہ) یونہی بابرکت چیز جیسے ذکر، تلاوت قرآن کریم، بطریق اولیٰ باعث برکت و تخفیف ہیں، وھو اولی ان ینتفع من غیرہ اس حدیث پاک کا زیادہ حق ہے کہ بجائے کسی اور کے اس کی پیروی کی جائے‘‘۔
عسقلانی، فتح الباری، 1 : 320، دار المعرفۃ بیروت
دیو بندی عالم شیخ انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں :
في ((الدر المختار)) اِنَّ اِنباتَ الشجرةِ مُسْتَحبٌّ ۔ ۔ ۔ وفي ((العالمگیریۃ)) أنَّ اِلقاءَ الرياحين أيضًا مُفِيْد.
’’در مختار میں ہے قبر پر درخت لگانا مستحب ہے۔۔۔ اور فتاوی عالمگیری میں قبر پر پھول چڑھانا، ڈالنا بھی ہے‘‘۔
انور شاہ کشمیری، فیض الباری شرح صحیح بخاری، 3 : 72، دار الکتب العلمیۃ بیروت۔ لبنان
دیوبندی عالم شیخ رشید احمد گنگوھی کا مؤقف درج زیل ہے :
ابن عابدین (شامی) نے فرمایا ہری جڑی بوٹیاں اور گھاس قبر سے کاٹنا مکروہ ہے خشک جائز ہے جیسا کہ البحر و الدرر اور شرح المنیہ میں ہے۔ الامداد میں اسکی وجہ یہ بیان کی ہے کہ جب تک گھاس، پھول، پتے، ٹہنی سر سبز رہیں گے۔ اﷲ تعالیٰ کی تسبیح کریں گے اس سے میت مانوس ہوگا اور رحمت نازل ہوگی۔ اس کی دلیل وہ حدیث پاک ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر سبز ٹہنی لے کر اس کے دو ٹکڑے کیے اور جن دو قبروں کو عذاب ہو رہا تھا ایک ایک ٹہنی ان پر رکھ دی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ جب تک یہ خشک نہ ہونگی ان کی تسبیح کی برکت سے ان کے عذاب میں کمی رہے گی کیونکہ خشک کی تسبیح سے زیادہ کامل سرسبز کی تسبیح ہوتی ہے کہ ہری ٹہنی کی ایک خاص قسم کی زندگی ہے۔ اس ارشاد پاک کی پیروی کرتے ہوئے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ قبروں پر پھول، گھاس، اور سر سبز ٹہنیاں رکھنا مستحب ہے۔ اسی پر قیاس کیا جا سکتا ہے یہ جو ہمارے زمانہ میں قبروں پر تروتازہ خوشبودار پھول چڑھائے جاتے ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ذکر کیا کہ حضرت بریدہ اسلمی رضی اﷲ عنہ نے اپنی قبر میں دو ٹہنیاں رکھنے کی وصیت فرمائی تھی۔
رشيد أحمد گنگوهی، لامع الدراری علی جامع البخاری، 4 : 380، المکتبة الإمدادية، باب العمرة. مکة المکرمة
ملا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں اور امام طحاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں فرمایا ہے :
أفتی بعض الأئمة من متأخري أصحابنا بأن ما اعتيد من وضع الريحان والجريد سنة لهذا الحديث.
’’ہمارے متاخرین ائمہ احناف نے فتوی دیا کہ قبروں پر جو پھول اور ٹہنیاں رکھنے کا دستور ہے اس حدیث پاک کی رو سے سنت ہے‘‘.
1۔ ملا علی قاری، مرقاۃ المفاتیح، 2 : 53، دار الکتب العلمیۃ لبنان۔ بیروت
2۔ طحاوی، حاشیۃ علی مراقي الفلاح، 1 : 415، المطبۃ الکبری الامیریۃ ببولاق مصر
امام طحاوی مذکورہ عبارت کے ساتھ مزید اضافہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
وإذا کان يرجی التخفيف عن الميت بتسبيح الجريدة فتلاوة القرآن أعظم برکة.
’’اورجب ٹہنیوں کی تسبیح کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف کی امید ہے تو تلاوت قرآن کی برکت تو اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے‘‘۔
ایضاً
امام نووی شرح مسلم میں فرماتے ہیں :
وذهب المحققون من المفسرين وغير هم إلی أنه علی عمومه... استحب العلماء قرأة القرآن عند القبر لهذا الحديث لأنه إذا کان يرجی التخفيف يتسبيح الجريد فبتلاوة القرآن أولی.
’’محققین، مفسرین اور دیگر ائمہ اس طرف گئے ہیں کہ یہ حدیث پاک عام ہے۔ ۔ ۔ علماء نے اس حدیث پاک کی روشنی میں قبر کے پاس تلاوت قرآن کو مستحب کہا ہے اس لیے کہ جب ٹہنی کی تسبیح سے تخفیف کی امید ہوسکتی ہے تو تلاوت قرآن سے بطریق اولیٰ امید کی جا سکتی ہے‘‘۔
نووی، شرح صحیح مسلم، 3 : 202، دار اِحیاء التراث العربي بیروت
فقہائے کرام
وضع الورود و الرياحين علی القبور حسن وإن تصدق بقيمة الورد کان أحسن.
گلاب کے یا دوسرے پھول قبروں پر رکھنا اچھا ہے اور ان پھولوں کی قیمت صدقہ کرنا زیادہ اچھا ہے‘‘۔
الشیخ نظام وجماعۃ من علماء الھند، الفتاوی الہندیۃ، 5 : 351، دار الفکر
یہ حقیقت تو بے غبار ہوگئی اور حق بات روشن ہوگئی کہ مسلمانوں کی قبروں پر پھول رکھنا، پتے، ٹہنیاں اور گھاس اگانا، رکھنا مسنون ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل ہے اور اس کی جو وجہ بتائی کہ صاحب قبر کے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے اور یہ عمل عام ہے قیامت تک اس کو نسخ نہیں کیا جا سکتا، کوئی کلمہ گو اس کا انکار نہیں کر سکتا اور مزید کسی کی تائید کی ضرورت نہیں تاہم، ہم نے تبرعاً اکابر ائمہ اہل سنت کے اقوال پیش کر دئیے ہیں۔ اب بھی کوئی نہ سمجھے یا نہ سمجھنا چاہے تو اس کو اﷲ ہی سمجھائے۔ اہل ایمان کو اطمینان ہونا چاہیے کہ ان کا یہ عمل سنت نبوی ہے۔

زائرین حضرات کی فوری توجہ کے لیے

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم انتہاء پسند ہیں اعتدال و توازن جو اسلامی احکام و تعلیمات کا طرہ امتیاز ہے ہمارے ہاں مفقود ہے۔ ایک انتہا تو یہ ہے کہ سنت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا سوچے سمجھے آنکھیں بند کرکے بدعت اور نہ جانے کیا کیا کہہ کر حرام کہدیا جو سراسر زیادتی اور احکام شرع کی خلاف ورزی ہے دوسری طرف جائز و مستحسن بلکہ سنت سمجھنے والوں نے اس سنت کے ساتھ اتنی بدعات جو ڑ دیں کہ الامان و الحفیظ۔

