ہفتہ، 16 دسمبر، 2017

سیرتِ طیّبہ اور مسلم تہذیب - اقبالیاتی تناظر میں ایک مُطالعہ

0 comments
سیرتِ طیّبہ اور مسلم تہذیباقبالیاتی تناظر میں ایک مُطالعہ سید عزیز اللہ شاہ ایڈووکیٹ انسان کی فطرت میں اجتماعیت پنہاں ہے-یہی مطلب ہے حکماء کے اس قول کا کہ انسان مدنی الطبع ہے- حوالہ:(تاریخ ابنِ خلدون، ج:1، ص:91)یہ الفاظ مشہور مسلم مورخ علامہ عبد الرحمٰن ابن خلدون کی کتاب ’’تاریخ ابن خلدون‘‘ کے ہیں-اس کتاب کے مقدمے میں مزید فرماتے ہیں کہ اجتماع انسانی ضرورت ہے یعنی آدمی کا اپنے ابنائے جنس کے ساتھ مل جل کر رہنا-اسےحکما اپنی اصطلاح میں مدنیت اور ہم عمارتِ انسانی کہتے ہیں-یعنی بقول ابنِ...

احساس اگر ہو تو

0 comments
احساس اگر ہو تو افسانہ (رائٹر.فائزہ شاہ زینت نے ایسے گھر میں آنکھ کھولی جہاں بھوک افلاس معاشی تنگی نے پہلے ہی ڈیرے ڈالے ہوے تھے - زینت سے پہلے ہی چھ بہن بھائی موجود تھے - زینت سب سے چھوٹی تھی - اس کی اماں جب ایک تھال میں کھانا دیتی سب بہن بھائیوں کو وہ سب ایک منٹ میں چٹ کر کے کھڑے ہو جاتے - زینت اپنے چھوٹے چھوٹے ھاتھوں سے تھالی میں چاول چنتی رہ جاتی - پل کے نیچے جھگیوں کی بستی میں اس کا گھر تھا - گھر تو نام کا تھا بس ایک پھٹی پرانی جھگی تھی جہاں  موسموں کی سرد و گرم روکے نا رکتی تھی - اس...

جمعہ، 20 اکتوبر، 2017

بدعت کسے کہتے ہیں اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

0 comments
بدعت کسے کہتے ہیں اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جواب: ’’بدعت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جو ’’بَدَعَ‘‘ سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے : کسی سابقہ مادہ، اَصل، مثال، نمونہ یا وجود کے بغیر کوئی نئی چیز ایجاد کرنا؛ یعنی کسی شے کو عدمِ محض سے وجود میں لانے کو عربی زبان میں ’’اِبداع‘‘ کہتے ہیں۔ ابنِ حجر عسقلانی، بدعت کی لُغوی تعریف یوں کرتے ہیں : البدعة أصلها : ما أحدث علی غير مثال سابق. ’’بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو۔‘‘  ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، 4 : 253 قرآن...

کیا مزار پر چادر چڑھانا اور اس کو چومنا شرک ہے؟

0 comments
مزارات مقدسہ پر چادریں چڑھانا اور ان کو چومنا شرک نہیں ہے۔ آج کل قرآن وحدیث سے بہت دور کچھ لوگ قرآن وحدیث کے نام پر غلط استدلال کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس پر ایک جامع جواب درج ذیل ہے۔ بَابُ الصَّلٰوةِ عَلَی الشَّهِيْدِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ اَنَّ النَّبِيَ صلی الله عليه وآله وسلم خَرَجَ يَوْمًا فَصَلّٰی عَلٰی اَهْلِ اُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَی الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ اِنِّيْ فَرَطٌ لَّکُمْ وَاَنَا شَهِيْدٌ عَلَيْکُمْ وَاِنِّيْ وَاللّٰهِ لَاَنْظُرُ اِلٰی...