موم بتیاں اور چراغ روشن کرنا

ان کی اصل صرف یہ ہے کہ زائرین کسی وجہ سے دن کو زیارت قبور کے لیے نہیں آ سکتے رات کو وقت ملتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں قبرستان تک پہنچنے کے لیے اور صاحب مزار تک آرام سے پہنچنے کے لیے اور زائرین کی سہولت کے لیے رات کے وقت موم بتی یا چراغ وغیرہ کے ذریعہ روشنی کا انتظام کیا جاتا تھا تاکہ رات کو آنے جانے والوں، تدفین کرنے والوں اور زائرین کو تکلیف نہ ہو اور وہ روشنی میں بآسانی آ جا سکیں یہ چراغاں عام راستوں میں قبرستانوں اور مساجد وغیرہ میں ہوتا تھا اور آج بھی بوقت ضرورت ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے اور اس کے جواز بلکہ استحباب میں کوئی شبہ نہیں۔
علامہ امام شیخ عبد القادر الرافعی الفاروقی الحنفی تقریرات الرافعی علی حاشےۃ ابن عابدین میں لکھتے ہیں :
إن البدعة الحسنة الموافقة لمقصود الشرع تسمی سنة فبناء القباب علی قبور العلماء والأولياء والصلحاء ووضع الستور والعمائم والثياب علی قبورهم أمر جائز إذا کان القصد بذلک التعظيم فی أعين العامة حتی لا يحتقروا صاحب هذا القبر وکذا ايقاد القناديل والشمع عند قبور الاولياء والصلحاء من باب التعظيم والا جلال ايضاً للأولياء فالمقصد فيها مقصد حسن ونذر الزيت والشمع للأولياء يوقد عند قبورهم تعظيما لهم ومحبة فيهم جائز ايضاً لا ينبغی النهی عنه.
’’اچھی بدعت (نئی بات) جو مقصود شرع کے موافق ہو سنت کہلاتی ہے پس علماء اور اولیاء اور صلحاء کی قبروں پر گنبد بنانا، ان کی قبروں پر پردے، عمامے اور کپڑے ڈالنا جائز ہے جب کہ اس سے مقصد لوگوں کی نظروں میں ان کی عظمت کا اظہار کرنا ہوتا کہ وہ صاحب قبر کو حقیر نہ سمجھیں یونہی اولیاء و صلحاء کی قبر کے پاس قندیلیں اور شمعیں روشن کرنا تعظیم و اجلال کی بنا پر ہے سو اس میں ارادہ اچھا ہے۔ زیتون کے تیل اور موم بتیاں اولیاء اﷲ کی قبروں کے پاس روشن کی جاتی ہیں یہ بھی ان کی تعظیم و محبت ہے لہٰذا جائز ہے اس سے روکنا نہیں چاہیے‘‘۔
عبدالقادرالرافعی، تقریرات الرافعی علی حاشیہ ابن عابدین، 2 : 123
علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں :
بعض الفقهاء وضع الستور و العمائم و الثياب علی قبور الصالحين و الأولياء وقال في فتاوی الحجة و تکره الستور علی قبور.
ولکن نحن نقول الآن إذا قصد به التعظيم في عيون العامة حتی لا يحتقروا صاحب القبر ولجلب الخشوع والأدب للغافلين الزائرين فهوجائز لأن الأعمال بالنيات وإن کان بدعة.
’’بعض فقہاء نے صالحین و اولیاء کی قبروں پر غلاف اور کپڑے رکھنے کو مکروہ کہا ہے فتاویٰ الحجۃ میں کہاقبروں پر غلاف چڑھانا مکروہ ہے۔
لیکن اب ہم کہتے ہیں کہ عام لوگوں کی نظروں میں تعظیم و تکریم مقصود ہے تاکہ وہ قبر والے کو حقیر نہ سمجھیں اور تاکہ عاجزی و انکساری پیدا ہو اور غافل زائرین میں ادب پیدا ہو تو یہ امور جائز ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اگرچہ نئی چیز ہے‘‘۔
ابن عابدین شامي، ردالمحتار، 6 : 363، دار الفکر بیروت

خلاصۂ کلام

مسلمان کی قبر پر پھول چڑھانا بھی مسنون ہے اور زائرین کی سہولت کے لیے رات کو چراغ جلانا یا روشنی کرنا بھی کار خیر ہے اس سے لوگوں کو آرام اور صاحب قبر کی عزت و عظمت کا اظہار ہوتا ہے یونہی غلاف چڑھانا بھی مزارات و صاحبان مزارات کی تعظیم و تکریم کا اظہار کرنا ہے مگر آج کل بعض مزارات و مقابر پر جو جہالت، فضول خرچی، گمراہی اور ماحول کی پرا گندگی و تعفن پیدا کیا جاتا ہے وہ سراسر فضول، اسراف اور جہالت و گمراہی ہے۔

چراغاں

آپ موم بتی یا تیل کا چراغ اس نیت سے رکھیں کہ بجلی نہ ہونے کی صورت میں روشنی کا اہتمام کر کے عام ضرورت پوری کی جائے، اچھا ہے، اس کے ساتھ ایمرجنسی لائیٹ کا متبادل بھی آ گیا ہے۔ چراغوں اور موم بتیوں کی جگہ اسے استعمال کریں ان سے نہ دھواں، نہ گندگی اور نہ ہی بدبو پیدا ہوتی ہے آج کل مختلف مزارات پر حد سے زیادہ ہونے والا چراغاں جہالت، حماقت اور فضول خرچی ہے بجلی کی ٹیوبوں اور قمقموں کی دلفریب حسین روشنی کے ہوتے ہوئے بھی حد سے زیادہ چراغ جلانا، موم بتیاں روشن کرنا اور ان موم بتیوں کو آگ کے الاؤ میں ڈالنا، پگھلانا اور جلانا فضا کو زہر آلود کرتا ہے پورا ماحول گندا اور بدبودار ہوتا ہے لطافت و نظافت پسند شریف آدمی کو سانس لینا اور قدم رکھنا دشوار ہے ان پڑھ اور پڑھے لکھے جہلا خراج عقیدت پیش کر کے دین کی خدمت اور بزرگوں کی نیک نامی کو چار چاند لگا رہے ہیں یہ سب ولایت و تصوف کے نام پر ہو رہا ہے علماء و مشائخ دیکھ رہے ہیں سیاستدان اور حکمران دیکھ رہے ہیں صحافی اور دانشور تماشا دیکھ رہے ہیں اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ بلا ضرورت یہ موم بتیوں کا الاؤ اور چراغوں کا جلانا کونسی نیکی ہے؟ یہ سب قومی دولت کا ضیاع ہے شیطانی فضول خرچی ہے روحانی اور ستھرے ماحول کو زہریلے دھوؤں سے زہر آلود کرنا ہے پاؤں رکھو تو تیل اور موم، نہ بیٹھنا ممکن نہ چلنا، نہ سانس لینا، گرمی، بدبو، دھوئیں کی گندگی اور وہ بھی کہاں؟ داتا گنج بخش رحمۃاﷲ علیہ کے مزار اور مسجد میں، مادھولال حسین کے مزار اور مسجد میں یہاں سے زائرین تربیت لے کر اپنے علاقوں میں گندگی پھیلاتے ہیں۔
اے مسلمان بھائیو ! ان بیہودگیوں سے توبہ کرو مزارات و مساجد کی عزت و عظمت کو پامال نہ کرو فضول خرچیوں اور بد تمیزیوں سے شیطان کے بھائی نہ بنو ان مقدس مقامات کی بے حرمتی نہ کرو اولیاء اﷲ کے آستانوں کو گندگی کے ڈھیروں میں مت بدلو! دنیا کی نظروں میں اسلام اور تصوف کو بدنام نہ کرو۔ آج دنیا کی کوئی قوم کسی سے دور نہیں رہی دنیا ہماری ان حماقتوں کو دیکھ رہی ہے۔
بند کرو ! آگ کے یہ الاؤ نہ بدنام کرو ان اچھے ناموں اور خوبصورت آستانوں کو۔ ۔ صاف کردو اﷲ کے گھروں کو، رکوع، سجود اور اعتکاف کرنے والوں کے لیے۔ ۔ بحال کردو ان کی عظمت رفتہ کو۔ ۔ منالو ! اپنے روٹھے خدا کو۔ ۔ خوش کردو اپنے پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو۔ ۔ اپنی طرف مبذول کرلو تو جہات اولیاء کو۔
ختم کردو ! ان آستانوں سے جوا، نشہ، بے پردگی، بے ہودگی، بدمعاشی کو۔ ۔ مٹادو گندے دھوئیں، بدبو اور جملہ آلودگی کو۔ ۔ تاکہ تاریک دلوں کو جلا ملے، اندھی آنکھوں کو شرم و حیاء ملے، بیماردلوں کو دوا ملے، پورا ماحول رنگ و نور کے ماحول میں ڈوب جائے۔ ۔ بیقرار دلوں کو سکون اور پراگندہ طبیعتوں کو اطمینان و یقین کی دولت میسر ہو۔

بزرگوں کے ہاتھ اور ان کے مزارات کا بوسہ

عَنْ عُمَرَ رضی الله عنه أَنَّهُ جَاءَ إِلَی الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ فَقَالَ إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّکَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم يُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلْتُکَ.
’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس تشریف لائے، پھر اسے بوسہ دیا، پھر فرمایا میں خوب جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے(اس حیثیت سے ) نہ نقصان دہ نہ فائدہ مند۔ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا نہ ہوتا، تجھے (کبھی) نہ چومتا‘‘۔
بخاری، الصحیح، 2 : 579، رقم : 1520
علامہ عینی نے امام شافعی کا یہ قول نقل کیا ہے :
أما تقبيل الأماکن الشريفة علی قصد التبرک وکذلک تقبيل أيدي الصالحين وأرجلهم فهو حسن محمود باعتبار القصد والنيه وقد سأل أبو هريرة الحسن رضی اﷲ تعالی عنه أن يکشف له المکان الذي قبله رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم وهو سرته فقبله تبرکا بآثاره وذريته صلی الله عليه وآله وسلم وقد کان ثابت البناني لايدع يد أنس رضی اﷲ تعالی عنه حتی يقبلها ويقول يد مست يد رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم. . . أن الامام أحمد سئل عن تقبيل قبر النبی صلی الله عليه وآله وسلم وتقبيل منبره فقال لا بأس بذلک قال فأريناه للشيخ تقی الدين بن تيمية فصار يتعجب من ذلک ويقول عجبت أحمد عندي جليل بقوله هذا کلامه أو معنی کلامه قال وأي عجب في ذلک وقد روينا عن الامام أحمد أنه غسل قميصا للشافعي وشرب الماء الذي غسله به واِذا کان هذا تعظيمه لأهل العلم فکيف بمقادير الصحابه وکيف بآثار الأنبياء عليهم الصلاة والسلام ولقد أحسن مجنون ليلی حيث يقول :
أمر علی الديار ديار ليلی
أقبل ذا الجدار وذا الجدارا
وما حب الديار شغفن قلبی
ولکن حبُّ من سکن الديارا
قال المحب الطبري يمکن أن يستنبط من تقبيل الحجر واستلام الأرکان جواز تقبيل ما في تقبيله تعظيم تعالی فانه ان لم يرد فيه خبر بالندب لم يرد بالکراهه.
’’حصول برکت کے ارادے سے مقامات مقدسہ کو چومنا، اسی طرح نیک لوگوں کے ہاتھ پاؤں کو بوسہ دینا، نیت و ارادہ کے اعتبار سے اچھا اور قابل تعریف کام ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے امام حسن مجتبی رضی اﷲ عنہ سے عرض کی کہ وہ اپنی ناف سے کپڑا اٹھائیں جس کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بوسہ دیا تھا پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی اولاد کے آثار سے برکت حاصل کرنے کے لیے اسے بوسہ دیا۔ اور (امام) ثابت بنانی جب تک بوسہ نہ دیتے حضرت انس رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ نہ چھوڑتے اور فرمایا کرتے یہ وہ ہاتھ ہے جس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ مبارک کو چھوا ہے۔
حضرت امام احمد بن حنبل سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور اور منبر اقدس کو بوسہ دینے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔ کہا کہ ہم نے یہ قول جب شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کو دکھایا تو وہ اس پر تعجب کرنے لگے اور کہا مجھے تعجب ہے۔ میرے نزدیک تو امام احمد کی یہ بات یا اس سے ملتی جلتی بات عجیب سی لگتی ہے۔ (محب طبری نے ) کہا اس میں تعجب کس بات پر ؟ ہم نے تو امام احمد کی یہ بات سنی ہے کہ آپ نے امام شافعی کی قمیض دھو کر اس کا دھون پی لیا تھا تو جب وہ اہل علم کی اتنی تعظیم کرتے تھے تو پھر آثار صحابہ رضی اﷲ عنہ آثار انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام سے کتنی عزت و عظمت سے پیش آتے ہوں گے۔ لیلیٰ کے مجنوں (قیس عامری) نے کیا خوب کہا :
جب لیلیٰ کے شہر سے گزرتا ہوں
کبھی اس دیوار کو چومتا ہوں کبھی اس کو
مکانوں کی محبت نے میرا دل دیوانہ نہیں بنا رکھا
بلکہ ان میں بسنے والوں کی محبت نے یہ حال کر رکھا ہے
علامہ محب طبری نے فرمایا : یہ بھی ممکن ہے کہ حجر اسود اور ارکان کے بوسہ دینے سے ہر اس چیز کو چومنے کا مسئلہ نکالا جائے جس کے چومنے سے اﷲ تعالیٰ کی تعظیم ہے اگرچہ اس سلسلہ میں کوئی حدیث اس عموم استحباب پر مروی تو نہیں مگر اس کی کراہت پر بھی تو کوئی روایت نہیں‘‘۔
علامہ عینی کہتے ہیں : ’’میں نے اپنے دادا محمد بن ابو بکر کے بعض حواشی میں امام ابو عبد اﷲ محمد بن ابی الصیف کے حوالہ سے لکھا دیکھا ہے کہ کچھ آئمہ دین قرآن کو دیکھتے تو اسے بوسہ دیتے جب اجزائے حدیث کو دیکھتے تو ان کو بوسہ دیتے اور جب نیک لوگوں کی قبروں پر نظر پڑتی تو ان کو بوسہ دیتے فرمایا یہ کچھ بعید نہیں ‘‘۔
عینی، عمدۃ القاری، 9 : 241
عن داؤد بن أبي صالح قال أقبل مروان يوما فوجد رجلا واضعا وجهه علی القبر فقال أ تدري ماتصنع فأقبل عليه فاذا هو أبو أيوب فقال نعم جئت رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ولم آت الحجر سمعت رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يقول لا تبکوا علی الدين إذا وليه أهله ولکن ابکوا عليه إذا وليه غير أهله.
’’داؤد بن ابی صالح کہتے ہیں ایک دن مروان آیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک شخص قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے ہے۔ مروان نے کہا جانتے ہو کیا کر رہے ہو؟ وہ شخص مروان کی طرف متوجہ ہوئے تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ عنہ تھے۔ فرمایا ہاں میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، کسی پتھر کے پاس نہیں آیا۔ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے جب دین کے معاملات اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو اس پر مت روؤ۔ ہاں جب امور دین نا اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو اس پر روؤ ‘‘۔
أحمد بن حنبل، المسند، 5 : 422، الرقم : 23633، مؤسسة قرطبة مصر
مذکورہ بالا دلائل سے واضح ہوگیا ہے کہ عرس منانا، مزارات پر حاضری دینا، چادر چڑھانا اور مقامات مقدسہ کو بوسہ دینا جائز ہے۔

پیر، 24 اپریل، 2017

کافر کون َ؟؟؟

0 comments
آج کل ہمارے ہاں یہ رواج عام پا رہا ہے کہ جب بھی جس کا دل چاہتا ہے وہ کسی کو بھی کافر بنا دیتا ہے۔ کسی کو بھی مشرک بدعتی بنا جاتا ہے کسی کو بھی وہ اٹھ منافق اور گستاخ رسولؐ بنا دیتا ہے۔ بلکہ کہا جاتا ہے آپ جس کے ساتھ دشمی ہو جس کسی کے ساتھ بھی کوئی چھوٹا سا اختلاف ہو اگر آپ کسی بندے کو قتل کرنا چاہیں تو اس کے قتل قانونی جواز بنانے کے طور پر اسے کافر مشرک بدعتی اورگستاخ رسولؐ بنا کر قتل کر دیں۔ (جیسا کہ حالیہ دنون مردان یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو قتل کیا۔ پچھلے دنوں عیسائیوں کی بستی کو جلا دیا گیا)۔ گستاخ رسولؐ بنا کر واجب القتل کرنے کی یہی دلیل کافی ہے کہ آرام سے کہہ دیا جائے کہ یہ کستاخ رسول ہے۔ مگر اس کے برعکس کسی کو دائرہ دین سے نکالنے کے دلیل چاہیئے ہوتی ہے۔ اس کیلئے آپ کے پاس قرآن اور حدیث ہے لہذا جو جو آیات اور کفار کی سرزنش کیلئے آئیں۔ انہیں اٹھا کر آپ کسی پر بھی تھونپ کر اسے دائرہ دین سے خارج کر دو۔ پھر مرتد کے قتل کا جواز قرآن میں موجود ہے لہذا اب آپ اسے آسانی سے قتل کر سکتے ہیں۔ اور جو فقہ یا فرقہ آپ سے مطابقت نہ رکھے اور آپ کے پاس اس کو کافر بنانے کا جواز قرآن و حدیث سے میسر نہ آ رہا ہو۔ آپ اس فقہ کے یا فرقے کے فروعی مسائل کو جواز بنا کر اس کو کافر بنا دیں پھر ان مسلمانوں کے خلاف جہاد فرض کرنا آپ کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ جیسا کہ لشکر جھنگوی نے شیعہ کو کافر کہا جب ان کے اس فتوے کو کسی نے نہیں مانا تو انہوں نے ناماننے والوں کو کافر اور واجب القتل قرار دیا۔ اس بنا پر اس کالعدم لشکر جھنگوں نے پاکستان کے ہزاروں بے گناہوں کی جانیں لے لیں۔ یہیں سے طالبان کئ تحریک ایڈوپٹ ہوئی۔ ن کا پہلئ پہل بنیادی مقصد ملک کے حکمران طبقہ سے انتقام تھا۔ جب وہ اس انتقام کی آگ میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے لگے تو ان ہی کے ساتھی اس وحشیانہ قتل عام کا ان سے جواز طلب کرنے لگے۔ جس کے نتیجہ میں انہیں اپنے لوگوں کو مطمئین کرنے کیلئے قرآن و حدیث سے جواز مہیا کرنے پڑے جو انہوں نے کافروں پر نازل ہونے والی آیت اور حدیث کو مسلمانوں پر فٹ کر کے گھڑے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔ گو کہ ان کے اس جوازات کے جواب ہر کسی کے پاس ہیں مگر یہاں بات طالبان اور ان سے متاثر زدہ لوگوں کی فکر کی ہو رہی تو ان یہ جوازت پڑھئے۔
1.جو کسی ولی کے مزار پر جاتا ہے وہ کافر ہے۔ کیوں کافر ہے کہ کفار بتوں کے پاس حاجتیں لے کر جاتے تھے اور یہ ولویوں کے پاس جاتے ہیں لہذا یہ کافر ہیں۔
2.جو میلاد منائے وہ کافر ہے۔ کیوں کافر ہے کیونکہ یہ عمل صحابہ نے نہیں کیا۔
جو ولیوں کو غوث کہے، قطب کہے، داتا کہے، غریب نواز کہے، مجدد کہے، وہ کافر ہے۔
3. جو یاعلی مدد کا نعرہ لگائے وہ کافر ہے۔
4. جو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہے وہ کافر ہے۔
5. جو پیروں کے پاس جائے وہ بھی کافر ہے۔
6. جو سائینس کا علم حاصل کرے وہ کافر ہے کیوں کافر ہے کیونکہ صحابہ کرام نے سائنس نہیں پڑھی تھی تم پڑھتے ہو اس لیے کافر ہو۔ (علامہ اقبال نے اپنی کتاب "تجدید و احیائے دین" میں کہا کہ قرآں پاک کی ایک ہزار سے زائد آیت ہمیں سائنسی علم حاصل کرنے پر اکساتی ہیں۔)
7. جو پنٹ شرٹ پہنتا ہے وہ کافر ہے۔ (اس پر پنجاب کے ایک عالم کا فتوی ہے کہ نہ پینٹ پہننے والے کی نماز ہوتی ہے اور نہ اس کے پیچھے والے فرد کی ہوتی ہے)
8. جو سکول جائے وہ بھی کافر۔ (پشاور اٹیک)
9. جو ہماری آئیڈیالوجی کو نہ مانے وہ بھی کافر۔
10. قائداعظم کو چونکہ وہ شیعہ سمجھتے ہیں اس لیے ان کے نزدیک وہ پاکستان کے خلاف جنگ لڑ کر پاکستان کو فتح کریں گے۔ پاک فوج کے نوجوان جو ان کے خلاف لڑیں وہ ان کے اور ان کے حواری مولویوں کے نزدیک کافر ہیں اور پاک فوج کے خیر خواہ سارے کے سارے کافر ہیں۔ اور اس کے جواز کے طور پر وہ غزوہ ہند کی ساری حدیثیں خود کو سچا ثابت کرنے کیلئے لاتے ہیں۔
یہ تو وہ جواز تھے جو میرے ناقص دماغ میں تھے آپ نے شوشل میڈیا پر ان خوارجیوں کے اکاؤنٹس دیکھے ہونگے ان سے آپ نے گفت شنید بھی کی ہو گی، لہذا جو جواز ان کی طرف سے آپ کو ملیں وہ کمنٹ کر دیجئے گا۔
اب آگے ہم تفصیل سے کافر کون ہوتا ہے اور کافر کسے کہا جاتا ہے۔ ایک مسلمان کو کافر مشرک کہنا کیسا ہے یہ سب باتیں آگے ہم تفصیل سے ڈسکس کریں گے۔

مقدمہ 

آج کل ایک دوسرے کو کافر کہنے کا رواج عام ہوتا چلا جار ہا ہے ۔ اور کیوں نہ ہو ، اس میں تو لطف ہی بہت آتا ہے ۔کیونکہ ابلیس نے اس کام کو مسلمانوں کے لیے بڑا خوشنما بنا کر پیش کیا ہے ۔ ویسے تو ہر گناہ والا ہر کام ہی پر لطف ہوتا ہے ، گوکہ آخرت میں اسکا انجام بہت برا نکلتا ہے ، لیکن گناہ جیسے جیسے بڑا ہوتا جاتا ہے ویسے ہی اس کی لذت میں اضافہ ہو تا چلا جاتا ہے ۔ اور چونکہ کسی مسلمان کو کافر قرار دے دینا گناہوں میں سے بہت بڑا گناہ ہے اسی لیے اس گُناہ ِ پُرلذت کے مرتکب بہت ہی محظوظ ہوتے ہیں۔ ویسے اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو کسی کلمہ پڑھنے والے اور ارکان اسلام وایمان پر عمل کرنے والے شخص کو کافر قرار دینا بسا اوقات دینی وشرعی ضرورت بن جاتی ہے ۔ اور اسلام نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائے ، اسکے ظاہری اعمال مسلمانوں والے ہوں لیکن پھر اسکے بعد وہ کوئی ایسا عمل کرے جو کسی مسلمان کو مرتد بنادیتا ہے تو اہل علم مکمل تحقیق وتفتیش کے بعد اسکے کافر ہونے کا اعلان کردیں اور مسلمان حاکم اس مرتد کو قتل کر دے تاکہ یہ گندی مچھلی سارے تالاب کو گندہ نہ کردے ۔ اور ماضی میں اس شرعی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے اسلام دشمنوں کو کافر قرار دیا گیا ہے جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر کفر کی ترویج شروع کر دی تھی ۔
 ماضی قریب میں مرزا غلام احمد قادیانی اس بات کی بہترین مثال ہے ۔ کہ مولانا محمد حسین بٹالوی  نے مکمل تحقیق و تفتیش کے بعد اسکے کافر ہونے کا فتوى دیا ، پھر انکے بعد برصغیر کے دیگر علماء کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کردار کو پرکھ کر اس پر کفر کا فتوى لگایا ۔ اور یہ عین اسلام ضروریات میں ہے ، کہ ایسے ظالم شخص پر کفر کا فتوى لگا کر عوام الناس کے سامنے اسکا کفر واضح کیا جائے ۔ لیکن بہر حال جیسا کہ مثل مشہور ہے "جس کا کام اسی کو ساجے ... اور کرے تو ٹھینگا باجے" یہ کام ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کا نہیں ہے کہ ہر گاما، ما جا ، شِیدا جو چاہے اٹھے اور کفر کفر کی توپ چلانا شروع کر دے ۔ یہ نہایت حساس معاملہ ہے اور صرف یہ نہیں کہ عوام الناس یہ کام نہیں کر سکتے بلکہ یہ تو چھوٹے موٹے مولویوں کا کام بھی نہیں ہے ۔
یہ ایسے کبار علماء کا فریضہ ہے جو راسخ فی العلم یعنی علم میں پختہ ہوں ، اور علماء بھی عوام الناس میں عالم دین مشہور ہونے کے باوجود ان کی طرف رجوع کرتے ہوں ، ان سے سیکھتے ہوں ، اور مسائل کا حل دریافت کرتے ہوں ، ایسے ہی لوگوں کو عرف عام میں استاذ العلماء (یعنی علماء کا استاد) یا استاذ الاساتذہ (یعنی استادوں کا استاد)کہا جاتا ہے ۔ الغرض یہ فریضہ جتنا بڑا ، اور معاملہ جتنا حساس ہے ، اسے سرانجام دینے کے لیے بھی اتنے بڑے علم وفضل کے حاملین اور حکمت ودانائی کے پیکر درکار ہیں ۔ اور یہ صرف اسی مسئلہ کی بات نہیں ہے بلکہ دنیا کا ہر کام اسی اصول پر ہی چلتا ہے۔ 
کسی بھی ملک کی عوام اقتدار کسی مجنون اور دیوانے کے سپرد نہیں کرتی ، بلکہ کسی صاحب علم ودانش کو اپنا حاکم بناتی ہے ۔ کیونکہ نظام حکومت کو چلانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔ایسے ہی تقریبا ہر معاملہ میں لیڈر اور رہنما صرف اسے ہی تسلیم کیا جاتا ہے جس میں قائدانہ صلاحیتیں بدرجہ اتم موجود ہوں ۔ وگرنہ وہ قوم تباہ ہو جاتی ہے جو اپنی سیادت وقیادت کسی نا اہل شخص کے سپرد کردے ۔ اور ایک عرب شاعر نے تو کیا خوب کہا ہے :
 إذا کان الغراب دِلِّیل قوم
 سیہدیہم طریق الہالکین 
یعنی جب کسی قوم کا راہنما کوا بن جائے ، تو وہ انہیں ہلاکت کی راہوں پر ہی گامزن کرے گا ۔ الغرض 
"لِکلِّ فنٍ رِجالٌ"
 یعنی ہر فن کے لیے کوئی نہ کوئی ماہرین ہوتے ہیں ۔ ایسے ہی مسئلہ تکفیر کے لیے بھی ماہرین ِ فن کی ضرورت ہے ، وگرنہ جیسے قوم کو اگر عطائی حکیموں اور ڈاکٹروں کے پلے ڈال دیا جائے تو پھر قبرستان ہی آباد ہوتےہیں ، ویسے ہی اگر مسئلہ تکفیر کو بھی جاہل وکج فہم فتوى بازوں کے سپرد کر دیا جائے تو وہ ساری قوم کو ہی کافر بنا بیٹھتے ہیں ۔ لہذا یہ مسئلہ انہی لوگوں کے سپرد کرنا ضروری ہے جو اسے اسکے اہل ہیں ۔
 شریعت اسلامیہ نے بہت سے کاموں کو کفریہ کام قرار دیا ہوا ہے ، لیکن اسکے باوجود دین اسلام کسی خاص آدمی کی طرف اشارہ کرکے یا اسکا نام لے کر اسے کافر قرار دینے سے منع کرتا ہے ، الا کہ اس میں کچھ شرائط پوری ہو جائیں اور اسکے معاملہ کی مکمل طور پر تحقیق کر لی جائے ۔ اس مختصر سے رسالہ میں ہم ان چند قوانین کا ذکر کریں گے کہ جن پر عمل درآمد کرنا اسلام نے کسی بھی شخص کو کافر کہنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے ۔ جو شخص ان اصولوں کو مد نظر رکھے بغیر کافر کافر کی گردان کرتا ہے ، اسے تکفیری کہا جاتا ہے ۔
 آج کل بہت سے لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ کوئی زنا کرے تو زانی , شراب پیئے تو شرابی , چور ی کرے تو چور , تو پھر جو کفر کرتا ہے وہ کافر اور جو شرک کرتا ہے وہ مشرک کیوں نہیں ؟ کفر کے مرتکب کو کافر اور شرک کے مرتکب کو مشرک کہنے والوں کو کیوں تکفیری کہا جاتا ہے ۔
 اسکا جواب سیدھا سا ہے کہ زنا کرنے والے کو زانی کہنے کا بھی اصول ہے کہ اسے واضح زنا کرتے ہوئے کم از کم چار افراد اپنی آنکھوں سے دیکھیں , اور وہ چاروں عادل ہوں , اور محض شک نہ ہو بلکہ مرد کا آلہ تناسل عورت کی شرمگاہ میں ایسے داخل ہوتا دیکھیں جیسے سرمچو سرمہ دانی میں داخل ہوتا ہے ۔ تو تب انکی گواہی کو قبول کرکے زنا کرنے والے کو زانی قرار دیا جائے گا ۔ یا زانی خود اعتراف کر لے کہ میں نے زنا کیا ہے , تو بھی اسے زانی قرار دے کر اسکی سزا دی جائے گی ۔ اور اگر ان شرطوں میں سے ایک بھی شرط پوری نہ ہو تو کسی کو زانی کہنے والے کو تہمت کی سزا کے طور پر 80 کوڑے مارے جائیں گے ۔ اسی طرح کسی کو چور قرار دینے کا بھی ضابطہ اور اصول ہے کہ اس پر بھی گواہ موجود ہوں , یا اعتراف ہو ۔ اور اسی طرح باقی تمام تر شرعی احکامات میں اصول وضوابط مقرر شدہ ہیں ۔ 
بالکل اسی طرح جب کوئی شخص کفر یا شرک کا ا رتکاب کرتا ہے تو اسے بھی کافر یا مشرک قرار دینے کا شریعت نے ایک ضابطہ مقرر کیا ہے ۔ اور جو اسکا لحاظ کیے بغیر کسی کو کافر یا مشرک کہے گا تو اسے بھی "تکفیری" ہی کہا جائے گا ! اور وہ ضابطہ ہم نے اس رسالہ میں بیان کر دیا ہے ۔ اسے ضوابط تکفیر یا موانع تکفیر یا شروط تکفیر کہا جاتا ہے ۔ ان قوانین کا لحاظ رکھ کر اگر کسی کی تکفیر کی جاتی ہے تو امت نے کبھی اسے رد نہیں کیا , اور نہ ہی ایسا کرنے والے کو کسی نے آج تک تکفیری قررا دیا ہے ۔ یاد رہے کہ اس رسالہ سے یہ ہر گز مقصود نہیں ہے کہ اسے پڑھ کر ہر شخص لوگوں کو کافر بنانے کی مشق شروع کر دے ، بلکہ مقصود صرف اور صرف اس معاملہ کے بارہ میں وضاحت کرنا ہے کہ یہ کام کن کن مراحل سے گزرنے کے بعد سر انجام دیا جاتا ہے ۔ تاکہ ذی شعور لوگ اسے پڑھتے ہی فورا سمجھ جائیں کہ یہ کام انکی دسترس سے بالا تر ہے ۔ اور اسے ان لوگوں کے ہی سپرد کریں جو یہ کام سر انجام دے سکتے ہیں ۔
 محمد رفیق طاہر
 شعبان ۱۴۳۴ھ

تکفیر کی اقسام 

کسی کو کافر قرار دینے کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک تو یہ کہ کسی گروہ یا شخص کا نام لے کر اسے کافر قرار دینا ، اسے تکفیر مُعَیَّن کہا جاتا ہے ۔ اور دوسرا یہ ہے کہ کسی کام کو کفریہ قرار دینا ، یعنی یوں کہنا کہ جس نے بھی فلاں کام کیا وہ کافر ہے ، اسے تکفیر مُطلَق کہا جاتا ہے ۔ یعنی تکفیر مطلق کسی خاص کفریہ فعل کی بناء پر ہوتی ہے ۔ لیکن اس خاص فعل کا مرتکب خاص شخص اس وقت تک کافر قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک اس میں تکفیر کی شرطیں پوری نہ ہو جائیں اور موانع ختم نہ ہو جائیں ۔ لہذا تکفیر مطلق اور تکفیر معین کا فرق سمجھنا ضروری ہے ۔

 تکفیر مطلق

 : کسی بھی فعل کو کتاب وسنت میں کفر قرار ديا گیا ہو تو اس کے بارہ میں کہنا جس نے بھی یہ کام کیا وہ کافر ہے ۔ تکفیر مطلق کہلاتا ہے ۔ مثلا : اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے ۔اسی طرح اللہ تعالی یا نبی آخر الزماں ﷺ ، یا ارکان اسلام وایمان کا انکار کرنے سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔ لہذا ہم کہیں گے کہ جس نے بھی شرک کیا اسکا اسلام ختم ہوگیا اور جس نے بھی اللہ کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا ۔ اور اسے تکفیر مطلق کا نام دیا جاتا ہے ۔ اور ایسی تکفیر کی صورت میں جن افراد پر یہ تکفیر صادق آتی ہے ان سے کفار والا معاملہ نہیں کیا جاتا نہ ہی انہیں مرتد قرار دیا جاتا ہے ۔ بلکہ انہیں مرتد قراردینے کے لیے انکی مُعَیَّن تکفیر کی جاتی ہے۔

 تکفیر مُعَیَّن(nominate takfeer )

 تکفیر معین 
یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی ایسے کا م کے مرتکب شخص کو نام لے کر کافر قرار دینا جس کام کا کفر یا شرک ہونا کتاب وسنت سے ثابت ہے ۔مثلا : زید نے اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا تو یہ کہنا کہ زید کافر ہے اسے تکفیر معین کہا جاتا ہے ۔ تکفیر معین کے اصول مطلق تکفیر تو قرآن وحدیث کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص کرتا ہے مگر تکفیر معین ایک حساس معاملہ ہے ۔ لیکن بہر حال اسلام میں کسی بھی شخص کی معین تکفیر کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لیے اللہ تعالی نے کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں جوکہ درج ذیل ہیں : 1۔ علم اگر کسی آدمی کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ جو کام میں کر رہا ہوں وہ کام کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے تو اس آدمی کو کفریہ کام کا ارتکاب کرلینے کے باوجود کافر نہیں کہا جائے گا ۔ 

مثلا زید نے اللہ تعالی کی آیات کا مذاق اڑایا ہے اور اسے معلوم ہی نہیں کہ ایسے کرنے سے انسان مرتد ہو جاتا ہے تو اسے مرتد یا کافر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں 

"إن اللہ تجاوز عن أمتي الخطأ والنسیان" 
میری امت سے خطا اور نسیان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے درگزر کیا ہے، معاف کردیا ہے۔
 (سنن ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق المکرہ والناسی ح2043) 

جہالت کی بنا پر، بھول کر، بندہ کام کرلیتا ہے۔ جاہل ہے، اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردیں گے ۔ہم دنیا میں اس پر کفر کا فتویٰ نہیں لگا سکتے۔ جب تک اس کی جہالت رفع نہ ہو۔ بلکہ جہالت کی وجہ سے کفریہ کام سر انجام دینے والے کو تو اللہ تعالی نے معاف فرما دیا تھا ، ملاحظہ فرمائیں :


 عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " کَانَ رَجُلٌ یُسْرِفُ عَلَی نَفْسِہِ فَلَمَّا حَضَرَہُ المَوْتُ قَالَ لِبَنِیہِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِی، ثُمَّ اطْحَنُونِی، ثُمَّ ذَرُّونِی فِی الرِّیحِ، فَوَاللہِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَیَّ رَبِّی لَیُعَذِّبَنِّی عَذَابًا مَا عَذَّبَہُ أَحَدًا، فَلَمَّا مَاتَ فُعِلَ بِہِ ذَلِکَ، فَأَمَرَ اللہُ الأَرْضَ فَقَالَ: اجْمَعِی مَا فِیکِ مِنْہُ، فَفَعَلَتْ، فَإِذَا ہُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ: مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: یَا رَبِّ خَشْیَتُکَ، فَغَفَرَ لَہُ "


 سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک آدمی بہت گناہ گارتھا۔ تو جب اسکی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو کہا جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا کر رکھ بنا دینا اور پھر مجھے ہوا میں اڑا دینا ، اللہ کی قسم! اگر اللہ نے مجھے جمع کر لیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا کہ جیسا اس نے کبھی کسی کو نہ دیا ہوگا۔ تو جب وہ فوت ہو گیا تو اسکے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ۔ اللہ تعالی نے زمین کو حکم دیا کہ جوکچھ تیرے اندر ہے اسے جمع کر تو زمین نے اسکی خاک کو جمع کردیا اور وہ اللہ کے حضور پیش ہوا تو اللہ تعالی نے پوچھا: تجھے یہ کام کرنے پر کس نے 
ابھارا تھا ۔ تو وہ کہنے لگا: اے رب! تیرے ڈر نے ہی مجھے اس کام پر مجبور کیا تھا ۔تو اللہ تعالی نے اسے معاف فرما دیا ۔ (صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب حدیث الغار :3481) 

یعنی اس بیچارے نے اپنی جہالت کی وجہ سے یہ سمجھا کہ شاید اللہ کے پاس اتنی قدرت نہیں ہے کہ وہ ذروں کو جمع کر کے مجھے دوبارہ کھڑا کر سکے ۔البتہ وہ شخص مؤمن تھا اسے یقین تھا کہ مرنے کے بعد حساب دینا پڑے گا ۔ اللہ تعالی پر اسے یقین تھا ۔ لیکن اپنی نادانی اور جہالت کی وجہ سے اللہ تعالی کی صفات کا انکار کر بیٹھا کہ اگر میں راکھ ہو جاؤں گا اور میرے ذرات بکھر جائیں گے تو شاید اللہ تعالی کی گرفت سے بچ جاؤں گا ۔ اور اس نے یہ کام صرف اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے ہوئے کیا تھا ۔ تو اللہ رب العزت نے اسے معاف فرما دیا کہ اس شخص میں جہالت کا عذر تھا ۔

قصد وعمد 

یعنی کوئی بھی شخص جو کفریہ کام کا مرتکب ہوا ہے ، وہ اگر جان بوجھ کر کفر کرے گا توہم اس کا نام لے کر اسے کافر کہیں گے اور اس پر مرتد ہونے کا فتوی لگے گا ۔ اور اگر وہ کفریہ کام اس سے کسی غلطی کی وجہ سے سرزد ہوا ہے تو اسے کافر یا دائرہ اسلام سے خارج نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں 

"إن اللہ تجاوز عن أمتي الخطأ والنسیان
میری امت سے خطا اور نسیان کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے درگزر کیا ہے، معاف کردیا ہے۔ 
(سنن ابن ماجہ کتاب الطلاق باب طلاق المکرہ والناسی ح2043)

 اسی طرح وہ شخص کہ صحراء میں جس کا اونٹ گم ہو گیا اور وہ موت کا انتظار کرتے کرتے سوگیا ، لیکن جونہی آنکھ کھلی تو اس اونٹ سازو سامان سمیت اسکے سامنے کھڑا تھا ، تو انتہائی خوشی کے عالم میں بے ساختہ اسکی زبان سے یہ جملہ نکلا " یا اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں "
(صحیح مسلم : ۲۷۴۷) ۔ )
ظاہراً تو یہ کلمہ کفریہ تھا ، لیکن چونکہ اس نے یہ جملہ جان بوجھ کر نہیں کہا بلکہ بلا اختیار اسکے منہ سے یہ الفاظ نکلے ، لہذا ایسے شخص کی تکفیر کرنا قطعا جائز نہ ہوگا ۔

 اختیار 

تیسری شرط یہ ہے کہ وہ آدمی مختار ہو، یعنی اپنی مرضی اور اپنے اختیار سے کرے، اگر کوئی آدمی اس کو کہتا ہے کہ تو کفریہ کلمہ کہہ، نہیں تو تجھے ابھی قتل کرتا ہوں ۔ تو وہ اس کے جبر ، تشدد وظلم کے ڈر سے کوئی کفریہ کلمہ کہہ دیتا ہے یاکفریہ کام سر انجام دے بیٹھتا ہے تو ایسے آدمی کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے : مَنْ کَفَرَ بِاللہِ مِنْ بَعْدِ إِیمَانِہِ إِلَّا مَنْ أُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِیمَانِ وَلَکِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْکُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْہِمْ غَضَبٌ مِنَ اللہِ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ 
(النحل : ١٠٦) 
جو آدمی اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کرے( اللہ کو ہرگز یہ گوارا نہیں ہے)۔ہاں وہ بندہ جس کو مجبور کردیا گیا(تو اس آدمی پر کوئی وعید نہیں ہے) لیکن جس نے شرح صدر کے ساتھ ، دل کی خوشی کے ساتھ کفر کیااس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے،اوران کےلئے بہت بڑا عذاب ہے۔

 یعنی اگر جان بوجھ کر ، اپنے اختیا ر کے ساتھ، جبرواکراہ کے بغیر، وہ ایسا کفریہ کلمہ کہتا ہے، یا کفریہ کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ قابل مؤاخذہ ہے۔ 

.لیکن اگر کسی کے ڈرسے وہ کفریہ کام سرانجام دیتا ہے تو وہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے
 ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا : 
"لا تشرک باللہ شیئا وإن قطعت وحرقت "
 تجھے جلا دیا جائے ، تیرے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں، اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرنا۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب الصبر علی البلاء ح4034) 

عزیمت پر محمول ہے ، یعنی موت کے خوف سے ، جان بچانے کی غرض سے کفریہ یا شرکیہ کام کرنا پڑتا ہے، کفریہ یا شرکیہ کلمہ کہنا پڑتا ہے تو آدمی کو رخصت ہے کہ کفریہ یا شرکیہ کلمہ کہہ سکتا ہے، شرکیہ یا کفریہ کام کرسکتا ہے، لیکن عزیمت یہی ہے کہ بندہ اس وقت بھی کفریہ کلمہ نہ کہے ۔ اور اگر وہ رخصت کو اپنالیتا ہے تو بھی شریعت نے اسکی اجازت دی ہے ۔ اور یہ کوئی مداہنت یا معیوب بات نہیں۔

۔ تأویل (misconception)

 چوتھی شرط یہ ہے کہ جو شخص کفر کا ارتکاب کر رہا ہے وہ مؤول نہ ہو ۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ وہ کسی شرعی دلیل کا سہارا لے کر اس کام کو جائز سمجھتا ہو ۔قرآن وحدیث کی غلط تفسیر وتاویل کرکے کسی بھی کفریہ کام کو اپنے لیے جائز سمجھنے والے کی اس وقت تک تکفیر نہیں کی جاسکتی جب تک اس پر حجت قائم نہ ہو جائے ۔

 مثلا آج کل بہت سے لوگ غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں ۔ تو ہم کہتے ہیں کہ غیر اللہ سے مدد مانگنا شرک ہے اور جو بھی غیر اللہ سے مدد مانگتا ہے وہ مشرک وکافر ہو جاتا ہے ۔ لیکن اگر زید نامی شخص غیر اللہ سے مدد مانگتا ہے تو ہم اسے اسوقت تک کافر قرار نہیں دیں گے جب تک اس پر حجت قائم نہ کر لیں، اس کی تحقیق نہ کر لیں ۔ کیونکہ اللہ تعالی نے غلط تاویل وتوجیہہ کرنے والوں کے ایسے کاموں سے درگزر فرمایا ہے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے : 
إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أَصَابَ، فَلَہُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَہَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ، فَلَہُ أَجْرٌ
( صحیح مسلم : 1716) 
جب فیصلہ کرنے والا فیصلہ کرتا ہے ، اگر تو اسکا فیصلہ درست ہو تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور اگر اسکا اجتہاد اسے غلطی پر پہنچا دے توبھی اسے ایک اجر ملتا ہے ۔ اور ہمارے یہاں پائے جانے والے بہت سے ایسے افراد جو کفریہ وشرکیہ کام کرتے ہیں وہ اجتہادی خطأ کا شکار ہوتے ہیں اور کتاب وسنت کی نصوص کی غلط تاویل وتفسیر کرکے اسے ہی حق سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔ یا پھر جہالت و لا علمی کی بناء پر وہ شرک کو شرک ہی نہیں سمجھتے۔ الغرض کسی بھی شخص کی معین تکفیر یعنی اسکا نام لے کر اسے کافر قرار دینا یا کسی جماعت کی معین تکفیر اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک اللہ رب العزۃ کے مقرر کردہ اصول وقوانین کو اپلائی نہ کیا جائے ۔ 

کفر ہونے کا اثبات

 ایسے ہی جس کام کی بناء پر کسی شخص کو کافر قرار دیا جا رہا ہے اس کام کا کفر ہونا بھی شریعت اسلامیہ کے واضح دلائل وبراہین سے ثابت ہو ۔ یہ نہ ہو کہ جس کام کی بناء پر کفر کا فتوى لگایا جار ہا ہے شریعت اسے کفر ہی نہ سمجھتی ہو ۔ اور ہمارے معاشرہ میں اکثر وبیشتر ایسا ہی ہوتا ہے کہ عمل کا کفریہ ہونا ہی ثابت نہیں ہوتا ، مگر اسکی بناء پر لوگوں کو کافر قرار دیا جار ہا ہوتا ہے ۔
 ایسا ہی کام نبی کریم ﷺ، قرآن مجید فرقان حمید اور اللہ تعالى کی گستاخی کے نام پر بھی کیا جاتا ہے ، کہ بہت سے ایسے افعال واقوال جو کہ شریعت کے میزان میں گستاخی نہیں بنتے ، انکی بناء پر بھی ارض پاک میں جابجا ظلم وبربریت کے بازار گرم کیے جاتے ہیں ، جوشیلے ہمنواؤں کے جلو میں فقیہانِ کج فہم کسی مسلمان پر چڑھ دوڑتے ہیں اور اسےکافر اور گستاخ کہہ کر موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے ۔ 
لہذا کسی بھی شخص کی تکفیر کے لیے ضروری ہے کہ جس عمل کی بناء پر اسے کافر کہا جار ہا ہے وہ عمل واقعتاً کفر ہو ۔

 تکفیر مسلم کے بھیانک نتائج 

اگر کوئی شخص کسی مسلمان آدمی کو جان بوجھ کر کافر کہہ دے ، تو کہنے والا خود کافر ہو 
جاتا ہے ۔
 (صحیح بخاری ، کتاب الادب ، باب من کفر أخاہ بغیر تأویل فہو کما قال : ۶۱۰۳) 

کیونکہ یہ معاملہ نہایت ہی سنگین ہے ، کسی بھی شخص کو کافر قرار دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسکی جان ومال وآبرو کچھ بھی محفوظ نہیں رہی یعنی مسلمانوں کے لیے اسے قتل کرنا اور اسکا مال لوٹنا جائز ہو گیا ہے ۔اسی بناء پر آپ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ پاکستانی حکام ، عدلیہ ، افواج اور پولیس وغیرہ کو کافر کہتے ہیں ، وہ انہیں قتل کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ اور انکا مال لوٹنے کے لیے اغواء برائے تاوان تو انکا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے 

۔آئے روز ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ فلاں جگہ بم دھماکہ ہوگیا ، فلاں جگہ خود کش حملہ ہوگیا ، فلاں شخص کوتحریک طالبان نے اغواء کرکے نامعلوم مقام پر پہنچا دیا اور اسکی رہائی کے عوض اتنی رقم کا مطالبہ رکھ دیا ہے ۔ یعنی تکفیر کا فتنہ ایسا خطرناک فتنہ ہے جو موجودہ دور کے تمام تر فتنوں سے زیادہ سنگین اور خطرناک ہے ۔ 

خاتمہ 


کسی خاص شخص کو کافر قرار دینے سے متعلق یہ کچھ اہم بنیادی معلومات تھی جو ہم نے آپ کے سامنے رکھی ہے ۔ کہ کسی بھی کفریہ کام کے مرتکب شخص کو اس وقت تک کافر نہیں کہا جاسکتا جب تک مندرجہ بالا شرائط اس میں پوری نہ ہو جائیں ۔ اور یہ کام صرف اور صرف راسخ فی العلم علماء اور قضاۃ کا ہے ، نہ کہ جو چاہے ان شرائط کو خود سے پورا کرلے اور کافر کافر کی گردان کرتا پھرے اور کہے کہ میں نے تو حجت قائم کردی ہے لہذا میرے نزدیک اب یہ شخص کافر ہے ۔ اور جو لوگ ان اصولوں اور قاعدوں کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں انہیں تکفیری کہا جاتا ہے ۔ اللہ سے دعاء ہے کہ وہ اس مختصر رسالہ کو اہل اسلام کے لیے نفع بخش بنادے ۔